Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • النصر (The Help, Succour, Divine Support, Victory)

    3 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود، سابق سورہ سے تعلق اور مطالب کا خلاصہ

    سابق سورہ ۔۔۔ الکٰفرون ۔۔۔ سے متعلق وضاحت ہو چکی ہے کہ یہ براء ت، ہجرت اور معنًا اعلان جنگ کی سورہ ہے۔ اب اس سورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بشارت دی گئی ہے کہ وہ وقت قریب ہے کہ آپ کے لیے خاص نصرت غیبی ظاہر ہو گی، مکہ فتح ہو گا اور جس مشن پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو مامور فرمایا آپ اس سے سرخ روئی کے ساتھ فارغ ہو کر اپنے رب کی خوشنودی و رضامندی سے سرفراز ہوں گے۔ سورۂ فتح کی ابتدائی آیات میں بھی یہی مضمون بیان ہوا ہے۔ وہاں ہم نے وضاحت سے اس کے ہر پہلو پر بحث کی ہے۔ تفصیل کے طالب اس پر ایک نظر ڈال لیں۔

    ہجرت، جہاد اور فتح و نصرت میں جو گہرا ربط ہے اس کی طرف ہم سابق سورہ ۔۔۔ الکٰفرون ۔۔۔ میں بھی اشارہ کر چکے ہیں اور اس کتاب کے دوسرے مقامات میں بھی اس کی وضاحت ہو چکی ہے۔ یہاں صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ رسولوں کی دعوت میں ہجرت کا مرحلہ ہی وہ مرحلہ ہے جب ان کی قوم پر اللہ کی حجت تمام ہوئی ہے، جب انھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ، قوم سے الگ ہو کر، اپنی ایک خاص ہیئت تنظیمی بنائی ہے، جب قوم تمام صالح عناصر سے خالی ہو جانے کے سبب سے بالکل ایک جسد بے روح ہو کر رہ گئی ہے اور اہل ایمان اپنے عقائد و تصورات کی آزاد فضا میں پہنچ کر ایک ایسی ناقابل تسخیر قوت بن گئے ہیں کہ جو ان سے ٹکرایا اس نے شکست کھائی اور جس پر وہ گرے اس کو پاش پاش کر کے رکھ دیا۔ چنانچہ رسولوں نے اپنے دشمنوں سے جو جنگ کی ہے وہ ہمیشہ ہجرت کے بعد ہی کی ہے اور اس جنگ میں اگرچہ جماعت کی تربیت کے پہلو سے بعض اوقات آزمائشیں بھی ان کو پیش آئی ہیں لیکن بالآخر اللہ تعالیٰ کی نصرت سے ان کو وہ فتح حاصل ہوئی ہے جس کو چیلنج کرنے کی جرأت کسی کو نہیں ہوئی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے واقعات اس حقیقت پر شاہد ہیں۔

    ہجرت اور فتح و نصرت کے درمیان یہی وہ رشتہ ہے جس کے سبب سے یہ سورہ جو بالاتفاق مدنی ہے، ایک مکی سورہ کی مثنیٰ قرار پائی۔ اس سورہ کے زمانۂ نزول سے متعلق دو قول ہیں۔ ایک یہ کہ فتح مکہ کے بعد نازل ہونے والی سورتوں میں یہ سب سے آخری سورہ ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ فتح مکہ سے پہلے اس کی بشارت کے طور پر نازل ہوئی ہے۔ میرے نزدیک اسی دوسرے قول کو ترجیح حاصل ہے۔

    اس کی اول وجہ یہ ہے کہ قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے یہ بات واضح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ملت ابراہیم پر ہوئی تھی اور ملت ابراہیمؑ کا اصل مرکز چونکہ بیت اللہ ہی تھا اس وجہ سے اس کو خائنوں کے تسلط سے آزاد اور ملت ابراہیمی کی خصوصیات سے معمور و آباد کرنا آپ کے مشن کا اصلی اور تکمیلی کام تھا۔ چنانچہ ’الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِیْنًا‘ (المائدہ ۵: ۳) میں اسی کام کو آپ کا تکمیلی کام قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بعد جو کام ہوئے وہ سب اسی کے توابع و مقتضیات تھے۔

    دوسری وجہ یہ ہے کہ عرب میں اصل طاقت قریش ہی کی تھی جو مکہ پر قابض تھے اور بیت اللہ کے متولی ہونے کے سبب سے تمام عرب پر اپنی دھاک جمائے ہوئے تھے۔ ان کی طاقت کو توڑ دینا ہی اصل فتح تھی۔ ان کی طاقت توڑے بغیر کوئی فتح نہ حقیقی معنوں میں فتح ہو سکتی تھی اور نہ ان کی طاقت کے ٹوٹ جانے کے بعد کسی اور کے لیے یہ امکان باقی رہ جاتا تھا کہ وہ مسلمانوں کی کسی درجہ میں بھی کوئی مزاحمت کر سکے۔

    تیسری وجہ یہ ہے کہ یہاں جس نصرت اور جس فتح کا ذکر ہے اور وہ جس انداز سے آیا ہے وہ عام نصرت اور فتح نہیں ہے بلکہ یہ اس نصرت اور فتح کا ذکر ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے وعدوں اور سنت الٰہی کے تقاضوں کی روشنی میں ہجرت کے بعد ہر مسلمان کے دل میں رچی بسی ہوئی تھی اور جس کے ظہور کا ہر مسلمان دل سے متمنی تھا۔ یہ وہ نصرت ہے جس کا ذکر سورۂ مجادلہ کی آیت ۲۱

    ’کَتَبَ اللہُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِیْ‘

    (اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ میں غالب رہوں گا اور میرے رسول)

    میں آیا ہے۔ اور یہ اس فتح و نصرت کا حوالہ ہے جس کا ذکر سورۂ صف آیت ۱۳ میں بدیں الفاظ وارد ہوا ہے:

    ’وَاُخْرٰی تُحِبُّوۡنَہَا نَصْرٌ مِّنَ اللہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ‘

    (اور ایک اور عظیم فیروزمندی بھی ہے جس کی تم تمنا رکھتے ہو، وہ ہے اللہ کی نصرت اور عنقریب ظہور میں آنے والی فتح)

    ان آیات میں جس نصرت اور فتح کی طرف اشارہ ہے ظاہر ہے کہ اس کا تعلق فتح مکہ سے ہے اس کے سوا کسی اور فتح و نصرت کو یہاں مراد لینے کی گنجائش نہیں ہے۔ جن لوگوں نے اس سورہ کا نزول فتح مکہ کے بعد مانا ہے انھیں ایک روایت کے سمجھنے میں غلط فہمی پیش آئی ہے لیکن اس پر نہ یہاں بحث کی گنجائش ہے اور نہ غالباً ہماری ساری بحث غور سے پڑھ لینے کے بعد اس کی کوئی خاص ضرورت ہی باقی رہے گی۔

    یہ سورہ اپنے مزاج کے اعتبار سے یکسر بشارت ہے۔ فیصلہ کن نصرت کی بشارت، مکہ کی آزادی کی بشارت، اللہ کے دین میں لوگوں کے جوق در جوق داخل ہونے کی بشارت اور آخرت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مفوّضہ مشن سے سرخ روئی کے ساتھ فارغ ہونے کی بشارت۔ اس آخری بشارت سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ اب دنیا سے آپؐ کے رخصت ہونے کا وقت قریب آ رہا ہے اس وجہ سے آپ کو اپنے رب کی حمد و تسبیح میں مزید اضافہ کر دینا چاہیے تاکہ اس عظیم انعام کا حق بھی ادا ہو جو تکمیل دین کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے آپ پر فرمایا اور خدائے توّاب کی مزید عنایت بھی آپ کو حاصل ہو تاکہ آپ اپنی سعی کا بڑے سے بڑا اجر اپنے رب کے پاس پائیں۔ اسی ٹکڑے سے قرآن کے سب سے بڑے نکتہ دان حضرت ابن عباس نے یہ نکتہ نکالا کہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ یہ نکتہ دقیق ہے، جس کے دقیق ہونے کی سب سے بڑی شہادت یہ ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کی تحسین و تصویب فرمائی ہے۔ لیکن یہ نکتہ بھی اپنے اندر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک بہت بڑی بشارت رکھتا ہے جس کی وضاحت ان شاء اللہ ہم متعلق آیت کی تفسیر کے تحت کریں گے۔

  • النصر (The Help, Succour, Divine Support, Victory)

    3 آیات | مدنی
    الکٰفرون - النصر

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ قریش سے علیحدگی کا اعلان اور دوسری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فتح و نصرت کی بشارت ہے۔ دونوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت کے خاتمے پر نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- الکٰفرون—- میں روے سخن قریش کی طرف ہے اور اِس کا موضوع اُن کے ائمۂ کفر سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلان براء ت ہے جو سنت الٰہی کے مطابق رسول اور اُس کے ساتھیوں کے لیے لازماً غلبۂ حق کی تمہید بن جاتا ہے۔

    دوسری سورہ—- النصر—- کے مخاطب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اِس کا موضوع آپ کے لیے غلبۂ حق کی بشارت اور اِس کے نتیجے میں اپنے پروردگار سے ملاقات کے لیے تیاری کی ہدایت ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 110 Verse 001 Chapter 110 Verse 002 Chapter 110 Verse 003
    Click translation to show/hide Commentary
    جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے۔
    پچھلی سورہ میں قریش کے ائمۂ کفر سے اظہار براء ت ہے۔ یہ سورہ سراسر بشارت ہے اور اُس کی توام سورہ کے طور پر اُس کے ساتھ ہی رکھ دی گئی ہے تاکہ وہ رشتہ پوری طرح واضح ہو جائے جو رسولوں کی دعوت میں ہجرت و براء ت اور فتح و نصرت کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ بشارت جس شان کے ساتھ واقعہ بنی، اُس کی تفصیلات تاریخ کے صفحات میں ثبت ہیں۔ یہ کسی انسان کے الفاظ نہیں تھے کہ ابدی حسرتوں کے ساتھ فضا میں تحلیل ہو جاتے۔ یہ خدا کے الفاظ تھے جو اُس کے پیغمبر کی زبان پر جاری ہوئے۔ جب یہ کہے گئے، اُس وقت اِن سے زیادہ ناممکن الوقوع اور ناقابل یقین کوئی چیز نہیں تھی، لیکن تھوڑے ہی دنوں میں تاریخ بن گئے،ایک ایسی تاریخ جس کی کوئی مثال دنیا کی تاریخ سے پیش نہیں کی جا سکتی۔ یہ وہی مدد اور فتح ہے جس کا اللہ نے اپنے پیغمبر سے وعدہ کیا تھا اور مسلمان دعوت حق کے سخت سے سخت مراحل میں بھی جس کے منتظر اور متوقع رہے تھے۔ سورۂ صف (۶۱) کی آیت ۱۳ میں قرآن نے اِسی کے بارے میں فرمایا ہے کہ ’وَاُخْرٰی تُحِبُّوْنَھَا، نَصْرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ‘ (اور وہ دوسری چیز بھی جو تم چاہتے ہو، یعنی اللہ کی مدد اور فتح جو عنقریب حاصل ہو جائے گی)۔ اِس سے، ظاہرہے کہ فتح مکہ کے سوا کوئی اور فتح مراد نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ جس مدد کا یہاں ذکر ہوا ہے، وہ بھی اُس کے لیے حاصل ہونے والی مدد ہے جس کا آخری ظہور اُس وقت ہوا، جب دس ہزار قدوسیوں کے سامنے اہل مکہ نے بغیر کسی مزاحمت کے سر تسلیم خم کر دیا۔ سنت الٰہی کے مطابق یہ فتح و نصرت خدا کے رسولوں کو اتمام حجت اور اپنی قوم سے ہجرت و براء ت کے بعد لازماً حاصل ہو جاتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں یہی فتح و نصرت تھی جس کی طرف مخاطبین کے ذہن اُس کا نام لیے بغیر منتقل ہو سکتے تھے۔ قرآن نے اِسی بنا پر اِس اجمال کے ساتھ اور محض ایک الف لام سے اُس کا ذکر کر دیا ہے۔
    اور تم لوگوں کو دیکھ لو کہ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں۔
    یہ اُس بشارت کا سب سے نمایاں پہلو ہے جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ اِس کے معنی یہ تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی قوم کو ایمان وا سلام کی نعمت سے نوازے گا۔وہ عاد و ثمود کی طرح مٹا نہیں دیے جائیں گے، بلکہ اللہ کی عنایت سے ایمان کی توفیق پائیں گے اور استبداد کے بند ٹوٹتے ہی رکے ہوئے سیلاب کی طرح آپ کی دعوت پر لبیک کہنے کے لیے ٹوٹ پڑیں گے۔ یہ اِس بات کی تائید مزید ہے کہ جس فتح کا ذکر ہوا ہے، اُس سے مراد فتح مکہ ہی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’یہی فتح ہے جس نے ملک کے حالات میں وہ تبدیلی پیدا کی کہ لوگ اپنے دین کے انتخاب کے معاملے میں بالکل آزاد ہو گئے اور سرزمین عرب سے اُس فتنے کا بالکلیہ خاتمہ ہو گیا جس کے بل پر قریش کے لیڈر لوگوں کے دین وایمان کے مالک بنے بیٹھے تھے۔ اِس بشارت کے پردے میں گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتا دیا گیا کہ اب جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ لوگ قریش کے ظلم و استبداد سے بالکل آزاد ہو کر اللہ کے دین کی طرف دوڑیں گے اور کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اُن کی راہ میں کوئی مزاحمت پیدا کر سکے۔ یہ چیز اِس بات کی نہایت محکم دلیل ہے کہ اِس سے مراد فتح مکہ ہی ہے۔ اِس کے سوا کوئی اور فتح نہیں ہے جس سے یہ اثرات نمایاں ہوئے ہوں۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۶۲۲)  
    تو اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو اور اُس سے معافی چاہو۔ بے شک، وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے۔
    یعنی توحید کے صحیح تصور کے ساتھ اُس کو یاد کرو، اِس لیے کہ حقیقی توحید تنزیہہ اور اثبات، دونوں کے امتزاج سے وجود میں آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ ماننا بھی ضروری ہے کہ وہ اُن باتوں سے پاک ہے جو اُس کی شان الوہیت کے منافی ہیں اور یہ بھی کہ وہ اُن تمام اوصاف سے متصف ہے جو اُس کے شایان شان ہیں۔ یہ وہی ہدایت ہے جو اِس سے پہلے سورۂ الم نشرح میں بیان ہوئی ہے، یعنی ’فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ، وَاِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ‘۔* مطلب یہ ہے کہ جب یہ چیزیں ظہور میں آجائیں تویہ اِس بات کی علامت ہو گی کہ آپ کا مشن پورا ہو گیاہے اور اللہ تعالیٰ نے جو عظیم ذمہ داری آپ پر ڈالی تھی، آپ نہایت با عزت طریقے سے اُس سے سبک دوش ہوگئے ہیں،اِس لیے اب اپنے پروردگار سے ملاقات کی تیاری کیجیے۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ اپنے مشن سے فراغت کے بعد پورے انہماک کے ساتھ اللہ کی عبادت میں لگ جاؤ، ہر لحظہ اُس کی پاکی بیان کرو، اُس کی صفات کو مستحضر رکھو اور دعوت کے کام میں اگر کہیں حد مطلوب سے تجاوز ہوا ہے تو اپنے پروردگار سے معافی چاہو۔ اپنے بندوں پر وہ بڑا مہربان اور اُن کی لغزشوں سے درگذر فرمانے والا ہے۔ _____ * ۹۴: ۷۔۸۔’’اِس لیے جب فارغ ہو جاؤ تو (عبادت کے لیے) کمر باندھ لو اور اپنے رب سے لو لگائے رکھو۔‘‘


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List