Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الناس (Mankind)

    6 آیات | مکی
    سورہ کا عمود، سابق سے تعلق اور اس کے امتیازی پہلو

    سابق سورہ ۔۔۔ الفلق ۔۔۔ کی تمہید میں ہم اس سورہ کے موقع و محل اور اس کے عمود کی طرف بالاجمال اشارہ کر چکے ہیں۔ یہ سورہ اس کی مثنیٰ ہے اس وجہ سے دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ جس طرح وہ تعوّذ کی سورہ ہے اسی طرح یہ بھی تعوّذ کی سورہ ہے۔ بس چند پہلو اس کے خاص ہیں جن کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے تاکہ اس کا امتیازی وصف سامنے رہے۔

    ایک یہ کہ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ اس کی ان صفات کے توسّل سے چاہی گئی ہے۔ جن کا تعلق براہ راست انسان سے ہے۔ اس وجہ سے اس کی اپیل نہایت مؤثر ہے۔ اپیل مؤثر تو سابق سورہ کی بھی ہے لیکن اس پر استدلال کا پہلو غالب ہے۔ اس میں استدلال کا پہلو اگرچہ موجود ہے لیکن زیادہ نمایاں پہلو اس میں استرحام کا ہے۔

    دوسرا یہ کہ سابق سورہ میں کئی آفتوں سے پناہ مانگی گئی ہے لیکن اس میں ساری توجہ صرف شیطان پر مرکوز کر دی گئی ہے جو درحقیقت تمام آفتوں کی جڑ اور توحید کا، جیسا کہ سابق سورہ میں واضح ہو چکا ہے، ازلی دشمن ہے۔

    تیسرا یہ کہ سابق سورہ میں شیطان کا حوالہ صرف اس کے ایک معروف کردار ۔۔۔ حسد ۔۔۔ سے آیا ہے لیکن اس سورہ میں اس کی اصل تکنیک، اس کے دائرۂ نفوذ و اثر، اس کی ذات اور برادری ہر چیز سے پردہ اٹھا دیا گیا ہے تاکہ لوگ اپنے اس شاطر دشمن کو اچھی طرح پہچان لیں اور جن کمین گاہوں سے وہ حملہ آور ہو سکتا ہے ان سے ہوشیار رہیں۔

  • الناس (Mankind)

    6 آیات | مکی
    الفلق - الناس

    یہ دونوں سورتیں خاتمۂ قرآن کی دعا اور ہرلحاظ سے توام ہیں۔اِسی بنا پر اِنھیں معوذتین کہا جاتا ہے۔پہلی سورہ میں استدلال اور دوسری میں استرحام کا پہلو نمایاں ہے۔ اِن میں خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں یہ اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب یہود وقریش اور ذریت ابلیس کے سب شیاطین جن و انس آپ کی دعوت کو کامیابی سے ہم کنار ہوتے دیکھ کر آپ پر حملہ آور ہونے کی تیاری کر رہے تھے۔

    دونوں سورتوں کا موضوع حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تلقین ہے کہ اپنی اور اپنے مشن کی حفاظت کے لیے آپ اِس دنیا کی تمام آفتوں اور تمام مخلوقات کے شر سے اپنے پروردگار کی پناہ مانگیں، اِس لیے کہ تنہا وہی ہے جو اِن سب آفات و شرور سے انسان کو فی الواقع پناہ دے سکتا ہے۔

    یہ مضمون ، اگر غور کیجیے تو قرآن کے ہر طالب علم کو اُس کی ابتدا میں سورۂ فاتحہ کی طرف متوجہ کرتا ہے، جہاں بندہ توحید کا اقرار کرتا اور اپنے پروردگار کے حضور میں دست بدعا ہوتا ہے کہ وہ اُسے صراط مستقیم کی ہدایت بخشے۔ اِس کے جواب میں پورا قرآن ہے جو اُس کے لیے صراط مستقیم کی وضاحت کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ توحید کی جامع ترین سورہ—- الاخلاص—- تک پہنچ جاتا ہے۔ اِس کے بعد یہ سورتیں ہیں جن میں بندہ صفات الٰہی کے توسل سے ایک مرتبہ پھر دعا کرتا ہے کہ اُس کا پروردگار اُسے توحید کی راہ پر کھڑے ہر رہ زن سے اپنی پناہ میں رکھے اور اِس راہ کے نشیب و فراز میں ہر قدم پر اُس کی حفاظت فرمائے۔ قرآن کی ابتدا کے ساتھ یہ خاتمہ جو مناسبت رکھتا ہے، وہ کسی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 114 Verse 001 Chapter 114 Verse 002 Chapter 114 Verse 003 Chapter 114 Verse 004 Chapter 114 Verse 005 Chapter 114 Verse 006
    Click translation to show/hide Commentary
    تم دعا کرو، (اے پیغمبر) کہ میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب (کی)۔
    n/a
    انسانوں کے بادشاہ (کی)۔
    n/a
    انسانوں کے معبود کی۔
    یہ تینوں صفات لازم و ملزوم ہیں، اِس لیے کہ جو لوگوں کا پروردگار ہے، وہی حق دارہے کہ اُن کا بادشاہ ہو اور وہی حق دار ہے کہ اُسے معبود حقیقی مانا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ اُس خدا کی پناہ مانگو جو انسانوں کا رب، بادشاہ اور معبود ہونے کی حیثیت سے اُن پر پورا اقتدار رکھتا ہے، جو اِس کا اہل ہے کہ بڑے سے بڑے دشمن کے مقابلے میں اُن کو پناہ دے سکے اور جس کے سوا کوئی دوسرا درحقیقت ہے ہی نہیں کہ کوئی اُس کی پناہ مانگے۔
    اُس کے شر سے جو وسوسہ ڈالتا، پھر الگ ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔
    الفاظ میں اگرچہ تصریح نہیں ہے، مگر یہ اور اِس سے آگے کی صفات بتا رہی ہیں کہ مراد شیطان ہے۔ یہ اُس کی خاص تکنیک ہے جس سے وہ لوگوں کو فریب دیتا اور اپنے دام میں پھنساتا ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس کے پاس واحد ہتھیار یہی ہے۔ جس سے وہ اپنے مقاصد پورے کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُس کو یہ اختیار ہرگز نہیں دیا کہ زبردستی لوگوں کو گمراہ کر ڈالے۔ وہ پرفریب وعدے کرتا ہے، بری سے بری چیز کو تزیین کرکے پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے، ناصح مشفق بن کر ترغیب و ترہیب کے حربوں سے کام لیتا ہے، مگر اِس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا۔ اللہ کے جو بندے اُس کے وسوسوں سے متاثر نہ ہوں، قرآن نے اطمینان دلایا ہے کہ اُس کے لیے ممکن نہیں ہے کہ اُن کا کچھ بگاڑ سکے۔ وسوسہ اندازی کرنے والے جن ہوں یا انسان، اُن کی عام نفسیات یہی ہے کہ جب کوئی شخص اُن کے فریب میں آجاتا ہے تو نتائج کی ذمہ داری سے اپنے آپ کو بالکل بری قرار دے کر الگ ہوجاتے ہیں۔ انسانوں میں اِس طرح کے شیاطین ہر وقت دیکھ لیے جا سکتے ہیں۔ قرآن کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں کے شیاطین کا معاملہ بھی یہی ہے۔ لفظ ’خَنَّاس‘ آیت میں اِسی کردار کی تصویر پیش کر رہا ہے تاکہ لوگ شیطان کی غداری اور بے وفائی کو بھی پیش نظر رکھیں۔ چنانچہ دوسرے مقامات میں فرمایا ہے کہ وہ ہمیشہ کا ’خَذُوْل‘ (اپنے مریدوں کو دغا دینے والا) ہے، اُس کے تمام وعدے بالکل فریب ہیں، آخرت میں بھی وہ اُسی طرح بری الذمہ ہو کر الگ ہو جائے گا، جس طرح دنیا میں ہو جاتا ہے۔
    جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔
    اصل میں ’صُدُوْرِ النَّاسِ‘ کے الفاظ آئے ہیں، لیکن مراد وہی دل ہیں جو سینوں میں دھڑکتے ہیں۔
    جنوں اور انسانوں میں سے۔
    یہ اُس کی ذات برادری کا پتا دیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان کوئی مستقل مخلوق نہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اِسی مقصد سے پیدا کیا ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے، بلکہ جنوں اور انسانوں میں سے جو یہ پیشہ اختیار کرلیں، وہی شیطان بن جاتے ہیں۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List