Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • التوبہ (The Repentance)

    129 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود اور اس پر بسم اللہ نہ لکھنے کی وجہ

    یہ سورہ، جیسا کہ گروپ کی تمہید میں ہم واضح کر چکے ہیں، سورتوں کے دوسرے گروپ کی آخری سورہ ہے۔ اس میں اور انفال میں بالکل اسی نوع کا تعلق ہے جس نوع کا تعلق متن اور شرح یا تمہید اور اصل مقصد میں ہوتا ہے۔ سورۂ انفال میں مسلمانوں کو جس جہاد کے لیے ظاہراً و باطناً منظم کیا گیا ہے اس سورہ میں اس کا اعلان فرما دیا۔ مصحف کی ترتیب میں اس سورہ پر بسم اللہ نہیں لکھی ہوئی ہے اور روایات سے ثابت ہے کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے ہی سے چلی آ رہی ہے جس سے اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ اس پر بسم اللہ کا نہ لکھا جانا ایمائے الٰہی سے ہوا ہے۔ علمائے تفسیر نے اس کی مختلف توجیہیں کی ہیں۔ سب سے زیادہ قابل قبول توجیہہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ ان دونوں سورتوں میں عمود و مضمون کے لحاظ سے نہایت گہرا اتصال بھی ہے اور مقصد و غایت کے اعتبار سے فی الجملہ انفصال بھی۔ ایک کا رخ بالکلیہ مسلمانوں کی طرف ہے اور دوسری کا رخ اصلاً مشرکین، اہل کتاب اور منافقین کی طرف۔ ایک کی نوعیت تیاری کی ہے اور دوسری کی، جیسا کہ ہم اشارہ کر چکے ہیں، الٹی میٹم اور اعلان جنگ کی۔ اشتراک و انفصال کے ان دونوں پہلوؤں کو ممیز کرنے کے لیے حکمت الٰہی مقتضی ہوئی کہ یہ سورہ سابق سورہ سے بالکل الگ بھی نہ ہو لیکن فی الجملہ نمایاں اور ممتاز بھی رہے۔ بسم اللہ نہ لکھے جانے سے یہ دونوں پہلو بیک وقت نمایاں ہو گئے۔ بسم اللہ، جیسا کہ ہم واضح کر چکے ہیں، دو سورتوں کے درمیان علامت فصل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس علامت فصل کے نہ ہونے سے دونوں کا معنوی اتصال نمایاں ہو گیا اور ساتھ ہی اس کے علیحدہ وجود نے اس کو علیحدہ نام دے دیا جس سے اس کی امتیازی خصوصیت بھی سامنے آ گئی۔

  • التوبہ (The Repentance)

    129 آیات | مدنی
    الانفال —— التوبۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں جس آخری دینونت کے لیے تیاری اور مسلمانوں کے تزکیہ و تطہیر کی ہدایات دی گئی ہیں، دوسری اُسی کے ظہور کا بیان ہے۔ دونوں کے مخاطب اہل ایمان ہیں اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ دونوں سورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ جزا و سزا میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ— الانفال— کا موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکرین کے خلاف آخری اقدام کی تیاری اور اِس کے لیے مسلمانوں کا تزکیہ وتطہیر ہے۔

    دوسری سورہ— التوبہ— کا موضوع اِنھی منکرین کے لیے، خواہ وہ کھلے منکر ہوں یا منافقین، خدا کی آخری دینونت کا ظہور ہے۔

  • Click verse to highight translation
    Chapter 009 Verse 001 Chapter 009 Verse 002 Chapter 009 Verse 003 Chapter 009 Verse 004 Chapter 009 Verse 005 Chapter 009 Verse 006
    Click translation to show/hide Commentary
    اللہ اور اُس کے رسول کی طرف سے اُن مشرکوں کے لیے اعلان براء ت ہے جن سے تم نے معاہدے کیے تھے۔
    اِس سورہ کی ابتدا میں ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ نہیں لکھی جاتی۔ اِس کی وجہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ سورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین پر اُس عذاب کا اعلان کیا گیا ہے جو پیغمبروں کی تکذیب کے نتیجے میں اُن کے منکرین پر لازماً آتا ہے۔ خدا کی زمین پر یہ اُس کی آخری دینونت کی سرگذشت ہے جس میں مشرکین کے قتل عام اور اہل کتاب کو محکوم بنا لینے کا حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ سورہ کی ابتدا جن الفاظ سے ہوئی ہے، اُن کے ساتھ کسی طرح موزوں نہیں تھا کہ خدا کی رحمت و شفقت کا حوالہ دیا جائے۔ یہ خدا کے جلال اور قہر و غضب کے ظہور کا موقع ہے، اِس لیے ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ سے ابتدا نہیں کی گئی۔ دنیا میں انسان کو رہنے بسنے کا جو موقع دیا گیا ہے، وہ کسی حق کی بنیاد پر نہیں ہے،بلکہ محض امتحان کے لیے ہے۔ پیغمبروں کی طرف سے اتمام حجت کے بعد یہ امتحان پورا ہو جاتا ہے تو یہ ضرورت بھی اِس کے ساتھ ہی ختم ہو جاتی ہے کہ اُنھیں باقی رکھا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین اب اِسی مقام پر پہنچ چکے تھے۔ چنانچہ آگے جس قتل عام کا حکم دیا گیا ہے، وہ خدا کی اِس سنت کا ظہور ہے کہ رسولوں کے مخاطبین اُن کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اِسی دنیا میں عذاب سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ اِس عذاب کا فیصلہ بھی خدا کرتا ہے اور جن پر یہ نازل کیا جاتا ہے، وہ بھی خدا کی طرف سے متعین کرکے بتا دیے جاتے ہیں۔ کوئی شخص ، یہاں تک کہ خدا کا پیغمبر بھی اپنی طرف سے اِس کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ سورۂ توبہ اِسی فیصلے کا اعلان ہے۔ تاہم اخلاقی لحاظ سے ضروری تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن لوگوں کے ساتھ تبلیغ و دعوت اور اتمام حجت کی مصلحت سے معاہدے کر رکھے ہیں ، کسی اقدام سے پہلے اُنھیں ختم کر دیا جائے۔ یہ اُنھی معاہدات سے براء ت کی گئی ہے۔ آیت میں لفظ ’بَرَآءَ ۃ‘ کے بعد ’اِلٰی‘ ہے۔ یہ اِس بات کی دلیل ہے کہ یہاں ’ابلاغ‘ کا مفہوم بھی مضمر ہے ۔ یعنی اِس دست برداری کی اطلاع اُن تک پہنچا دی جائے۔
    سو (اے مشرکین عرب)، اب ملک میں چار مہینے اور چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے اور یہ بھی کہ اللہ (اپنے پیغمبر کا) انکار کرنے والوں کو رسوا کر کے رہے گا۔
    یہاں سے خطاب میں تبدیلی ہوئی ہے اور اُس کا رخ براہ راست مشرکین کی طرف ہو گیا ہے۔ یہ تبدیلی بتا رہی ہے کہ اِس دھمکی کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ یہ ایک فیصلہ کن دھمکی ہے جس کے نتائج اب پوری قطعیت کے ساتھ سامنے آنے والے ہیں۔ عذاب سے پہلے چار ماہ کی یہ مہلت کب دی گئی؟ اِس کی کوئی حتمی تاریخ تو متعین نہیں کی جا سکتی۔ تاہم آگے کی آیتوں سے اتنی بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ اُس وقت دی گئی، جب قریش کی طرف سے معاہدۂ حدیبیہ کی کوئی خلاف ورزی ابھی نہیں ہوئی تھی۔
    (پھر حج کا موقع آئے تو اِس سرزمین کے) سب لوگوں تک پہنچانے کے لیے بڑے حج کے دن اللہ اور اُس کے رسول کی طرف سے اعلان عام کر دیا جائے کہ اللہ مشرکوں سے بری الذمہ ہے اور اُس کا رسول بھی۔ اب اگر تم لوگ توبہ کر لو تو تمھارے حق میں بہتر ہے اور اگر منہ پھیرو گے تو جان لو کہ تم اللہ سے بھاگ نہیں سکتے۔ (اے پیغمبر)، اِن منکروں کو دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو۔
    اِس سے مراد حج ہی ہے۔ اہل عرب عمرے کو حج اصغر اور اِس کے مقابلے میں حج کو حج اکبر کہتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ چارماہ کی جو مہلت اوپر دی گئی ہے، اُس کے گزر جانے کے بعد اُن لوگوں کی داروگیر شروع کر دی جائے جن تک اعلان براء ت کی اطلاع پہنچانا ممکن ہو۔ اِس کے بعد حج کے دن کا انتظار کیا جائے۔ اِس میں ملک کے کونے کونے سے لوگ جمع ہوں گے جن کی وساطت سے یہ اطلاع سرزمین عرب کے باقی سب لوگوں تک بھی پہنچا دی جائے کہ اللہ و رسول نے مشرکین سے براء ت کا اعلان کر دیا ہے۔ خدا کی طرف سے جو مہلت اُنھیں ملی ہوئی تھی، اُس کی مدت پوری ہو گئی ہے۔وہ اب عذاب کی زد میں ہیں۔ چنانچہ تمام معاہدات ختم کر دیے گئے ہیں اور آیندہ بھی اُن کے ساتھ کسی معاہدے کا امکان باقی نہیں رہا۔ اِس میں ضمناً یہ بشارت بھی ہے کہ عنقریب وہ موقع آنے والا ہے، جب مسلمان حج بھی کریں گے اور منکرین پر ایسا غلبہ بھی حاصل کر لیں گے کہ حج کے موقع پر اِس طرح کا اعلان کر سکیں۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان ۹ ہجری میں اِس حج سے سعادت اندوز ہوئے۔ یہ حج سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی امارت میں کیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق علی رضی اللہ عنہ نے قرآن کی یہ آیتیں لوگوں کو پڑھ کر سنائیں جس سے پورے عرب کے مشرکین تک اطلاع پہنچانے کا اہتمام کر دیا گیا۔* _____ * تفسیر القرآن العظیم، ابن کثیر ۲/ ۴۳۶۔
    وہ مشرکین، البتہ (اِس اعلان براء ت سے) مستثنیٰ ہیں جن سے تم نے معاہدہ کیا، پھر اُس کو پورا کرنے میں اُنھوں نے تمھارے ساتھ کوئی کمی نہیں کی اور نہ تمھارے خلاف کسی کی مدد کی ہے۔ سو اُن کا معاہدہ اُن کی مدت تک پورا کرو، اِس لیے کہ اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو (بد عہدی سے) بچنے والے ہوں۔
    یہ اُن معاہدوں کا بیان ہے جو مذکورہ اعلان سے مستثنیٰ تھے۔ مدعا یہ ہے کہ غیر موقت معاہدے تو مہلت کی مدت گزر جانے کے فوراً بعد ختم ہو جائیں گے۔ اِسی طرح وہ معاہدے بھی ختم ہو جائیں گے جو اگرچہ موقت تھے، مگر فریق ثانی کی طرف سے اُن کی خلاف ورزی ہو چکی ہے۔ لیکن ایسے موقت معاہدے جن کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی، اُنھیں ختم نہیں کیا جائے گا، بلکہ قراردادہ مدت تک برقرار رکھا جائے گا۔ مدت گزر جانے کے بعد، البتہ وہ بھی کالعدم ہوں گے اور جن مشرکین سے کیے گئے تھے، اُن کی داروگیر بھی اُسی طرح شروع ہو جائے گی، جس طرح حکم دیا گیا ہے۔
    (بڑے حج کے دن) اِس (اعلان) کے بعد جب حرام مہینے گزر جائیں تو اِن مشرکوں کو جہاں پاؤ، قتل کرو اور (اِس مقصد کے لیے) اِن کو پکڑو، اِن کو گھیرو اور ہر گھات کی جگہ اِن کی تاک میں بیٹھو۔پھراگر یہ توبہ کر لیں اور نمازکا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو اِن کی راہ چھوڑ دو۔ یقیناًاللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔
    اِس سے وہ چار مہینے مراد نہیں ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا ہے، بلکہ وہی مہینے مراد ہیں جنھیں اصطلاح میں اشہر حرم کہا جاتا ہے۔ یہ تعبیر اِن مہینوں کے لیے بطور اسم و علم استعمال ہوتی ہے، اِس لیے عربیت کی رو سے کوئی اور مہینے مراد نہیں لیے جا سکتے۔ حج اکبر کے موقع پر جس اعلان کے لیے کہا گیا ہے، اُس کے بعد ۲۰ دن ذوالحجہ اور ۳۰ محرم کے باقی ہوں گے۔ یہ اُنھی کے بارے میں فرمایا ہے کہ اِن دنوں میں چونکہ جنگ و جدال ممنوع ہے، اِس لیے یہ جب گزر جائیں تو اِس اعلان کے نتیجے میں جن لوگوں کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہو، اُن کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جائے، اِس سے پہلے کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ ذوالحجہ اور محرم کے پچاس دنوں کے لیے یہ تعبیر بالکل اُسی طرح اختیار کی گئی ہے، جس طرح ہم اپنی زبان میں بعض اوقات نومبر یا دسمبر کے مہینے میں کہتے ہیں کہ یہ سال گزر جائے تو فلاں کام کیا جائے گا۔ یہ قتل عام کا حکم ہے جو مشرکین عرب کے لیے اُسی طرح کا عذاب تھا جو رسولوں کی تکذیب کے نتیجے میں اُن کے مخاطبین پر ہمیشہ نازل کیا جاتا رہا ہے۔ یعنی خدا کے اِس عذاب سے بچنے کے لیے صرف اتنا کافی نہیں ہے کہ وہ کفر و شرک سے توبہ کرکے اسلام قبول کر لیں، اِس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے ایمان و اسلام کی شہادت کے طور پر وہ نماز کا اہتمام کریں اور ریاست کا نظم چلانے کے لیے اُس کے بیت المال کو زکوٰۃ ادا کریں۔ اِس کے بعد فرمایا ہے کہ ’فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ‘، یعنی اُن کی راہ چھوڑ دو۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ ریاست اور قانون کی سطح پر ایمان و اسلام کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اِس سے زائدکوئی مطالبہ کسی مسلمان سے نہیں کیا جا سکتا، اِس لیے کہ جب خدا نے اپنے پیغمبر کو خود اپنی حکومت میں اِس کی اجازت نہیں دی تو دوسروں کو کس طرح دی جا سکتی ہے۔
    اور اگر (اِس داروگیر کے موقع پر) اِن مشرکوں میں سے کوئی شخص تم سے امان چاہے (کہ وہ تمھاری دعوت سننا چاہتا ہے) تو اُس کو امان دے دو، یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔ پھر اُس کو اُس کے مامن تک پہنچا دو۔ یہ اِس لیے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو (خدا کی باتوں کو) نہیں جانتے۔
    یعنی دین و شریعت اور نبوت و رسالت سے زیادہ واقف نہیں ہیں، اِس وجہ سے رعایت کے مستحق ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ لمبے عرصے تک تبلیغ و دعوت کے بعد بھی اتمام حجت میں کوئی کسر رہ گئی ہو، لہٰذا اِن میں سے کوئی شخص اگر بات سننے اور سمجھنے کے لیے امان چاہتا ہو تو امان دے دو اور اللہ کا کلام اچھی طرح سنا اور سمجھا کر اُس کے مامن تک پہنچا دو تاکہ وہ ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ غور کرکے فیصلہ کر سکے کہ اُسے اسلام قبول کرنا ہے یا تلوار۔ اِس کے بعد، ظاہر ہے کہ اُس کے لیے بھی وہی حکم ہو گا جو اوپر بیان ہوا ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List