Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الانفال (The Spoils of War)

    75 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود

    سورۂ انفال دوسرے گروپ کی تیسری سورہ ہے۔ یہ مدنی ہے۔ اس میں مسلمانوں کو تقویٰ، باہمی اخوت و ہمدردی اور اللہ و رسول کی اطاعت کی اساس پر منظم اور جہاد کے لیے تیار ہونے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ وہ اس ملت ابراہیمیؑ اور مرکز ملت ابراہیمیؑ ۔ بیت اللہ ۔ کی امانت و تولیت کے اہل ہو سکیں جو اب قریش کی جگہ ان کی تحویل میں دی جانے والی ہے۔

    پچھلی دونوں سورتوں ۔۔۔ انعام اور اعراف ۔۔۔ میں آپ نے دیکھا کہ قریش کو عقائد، اعمال اور اخلاق، ہر پہلو سے اس امانت کے لیے نااہل ثابت کر دیا ہے۔ اب اس سورہ میں مسلمانوں کی تطہیر و تنظیم، ان کی اصلاح اور تزکیہ کی طرف توجہ فرمائی ہے۔ اس کا آغاز اس طرح ہوا ہے کہ غزوۂ بدر کے دوران میں بعض کمزور مسلمانوں کی طرف سے جو کمزوریاں، اللہ و رسول کی اطاعت اور ایمان و توکل کے منافی، صادر ہوئی تھیں، ان پر پہلے گرفت فرمائی ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو ان کمزوریوں سے پاک کریں۔ پھر ان غیبی تائیدات کی طرف اشارہ فرمایا جو غزوۂ بدر کے دوران میں ظاہر ہوئیں تاکہ مسلمانوں کا اعتماد اللہ پرمضبوط ہو اور جو لوگ ابھی پوری طرح یکسو نہیں ہوئے ہیں وہ یکسو ہو کر آگے کے مراحل کے تقاضے پورے کرنے کے اہل ہو سکیں۔ پھر مسلمانوں کو اللہ کی راہ میں جہاد پر ابھارا ہے اور یہ وعدہ فرمایا ہے کہ اگر انھوں نے کمزوری نہ دکھائی تو جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ حریف کی سازشوں کے سارے تار و پود بکھر جائیں گے۔ بیچ بیچ میں قریش کو بھی تنبیہ فرمائی ہے کہ بدر کے واقعہ میں تمہارے لیے بڑا سبق ہے، تمہارے لیے اب بہتر یہی ہے کہ اس سے فائدہ اٹھاؤ ورنہ یاد رکھو کہ اگر تم نے مزید کوئی شرارت کی تو پھر منہ کی کھاؤ گے، اب تک تمہارے ساتھ جو رعایت ہوئی ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ رسولؐ تمہارے اندر موجود تھا۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ جب تک رسولؐ قوم کے اندر موجود رہتا ہے اس وقت تک قوم پر عذاب نہیں آتا لیکن اب جب کہ رسول تمہارے اندر سے ہجرت کر چکا ہے، تمہاری امان اٹھ چکی ہے اور تم ہر وقت عذاب الٰہی کی زد میں ہو۔ تمہارا یہ غرہ بالکل بے جا ہے کہ تم بیت اللہ کے متولی اور مجاور ہو، بیت اللہ کے متولی ہونے کے اہل تم نہیں ہو، تم نے ابراہیمؑ کے بنائے ہوئے اس گھر کا مقصد بالکل برباد کر کے رکھ دیا اور اس کی حرمت کو بٹہ لگایا، تم جس نماز اور عبادت کے مدعی ہو یہ نماز عبادت نہیں بلکہ محض مذاق ہے، تمہارے لیے سلامتی کی راہ یہ ہے کہ تم توبہ اور اصلاح کی روش اختیار کرو ورنہ یاد رکھو کہ اب اس حرم کی سرزمین پر نہ اہل ایمان پر عرصۂ حیات تنگ کرنے کا کوئی موقع باقی چھوڑا جائے گا اور نہ اللہ کے دین کے سوا یہاں کوئی اور دین باقی رہنے دیا جائے گا۔

    آگے بدر کے واقعات ہی کی روشنی میں مسلمانوں کی حوصلہ افزائی اور کفار کو تنبیہ کرتے ہوئے بات ان اعتراضات کے جواب تک پہنچ گئی ہے جو قریش نے بدر میں شکست کھانے کے بعد لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بدگمان کرنے کے لیے اٹھائے۔ بدر سے پہلے تک تو وہ مسلمانوں کی کمزوری و مجبوری کو اسلام کے خلاف دلیل کے طور پر پیش کرتے تھے لیکن بدر میں انہی کمزور مسلمانوں کے ہاتھوں جب پٹ گئے تو یہ کہنا شروع کر دیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پیغمبر کس طرح ہو سکتے ہیں، بھلا پیغمبر کا کہیں یہ کام ہوتا ہے کہ اپنی ہی قوم کو باہم لڑا دے۔ اپنے ہی بھائیوں کو قتل کرائے، پھر ان کو قید کرے، ان سے فدیہ وصول کرے اور ان کا مال و اسباب غنیمت بنا کر کھائے اور کھلائے؟ اس اعتراض سے بھی کمزور قسم کے لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا ہو سکتے تھے اس وجہ سے قرآن نے ان کو بھی صاف کیا اور آخر میں انصار اور مہاجرین کو باہمی اخوت کی تعلیم و تلقین فرمائی کہ دونوں مل کر کفر کے مقابلہ میں بنیان مرصوص بن کر کھڑے ہوں۔

    اگرچہ سورہ کا نظام سمجھنے کے لیے یہ اجمالی نظر بھی کافی ہے لیکن ہم مزید وضاحت کے لیے سورہ کے مطالب کا تجزیہ بھی کیے دیتے ہیں۔

  • الانفال (The Spoils of War)

    75 آیات | مدنی
    الانفال ——- التوبۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں جس آخری دینونت کے لیے تیاری اور مسلمانوں کے تزکیہ و تطہیر کی ہدایات دی گئی ہیں، دوسری اُسی کے ظہور کا بیان ہے۔ دونوں کے مخاطب اہل ایمان ہیں اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ دونوں سورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ جزا و سزا میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- الانفال—- کا موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکرین کے خلاف آخری اقدام کی تیاری اور اِس کے لیے مسلمانوں کا تزکیہ وتطہیر ہے۔

    دوسری سورہ—- التوبہ—- کا موضوع اِنھی منکرین کے لیے، خواہ وہ کھلے منکر ہوں یا منافقین، خدا کی آخری دینونت کا ظہور ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 008 Verse 001 Chapter 008 Verse 002 Chapter 008 Verse 003 Chapter 008 Verse 004
    Click translation to show/hide Commentary
    وہ تم سے غنائم کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ اِنھیں بتا دو کہ یہ سب غنائم اللہ اور اُس کے رسول کے ہیں۔ اِس لیے اللہ سے ڈرو، (اِس معاملے میں کوئی نزاع پیدا نہ کرو اور) اپنے آپس کے معاملات کی اصلاح کر لو اور اللہ اور اُس کے رسول کا حکم مانو، اگر تم مومن ہو۔
    آیت میں لفظ ‘اَلْاَنْفَال’ آیا ہے۔ ‘نفل’ اُس چیز کو کہتے ہیں جو حق سے زیادہ حصۂ مزید کے طور پر دی جائے۔ اِس تعبیر میں یہ لطیف اشارہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کا اجر تو اُس کے ہاں بالکل الگ اور دائمی طور پر محفوظ ہو جاتا ہے، اِس کے ساتھ جو مال غنیمت دشمن سے حاصل ہوتا ہے، وہ ایک حصۂ مزید ہے۔ قیامت سے پہلے وہ اللہ تعالیٰ اِسی دنیا میں مجاہدین کو عطا کر دیتے ہیں۔ یہ سوال اعتراض کی نوعیت کا ہے اور غزوئہ بدر میں حاصل ہونے والے مال غنیمت سے متعلق پیدا ہوا ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں دستور تھا کہ جو جتنا مال جنگ میں لوٹے، وہ اُسی کا حق ہے۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بدر کے بعد جب لوٹنے والوں سے دوسروں نے جنگی خدمات کی بنا پر اپنے حق کا مطالبہ کیا تو اُس سے ایک نزاع پیدا ہو گئی جس نے کسی حد تک تلخی کی صورت اختیار کر لی۔یہ سوال اِسی پس منظر میں اور مسلمانوں کے ایک گروہ کی طرف سے کیا گیا ہے۔* یعنی اِس وقت جو غنائم حاصل ہوئے ہیں، اُن کے متعلق خدا کا فیصلہ یہ ہے کہ اُن پر کسی شخص کا بھی کوئی حق قائم نہیں ہوتا۔ یہ سب اللہ اور رسول کا ہے اور وہ اِس کے ساتھ جو معاملہ چاہیں گے، اپنی صواب دید کے مطابق کریں گے۔ یہ فیصلہ اِس لیے کیا گیا کہ زمانۂ رسالت کی جنگیں زیادہ تر اللہ تعالیٰ کے قانون اتمام حجت کے تحت لڑی گئی تھیں اور اِن میں لڑنے والوں کی حیثیت اصلاً آلات و جوارح کی تھی۔ وہ اللہ کے حکم پر میدان میں اترے اور براہ راست اُس کے فرشتوں کی مدد سے فتح یاب ہوئے تھے۔ لہٰذا اِن جنگوں کے مال غنیمت پر اُن کا کوئی حق اللہ تعالیٰ نے تسلیم نہیں کیا، تاہم آگے جا کر بتا دیا ہے کہ اِس کے باوجود یہ سارا مال نہیں، بلکہ اِس کا پانچواں حصہ ہی اجتماعی مقاصد کے لیے خاص رہے گا اور باقی ازراہ عنایت مجاہدین میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ بحث و اختلاف کی گرما گرمی میں اگر کوئی بدگمانی یا رنجش پیدا ہو گئی ہے یا اپنے بھائیوں کے بارے میں رشک و حسد کے جذبات کسی کے دل میں ابھرے ہیں کہ فلاں اور فلاں کو اِس مال میں کیوں شریک بنایا گیا ہے، تو اپنی اصلاح کر لو۔ تم سب بھائی بھائی ہو۔ تمھارے تعلقات اخوت، رحم اور محبت کی بنیاد پر قائم ہونے چاہییں۔ یہ ایمان و تقویٰ کے منافی ہے کہ تمھارا دامن دل حسد، رقابت اور خود غرضی کے غبار سے آلودہ ہو، اِسے پاک صاف کر لو۔ _____ * السیرۃ النبویہ، ابن ہشام ٢/ ٥٧٠۔
    (یاد رکھو)، اہل ایمان تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو اُن کے دل دہل جاتے ہیںاور جب اُس کی آیتیں اُنھیں سنائی جاتی ہیں تو اُن کا ایمان بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر بھروسا رکھتے ہیں۔
    یہاں سے آگے سچے اہل ایمان کی تصویر ہے جو اُن لوگوں کے سامنے رکھی گئی ہے جنھیں ‘اگر تم مومن ہو’ کے الفاظ میں خطاب فرمایا ہے۔ مدعا یہ ہے کہ ایمان کا دعویٰ رکھتے ہو تو اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کرو۔ اِن کے بغیر یہ دعویٰ کسی کو زیب نہیں دیتا۔ یہ سچے اہل ایمان کی پہلی علامت بتائی ہے کہ وہ خدا کی عظمت و جلالت اور کبریائی کا شعور رکھتے ہیں، لہٰذا خدا کی کوئی بات بھی اُن کے سامنے پیش کی جائے، وہ اِس گہرے احساس کے ساتھ اُس کو سنتے ہیں کہ یہ اُس ہستی کا ذکر ہو رہا ہے یا اُس کے نام پر کوئی بات کہی جا رہی ہے، جس کی ناراضی کا خوف ہر انسان کے نہاں خانہئ وجود میں جاگزیں ہونا چاہیے۔ چنانچہ اُن کا دل اِس گہرے احساس سے لرز جاتا ہے۔ یہ دوسری علامت ہے۔ قرینہ دلیل ہے کہ آیات سے یہاں کتاب الٰہی کی وہ آیات مراد ہیں جن میں خدا کے احکام اور قوانین بیان ہوتے ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ اہل ایمان جب اِن احکام و قوانین کو سنتے ہیں تو اِنھیں ایمان ہی کا مظہر اور اُس کے مضمرات کی تفصیل سمجھتے ہیں۔ چنانچہ اپنے ایمان کے شجرئہ طیبہ پر یہ برگ و بار دیکھ کر اُن کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ اِسی طرح ایمان کے اِن مطالبات کو جب وہ پورا کرتے ہیں تو امتحان و آزمایش کے جن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، اُن میں خدا کی تائید و نصرت کا ظہور اور کامیابی سے گزرنے کے بعد فتح مندی کا احساس بھی اُن کے ایمان کو قوی سے قوی تر بنا دیتا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ‘’‘زَادَتْھُمْ اِیْمَانًا’ کے اسلوب بیان سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ جن کے اندر ایمان موجود ہوتا ہے، جب اُن کے سامنے ایمان کے مقتضیات و مطالبات آتے ہیں تو وہ پوری بشاشت سے اُن کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ وہ اِن مقتضیات و مطالبات کو اپنے ہی لگائے ہوئے درخت کا پھل اور اپنی ہی بوئی ہوئی کھیتی کا حاصل سمجھتے ہیں اور جس طرح ہر کسان اپنی کھیتی کے حاصل اور اپنے درخت کے پھلوں میں افزونی دیکھ کر باغ باغ ہوتا ہے، اِسی طرح یہ اہل ایمان بھی اپنے ایمان کی یہ افزایش دیکھ کر شادمان ہوتے ہیں۔ یہ گویا اُن مدعیان ایمان پر ایک لطیف تعریض ہوئی جو ایمان کا دعویٰ کرنے کو تو کر بیٹھے، لیکن جب اُس کے مطالبے سامنے آئے تواُن سے خوش ہونے کے بجاے اُن کی پیشانیوں پر بل پڑ گئے کہ یہ کیا بلا نازل ہوگئی۔’’ (تدبرقرآن٣/ ٤٣٢) یہ تیسری علامت ہے۔ یعنی امتحان و آزمایش کے مراحل میں وہ اپنے رب پر بھروسا رکھتے ہیں۔ اُنھیں یقین کامل ہوتا ہے کہ اُن کے پروردگار نے جو حکم بھی دیا ہے اور جس امتحان سے بھی گزارا ہے ، اُس میں سرتاسر اُنھی کی فلاح ہے۔ چنانچہ تمام احکام اور تمام امتحانات کو وہ یہی سمجھتے ہیں کہ اُن میں یقینا کوئی حکمت و مصلحت پوشیدہ ہو گی اور جلد یا بدیر وہ اُن کے لیے رحمت و برکت کی صورت میں ظاہر ہو جائے گی۔  
    وہ نماز کا اہتمام کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے اُنھیں دیا ہے، اُس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔
    یہ چوتھی علامت ہے اور اِس میں جو چیزیں بیان ہوئی ہیں، وہ سب کی جامع اور محافظ ہیں۔ ایمان جو اوصاف اہل ایمان کے اندر پیدا کرتاہے، اُن کی شیرازہ بندی اِنھی دو چیزوں ۔۔۔۔۔۔ نماز اور انفاق ۔۔۔۔۔۔ سے ہوتی ہے۔ قرآن مجیدمیں جگہ جگہ یہ اِسی حیثیت سے بیان ہوئی ہیں۔
    یہی سچے مومن ہیں۔ اِن کے پروردگار کے پاس اِن کے لیے درجے ہیں، مغفرت ہے اور عزت کی روزی ہے۔
    یعنی اُن کے ایمان و یقین کی کیفیات اور اُن کے ظہور کے لحاظ سے درجے ہیں، اُن کی غلطیوں اور کوتاہیوں کے لیے خدا کا دامن مغفرت ہے اور اِس کے نتیجے میں ایسی روزی ہے جو اِس عزت کے ساتھ دی جائے گی کہ یہ درحقیقت اُنھی کا حق ہے جو اُنھیں دیا جا رہا ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ اِن آیتوں میں جس ایمان کا ذکر ہوا ہے، وہ قانونی اور فقہی ایمان نہیں ہے جس سے لوگوں کے حقوق و فرائض کا تعین کیا جاتا ہے، بلکہ حقیقی ایمان ہے اور یہ ہرگز کوئی جامد چیز نہیں ہے۔ اللہ کے ذکر اور اُس کی آیتوں کی تلاوت اور انفس و آفاق میں اُن کے ظہور سے اِس میں افزونی ہوتی ہے۔ قرآن مجید نے دوسری جگہ اِسے ایک ایسے درخت سے تشبیہ دی ہے جس کی جڑیں زمین کے اعماق میں اتری ہوئی اور شاخیں آسمان کی وسعتوں میں پھیلی ہوئی ہوں۔ چنانچہ انسان اگر اپنے ایمان کو علم نافع اور عمل صالح سے برابر بڑھاتے رہنے کے بجاے اُس کے تقاضوں کے خلاف عمل کرنا شروع کر دے تو یہ کم بھی ہوتا ہے، بلکہ بعض حالات میں بالکل ختم ہو جاتا ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List