Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الکوثر (Abundance, Plenty)

    3 آیات | مکی
    سورہ کا عمود، سابق سورہ سے تعلق اور پیغمبر کو بشارت

    سابق سورہ ۔۔۔ الماعون ۔۔۔ میں آپ نے دیکھا کہ قریش کے لیڈروں پر یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ بیت اللہ کے جوار میں حضرت ابراہیم نے اپنی ذریت کو جس مقصد کے لیے بسایا اور جس کی خاطر ان کے لیے امن اور رزق کی دعا فرمائی وہ مقصد انھوں نے بالکل برباد کر دیا۔ یہ گھر خدائے واحد کی عبادت اور فقراء و یتامیٰ کے حقوق کی حفاظت کے مرکز کی حیثیت سے قائم کیا گیا لیکن اب جو لوگ اس پر قابض ہیں ان کو نہ نماز کی خبر ہے نہ یتیموں اور مسکینوں کے حقوق کا کوئی لحاظ ہے۔ اس بات کے بیان سے مقصود ظاہر ہے کہ قریش کے اس فخر و ناز پر ضرب لگانا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس گھر کا متولی جو سمجھے بیٹھے ہیں اور یہ گمان جو رکھتے ہیں کہ وہ خدا کے منظور نظر ہیں ان کو یہاں سے کوئی ہلا نہیں سکتا، یہ محض ایک زعم باطل ہے۔ لیکن اس سورہ میں صرف فرد قرار داد جرم بیان کر کے بات ختم کر دی۔ یہ نہیں بتایا کہ اس جرم پر یہ لوگ کس سزا کے مستحق ہیں؟ یہ بات مستقلاً سورۂ زیربحث میں بتائی ہے۔ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو براہ راست خطاب کر کے بشارت دی ہے کہ اب خیر کثیر کے اس خزانہ یعنی بیت اللہ کو ان خائنوں سے لے کر ہم نے تمہاری تحویل میں دیا تو تم اپنے رب ہی کی نماز پڑھنا اور اسی کے لیے قربانی کرنا، ان مشرکوں کی طرح اس کو شرک سے آلودہ نہ ہونے دینا۔ ساتھ ہی مخالفین کو یہ وعید بھی سنا دی کہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی جو رحمتیں اور برکتیں حاصل ہوئیں وہ اس گھر کی بدولت ہی حاصل ہوئیں، اس سے منقطع ہو جانے کے بعد وہ تمام برکتوں سے محروم ہو جائیں گے جس کا نتیجہ بالآخر یہ ہو گا کہ ان کی جڑ ہی کٹ جائے گی۔ ان برکتوں سے اب اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو نوازے گا جو اس کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور اس کے حقوق ادا کریں گے۔ وہ اس سرزمین میں تمکن و اقتدار حاصل کر کے اس گھر کو اس کے اصل ابراہیمی جمال سے منور کریں گے۔

    یہ سورہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، بشارت کی سورہ ہے اور ’اِنَّآ اَعْطَیْنٰکَ‘ میں حرف تاکید اور صیغۂ ماضی وعدے کی قطعیت کے اظہار کے لیے ہے جس کی مثالیں قرآن میں جگہ جگہ موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں جو بات طے ہو جاتی ہے اس کو کوئی دوسرا بدل سکنے پر قادر نہیں اس وجہ سے اگرچہ وہ مستقبل کے متعلق ہو لیکن قطعیت کے اظہار کے لیے ماضی کے صیغہ میں کی جاتی ہے بالخصوص بشارت کے مواقع میں۔

    مکی زندگی کے آخری دور میں، جب مسلمانوں پر مکہ میں عرصۂ حیات تنگ ہو رہا تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو مخاطب کر کے فتح و غلبہ کی بشارت مختلف سورتوں میں دی گئی ہے۔ یہ بشارت بھی اسی نوعیت کی ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں نے اس بشارت ہی کے سبب سے اس سورہ کو واقعۂ حدیبیہ کے دور سے متعلق مانا ہے، استاذ امام مولانا حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ کا رجحان بھی اسی طرف معلوم ہوتا ہے، لیکن میرے نزدیک اس تکلف کی ضرورت نہیں ہے۔ قرب ہجرت کی سورتوں میں مسلمانوں کی تسلی کے لیے اس قسم کی بشارتیں دی گئی ہیں اور وہ ہر گروپ کی آخری مکی سورتوں میں موجود ہیں۔ ان کے حوالے نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

    قریش پر روز اول ہی سے یہ بات واضح تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کا جھگڑا یہ ہے کہ ملت ابراہیم پر کون ہے، وہ یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم؟ پھر اسی جھگڑے کا لازمی نتیجہ یہ بھی وہ سمجھتے تھے کہ بیت اللہ کی تولیت کا اصلی حق دار وہی ہے جو اصل ملت ابراہیم کا وارث ہے۔ قریش اپنے موروثی پندار کی بنا پر اپنے آپ کو ملت ابراہیم کا وارث اور بیت اللہ کی تولیت کا حق دار سمجھتے تھے اور یہ رعونت ان کے اندر اس حد کو پہنچی ہوئی تھی کہ وہ حرم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے نماز پڑھنے کے بھی روادار نہ تھے۔ اس کے برعکس مسلمانوں کے ذہن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے یہ حقیقت اچھی طرح راسخ ہو چکی تھی کہ بیت اللہ پر قریش کا قبضہ غاصبانہ ہے اور ایک دن اس کو ان کے قبضہ سے آزاد کرانا بعثت محمدی کی اصل غایت ہے۔

    یہ بات بھی فریقین پر واضح تھی کہ جو اس گھر سے کٹا وہ ایک شاخ بریدہ ہو کے رہ جائے گا اور اس کی جڑ سارے عرب سے کٹ جائے گی۔ یہ چیز بھی مقتضی تھی کہ ہجرت کے موقع ہی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو اطمینان دلا دیا جائے کہ بیت اللہ کی خدمت و تولیت کا شرف ان کے لیے مقدر ہو چکا ہے۔ جو کشمکش اس وقت قریش کے ساتھ برپا ہے وہ اللہ کے رسول کے غلبہ پر منتہی ہو گی اور جڑ اللہ کے رسول کی نہیں کٹے گی، جیسا کہ قریش گمان رکھتے ہیں، بلکہ اعدائے رسول کی کٹے گی۔ درحقیقت نصرت الٰہی کی یہی بشارت تھی جس نے مسلمانوں کے لیے ہجرت جیسے کٹھن امتحان کو آسان بنا دیا ورنہ ہر شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ یہ کوئی آسان بازی نہیں تھی۔

  • الکوثر (Abundance, Plenty)

    3 آیات | مکی
    الماعون - الکوثر

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ قریش کے سرداروں، بالخصوص ابولہب کی فرد قرارداد جرم بیان کرتی اور دوسری اِن جرائم کی پاداش میں حرم کی تولیت سے اُن کی معزولی کا اعلان کرتی ہے۔ دونوں کے مضمون سے واضح ہے کہ پہلی سورہ ام القریٰ مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت میں قریش کے لیے آخری تہدید کے طور پر اور دوسری آپ کے لیے ایک عظیم بشارت کی حیثیت سے نازل ہوئی ہے۔ پہلی سورہ—- الماعون—- میں روے سخن قریش کی طرف ہے اور اِس کا موضوع اُن کی قیادت، بالخصوص ابولہب کو یہ بتانا ہے کہ اُن کے جرائم کی پاداش میں تباہی اُن کا مقدر ہو چکی ہے۔

    دوسری سورہ—- الکوثر—- میں خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور اِس کا موضوع آپ کو یہ خوش خبری دینا ہے کہ حرم کی تولیت اب آپ کو حاصل ہوگی اور آپ کے دشمنوں کی جڑ ہمیشہ کے لیے دنیا سے کٹ جائے گی۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 108 Verse 001 Chapter 108 Verse 002 Chapter 108 Verse 003
    Click translation to show/hide Commentary
    ہم نے یہ خیر کثیر تمھیں عطا کر دیا ہے، (اے پیغمبر)۔
    اصل میں لفظ ’الْکَوْثَر‘ آیا ہے۔ ’فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ‘ کے جملے میں آگے اِس کا حق بیان ہوا ہے۔ اُس سے واضح ہے کہ اِس سے بیت الحرام مراد ہے، اِس لیے کہ یہ دونوں عبادات پوری شان کے ساتھ اِسی میں جمع ہوتی ہیں۔بصیرت کی نگاہ سے دیکھیے تو یہی معبد ہے جو ہر صاحب ایمان کے لیے خیر کثیر کا خزانہ اور دنیا میں اُس کوثر کا مجاز ہے جس کی حقیقت قیامت کے دن ایک نہر کی صورت میں سامنے آئے گی۔ یہ کوثر بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو عطا کیا جائے گا۔ اِس کا ذکر متعدد روایتوں میں ہوا ہے۔ امام حمید الدین فراہی لکھتے ہیں: ’’معراج میں جو نہر کوثر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مشاہدہ کرائی گئی تھی، اُس کی صفات پر جو شخص بھی غور کرے گا، اُس پر یہ حقیقت منکشف ہو جائے گی کہ نہر کوثر درحقیقت کعبہ اور اُس کے ماحول کی روحانیمثال ہے۔ اِس کے متعلق مختلف طریقوں سے جو روایات مروی ہیں، اُن کی مشترک حقیقت یہ ہے کہ کوثر ایک نہرہے۔ اُس کے کناروں پر مجوف موتیوں کے محل ہیں۔ اُس کی زمین یاقوت و مرجان اور زبرجد کی ہے۔ اُس میں ظروف ہیں جو آسمان کے ستاروں کے مانند ہیں۔ اُس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ شیریں اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے۔ اُس کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اُس پر چڑیاں اترتی ہیں جن کی گردنیں قربانی کے جانوروں کی طرح ہیں۔* ... اب ایک لمحہ توقف کرکے کعبہ اور اُس کے ماحول کے مشاہدات پر غور کرو۔ جب تمام اکناف عالم سے جاں نثاران توحید کے قافلے عشق و محبت الٰہی کی پیاس بجھانے کے لیے اِس چشمۂ خیر و برکت کے پاس اکٹھے ہوتے ہیں۔ کیا اُن کے احساس روحانی میں اِس مقدس وادی کے سنگ ریزے یاقوت و زمرد سے زیادہ پرجمال، اِس کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبودار اور اِس کے ارد گرد حجاج کے خیمے مجوف موتیوں کے قبوں سے زیادہ حسین و خوبصورت نہیں ہیں؟ پھر حجاج اور اُن کے ساتھ قربانی کے اونٹوں کی قطاروں پر ایک نظر ڈالو۔ کیا یہ ایک چشمے کے کنارے لمبی گردن والی چڑیوں کا جھنڈ نہیں ہے؟‘‘(نظام القرآن ۴۹۵) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت جن مقاصد کے لیے ہوئی، اُن میں سے ایک اہم مقصد یہ بھی تھا کہ بیت اللہ کو شرک کی ہر غلاظت سے پاک کرکے ایک مرتبہ پھر دنیا والوں کے لیے اُسی توحید کا مرکز بنا دیا جائے جس کے لیے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے مقدس ہاتھوں نے اُسے تعمیر کیا تھا۔ قرآن نے جب یہ اعلان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خیر کثیر کا یہ خزانہ آپ کو عطا کر دیا ہے تو اِس کے معنی یہ تھے کہ قریش معزول ہوئے۔ حرم کی بدولت سرزمین عرب میں جو اقتدار اُنھیں حاصل رہا ہے، وہ اُن سے چھین لیا جائے گا اور خدا کے اِس گھر کی تولیت اُن سے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ماننے والوں کو سونپ دی جائے گی۔ اِس لحاظ سے دیکھیے تو یہ ایک عظیم بشارت تھی جو اپنی قوم سے ہجرت و براء ت کے موقع پر آپ کو دی گئی، جبکہ دور دور تک اِس کے کوئی آثار نظر نہیں آتے تھے کہ یہ کبھی واقعہ بن سکے گی۔ _____ * بخاری، رقم ۴۵۸۳،۶۰۹۵۔ ترمذی، رقم ۲۴۶۵۔ ابن ماجہ، رقم ۴۳۲۵۔ احمد، رقم ۵۶۴۳۔ المعجم الکبیر، رقم ۲۹۶۰۔  
    اِس لیے تم (اِس بیت عتیق میں اب) اپنے پروردگار کی نماز پڑھنا اور اُسی کے لیے قربانی کرنا۔
    یہ اُس عطیۂ خداوندی کا حق بیان ہوا ہے جسے کوثر سے تعبیر کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قریش نے تو اِن دونوں عبادات میں اپنے شرکا و اصنام کو بھی شریک کر رکھا ہے، لیکن اِس گھر کی تولیت تمھیں حاصل ہو جائے تو شرک و بدعت کی ہر آلودگی سے پاک ہو کر تم اِس میں اپنے پروردگار کی نماز پڑھنا اور اُسی کے لیے قربانی کرنا۔
    اِس میں شبہ نہیں کہ تمھارا دشمن ہی جڑ کٹا ہے، اُس کا کوئی نام لیوا نہ رہے گا۔
    یہ ایک عظیم پیشین گوئی ہے جو حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی۔ مدعا یہ ہے کہ تمھارے دشمن تو اِس وقت تمھارے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ اِس شخص نے ایک نیا دین ایجاد کر لیا ہے، اِس کے نتیجے میں یہ اپنی قوم اور اپنے دینی مرکز بیت اللہ الحرام سے کٹ چکا ہے، یہ اب اجنبیوں میں جا کر رہے گا تو اِس کی مثال ایک شاخ بریدہ کی ہو گی جو درخت سے جدا ہو چکی ہے اور جس کا سوکھ جانا لازمی ہے ۔ لیکن اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ دنیا اور آخرت ، دونوں میں تمھیں شان دار فیروزمندیاں عطا فرمائے گا اور تمھارے دشمنوں کی جڑ اِس سرزمین سے ہمیشہ کے لیے کاٹ دے گا۔ تم دیکھو گے کہ اِن کا یہاں کوئی نام لیوا نہ ہو گا۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List