Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الانعام (The Cattle)

    165 آیات | مکی
    سورہ کا عمود

    سورۂ انعام میں، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، مخاطب قریش ہیں۔ ان کے سامنے توحید، معاد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے دلائل واضح کرتے ہوئے ان کو ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے اور ساتھ ہی یہ تنبیہ ہے کہ اگر اُنھوں نے یہ دعوت قبول نہ کی تو اس انجام سے دوچار ہونے کے لیے ان کو تیار رہنا چاہیے جس سے رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں کو دوچار ہونا پڑا۔ اہل عرب چونکہ حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد تھے اور ان کا دعویٰ یہ تھا کہ جس مذہب پر وہ ہیں یہ ان کو حضرت ابراہیم ؑ ہی سے وراثت میں ملا ہے اس وجہ سے اس سورہ میں اس حجت کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے جو حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کے سامنے پیش کی تاکہ قریش پر یہ واضح ہو جائے کہ اصل ملتِ ابراہیم ؑ کیا ہے اور اس کے حقیقی پیرو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ ہیں یا قریش۔

  • الانعام (The Cattle)

    165 آیات | مکی
    الانعام ——- الاعراف

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں جو حقائق عقل و فطرت اور انفس و آفاق کے دلائل سے ثابت کیے گئے ہیں، دوسری میں اُنھی کا اثبات تاریخی دلائل کے ساتھ اور اتمام حجت کے اسلوب میں ہوا ہے۔ پہلی سورہ میں دعوت اور دوسری میں انذار کا پہلو غالب ہے۔ دونوں کے مخاطب قریش ہیں اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ دونوں سورتیں بالترتیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذارعام اور مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ الانعام کا موضوع قریش کے لیے توحید، رسالت اور معاد کے بنیادی مسائل کی وضاحت، اِن مسائل کے بارے میں اُن کی غلط فہمیوں پر تنبیہ اور اُنھیں توحید خالص پر ایمان کی دعوت ہے۔

    دوسری سورہ الاعراف کا موضوع قریش کو انذار اور اُن کے لیے اِس حقیقت کی وضاحت ہے کہ کسی قوم کے اندر رسول کی بعثت کے مقتضیات و تضمنات کیا ہیں اور اگر کوئی قوم اپنے رسول کی تکذیب پر اصرار کرے تو اُس کے کیا نتائج اُسے لازماً بھگتنا پڑتے ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 006 Verse 001 Chapter 006 Verse 002 Chapter 006 Verse 003 Chapter 006 Verse 004 Chapter 006 Verse 005 Chapter 006 Verse 006
    Click translation to show/hide Commentary
    شکر اللہ ہی کے لیے ہے جس نے زمین و آسمان بنائے، روشنی اور تاریکیاں پیدا کیں۔ پھر تعجب ہے کہ یہ منکرین اپنے پروردگار کے ہم سر ٹھیراتے ہیں!
    اصل میں لفظ ’اَلْحَمْدُ‘ استعمال ہوا ہے۔ عربی زبان میں یہ کسی کی خوبیوں اور کمالات کے اعتراف کے لیے بولا جاتا ہے۔ پھر اِن خوبیوں اور کمالات کا فیض اگر حمد کرنے والے کو بھی پہنچ رہا ہو تو اِس میں شکر کا مفہوم آپ سے آپ شامل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ سورۂ اعراف (۷) آیت ۴۳، سورۂ یونس (۱۰) آیت ۱۰ اور سورۂ ابراہیم (۱۴) آیت ۳۹ میں اِس کے نظائرسے واضح ہوتا ہے کہ ’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘ کی ترکیب میں یہ بالعموم اُسی مفہوم کو ادا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے جسے ہم لفظ شکر سے ادا کرتے ہیں۔ یہ مشرکین عرب کے مسلمہ سے استدلال فرمایا ہے کہ جب وہ زمین و آسمان اور نور و ظلمت سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے ہیں تو پھر کیسی عجیب بات ہے کہ اُسی کے شریک ٹھیرانے کی جسارت کرتے ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...شرک پر اظہار تعجب کا ایک پہلو تو یہی ہے کہ جب ساری چیزوں کا خالق خدا ہی ہے تو پھر شرک کی گنجایش کہاں سے نکلی؟ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اِس کائنات کی چیزوں میں بظاہر جو تضاد نظر آتا ہے، مثلاً زمین اور آسمان، روشنی اور تاریکی، سردی اور گرمی ، تو اِس تضاد کے اندر اِس کائنات کے مجموعی مقصد کے لیے ایسی حیرت انگیز سازگاری بھی ہے کہ کوئی عاقل تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اِن میں سے ہر ایک کے خالق و مالک الگ الگ ہیں۔ بلکہ ہر صاحب نظر یہ ماننے پر مجبور ہے کہ پوری کائنات ایک ہی کارفرما کے ارادے اور مشیت کے تحت حرکت کر رہی ہے۔‘‘(تدبرقرآن۳/ ۱۷)  
    وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر (تمھارے لیے) ایک مدت ٹھیرا دی اور ایک دوسری مدت بھی ہے جو اُس کے ہاں مقرر ہے۔ تعجب ہے کہ اِس کے بعد بھی کج بحثیاں کرتے ہو!
    مطلب یہ ہے کہ وہی خدا ہے جس نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا تم انکار نہیں کر سکتے۔ پھر یہ بھی جانتے ہو کہ ہر ایک کے لیے جینے کی ایک مدت مقرر کر دی گئی ہے۔ اِن حقائق کو سمجھتے ہو تو اِس بات میں شک کی گنجایش کہاں سے پیدا ہو جاتی ہے کہ جس خدا کو پہلی مرتبہ تمھیں مٹی سے پیدا کر دینے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی، وہ مرنے کے بعد اِسی مٹی سے تمھیں دوبارہ اٹھا کھڑا کرے گا؟ تم میں سے ہر ایک کے لیے موت ہے تو اِس بعث و نشر کے لیے بھی ایک دوسری مدت ہے جو اُسی نے مقرر کر رکھی ہے۔
    وہی اللہ آسمانوں میں بھی ہے اور زمین میں بھی۔ وہ تمھارے کھلے اور چھپے سے واقف ہے اور جو کمائی تم کر رہے ہو، اُسے بھی جانتا ہے۔
    یعنی تمھارا یہ رویہ اگر اِس بھروسے پر ہے کہ زمین کا نظم و نسق کچھ دوسرے خداؤں کے سپرد ہے، تم اُن کے پرستار ہو، اِس لیے وہ تمھیں بخشوا لیں گے تو یہ غلط فہمی دور کر لو۔ زمین و آسمان دونوں کا خدا ایک ہی ہے اور دونوں میں اُسی کا حکم چل رہا ہے۔ تمھارے کھلے اور چھپے، سب احوال بھی اُس کے علم میں ہیں اور تمھارے اعمال سے بھی وہ پوری طرح واقف ہے۔ کسی میں یارا نہیں کہ اُس کے علم میں کوئی اضافہ کرسکے۔ متنبہ ہو جاؤ، اُس کی بارگاہ میں کسی شفاعت باطل کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔
    لوگوں کا حال یہ ہے کہ اُن کے پاس اُن کے پروردگار کی نشانیوں میں سے جو نشانی بھی آتی ہے، وہ اُس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔
    n/a
    سو اُنھوں نے (اِس وقت بھی) حق کو جھٹلادیا ہے، جب کہ وہ اُن کے پاس آگیا ہے۔ اِس لیے عنقریب اُس چیز کی خبریں اُن کے پاس آجائیں گی جس کا وہ مذاق اڑاتے رہے ہیں۔
    یہاں ’حق‘ سے قرآن مجید مراد ہے۔ یعنی خدا کا عذاب جس کی وعید تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو سنائی ہے۔
    کیا اُنھوں نے دیکھا نہیں کہ اُن سے پہلے کتنی قومیں ہم نے ہلاک کر دیں جنھیں زمین پر ہم نے وہ اقتدار بخشا تھا جو تمھیں نہیں بخشا ہے، اُن پر ہم نے خوب مینہ برسائے اور اُن کے نیچے نہریں بہا دیں، (مگر وہ جھٹلانے پر مصر رہے) تو اُن کے گناہوں کی پاداش میں بالآخر ہم نے اُنھیں ہلاک کر دیا اور اُن کے بعد اُن کی جگہ دوسری قوموں کو اٹھا کھڑا کیا۔
    اوپر جو دعویٰ کیا گیا ہے، یہ اُس پر تاریخ کی شہادت پیش کر دی ہے۔ سورۂ اعراف میں اِس کی تفصیلات آئیں گی جو اِس سورہ کے مثنیٰ کی حیثیت رکھتی ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List