Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الاعراف (The Heights)

    206 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    سورۂ انعام میں، جیسا کہ تفصیل سے واضح ہوا، قریش کو اسلام کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ دعوت اس بنیاد پر دی گئی ہے کہ یہی اصل ملت ابراہیمؑ ہے جس کی ابراہیمؑ نے اپنی ذریت کو تلقین کی نہ کہ وہ مجموعۂ بدعات و اوہام ہے جو تم لیے بیٹھے ہو۔ اللہ نے تم پر بڑا فضل فرمایا ہے کہ اس نے تمہی میں سے ایک رسول بھیجا ہے جس نے اللہ کی حجت تم پر پوری کر دی ہے اب تمھارے لیے گمراہی پر جمے رہنے کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہ گیا ہے۔ اس اتمام حجت کے بعد بھی اگر تم اپنی ضد پر اڑے رہ گئے تو یاد رکھو کہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کو خدا نے ہمیشہ تباہ کر دیا ہے۔ یہ تاریخ کی ایک معروف حقیقت ہے جس کی دلیل ڈھونڈنے کے لیے تمھیں کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جس ملک میں تم آج بااقتدار ہو خود اسی کی تاریخ میں تمھارے لیے کافی سامان عبرت موجود ہے۔ تم اس سرزمین پر پہلے آنے والے نہیں ہو بلکہ تم سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکی ہیں جو اسی طرح اقتدار کی مالک ہوئیں جس طرح تم۔ بلکہ بعض اپنے اقتدار و سطوت کے اعتبار سے تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں۔ انہی کے وارث تم ہوئے ہو۔ پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ قدرت کا قانون تمھارے ساتھ اس سے مختلف معاملہ کرے جو اس نے ان کے ساتھ کیا۔ ان کے جرائم کی بنا پر خدا نے ان کو ہلاک کر کے ان کی جگہ تم کو بخشی، انہی جرائم کے مرتکب تم ہوئے تو خدا تم کو دندناتے پھرنے کے لیے کیوں چھوڑے رکھے گا، خدا کا قانون تو سب کے لیے ایک ہی ہے۔

    انعام کے بعد اعراف، انعام کی مثنیٰ سورہ ہے۔ اس میں دعوت کے بجائے انذار کا پہلو غالب ہے۔ اس میں صاف صاف قریش کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر تم نے اپنی روش نہ بدلی تو بس سمجھ لو کہ اب تم خدا کے عذاب کی زد میں ہو۔ اس میں پہلے ان کی فرد قرارداد جرم کی طرف اجمالاً اشارہ کیا، اس کے بعد تفصیل کے ساتھ ان تمام پچھلی قوموں کی تاریخ سنائی جو اس ملک میں اقتدار پر آئیں اور پھر یکے بعد دیگرے اسی جرم میں کیفر کردار کو پہنچیں جس کے مرتکب قریش ہوئے۔ یہ تفصیل گویا انعام کی آخری آیت کے اجمال کی تفصیل ہے۔ اسی کے ساتھ یہود کو بھی لے لیا ہے اور ان کو بھی بالکل آخر تنبیہ فرمائی ہے۔ آخر میں عہد فطرت کو، جو تمام ذریت آدم سے لیا گیا ہے، بنیاد قرار دے کر انذار کے مضمون کو اس کے آخری نتائج تک پہنچا دیا ہے جس کے بعد برأت، ہجرت اور اعلان جنگ یا نزول عذاب کے مراحل سامنے آ جاتے ہیں۔ اب ہم سورہ کے مطالب کا تجزیہ پیش کرتے ہیں تاکہ پوری سورہ بیک نظر نگاہ کے سامنے آ جائے۔

  • الاعراف (The Heights)

    206 آیات | مکی
    الانعام ——- الاعراف

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں جو حقائق عقل و فطرت اور انفس و آفاق کے دلائل سے ثابت کیے گئے ہیں، دوسری میں اُنھی کا اثبات تاریخی دلائل کے ساتھ اور اتمام حجت کے اسلوب میں ہوا ہے۔ پہلی سورہ میں دعوت اور دوسری میں انذار کا پہلو غالب ہے۔ دونوں کے مخاطب قریش ہیں اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ دونوں سورتیں بالترتیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذارعام اور مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔ پہلی سورہ الانعام کا موضوع قریش کے لیے توحید، رسالت اور معاد کے بنیادی مسائل کی وضاحت، اِن مسائل کے بارے میں اُن کی غلط فہمیوں پر تنبیہ اور اُنھیں توحید خالص پر ایمان کی دعوت ہے۔

    دوسری سورہ الاعراف کا موضوع قریش کو انذار اور اُن کے لیے اِس حقیقت کی وضاحت ہے کہ کسی قوم کے اندر رسول کی بعثت کے مقتضیات و تضمنات کیا ہیں اور اگر کوئی قوم اپنے رسول کی تکذیب پر اصرار کرے تو اُس کے کیا نتائج اُسے لازماً بھگتنا پڑتے ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 007 Verse 001 Chapter 007 Verse 002 Chapter 007 Verse 003 Chapter 007 Verse 004 Chapter 007 Verse 005 Chapter 007 Verse 006 Chapter 007 Verse 007 Chapter 007 Verse 008 Chapter 007 Verse 009
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ’الٓمّٓصٓ‘ ہے۔
    اِس جملے میں مبتدا عربیت کی رو سے محذوف ہے۔ اِسے کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہو گی:’ھٰذِہِ الٓمّٓصٓ‘۔ اصطلاح میں اِنھیں حروف مقطعات کہا جاتا ہے اور سورتوں کے شروع میں یہ اُن کے نام کی حیثیت سے آئے ہیں۔ اِن کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر ہم نے سورۂ بقرہ (۲) کی ابتدا میں تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔
    یہ کتاب ہے جو تمھاری طرف نازل کی گئی ہے۔ سو اِس سے، (اے پیغمبر)، تمھارے دل میں کوئی پریشانی نہ ہو۔ اِس لیے نازل کی گئی ہے کہ اِس کے ذریعے سے (لوگوں کو) خبردار کرو اور ایمان والوں کو (اِس سے) یاددہانی ہو۔
    آیت کی ابتدا ’کِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْکَ‘ کے الفاظ سے ہوئی ہے۔ یہاں بھی مبتدا محذوف ہے۔ مدعا یہ ہے کہ تم نے یہ کتاب خدا سے درخواست کرکے اپنے اوپر نہیں اتروائی، بلکہ خدا نے اپنے فیصلے سے اور تمھاری کسی خواہش اور تمنا کے بغیر تم پر نازل کی ہے، اِس لیے لوگ نہیں مانتے تو اِس کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے، سو تمھیں کوئی پریشانی بھی نہیں ہونی چاہیے۔ جس نے اِسے نازل کیا ہے، وہی اِس کی دعوت کو اتمام تک پہنچائے گا اور وہ سب کچھ فراہم کرے گا جو اِس دعوت کو اتمام تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے۔ یہ وہی مضمون ہے جو سورۂ طٰہٰ (۲۰) کی آیت ’مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰی‘ میں ہے۔ یعنی اِس بات سے خبردار کرو کہ خدا کے پیغمبر کو جھٹلانے کے نتائج دنیا اور آخرت میں اُن کے لیے کیا ہو سکتے ہیں۔ اصل الفاظ ہیں: ’وَذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ‘۔ اِس کا عطف ’لِتُنْذِرَ بِہٖ‘ پر ہے۔ یہ اضمار فعل سے منصوب اور ’تذکیر‘ کے معنی میں اسم ہے، یعنی ’لتنذر بہ وتذکرتذکیرًا‘۔
    (لوگو)، تمھارے پروردگار کی طرف سے جو کچھ تمھاری جانب اتارا گیا ہے، اُس کی پیروی کرو اور اپنے پروردگار کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کے پیچھے نہ چلو۔ (افسوس)، تم کم ہی یاددہانی حاصل کرتے ہو۔
    n/a
    (اِس سے پہلے) کتنی ہی بستیاں ہیں جنھیں ہم نے ہلاک کر دیا تو ہمارا عذاب اُن پر رات میں اچانک ٹوٹ پڑا یا دن دہاڑے آ گیا، جب وہ آرام کر رہے تھے۔
    مطلب یہ ہے کہ رات کی تاریکیوں میں اور دن دہاڑے، جس وقت خدا نے چاہا، آگیا۔ اُسے نہ کوئی روک سکا اور نہ اپنے آپ کو اُس سے بچانے میں کامیاب ہوا۔
    پھر جب ہمارا عذاب اُن پر ٹوٹ پڑا تو اِس کے سوا کچھ کہتے نہ بن پڑا کہ پکار اٹھے :بے شک، ہم ہی ظالم تھے۔
    n/a
    سو یہ ہو کر رہنا ہے کہ ہم اُن لوگوں سے پوچھیں جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور خود رسولوں سے بھی پوچھیں (کہ اُنھوں نے ہمارا پیغام پہنچایا تو اُنھیں کیا جواب ملا)۔
    پیچھے اُس عذاب کا ذکرتھا جو رسولوں کی طرف سے اتمام حجت کے بعد دنیا میں خدا کی دینونت کے ظہور سے آتا ہے۔ اُس سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جس طرح وہ آیا تو مجرموں کے پاس اپنے جرم کا اقرار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا، اِسی طرح جزا و سزا کا دن بھی آ کر رہے گا، جب لوگوں سے پرسش ہو گی اور رسولوں سے بھی پوچھا جائے گا کہ اُن کی دعوت کے جواب میں اُن کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا گیا۔
    پھر پورے علم کے ساتھ ہم تمام سرگذشت اُنھیں سنا دیں گے، آخر ہم کہیں غائب تو نہیں تھے۔
    n/a
    اور وزن کی چیز اُس روز صرف حق ہو گا۔ پھر جن کے پلڑے بھاری ہوں گے، وہی فلاح پائیں گے۔
    یعنی باطل کے لیے اُس روز سرے سے کوئی وزن نہیں ہو گا۔ دوسرے مقامات میں یہ صراحت بھی ہے کہ قیامت میں وزن رکھنے والی چیز صرف وہ اعمال ہوں گے جو خدا کے لیے اور آخرت میں اُس کی رضامندی حاصل کرنے کی خواہش اور ارادے کے ساتھ کیے گئے ۔ اُن کے سوا تمام اعمال وہاں بے وزن ہوجائیں گے۔
    اور جن کے پلڑے ہلکے رہیں گے،وہی ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا، اِس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے اور اپنے اوپر ظلم ڈھاتے رہے۔
    اصل الفاظ ہیں: ’بِمَا کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ‘۔ اِن میں تضمین ہے، اِس لیے کہ صلے اور فعل میں مناسبت نہیں ہے۔ اِسے کھول دیجیے تو پوری بات اِس طرح ہے: ’بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِنَا وَیَظْلِمُوْنَ أَنْفُسَھُمْ‘۔ اِس کا فائدہ یہ ہے کہ تھوڑے الفاظ نے ایک وسیع مفہوم کو اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List