Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • المائدہ (The Table Spread, The Table)

    120 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود

    یہ سورہ، جیسا کہ مقدمۂ کتاب میں واضح ہو چکا ہے، پہلے گروپ کی آخری سورہ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ سے، آخری امت کی حیثیت سے، اپنی آخری اور کامل شریعت پر پوری پابندی کے ساتھ قائم رہنے اور اس کو قائم کرنے کا عہد و پیمان لیا ہے۔ اس سے پہلے یہ عہد و پیمان اہل کتاب سے لیا گیا تھا لیکن وہ، جیسا کہ پچھلی سورتوں سے واضح ہوا، اس کے اہل ثابت نہ ہوئے اس وجہ سے معزول کیے گئے اور ان کی جگہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو دی اور اس کو اپنی آخری اور مکمل شریعت کا حامل اور امین بنایا۔ اب اس سورہ (مائدہ) میں عہد و پیمان لیا جا رہا ہے کہ تم پچھلی امتوں کی طرح خدا کی شریعت کے معاملے میں خائن اور غدار نہ بن جانا بلکہ پوری وفاداری اور کامل استواری کے ساتھ اس عہد کو نباہنا، اس پر خود بھی قائم رہنا ، دوسروں کو بھی قائم رکھنے کی کوشش کرنا اور اس راہ میں پوری عزیمت و پا مردی کے ساتھ تمام آزمائشوں اور تمام خطرات کا مقابلہ کرنا۔

  • المائدہ (The Table Spread, The Table)

    120 آیات | مدنی
    النساء ——- المائدہ
    ۴ ——- ۵

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں جس امت کے لیے صالح معاشرت کی اساسات واضح کی گئی ہیں، دوسری سورہ میں اُسی پر اتمام نعمت اور اُس کے ساتھ اللہ کے آخری عہدوپیمان کا بیان ہے۔ اِن میں خطاب اگرچہ اہل کتاب سے بھی ہوا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی، لیکن دونوں سورتوں کے مخاطب اصلاً مسلمان ہی ہیں۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ بقرہ و آل عمران کی طرح یہ بھی ہجرت کے بعد مدینہ میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب مسلمانوں کی ایک باقاعدہ ریاست وہاں قائم ہوچکی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب پر اتمام حجت اور مسلمانوں کا تزکیہ وتطہیر کر رہے تھے۔

    پہلی سورہ —- النساء کا موضوع امت مسلمہ کے لیے صالح معاشرت کی اساسات اور اُس کا تزکیہ و تطہیر ہے۔

    دوسری سورہ —- المائدۃ کا موضوع اِس امت پر اتمام نعمت اور اِس کے ساتھ اللہ، پروردگار عالم کے آخری عہدوپیمان کا بیان ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 005 Verse 001
    Click translation to show/hide Commentary
    ایمان والو، (اپنے پروردگار سے باندھے ہوئے سب) عہد و پیمان پورے کرو۔ تمھارے لیے مویشی کی قسم کے تمام چوپائے حلال ٹھیرائے گئے ہیں، سواے اُن کے جو تمھیں بتائے جا رہے ہیں۔ لیکن احرام کی حالت میں شکار کو حلال نہ کر لو۔ (یہ اللہ کا حکم ہے اور) اللہ جو چاہتا ہے، حکم دیتا ہے۔
    اِس سے مراد وہ عہد و پیمان ہیں جو ایمان و اسلام کی دعوت قبول کر لینے کے بعدہر بندۂ مومن اپنے پروردگار سے اُس کی شریعت کی پابندی کے لیے باندھ لیتا ہے۔ اصل میں ’بَھِیْمَۃُ الْاَنْعَامِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ ’اَنْعَام‘ کا لفظ عربی زبان میں بھیڑ بکری، اونٹ اور گاے بیل کے لیے معروف ہے۔ اِس کی طرف ’بَھِیْمَۃ‘ کی اضافت سے اِس میں انعام کی قسم کے وحشی چوپائے، یعنی ہرن وغیرہ بھی شامل ہو گئے ہیں۔ یعنی اُن کا حلال ہونا واضح کر دیا گیا ہے اور وہ تمام پابندیاں جو لوگوں نے اپنے اوہام کی بنا پر یا پچھلے صحیفوں کی کسی روایت کی بنا پر اپنے اوپر عائد کر رکھی تھیں، ختم ہو گئی ہیں۔ اصل الفاظ ہیں: ’غَیْْرَ مُحِلِّی الصَّیْْدِ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ‘۔ مطلب یہ ہے کہ تمام چوپائے حلال ہیں، مگر اِس پابندی کے ساتھ کہ حالت احرام میں شکار کو جائز کر لینے والے نہ بن جانا۔ یہ بالکل اُسی نوعیت کا حکم ہے جو یہود کو سبت سے متعلق دیا گیا تھا۔ اِس طرح کے احکام ابتلا اور امتحان کے لیے دیے جاتے ہیں۔ اِن میں بندوں کی مصلحت واضح نہیں ہوتی، اِس لیے جب تک یہ عقیدہ محکم نہ ہو کہ خدا حاکم مطلق ہے اور اُس کا کوئی حکم مصلحت سے خالی نہیں ہوتا، اُس وقت تک پوری وفاداری کے ساتھ کوئی شخص اِن کی تعمیل نہیں کر سکتا۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List