Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الفلق (The Daybreak, Dawn)

    5 آیات | مکی
    سورہ کا مضمون اور سابق و لاحق سے تعلق

    سابق سورہ ۔۔۔ الاخلاص ۔۔۔ کی تمہید میں ہم نے یہ واضح کیا ہے کہ توحید کو دین کی اساس کی حیثیت حاصل ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کا آغاز بھی توحید ہی سے فرمایا اور پھر اس کا اتمام بھی اسی پر کیا۔ گویا اصلاً قرآن کی آخری سورۃ الاخلاص ہوئی۔ اس کے بعد دو سورتیں، جو معوّذتین کے نام سے موسوم ہیں، اس خزانۂ توحید کے پاسبان اور محافظ کی حیثیت سے اس کے ساتھ لگا دی گئی ہیں جن میں ان تمام آفتوں سے بندوں کو اپنے رب کی پناہ مانگنے کی دعا تلقین فرمائی گئی ہے جو درباب توحید ان کے لیے مزلۂ قدم ہو سکتی ہیں۔

    توحید کے لیے اس اہتمام خاص کی ضرورت اس وجہ سے ہے کہ یہی، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، تمام دین کی بنیاد ہے۔ اگر بندے کا قدم توحید میں استوار ہے تو وہ دین پر استوار ہے۔ اگر وقتی طور پر اس سے کوئی لغزش صادر بھی ہو گی تو اساس دین سے وابستہ ہونے کے سبب سے امید ہے کہ اس کو اصلاح کی توفیق ملے اور وہ راہ راست پر آ جائے۔ برعکس اس کے اگر درباب توحید اس کو کوئی گمراہی پیش آ گئی تو اندیشہ ہے کہ وہ ہر قدم پر دین سے دور ہی ہوتا جائے گا اور درجہ بدرجہ اتنا دور ہو جائے گا کہ اس کے لیے دین کی طرف بازگشت کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہ جائے گا۔

    اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان جس امتحان میں ڈالا گیا ہے اس میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مرتے دم تک شیطان کا مقابلہ کرے اور اس کو شکست دے۔ شیطان کے مقابل میں اس کی اسی فتح مندی پر اس کی اُخروی فوز و فلاح کا انحصار ہے۔ شیطان کا خاص داؤ جس پر اس نے انسان کو شکست دینے کی قسم کھا رکھی ہے یہی توحید ہے۔ اس نے اللہ تعالیٰ کو چیلنج دے رکھا ہے کہ وہ انسان کی گھات میں توحید کی راہ پر بیٹھے گا اور اس کو اس راہ سے ہٹا کر شرک کی راہ پر ڈال دے گا۔ سورۂ اعراف میں اس کے اس چیلنج کا ذکر یوں ہوا ہے:

    قَالَ فَبِمَا أَغْوَیْتَنِیْ لأَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ ثُمَّ لَاٰتِیَنَّہُمۡ مِّنۡ بَیْنِ أَیْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ أَیْمَانِہِمْ وَعَنۡ شَمَآءِلِہِمْ وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (الاعراف ۷: ۱۶-۱۷)

    ’’شیطان نے کہا، بوجہ اس کے کہ تو نے مجھے گمراہی میں ڈالا، میں بھی ان کی (بنی آدم کی) گھات میں تیری سیدھی راہ (توحید) پر بیٹھوں گا۔ پھر میں ان کے آگے سے، ان کے پیچھے سے، ان کے دہنے سے اور ان کے بائیں سے ان پر تاخت کروں گا۔ پس تو ان سے اکثر کو اپنا شکرگزار (موحّد) نہیں پائے گا۔‘‘

    شیطان کے ان ہتھکنڈوں کی تفصیل جو وہ انسان کو شرک کے جال میں پھنسانے کے لیے اختیار کرے گا خود شیطان کی زبان سے سورۂ نساء میں یوں بیان ہوئی ہے:

    إِنَّ اللہَ لاَ یَغْفِرُ أَنۡ یُشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَشَآءُ وَمَنۡ یُشْرِکْ بِاللہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاَلاً بَعِیْدًا ۵ إِنۡ یَدْعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖٓ إِلاَّ إِنَاثًا وَإِنۡ یَدْعُوۡنَ إِلاَّ شَیْْطَانًا مَّرِیْدًا ۵ لَّعَنَہُ اللہُ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیْبًا مَّفْرُوۡضًا ۵ وَلأُضِلَّنَّہُمْ وَلأُمَنِّیَنَّہُمْ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الأَنْعَامِ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللہِ وَمَنۡ یَتَّخِذِ الشَّیْطَانَ وَلِیًّا مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًا (النساء ۴: ۱۱۶-۱۱۹)

    ’’اللہ اس جرم کو ہرگز نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک ٹھہرایا جائے اور اس کے سوا جو گناہ ہیں ان کو جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا۔ اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے گا تو وہ نہایت دور کی گمراہی میں جا پڑا۔ یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے بھی ہیں تو دیویوں کو، اور پکارتے بھی ہیں تو شیطان سرکش کو۔ اس پر اللہ کی لعنت۔ اور اس نے کہہ رکھا ہے کہ میں تیرے بندوں میں سے ایک مقرر حصہ ہتھیا کر رہوں گا۔ ان کو گمراہ کر ڈالوں گا، ان کو آرزوؤں کے جال میں پھنساؤں گا اور ان کو سجھاؤں گا تو وہ چوپایوں کے کان کاٹیں گے اور ان کو سجھاؤں گا تو وہ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کو بدلیں گے اور جو اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو کارساز بنائے گا تو وہ نہایت کھلی نامرادی میں پڑا۔‘‘

    اس سے بھی زیادہ جامعیت سے یہی مضمون سورۂ بنی اسرائیل کی آیات ۶۱-۶۵ میں بھی آیا ہے۔ بہتر ہو گا کہ ان آیات کی تفسیر تدبر قرآن میں پڑھ لیجیے؂۱ تاکہ ان کے مضمرات اچھی طرح آپ کے سامنے آ جائیں اور واضح ہو جائے کہ شیطان کی سب سے بڑی کوشش یہ ہے کہ وہ انسان کو شرک کے کسی پھندے میں پھنسائے تاکہ وہ اس گناہ کا ارتکاب کر کے خدا کی رحمت سے بالکل محروم ہو جائے جس کے لیے مغفرت نہیں ہے۔ شیطان کے دل میں بنی آدم کے خلاف جو حسد و غصہ ہے وہ اسی انتقام سے تسکین پاتا ہے۔

    یہ چیز مقتضی ہوئی کہ آخر میں توحید کی جامع تعلیم کے ساتھ ساتھ شیطان کے فتنوں سے محفوظ رہنے کا وہ طریقہ بھی بتا دیا جائے جو سب سے زیادہ کامیاب طریقہ ہے اور جس کو اختیار کر کے اللہ کا ہر بندہ شیطان کے حملوں سے اپنے خزانۂ توحید کی حفاظت کر سکتا ہے۔

    اسی طریقہ کو واضح کرنے کے لیے آگے کی دونوں سورتوں میں پہلی بات تو یہ بتائی گئی کہ شیطان جیسے شاطر دشمن کے حملوں سے اپنے کو محفوظ رکھنے کا واحد طریق یہ ہے کہ انسان صرف اپنے رب کی پناہ ڈھونڈھے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا اس کی شاطرانہ چالوں اور کیّادیوں سے بچانے والا نہیں ہے۔ اگر انسان اس کے لیے ہر لمحہ چوکنا نہیں رہے گا تو اندیشہ ہے کہ وہ شیطان سے مار کھا جائے اور پھر اس کے لیے اس کے دام سے نکلنا مشکل ہو جائے۔

    دوسری چیز یہ بتائی گئی ہے کہ خدا کی وہ کیا صفات ہیں جن کے واسطہ سے بندے کو خدا کی وہ پناہ حاصل ہوتی ہے جو اس کو شیطان کے فتنوں سے بالکل مامون کر دیتی ہے۔ یہ چیز اللہ تعالیٰ ہی کے بتانے کی تھی اور یہ اس کا اپنے بندوں پر عظیم احسان ہے کہ اس نے ان سورتوں میں اپنی ان صفات سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندے کا صحیح تعلق اس کی اعلیٰ صفات ہی کے ذریعہ سے قائم ہوتا ہے اور یہ اسی کو معلوم ہے کہ اس کے بندے اپنے کسی دشمن سے مقابلہ کے لیے اپنے رب کی کس صفت کو سپر بنائیں۔ یہ چیز ہر شخص نہیں جان سکتا اور اس میں معمولی غلطی بھی انسان کی جدوجہد کو بے اثر بنا سکتی ہے۔

    تیسری چیز اس میں یہ بتائی گئی ہے کہ انسان کو گمراہ کرنے کے معاملے میں شیطان کی جدوجہد کی رسائی کہاں تک ہے اور اس کے سب سے زیادہ مؤثر حربے کیا ہیں۔ اس سے مقصود انسان کو اس کے دشمن کی طاقت کا اندازہ کرا دینا ہے تاکہ وہ اس کی قوت سے نہ مرعوب ہو اور نہ اس سے بے پروا رہے بلکہ وہ اچھی طرح آگاہ رہے کہ دشمن کن راستوں سے اس پر وار کر سکتا ہے اور اس کے مقابلہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے خود اسے کن طاقت ور اسلحہ سے مسلح کر رکھا ہے۔

    _____

    ؂۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن۔ جلد سوم، صفحات ۷۶۳-۷۶۵۔

  • الفلق (The Daybreak, Dawn)

    5 آیات | مکی

    خاتمہ

    الفلق الناس

    ۱۱۳ - ۱۱۴

    الفلق ۱۱۳ - الناس ۱۱۴

    خاتمۂ باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلقین کہ آپ اپنی اور اپنے مشن کی حفاظت کے لیے دنیا کی تمام آفتوں سے اپنے پروردگار کی پناہ مانگتے رہیں۔ یہود و قریش اور ذریت ابلیس کے شیاطین جن و انس اگلے مراحل میں پوری قوت کے ساتھ آپ پر حملہ کرنے والے ہیں۔

    الفلق - الناس

    یہ دونوں سورتیں خاتمۂ قرآن کی دعا اور ہرلحاظ سے توام ہیں۔اِسی بنا پر اِنھیں معوذتین کہا جاتا ہے۔پہلی سورہ میں استدلال اور دوسری میں استرحام کا پہلو نمایاں ہے۔ اِن میں خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں یہ اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب یہود وقریش اور ذریت ابلیس کے سب شیاطین جن و انس آپ کی دعوت کو کامیابی سے ہم کنار ہوتے دیکھ کر آپ پر حملہ آور ہونے کی تیاری کر رہے تھے۔

    دونوں سورتوں کا موضوع حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تلقین ہے کہ اپنی اور اپنے مشن کی حفاظت کے لیے آپ اِس دنیا کی تمام آفتوں اور تمام مخلوقات کے شر سے اپنے پروردگار کی پناہ مانگیں، اِس لیے کہ تنہا وہی ہے جو اِن سب آفات و شرور سے انسان کو فی الواقع پناہ دے سکتا ہے۔

    یہ مضمون ، اگر غور کیجیے تو قرآن کے ہر طالب علم کو اُس کی ابتدا میں سورۂ فاتحہ کی طرف متوجہ کرتا ہے، جہاں بندہ توحید کا اقرار کرتا اور اپنے پروردگار کے حضور میں دست بدعا ہوتا ہے کہ وہ اُسے صراط مستقیم کی ہدایت بخشے۔ اِس کے جواب میں پورا قرآن ہے جو اُس کے لیے صراط مستقیم کی وضاحت کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ توحید کی جامع ترین سورہ—- الاخلاص—- تک پہنچ جاتا ہے۔ اِس کے بعد یہ سورتیں ہیں جن میں بندہ صفات الٰہی کے توسل سے ایک مرتبہ پھر دعا کرتا ہے کہ اُس کا پروردگار اُسے توحید کی راہ پر کھڑے ہر رہ زن سے اپنی پناہ میں رکھے اور اِس راہ کے نشیب و فراز میں ہر قدم پر اُس کی حفاظت فرمائے۔ قرآن کی ابتدا کے ساتھ یہ خاتمہ جو مناسبت رکھتا ہے، وہ کسی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 113 Verse 001 Chapter 113 Verse 002 Chapter 113 Verse 003 Chapter 113 Verse 004 Chapter 113 Verse 005
    Click translation to show/hide Commentary
    تم دعا کرو،(اے پیغمبر) کہ میں اُس پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں جو نمودار کرنے والا ہے۔
    اصل میں لفظ ’قُلْ‘ ہے۔ سورہ کے مضمون سے واضح ہے کہ اِس کا ترجمہ یہاں وہی ہونا چاہیے جو ہم نے کیا ہے۔ یعنی اُس پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں جو رات سے صبح، گٹھلی سے کونپل، دانے سے انکھوا، رحم سے بچہ اور پہاڑوں کا سینہ چاک کر کے اُن سے دریا اور چشمے نمودار کرتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں، اِس لیے کہ پناہ صرف وہی دے سکتا ہے اور اُس کی توحید پر ایمان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ پناہ صرف اُسی سے مانگی جائے۔
    ہر اُس چیز کے شر سے جو اُس نے پیدا کی ہے۔
    لفظ ’شَرّ‘ یہاں الم، تکلیف اور ضرر کے معنی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی مخلوق کو اِس طرح کے کسی شر کے لیے پیدا نہیں کیا ہے۔ جو چیزیں پیدا کی ہیں، اصلاً مقصد خیر سے پیدا کی ہیں۔ اپنی مخلوقات کے اندر جو صلاحیتیں ، البتہ اُس نے رکھی ہیں، اُن سے بعض اوقات یہ شرور پیدا ہو جاتے ہیں۔ اِن سے پناہ حاصل کرنے کے لیے موزوں ترین اور موثر ترین استعاذہ اُسی سے ہو سکتا ہے جو مخلوقات کا خالق ہے، اِس لیے کہ کوئی دوسرا اُن کے شر سے اُسی صورت میں پناہ دے سکتا ہے، جب وہ اُن کے پیدا کرنے والے سے زیادہ طاقت ور ہو۔ یہ بات، ظاہر ہے کہ کوئی عاقل تسلیم نہیں کر سکتا، اِس وجہ سے نری حماقت ہو گی، اگر کوئی شخص خدا کی پیدا کی ہوئی چیزوں کے شر سے کسی غیرخدا کی پناہ تلاش کرے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...یہ ایک ہی کلمہ شرک کے بہت سے دروازوں کے بند کر دینے کے لیے کافی ہے۔ اِس سے ثنویت اور خیر و شر کی الگ الگ خدائی کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ مشرک قومیں ہر آفت کو بجاے خود ایک مستقل نافع وضار وجود سمجھ کر اُس کی دہائی پکارنی شروع کر دیتی ہیں، حالاں کہ کوئی آفت اپنا خود کوئی مستقل وجود نہیں رکھتی، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں ہی کے ظلال و آثار میں سے ہیں جو اللہ ہی کے اذن سے وجود میںآتی ہیں، اُسی کے حکم سے اثر انداز ہوتی ہیں اور تنہا اُسی کی مدد سے اُن کے شر سے نجات ملتی ہے۔ اِس وجہ سے حقیقی پناہ اور ماویٰ و ملجا وہی ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۶۶۱)
    بالخصوص اندھیرے کے شر سے، جب وہ چھا جائے۔
    اِس لیے کہ چور، قاتل، دشمن اور ہوام و حشرات، سب اندھیرے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔اِس سے مزید وضاحت ہوئی کہ دنیا میں شرکا وجود مستقل بالذات نہیں ہے کہ خیر و شر کے الگ الگ خالق مانے جائیں اور دونوں کی دہائی دی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا کی ہیں، اُنھی کے ظلال و آثار ہیں جو دوسروں کے لیے الم، تکلیف اور نقصان کا باعث بن جاتے ہیں، اِس وجہ سے اِن سے بچنے کے لیے کسی دوسرے کی نہیں، بلکہ اللہ ہی کی پناہ ڈھونڈنی چاہیے۔
    اور گرہوں پر پھونکنے والوں کے شر سے۔
    اصل الفاظ ہیں: ’النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ‘۔ اِس کا موصوف ہمارے نزدیک لفظ ’نفوس‘ ہے۔ یہ جادوکے لیے ایک طرح کا استعارہ ہے، کیونکہ جادوگر عموماً کسی ڈور یا تاگے میں گرہ دیتے اور اُس پر پھونکتے جاتے ہیں۔ اِس طرح کے لوگ یہود میں بھی بہت رہے ہیں اور عرب کے ساحروں اور کاہنوں میں بھی۔ آیت سے واضح ہے کہ اِن کے علوم بھی اپنی کچھ حقیقت ضرور رکھتے ہیں۔ چنانچہ ہدایت کی گئی ہے کہ اِن کے شر سے خدا کی پناہ مانگی جائے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ لوگ اپنے ذہن جس طرح کے بناتے ہیں، اُن کے ساتھ وہ اُسی طرح کا معاملہ کرتا ہے۔ ایک شخص اگر اپنا تعلق اپنے رب سے استوار رکھتا ہے، لاطائل اوہام سے اپنے آپ کو بچاتا ہے، خدا کی یاد سے اپنے دل کو آباد رکھتا ہے، اگر کوئی افتاد پیش آتی ہے تو اُس میں رہنمائی اور استعانت کے لیے اپنے رب ہی کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر شیطان کو غلبہ پانے نہیں دیتا۔ اگر اتفاق سے اُس کو کوئی چھوت لگتی بھی ہے تو اللہ کی طرف توجہ اُس کے شر سے اُس کو بچا لیتی ہے۔ اِس کے برعکس اگر کوئی شخص بالکل منفعل مزاج اور وہمی ہوتا ہے، عقل و بصیرت سے کام لینے کے بجاے وساوس میں مبتلا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ پر مضبوط بھروسا رکھنے کے بجاے اپنے دل کے دروازے شبہات وشکوک کے لیے کھول دیتا ہے تو اِس طرح کا آدمی بالعموم کسی شیطان جن و انس کے ہتھے چڑھ جاتا ہے، پھر وہ اُس کو ہر وادی میں گردش کراتے ہیں۔ اِس گردش سے اپنے کو محفوظ رکھنے کا واحد طریقہ اِس سورہ نے یہی بتایا ہے کہ آدمی اپنے کو ہمیشہ اپنے رب کی پناہ میں رکھے۔ جب کبھی دل میں کوئی دغدغہ محسوس کرے، فوراًاُس کی امان طلب کرے جس کا بہترین ذریعہ یہ دونوں سورتیں ۔۔۔ معوذتین ۔۔۔ ہیں۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۶۶۳)  
    اور ہر حاسد کے شر سے، جب وہ حسد کرے۔
    یعنی جب حاسد حسد کے جوش میں اپنے ترکش کا ہر تیر آزمانے کے لیے تیار ہو جائے۔ لفظ ’حَاسِد‘ اگرچہ عام ہے اور اِس کو عام ہی رکھنا چاہیے، لیکن قرآن کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس میں خاص اشارہ شیطان کی طرف ہے جس نے پورے زور اور ولولے کے ساتھ اعلان کر رکھا ہے کہ وہ لوگوں کو خدا کی توحید سے برگشتہ کرکے رہے گا۔ چنانچہ دعوت حق اور اُس کے داعیوں کو بالخصوص متنبہ رہنا چاہیے ، اِس لیے کہ اُس کا اصل ہدف وہی ہوتے ہیں اور اُنھیں نقصان پہنچانے کے لیے وہ ہر اقدام کر گزرتا ہے۔ اگلی سورہ میں یہ چیز بالکل نمایاں ہو جائے گی۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List