Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الاخلاص (Purity of Faith, The Fidelity)

    4 آیات | مکی
    سورہ کا عمود، ترتیب میں اس کا مقام، زمانۂ نزول اور سابق و لاحق سے تعلق

    یہ سورہ ان سورتوں میں سے ہے جن کے نام ہی سے ان کے مضمون (عمود) کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کا نام ’اخلاص‘ ہے اور یہ اخلاص ہی اس کا عمود ہے۔ اخلاص کا مطلب اللہ واحد پر اس طرح ایمان لانا ہے کہ اس کی ذات یا صفات یا ان صفات کے لازمی تقاضوں میں کسی پہلو سے کسی دوسرے کی شرکت کا کوئی شائبہ نہ پایا جائے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کو ماننے کا تعلق ہے دنیا نے اس کو ہمیشہ مانا ہے۔ یہ چیز انسانی فطرت کا بدیہی تقاضا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شیطان توحید کا ابدی دشمن ہے اس وجہ سے وہ انسان کو فریب دے دے کر اس ماننے میں ایسی ملاوٹیں کرتا رہا ہے کہ ماننا اور نہ ماننا دونوں یکساں ہو کے رہ گیا ہے۔ توحید کی اصل حقیقت کو اجاگر کرتے رہنے ہی کے لیے اللہ تعالیٰ نے برابر اپنے رسول بھیجے لیکن انسان بار بار اس حقیقت کو پا پا کر کھوتا رہا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے توحید ہی کی خاطر اپنی قوم سے ہجرت کی اور اپنی اولاد کو ایک وادئ غیر ذی زرع میں بسایا کہ وہ مشرکانہ ماحول سے بالکل محفوظ رہ کر صرف اللہ واحد کی عبادت کرے لیکن پچھلی سورتوں میں آپ نے دیکھا کہ آپ ہی کی ذریت نے آپ ہی کے بنائے ہوئے مرکز توحید (بیت اللہ) کو ایک بت خانے کی شکل میں تبدیل کر دیا اور وہ اپنے خود تراشیدہ بتوں کی عصبیت میں اتنی سخت ہو گئی کہ خدا کے آخری رسول سے وہ اس بات پر لڑتی رہی کہ جب تک ان کے بتوں کا مقام تسلیم نہ کر لیا جائے گا وہ خدا کا حق بھی تسلیم نہیں کرے گی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے جواب میں وہ فیصلہ کن اعلان براء ت کرنا پڑا جوسورۂ کافرون میں آپ نے پڑھا۔

    یہ اعلان اگرچہ کافی تھا لیکن اس کا تعلق اصلاً قریش اور مشرکین مکہ سے تھا۔ عرب میں اہل کتاب کے بھی مختلف قبائل تھے۔ یہ لوگ اگرچہ حامل کتاب ہونے کے مدعی تھے لیکن شیطان نے ان کو بھی ورغلا کر شرک کی نہایت گھنونی قسموں میں مبتلا کر رکھا تھا۔ مدینہ اور اس کے اطراف میں ان کا خاصا اثر تھا یہاں تک کہ دینی معاملات میں اہل عرب بھی ان کی برتری علانیہ تسلیم کرتے تھے۔

    جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں رہے اس وقت تک تو ان کی مخالفت درپردہ رہی لیکن جب آپ نے مدینہ کو ہجرت فرمائی تو ان کی مخالفت بھی علانیہ ہو گئی۔ یہ لوگ چونکہ اہل کتاب تھے اس وجہ سے اس پندار میں مبتلا رہے کہ قرآن ان کے عقائد و اعمال کو بہرحال مشرکین کے مقابل میں کچھ اونچا درجہ دے گا لیکن قرآن نے ان پر واضح کر دیا کہ عقائد ہوں یا اعمال، ہر پہلو سے وہ نہایت گہرے کھڈ میں گر چکے ہیں۔ خاص طور پر نصاریٰ کے شرک پر قرآن نے جو تنقید کی اس کا اثر ان پر یہ پڑا کہ وہ بھی یہود کی طرح علانیہ میدان مخالفت میں اتر آئے اور مخالفین کے تینوں گروہوں ۔۔۔ مشرکین، یہود اور نصاریٰ ۔۔۔ نے مل کر ایک متحدہ محاذ، اسلام کے خلاف قائم کر لیا۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ اخلاص کی حقیقت واضح کرنے کے لیے آخری سورہ ایسی جامع ہو کہ وہ شرک کے تمام رخنوں کو یک قلم بند اور مشرکین اور اہل کتاب دونوں پر حجت تمام کر دے۔ چنانچہ یہ سورہ مدینہ میں نازل ہوئی۔ اگرچہ ایک گروہ نے اس کو مکی قرار دیا ہے لیکن اس سورہ کی جامعیت، جیسا کہ آگے وضاحت ہو گی، دلیل ہے کہ یہ مکہ میں نہیں بلکہ مدینہ میں نازل ہوئی ہے جب اہل کتاب بالخصوص نصاریٰ کی مخالفت بالکل آشکارا ہو گئی ہے۔

    قرآن میں اس سورہ کو سورۂ لہب کے بعد جگہ ملی ہے اور ہم پیچھے واضح کر چکے ہیں کہ یہ اشارہ ہے اس حقیقت کی طرف کہ اب حق کا سب سے بڑا دشمن ختم ہوا اور وقت آ گیا کہ اس حقیقی توحید کی منادی اس سرزمین سے پھر بلند ہو جس کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہاں حرم تعمیر فرمایا۔ سورۂ لہب سے پہلے سورۂ نصر میں فتح کی بشارت تھی۔ اس کے بعد سورۂ لہب میں اسلام کے سب سے بڑے عدد کی ہلاکت کی خبر ہے۔ پھر اس سورہ ۔۔۔ الاخلاص ۔۔۔ میں اسلام کے بنیادی پتھر ۔۔۔ توحید ۔۔۔ کے اس کے اصلی مقام میں نصب کرنے کا اعلان ہے۔ یہ اعلان پیش نظر رکھیے کہ قریش اور اہل کتاب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کشمکش ملک و مال کے لیے نہیں تھی بلکہ اس لیے تھی کہ غیر اللہ کی خدائی کے ہر نقش کو مٹا کر اس کی جگہ خدائے وحدہٗ لا شریک کی خدائی کے نقش کو اس طرح اجاگر کر دیا جائے کہ کسی کے لیے بھی اس میں کسی اشتباہ کی گنجائش باقی نہ رہے۔ چنانچہ اس سورہ میں توحید و اخلاص کا ہر پہلو نمایاں کر دیا گیا اور اس کو قرآن کے سب سے آخر میں جگہ دی گئی۔ اس کے بعد جو دو سورتیں ہیں وہ، جیسا کہ ہم نے پیچھے اشارہ کیا، اسی خزانۂ توحید کے پاسبان کی حیثیت رکھتی ہیں شیطان کی رخنہ اندازیوں سے حفاظت کے لیے وہ اس کے ساتھ لگا دی گئی ہیں۔

    قرآن مجید کی ترتیب اس طرح ہے کہ اس میں سب سے پہلے توحید و اخلاص کی سورہ ۔۔۔ الفاتحۃ ۔۔۔ کو جگہ دی گئی ہے اور پھر سب سے آخر میں بھی توحید و اخلاص ہی کی سورہ ۔۔۔ الاخلاص ۔۔۔ کو جگہ ملی ہے۔ اس سے اس دین میں توحید کی اہمیت و عظمت ظاہر ہوتی ہے کہ وہی اس میں اول بھی ہے اور آخر بھی۔ سورۂ فاتحہ میں خدا کی شکرگزاری کا حق اس پہلو سے واضح فرمایا گیا ہے کہ وہی ’رب العٰلمین‘ بھی ہے اور وہی ’مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ‘ بھی۔ پھر اس سورہ میں مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں سے، اللہ تعالیٰ کی وہ صفات بیان کی گئی ہیں جو ہر اس رخنہ کو بند کر دینے والی ہیں جن سے شرک کوئی راہ پا سکتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی جو صفات بیان ہوئی ہیں وہ توحید کی تعلیم میں مبادی کی حیثیت رکھتی ہیں اور مقدمۂ کتاب میں ہم اس آخری گروپ کی اس خصوصیت پر ایک جامع تبصرہ کر چکے ہیں کہ اس میں ان سورتوں کو جگہ ملی ہے جو دین کی تعلیم میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

  • الاخلاص (Purity of Faith, The Fidelity)

    4 آیات | مکی
    اللھب - الاخلاص

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ قریش کے ائمۂ کفر کی ہلاکت اور دوسری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اُس عقیدے کا فیصلہ کن اعلان ہے جس کے منکرین کے لیے ہلاکت کی یہ پیشین گوئی کی گئی ہے۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے نتیجے میں شرک و توحید کی جو کشمکش سرزمین عرب میں برپا ہوئی، اُس کا لازمی نتیجہ یہی تھا کہ شرک مٹا دیا جائے اور توحید کا غلبہ پورے جزیرہ نماے عرب میں قائم ہو جائے۔ یہ دونوں سورتیں اِسی نتیجے کو پوری قطعیت کے ساتھ بیان کرتی ہیں۔ اِس لحاظ سے دیکھا جائے تو ہجرت و براء ت اور فتح و نصرت کی بشارت کا جو مضمون ’الماعون‘اور ’الکوثر‘سے شروع ہوا تھا، وہ اِن سورتوں میں اپنے اتمام کو پہنچ گیا ہے۔ اِس کے ساتھ، اگر غور کیجیے تو قرآن کی دعوت بھی اتمام کو پہنچ گئی ہے اور سورۂ اخلاص میں، جو مضمون کے لحاظ سے قرآن کی آخری سورہ ہے، اُس کی دعوت کے بنیادی پتھر توحید کو اُس کے اصلی مقام میں نصب کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہ اعلان دوسرے مقامات میں بھی ہے،لیکن اِس کے لیے یہ مختصر اور جامع سورہ اِس لیے نازل کی گئی کہ مخالفین اِس کو شب و روز سنیں اور ماننے والے بھی یاد کرکے تعویذ کی طرح حرزجاں بنا لیں۔

    دونوں سورتوں میں روے سخن قریش کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت کے خاتمے پر نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- اللھب—- کا موضوع قریش کے ائمۂ کفر ،بالخصوص ابولہب کی ہلاکت کا اعلان ہے۔

    دوسری سورہ—- الاخلاص—- کا موضوع اُس عقیدۂ توحید کا فیصلہ کن اعلان ہے جو قرآن کی دعوت کا مرکز و محور ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 112 Verse 001 Chapter 112 Verse 002 Chapter 112 Verse 003 Chapter 112 Verse 004
    Click translation to show/hide Commentary
    تم اعلان کرو، (اے پیغمبر)، حقیقت یہ ہے کہ اللہ یکتا ہے۔
    اصل میں لفظ ’قُلْ‘ہے۔ یہ اُسی مفہوم میں ہے جس میں پیچھے ’قُلْ یٰٓاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ‘* میں آیا ہے، یعنی برملا کہہ دو اور اِس طریقے سے منادی کر دو کہ کسی کو کوئی شبہ باقی نہ رہے، ہر شخص اِس کو اچھی طرح سن لے اور جان لے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’اِس طرح کے اعلان کی ضرورت اُس وقت پیش آتی ہے، جب بحث و مناظرہ کا پورا دور گزر چکتا ہے اور یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سمجھانے کا حق ادا ہو چکا ہے، اب جو لوگ مزید بحثیں اٹھا رہے ہیں، وہ سمجھنے کے لیے نہیں، بلکہ بات کو الجھانے اور طول دینے کے لیے اٹھا رہے ہیں۔ اِس طرح کے موقع پر یہ مناسب ہوتا ہے کہ بات دو ٹوک اور فیصلہ کن انداز میں اِس طرح کہہ دی جائے کہ مخاطب اندازہ کرلے کہ متکلم نے جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا، اب وہ نہ اپنا مزید وقت ضائع کرنے کے لیے تیار ہے اور نہ اُس کے موقف میں کسی تبدیلی یا لچک کی گنجایش ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۶۴۸) اصل الفاظ ہیں: ’ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ‘۔ اِن میں ’ھُوَ‘ ضمیر شان ہے۔ یہ جملے سے پہلے آتی ہے اور اہل نحو کے نزدیک مجہول ہوتی ہے۔ اردو زبان میں ہم اِس کا مفہوم ’’بات یہ ہے‘‘، ’’قصہ یہ ہے‘‘،’’حقیقت یہ ہے‘‘ اور اِس طرح کے بعض دوسرے جملوں سے ادا کر سکتے ہیں۔ اِس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ اگلے جملے کے لیے ایک ایسا مبتدا میسر ہوجائے جو مخاطب کو خبر کے لیے پوری طرح تیار کر دے۔ ’اللّٰہ‘ اسم ذات ہے اور لفظ ’الٰہ‘ پر الف لام داخل کرکے بنا ہے۔ نزول قرآن سے پہلے عرب جاہلیت میں بھی یہ نام اُسی پروردگار کے لیے خاص تھا جو زمین و آسمان اور اُن کے مابین تمام مخلوقات کا خالق ہے۔ اہل عرب مشرک ہونے کے باوجود اپنے دیوی دیوتاؤں میں سے کسی کو بھی اُس کے برابر قرار نہیں دیتے تھے۔ قرآن نے اِسی نام کو اختیار کیا اور تمام صفات حسنیٰ کا موصوف بنایا ہے۔ ’اَحَدٌ‘ کے معنی ہیں جو ہر پہلو سے یگانہ و یکتا اور بے ہمہ ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...اہل لغت نے ’وَاحِد‘ اور ’اَحَد‘ میں یہ فرق کیا ہے کہ ’اَحَد‘ وہ ہے جس کی ذات میں کوئی شریک نہ ہو اور ’وَاحِد‘ وہ ہے جس کی صفات میں کوئی اُس کا شریک نہ ہو۔ غالباً اِسی وجہ سے لفظ ’اَحَدٌ‘ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کے لیے صفت کے طور پر نہیں آیا۔ اِس سے یکتائی و بے ہمگی من کل الوجوہ سمجھی جاتی ہے۔ ہر رشتہ و قرابت سے پاکی و برتری اِس کا لازمہ ہے۔ اِس سے یہ بات بھی نکلی کہ وہ قدیم ہے اور باقی سب حادث و مخلوق۔ ظاہر ہے کہ جو سب سے پہلے خود بخود تھا، وہ ہمیشہ سے تھا کیونکہ جو کبھی نیست رہا ہو، وہ خود ہرگز ہست نہیں ہو سکتا۔ اِس وجہ سے دو باتیں ماننی ضروری ہوئیں: ایک یہ کہ وہ ہمیشہ سے ہے۔ دوسری یہ کہ اُس کے سوا جو بھی ہیں، وہ سب اُس کی مخلوق ہیں۔ بے ہمگی کے یہ لازمی نتیجے ہیں جن کا انکار عقل کے خلاف ہے۔ پس یہ کہنا کہ وہ ’اَحَدٌ‘ ہے، دوسرے لفظوں میں یہ کہنا ہے کہ وہ قدیم لم یزل اور خالق کل ہے۔‘‘ (تدبرقرآن ۹/ ۶۵۰) _____ * ۱۰۹: ۱۔
    اللہ سب کا سہارا ہے۔
    اصل میں لفظ ’صَمَد‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ اُس بڑی چٹان کے لیے آتا ہے جو حملے کے وقت پناہ کا کام دے۔ زبور اور دوسرے صحیفوں میں اللہ تعالیٰ کو اِسی لحاظ سے ’چٹان‘ اور ’مدد کی چٹان‘ کہا گیا ہے۔ ’اَحَدٌ‘ کے ساتھ یہ اُسی طرح بطور بدرقہ لایا گیا ہے، جس طرح ’غَنِیّ‘ کے ساتھ ’حَمِیْد‘ لایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ یقیناً سب سے الگ اور ہر لحاظ سے بے ہمہ ہے، مگر اِس کے ساتھ وہی سب کے لیے پناہ کی چٹان اور سب کا ملجا و ماویٰ بھی ہے۔ اُس کے بندے جب اُس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ اُن کی بات سنتا اوراُن کی فریاد کو پہنچتا ہے۔ اُس کے یگانہ و یکتا ہونے سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ وہ کوئی خاموش علۃ العلل یا محرک اول ہے جسے اپنی مخلوقات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
    وہ نہ باپ ہے نہ بیٹا۔
    یہ بات لفظ ’اَحَدٌ‘ کے اندر بھی موجود تھی، لیکن قرآن کے مخاطبین چونکہ خدا کے بیٹے اور بیٹیاں بنائے ہوئے تھے، اِس لیے لفظ کا یہ مضمر اُس نے کھول دیا ہے تاکہ خدا کی یکتائی اور بے ہمگی کی حقیقت اِس طرح بے نقاب کر دی جائے کہ نہ اشتباہ کی گنجایش باقی رہے، نہ کوئی چیز مزلۂ قدم بن سکے۔
    اور نہ اُس کا کوئی ہم سر ہے۔
    اصل میں لفظ ’کُفُوًا‘ ہے۔ یہ نظیر، مشابہ، مماثل اور ہم رتبہ کے معنی میں آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ساری کائنات میں کوئی نہیں ہے جو اللہ کے ساتھ کسی بھی لحاظ سے کسی نوعیت کی کوئی مشابہت رکھتا ہو۔ وہ اپنے مقام و مرتبہ اور اپنی صفات، افعال اور اختیارات میں بالکل یکتا اور یگانہ ہے۔ ایمان و عقیدہ کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا مسئلہ سب سے زیادہ اہم ہے۔ یہ سورہ اتمام حجت کے درجے تک اِس مسئلے کو واضح کر دیتی ہے۔ چنانچہ غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اِسی بنا پر سورہ کی تفسیر کے آخر میں اِس کے مباحث کا خلاصہ کر دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’اِس سورہ میں جو مثبت و منفی صفات اللہ تعالیٰ کی مذکور ہوئی ہیں، اُن سب کو سامنے رکھ کر اللہ تعالیٰ کا تصور ذہن میں آراستہ کیجیے تو بالاجمال وہ تصور یہ ہو گا کہ وہ ازلی و ابدی ہے۔ جب کچھ نہیں تھا تو وہ تھااور جب کچھ نہیں ہو گا تب بھی وہ ہو گا۔ وہ اپنی ذات میں کامل اور بالکل بے نیاز ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں ہے ، سب اُس کے محتاج ہیں۔ وہ سب کے لیے سہارا اور سب کے لیے پناہ ہے۔ ہر چیز اُس کے حکم سے وجود میں آتی ہے اور اُسی کے حکم سے فنا ہوتی ہے۔ نہ وہ کسی کا باپ ہے نہ کسی کا بیٹا، بلکہ سب کا خالق اور سب کا پروردگار ہے۔ کوئی چیز اُس کی ذات یا اُس کے جوہر سے نہیں ہے، بلکہ ہر چیز اُس کی مخلوق و مربوب ہے اور کوئی اُس کا ہم سریا اُس کی برابری کا نہیں ہے، بلکہ سب اُس کے بندے، غلام اور محکوم ہیں۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۶۵۲)  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List