Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الکافرون (Those Who Reject Faith, The Disbelievers, The Kafirs)

    6 آیات | مکی
    سورہ کا عمود، سابق سورہ سے تعلق اور مدّعا کی ترتیب

    اس سورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قریش کے ائمۂ کفر سے براء ت کا اعلان ہے پچھلی سورتوں میں بھی تمام تر بحث قریش کے لیڈروں ہی سے رہی ہے لیکن خطاب ان سے قومی اور انسانی بنیاد پر ہوا ہے، کہیں بھی ’یٰٓاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ‘ کے الفاظ سے ان کو خطاب نہیں کیا گیا ہے۔ لیکن اس سورہ میں ان کو صاف صاف ’اے کافرو!‘ کے الفاظ سے مخاطب کر کے ان سے بالکل حتمی طور پر قطع تعلق اور براء ت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہ اعلان براء ت رسولوں کی اس سنت کے مطابق ہوا ہے جس کی وضاحت پچھلی سورتوں میں ہو چکی ہے کہ اللہ کے رسول اپنی قوم کو پہلے دین کی بنیادی باتوں ۔۔۔ توحید اور قیامت ۔۔۔ کی دعوت دیتے ہیں۔ اس دعوت میں وہ قوم کو ’اپنی قوم‘ ہی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہیں اور اس پر اس وقت تک پوری استقامت سے جمے رہتے ہیں جب تک قوم کے اعیان و اکابر اپنے رویہ سے ان کو مایوس نہیں کر دیتے۔ جب وہ مایوس کر دیتے ہیں اور بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ یہ ہٹ دھرم اپنی ضد سے باز آنے والے نہیں ہیں۔ تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول کو ہجرت کا حکم ہوتا ہے اور وہ قوم سے اعلان براء ت کر کے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہجرت کر جاتا ہے۔ رسول کی ہجرت قوم کے لیے گویا آخری تنبیہ ہوتی ہے۔ اس کے بعد اگر اس کے رویہ میں کوئی اچھی تبدیلی نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ ایک محدود مہلت دینے کے بعد قوم کے تمام مکذبین کو تباہ کر دیتا ہے، خواہ یہ تباہی رسول کی زندگی ہی میں واقع ہو یا اس کے بعد اور خواہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کوئی قہر آسمانی نازل کرے یا رسول کے ساتھیوں کی تلوار اس کے لیے بے نیام ہو۔ حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر حضرت ابراہیم علیہ السلام و حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام رسولوں کی جو تاریخ قرآن میں بیان ہوئی ہے اس میں یہ مشترک حقیقت موجود ہے اور ہم اس کے تمام پہلوؤں کی وضاحت برابر کرتے آ رہے ہیں۔

    یہاں ’یٰٓاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ‘ سے خطاب، ظاہر ہے کہ، انہی ائمۂ کفر سے ہے جو اس دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔ ان کی مسلسل مخالفت نے یہ حقیقت واضح کر دی تھی کہ یہ چیز کسی شبہ پر مبنی نہیں ہے بلکہ یہ موروثی قیادت کا پندار ہے جس نے ان کو بالکل اندھا بہرا دشمن بنا دیا ہے اور اب خدا کے تازیانۂ عذاب کے سوا کوئی اور چیز ان پر کارگر نہیں ہو سکتی۔ مخاطب کی اس ذہنیت کی بنا پر اس سورہ میں جو باتیں فرمائی گئی ہیں وہ بالکل دوٹوک الفاظ میں فرمائی گئی ہیں اور ہر بات بالکل مبنی بر حقیقت ہے۔ جن لوگوں نے اس خطاب کو مذمت یا غضب پر محمول کیا ہے ان کی رائے صحیح نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی جماعت کا کفر اس وقت تک واضح ہوتا ہی نہیں جب تک اہل حق اس پر اتمام حجت نہ کر دیں۔ اتمام حجت کے بعد ہی اس کا کفر واضح ہوتا ہے اور اس کے بعد ہی یہ بات جائز ہوتی ہے کہ اہل حق اس سے علیحدگی کا اعلان کر دیں بلکہ ضرورت داعی ہو تو اس سے جہاد کریں۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے ہجرت اور جہاد کے لیے اقدام اتمام حجت کے بعد ہی کیا ہے اور یہی حق و عدل کا تقاضا ہے۔

    اس سورہ نے قریش کے لیڈروں کے ساتھ دین کے معاملے میں کسی سمجھوتے کے تمام امکانات کا قطعی سدباب کر دیا ہے اس وجہ سے یہ صرف ہجرت ہی کی سورہ نہیں بلکہ یہ معناً اعلان جنگ کی سورہ بھی ہے۔ سورۂ یونس میں وضاحت سے یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ قریش کے لیڈروں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ تجویز رکھی تھی کہ اگر ہم سے اپنے دین کو منوانا ہے تو اس کی واحد شکل یہ ہے کہ یا تو اس قرآن کے علاوہ کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں ایسی مناسب ترمیم کرو کہ یہ ہمارے لیے قابل قبول ہو سکے:

    ’اِءْتِ بِقُرْآنٍ غَیْرِ ہٰذَا أَوْ بَدِّلْہُ‘ (یونس ۱۰: ۱۵)

    (اس قرآن کے علاوہ کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں ترمیم کرو)۔

    اس آیت کی تفسیر کے تحت ہم واضح کر چکے ہیں؂۱ کہ قرآن کے اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو سب سے زیادہ اصرار قرآن کی دعوت توحید کی ترمیم پر تھا، وہ اس کو اپنے آباء کے عقیدے کے بھی خلاف سمجھتے تھے اور یہ اندیشہ بھی رکھتے تھے کہ اگر اللہ کے سوا انھوں نے تمام معبودوں کو ہی باطل ٹھہرا دیا، جیسا کہ قرآن مطالبہ کر رہا ہے، تو اس سے ان کی سیاسی ہستی ہی سرے سے ختم ہو جائے گی۔ ان کے اس مطالبہ کا جواب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ دیا گیا کہ

    ’قُلْ مَا یَکُوۡنُ لِیْ أَنْ أُبَدِّلَہُ مِن تِلْقَآئِ نَفْسِیْ‘ (یونس ۱۰: ۱۵)

    (ان سے کہہ دو کہ مجھے کیا حق ہے کہ میں بطور خود اس میں کوئی ترمیم کروں)۔

    اگرچہ یہ جواب قریش کے لیے مایوس کن تھا لیکن فیصلہ کن نہیں تھا۔ لیکن اس سورہ میں اس کا ایسا حتمی اور فیصلہ کن جواب دیا گیا ہے کہ ہمیشہ کے لیے اس بحث کا دروازہ ہی بند کر دیا گیا۔ جس کے معنی دوسرے لفظوں میں یہ ہوئے کہ اس معاملے میں اب کسی سمجھوتے کی گنجائش نہیں ہے، اگر قریش اپنی ضد پر قائم رہے تو بالآخر اس کا فیصلہ تلوار سے ہو گا۔

    ترتیب میں اس سورہ کا سورۂ کوثر کے بعد جگہ پانا بھی اپنے اندر بڑی معنویت رکھتا ہے۔ سورۂ کوثر میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ یہ فتح مکہ کی بشارت ہے جس کے معنی یہ ہوئے کہ ہجرت اور اعلان جہاد کی سورہ سے پہلے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح و نصرت کی بشارت دے دی گئی تاکہ حضور اور آپ کے صحابہ پر یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ اگرچہ آگے ہجرت اور جنگ کے کٹھن مرحلے آنے والے ہیں لیکن انجام ان کا نہایت شان دار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اپنے رسول کو فتح سے نوازے گا اور وہ دنیا و آخرت دونوں کے کوثر سے شاد کام ہوں گے۔ اسی طرح کی بشارت حضور کو ہجرت کی اس دعا میں دی گئی ہے جو سورۂ بنی اسرائیل میں مذکور ہے:

    ’وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ‘ (بنی اسرائیل ۱۷: ۸۰)

    (اور دعا کرو کہ اے میرے رب، مجھے داخل کر عزت کا داخل کرنا اور نکال عزت کا نکالنا)

    اس دعا پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے دعا کے پیرائے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بشارت دے دی ہے کہ اگرچہ آپ کے مکہ سے نکلنے کا وقت اب قریب آ رہا ہے لیکن اس نکلنے سے پہلے ہی اللہ نے دارالہجرت میں آپ کے شان دار داخلہ کا انتظام کر لیا ہے۔

    مختصر الفاظ میں اس سورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے قریش کے لیڈروں کے سامنے یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان دین کے بنیادی مسئلہ ۔۔۔ معبود ۔۔۔ کے باب میں کوئی قدر مشترک نہ حاضر میں ہے، نہ ماضی میں رہی ہے اور نہ مستقبل میں اب اس کے پائے جانے کا امکان ہے اس وجہ سے ہمارے مابین کسی مفاہمت کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اب تم اپنے دین پر چلو، ہم اپنے دین پر چلیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ صادر ہو جائے۔

    _____

    ؂۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن ۔ جلد سوم صفحہ ۸۲۔

  • الکافرون (Those Who Reject Faith, The Disbelievers, The Kafirs)

    6 آیات | مکی
    الکٰفرون - النصر

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ قریش سے علیحدگی کا اعلان اور دوسری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فتح و نصرت کی بشارت ہے۔ دونوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت کے خاتمے پر نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- الکٰفرون—- میں روے سخن قریش کی طرف ہے اور اِس کا موضوع اُن کے ائمۂ کفر سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلان براء ت ہے جو سنت الٰہی کے مطابق رسول اور اُس کے ساتھیوں کے لیے لازماً غلبۂ حق کی تمہید بن جاتا ہے۔

    دوسری سورہ—- النصر—- کے مخاطب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اِس کا موضوع آپ کے لیے غلبۂ حق کی بشارت اور اِس کے نتیجے میں اپنے پروردگار سے ملاقات کے لیے تیاری کی ہدایت ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 109 Verse 001 Chapter 109 Verse 002 Chapter 109 Verse 003 Chapter 109 Verse 004 Chapter 109 Verse 005
    Click translation to show/hide Commentary
    تم اعلان کرو، (اے پیغمبر) کہ اے کافرو۔
    یہ خطاب قریش کے ائمۂ کفر سے ہے۔ آگے کے مضمون سے واضح ہے کہ ’اے کافرو‘، کے صاف صاف الفاظ میں یہ خطاب اُس موقع پر ہوا ہے، جب اُن سے حتمی طور پر قطع تعلق اور براء ت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...یہ اعلان براء ت رسولوں کی اُس سنت کے مطابق ہوا ہے جس کی وضاحت پچھلی سورتوں میں ہو چکی ہے کہ اللہ کے رسول اپنی قوم کو پہلے دین کی بنیادی باتوں توحید اور قیامت کی دعوت دیتے ہیں۔ اِس دعوت میں وہ قوم کو ’اپنی قوم‘ ہی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہیں اور اِس پر اُس وقت تک پوری استقامت سے جمے رہتے ہیں، جب تک قوم کے اعیان و اکابر اپنے رویے سے اُن کو مایوس نہیں کر دیتے۔ جب وہ مایوس کر دیتے ہیں اور بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ یہ ہٹ دھرم اپنی ضد سے باز آنے والے نہیں ہیں، تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول کو ہجرت کا حکم ہوتا ہے اور وہ قوم سے اعلان براء ت کرکے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہجرت کر جاتا ہے۔ رسول کی ہجرت قوم کے لیے گویا آخری تنبیہ ہوتی ہے۔ اِس کے بعد اگر اُس کے رویے میں کوئی اچھی تبدیلی نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ ایک محدود مہلت دینے کے بعد قوم کے تمام مکذبین کو تباہ کر دیتا ہے، خواہ یہ تباہی رسول کی زندگی ہی میں واقع ہو یا اُس کے بعد اور خواہ اِس کے لیے اللہ تعالیٰ کوئی قہر آسمانی نازل کرے یا رسول کے ساتھیوں کی تلوار اِس کے لیے بے نیام ہو۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۶۰۱) یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ ائمۂ قریش کی یہ تکفیر خدا کی طرف سے ہے اور اِس بنا پرکی گئی ہے کہ مخاطبین نے اتمام حجت کے درجے تک دعوت و تبلیغ اور تذکیر و تلقین کے بعد بھی رسول کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ چنانچہ معلوم ہے کہ آگے جس مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے، وہ بالکل صحیح ثابت ہوئی۔ اِن مکذبین میں سے کوئی بھی ایمان لانے والا نہیں بنا، بلکہ سب اپنے غرور اور انانیت کا شکار ہو کر عذاب الٰہی سے دوچار ہو گئے۔ رسولوں کے بعد کوئی فرد یا جماعت بھی اِس طرح اتمام حجت نہیں کر سکتی اور نہ اُسے خدا کی طرف سے اعلان تکفیر کا اذن حاصل ہو سکتا ہے۔ اِس وجہ سے اب کوئی شخص کسی دوسرے کی تکفیر نہیں کر سکتا، الاّ یہ کہ وہ خود اپنے کفر کا اعلان کرے۔ حق کے داعی زیادہ سے زیادہ جو کچھ کر سکتے ہیں، وہ یہی ہے کہ زندگی کے آخری مرحلے تک کفر و شرک کی حقیقت لوگوں پر واضح کرتے رہیں اور اُن کے اُن افعال میں شرکت سے اجتناب کریں جو شرک و بدعت کی نوعیت کے ہوں۔  
    میں اُن کی عبادت نہیں کروں گا جن کی عبادت تم کرتے ہو۔
    اصل الفاظ ہیں:’لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ‘۔ اِن میں مضارع پر’لَآ‘ ہے۔ یہ دلیل ہے کہ یہ ایک قطعی فیصلہ ہے جس سے مستقبل میں شرک و توحید کے مابین سمجھوتے کی ہر توقع بالکل ختم کر دی گئی ہے ۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ مجھ سے یہ امید اب کسی کو نہیں رکھنی چاہیے کہ اپنے پروردگار کی عبادت کے معاملے میں میں تمھارے ساتھ کوئی سمجھوتا کروں گا۔ اِس طرح کی خواہش اگر کسی کے دل میں ہے تو وہ اُسے ہمیشہ کے لیے ختم کر لے۔ شرک و توحید کے مابین ہرگز کوئی مصالحت نہیں ہو سکتی۔ میں اِس باب میں کوئی لچک قبول کرنے والا نہیں ہوں۔ لہٰذا تمھارے تمام معبودوں سے اظہار براء ت کرتا ہوں۔
    اور نہ تم کبھی (تنہا) اُس کی عبادت کرو گے جس کی عبادت میں کرتا ہوں۔
    اللہ تعالیٰ کے لیے ’مَآ اَعْبُدُ‘کے الفاظ مجانست کے اسلوب پر آئے ہیں’لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ‘ کے بعد یہ جملہ بتا رہا ہے کہ مخاطبین کی طرف سے بھی یہ توقع ختم ہو گئی ہے کہ وہ خدا کو اُس طرح پوجنے کے لیے تیار ہو جائیں گے، جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم شرک کی ہر آلایش سے پاک ہو کر خالص اُسی کو پوج رہے تھے۔ اُن کے رویے سے صاف واضح تھا کہ وہ اپنے دیوی دیوتاؤں سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اِس کے معنی یہ تھے کہ وہ خدا کے پرستار نہیں بن سکتے، اِس لیے کہ خدا اپنی بندگی میں کبھی کوئی شراکت قبول نہیں کرتا۔
    اور نہ (اِس سے پہلے) میں کبھی اُن چیزوں کی عبادت کے لیے تیار ہوا ہوں جن کی عبادت تم نے کی ہے۔
    اوپر کی بات مستقبل سے متعلق تھی۔ یہ اُس پر ماضی و حال کی شہادت پیش کی ہے۔ ’لَآ اَنَا عَابِدٌ‘ جملہ اسمیہ ہے۔ اِس میں نفی ماضی سے متعلق ہے۔ ’مَا عَبَدْتُّمْ‘ کے الفاظ اِس کا واضح قرینہ ہیں۔ اِس سے، اگر غور کیجیے تو اعلان براء ت کی شدت میں بڑا اضافہ ہو گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب میں نبوت کی روشنی حاصل ہو جانے سے پہلے کبھی تمھارے معبودوں کو خاطر میں نہیں لایا تو اب جبکہ میرا پروردگار براہ راست مجھ سے ہم کلام ہے اور اُس کی کتاب مجھ پر نازل ہو رہی ہے تو میں تمھاری اِس ضلالت میں کس طرح مبتلا ہو سکتا ہوں۔ میری دعوت تمھارے سامنے ہے۔ نبوت کے بعد بھی برسوں سے تم مجھے دیکھ رہے ہو۔ تمھیں معلوم ہے کہ میں شرک کی غلاظت کے قریب بھی جانے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوا۔ پھر کس طرح توقع کرتے ہو کہ آگے کبھی اِس کے لیے تیار ہو جاؤں گا؟
    اور نہ تم کبھی (تنہا) اُس کی عبادت کے لیے تیار ہوئے، جس کی عبادت میں کرتا رہا ہوں۔
    پچھلے جملے نے اِس جملے کو بھی ماضی سے متعلق کر دیا ہے۔ چنانچہ ’مَآ اَعْبُدُ‘ سے پہلے یہاں ایک فعل ناقص حذف ماننا چاہیے۔ یہ استمرار پر دلالت کرے گا اور آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ میں جس خدا کی بندگی ہمیشہ سے کرتا رہا ہوں اور اب بھی اُس پر قائم ہوں، تم ماضی میں بھی کبھی اُس کے پوجنے والے نہیں بنے۔ شرک کے ساتھ اگر تم نے اُس کی پرستش کی بھی ہے تو درحقیقت نہیں کی، اِس لیے کہ شرک کے ساتھ میرے معبود کی پرستش کا کوئی امکان نہیں ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List