Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • المسد (The Plaited Rope, The Palm Fibre)

    5 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق و لاحق سے تعلق

    اس سورہ کے عمود اور سابق و لاحق سے اس کے تعلق پر استاذ امام مولانا حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں ایسی جامع اور حکیمانہ بحث کی ہے کہ ہم اپنی طرف سے کچھ لکھنے کے بجائے اسی کے بعض اہم اقتباسات پیش کر دینا کافی سمجھتے ہیں۔ مولانا علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:

    ’’سورۂ نصر کی تفسیر میں بیان ہو چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت فتح مکہ پر تمام کی۔ اسی طرح آپ کے لائے ہوئے صحیفہ کو اس فتح عظیم کے ذکر پر ختم کیا۔ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ حق اپنے مرکز پر پہنچ گیا۔ خانۂ کعبہ کے مرکز توحید و اسلام اور سرچشمۂ ملت ابراہیم ہونے کے سبب سے فتح مکہ ہی آپ کی بعثت کا گویا آخری اور تکمیلی کام تھا۔ اس کے بعد صرف ثابت قدمی اور استقامت کی ضرورت رہتی تھی جس کے لیے تین سورتیں اس کے بعد لگا دی گئیں۔ سورۂ اخلاص، جو تمام معارف توحید کا خزانہ اور دین کی بنیاد ہے اور سورۂ فلق و سورۂ ناس دعائے استقامت کی تعلیم اور شیاطین جن و انس کی تاخت سے اس خزانہ کی حفاظت کے لیے۔‘‘

    اس کے بعد مولانا علیہ الرحمۃ سورۂ نصر، سورۂ اخلاص اور معوّذتین (سورۂ فلق اور سورۂ ناس) کے اس جھرمٹ میں سورۂ لہب کے رکھے جانے کی حکمت یہ بیان فرماتے ہیں:

    ’’اس تمہید سے واضح ہوا کہ یہ تمام سورتیں ۔۔۔ سورۂ نصر، سورۂ اخلاص اور معوّذتین ۔۔۔ باہم دگر مربوط ہیں اس وجہ سے سورۂ لہب کا ان کے درمیان رکھا جانا بھی لازماً کسی حکمت پر مبنی ہو گا ورنہ یہ پورا سلسلۂ نظم درہم برہم ہو جائے گا۔ چنانچہ غور و فکر سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ سورۂ نصر میں جس فتح و غلبہ کا ذکر ہے سورۂ لہب میں اسی کی وضاحت و بشارت۔ گویا یوں فرمایا گیا کہ اللہ نے اپنے پیغمبر کو غلبہ دیا اور اس کے دشمن کو برباد کیا۔ چنانچہ دوسرے مقام میں یہ بات یوں واضح فرمائی گئی:

    جَآءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوۡقًا (بنی اسرائیل ۱۷: ۸۱)

    ’’حق نمودار ہو گیا اور باطل برباد ہوا۔ بلاشبہ باطل مٹنے ہی کی چیز ہے۔‘‘

    اس نظم کی نہایت خوب صورت مثال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خطبہ میں بھی ہے جو آپ نے فتح مکہ کے دن، خانہ کعبہ کے دروازے پر دیا۔ آپ نے فرمایا:

    لا الٰہ الا اللّٰہ وحدہ وصدق وعدہ ونصر عبدہ وھزم الاحزاب وحدہ.

    ’’خدائے واحد کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد فرمائی اور دشمنوں کی تمام پارٹیوں کو یکہ و تنہا شکست دی۔‘‘

    بظاہر تو یہ تین الگ الگ فقرے ہیں لیکن ایک صاحب نظر کے لیے ان تینوں کے اندر علی الترتیب تین سورتوں کے مضمون پنہاں ہیں۔ پہلا فقرہ ’لا الٰہ الا اللّٰہ وحدہ‘ سورۂ کافرون کے ہم معنی ہے۔ دوسرا فقرہ ’وصدق وعدہ ونصر عبدہ‘ سورۂ نصر کا ہم مضمون ہے۔ تیسرا جملہ ’وھزم الاحزاب وحدہ‘ اور سورۂ لہب ایک ہی حقیقت کی دو تعبیریں ہیں۔ معلوم ہوا کہ جس طرح یہ تینوں فقرے ایک صاحب نظر کے لیے بالکل مربوط و منظم ہیں اسی طرح جو لوگ ان سورتوں کے مضامین پر غور کریں گے وہ ان سب کو ایک ہی زنجیر کی مربوط کڑیوں کی شکل میں پائیں گے۔‘‘

  • المسد (The Plaited Rope, The Palm Fibre)

    5 آیات | مکی
    اللھب - الاخلاص

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ قریش کے ائمۂ کفر کی ہلاکت اور دوسری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اُس عقیدے کا فیصلہ کن اعلان ہے جس کے منکرین کے لیے ہلاکت کی یہ پیشین گوئی کی گئی ہے۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے نتیجے میں شرک و توحید کی جو کشمکش سرزمین عرب میں برپا ہوئی، اُس کا لازمی نتیجہ یہی تھا کہ شرک مٹا دیا جائے اور توحید کا غلبہ پورے جزیرہ نماے عرب میں قائم ہو جائے۔ یہ دونوں سورتیں اِسی نتیجے کو پوری قطعیت کے ساتھ بیان کرتی ہیں۔ اِس لحاظ سے دیکھا جائے تو ہجرت و براء ت اور فتح و نصرت کی بشارت کا جو مضمون ’الماعون‘اور ’الکوثر‘سے شروع ہوا تھا، وہ اِن سورتوں میں اپنے اتمام کو پہنچ گیا ہے۔ اِس کے ساتھ، اگر غور کیجیے تو قرآن کی دعوت بھی اتمام کو پہنچ گئی ہے اور سورۂ اخلاص میں، جو مضمون کے لحاظ سے قرآن کی آخری سورہ ہے، اُس کی دعوت کے بنیادی پتھر توحید کو اُس کے اصلی مقام میں نصب کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہ اعلان دوسرے مقامات میں بھی ہے،لیکن اِس کے لیے یہ مختصر اور جامع سورہ اِس لیے نازل کی گئی کہ مخالفین اِس کو شب و روز سنیں اور ماننے والے بھی یاد کرکے تعویذ کی طرح حرزجاں بنا لیں۔

    دونوں سورتوں میں روے سخن قریش کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت کے خاتمے پر نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — اللھب — کا موضوع قریش کے ائمۂ کفر ،بالخصوص ابولہب کی ہلاکت کا اعلان ہے۔

    دوسری سورہ — الاخلاص — کا موضوع اُس عقیدۂ توحید کا فیصلہ کن اعلان ہے جو قرآن کی دعوت کا مرکز و محور ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 111 Verse 001 Chapter 111 Verse 002 Chapter 111 Verse 003 Chapter 111 Verse 004 Chapter 111 Verse 005
    Click translation to show/hide Commentary
    ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ خود بھی ہلاک ہوا۔
    اِس کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا۔ سرخ و سپید اور شعلہ رو ہونے کی وجہ سے کنیت ابولہب مشہور ہو گئی تھی۔ اِس کا انجام بیان کرتے ہوئے آگے دوزخ کے لیے ’ذَاتَ لَھَبٍ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ اِسی رعایت سے استعمال ہوئے ہیں۔ قریش کے ائمۂ کفر میں سب سے زیادہ شقی یہی تھا۔ اِس کی مخالفت سراسر اِس کے ذاتی مفادات پر مبنی تھی۔ اِس میں نہ اِس نے کبھی رشتہ و تعلق کی پروا کی، نہ قبائلی روایات کا پاس کیا اور نہ شریفانہ اخلاق کے اصول ملحوظ رکھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں یہ سب کا سرخیل تھا اور لوگ زیادہ تر اِسی کے اقدامات کی پیروی کرتے تھے۔ پھر قریش کی مذہبی حکومت میں بھی اُس زمانے میں اِس کو ایسا مقام حاصل ہو گیا تھا کہ استاذ امام کے الفاظ میں، یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ پوری حکومت عملاً اِس کے انگوٹھے کے نیچے آ گئی تھی۔ پچھلی سورتوں میں زیادہ تر اِسی کا کردار زیر بحث رہا ہے، اِس لیے یہی مستحق تھا کہ قریش کے ائمۂ کفر کی ہلاکت کی پیشین گوئی اِسی کا نام لے کر کی جائے۔ یعنی اُس کے اعوان و انصار ہلاک ہوئے اور اُس کا اقتدار ختم ہو گیا۔ اِس مفہوم کے لیے یہ تعبیر اردو زبان میں بھی موجود ہے۔ آیت میں ماضی کا صیغہ مستقبل میں اِس پیشین گوئی کے پورا ہو جانے کی قطعیت پر دلالت کرتا ہے۔ گویا اُس کا ہونا ایسا یقینی ہے، جیسے وہ ہو چکی ہے۔ چنانچہ اِس کے کم و بیش دو سال بعد غزوۂ بدر کے موقع پر یہ پیشین گوئی حرف بہ حرف پوری ہو گئی اور ابوسفیان کے سوا قریش کے تمام بڑے بڑے سردار اُس غزوے میں ہلاک ہو گئے۔ ابولہب معرکۂ بدر میں شریک نہیں ہوا۔ اپنی جگہ اُس نے اپنے ایک مقروض کو اِس وعدے کے ساتھ بھیج دیا تھا کہ اِس کے عوض وہ اُس کا قرض معاف کر دے گا، لیکن خدا کے عذاب سے بچنے کی یہ تدبیر بھی کارگر نہیں ہوئی اور غزوۂ بدر کے صرف سات دن بعد قرآن کی پیشین گوئی پوری ہو گئی۔ اُس کی موت نہایت عبرت ناک تھی۔ اُسے عدسہ (malignant pustule) کی بیماری ہو گئی اور وہ اِس رسوائی اور بے بسی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوا کہ چھوت کے اندیشے سے اُس کے خاندان والوں، دوست احباب، یہاں تک کہ اُس کے بیٹوں نے بھی اُس کی خبر گیری نہیں کی۔ مرنے کے بعد کئی دن تک اُس کی لاش گھر میں پڑی سڑتی رہی۔ بالآخر لوگوں نے طعنے دیے تو اُس کے بیٹوں نے کچھ حبشیوں کو اجرت دے کر اُس کی لاش اٹھوائی اور ایک دیوار کے ساتھ رکھ کر اُسے پتھروں سے ڈھانک دیا۔* آیت میں ’تَبَّ‘ کا لفظ اُس کے اِسی انجام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ _____ * السیرۃ النبویہ، ابن کثیر۲/ ۴۷۹۔
    نہ اُس کا مال اُس کے کام آیا اور نہ وہ (خیر) جو اُس نے کمایا۔
    اِس سے وہ کام مراد ہیں جو بظاہر نیکی کے سمجھے جاتے ہیں اور بیت اللہ کے شعبۂ مالیات کا ذمہ دار ہونے کی وجہ سے لوگوں کو دکھانے اور اپنی خیانتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ابولہب کو بھی کرنے پڑتے تھے۔
    یہ (شعلہ رو) اب شعلہ زن آگ میں پڑے گا۔
    آیت میں ’ذَاتَ لَھَبٍ‘ کے الفاظ ہیں۔ ہم نے اوپر بیان کیا ہے کہ یہ اُس کی کنیت کی رعایت سے آئے ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...قرآن نے یہاں اُس کا یہ انجام بیان کرکے یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ اِس دنیا میں اُس کو اپنی جس شعلہ روئی پر ناز رہا، آخرت میں یہ اُس کے لیے وبال بنے گی۔ وہ شعلوں والی آگ میں جھونکا جائے گا، جس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ظاہر کا حسن کوئی فخر کی چیز نہیں ہے، بلکہ یہ آدمی کے لیے وبال بن سکتا ہے، اگر اِس کے ساتھ باطن کا حسن نہ ہو۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۶۳۶)
    اور (اِس کے ساتھ) اِس کی بیوی بھی۔ وہ (دوزخ میں اپنے لیے) ایندھن ڈھو رہی ہو گی۔
    یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ عرب کی یہ خاتون اول بھی اپنے شوہر کی طرح دولت کی حریص ، نمایش کی رسیا اور شوہر کے جرائم میں پوری طرح شریک، بلکہ اُن کے لیے سب سے بڑا محرک بنی ہوئی تھی۔ اصل الفاظ ہیں: ’حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ‘۔ تالیف کے لحاظ سے یہ حال واقع ہوئے ہیں۔ اِن میں اُس کی وہ حالت مذکور ہوئی ہے، جب شوہر کے ساتھ اُسے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ گویا اُس وقت اُس کا حال اُس مجرم کا سا ہو گا جو اپنے جلانے کا ایندھن خود ہی ڈھو کر لا رہا ہو۔
    اُس کے گلے میں بٹی ہوئی رسی ہو گی۔
    یہ ایندھن ڈھونے والی لونڈیوں کی تصویر ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ جزا و سزا میں عمل اور نتیجۂ عمل کی موافقت ملحوظ رکھی جائے گی۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں وہ اپنے گلے میں جو قیمتی ہار پہن کر اتراتی تھی، وہی وہاں بٹی ہوئی موٹی رسی کی صورت اختیار کر لے گا جس سے اُس کی مثال اُس لونڈی کی ہو جائے گی جو گلے میں رسی ڈال کر لکڑیاں چننے جا رہی ہو۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List