Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الماعون (The Neighbourly Assistance, Small Kindnesses, Almsgiving, Have You Seen)

    7 آیات | مکی
    سورہ کا عمود، سابق و لاحق سے تعلق اور ترتیب بیان

    اوپر کی دونوں توام سورتوں ۔۔۔ الفیل اور قریش ۔۔۔ میں یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ قریش کو رزق و امن کی تمام نعمتیں بیت اللہ کی بدولت حاصل ہوئیں، اس کا حق یہ تھا کہ یہ لوگ اس گھر کے خداوند کی بندگی کرتے اور جس مقصد کے لیے یہ تعمیر ہوا تھا اور ان کی تولیت میں دیا گیا تھا اس کو کامل وفاداری کے ساتھ پورا کرتے۔ اب آگے کی دونوں توام سورتوں ۔۔۔ الماعون اور الکوثر ۔۔۔ میں پہلے تو قریش کے ان لیڈروں کا کردار دکھایا جا رہا ہے جو سورہ کے زمانۂ نزول میں بیت اللہ کے منتظم و متولی تھے، پھر یہ بتایا گیا ہے کہ اب یہ لوگ اس بات کے اہل نہیں رہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس محترم گھر کے متولی بنے رہیں، انھوں نے اس کے تمام مقاصد برباد کر دیے ہیں اس وجہ سے سزاوار ہیں کہ معزول ہوں اور یہ امانت ان لوگوں کے سپرد کی جائے جو اس کے اہل ہیں۔

    سورۂ زیربحث میں ترتیب بیان اس طرح ہے کہ پہلے قریش کے ایک لیڈر کے کردار کی طرف نہایت تعجب انگیز بلکہ نفرت انگیز انداز میں توجہ دلائی ہے کہ یہ شخص جس شقاوت قلب کے ساتھ یتیموں کو دھکے دیتا ہے وہ اس بات کی صاف دلیل ہے کہ اس کا سینہ جزا و سزا کے عقیدے سے خالی ہے۔ اگرچہ اس کا نام نہیں لیا گیا ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ اشارہ ابولہب کی طرف ہے جوسورہ کے زمانۂ نزول میں بیت اللہ کے تمام مالی وسائل پر تنہا قابض و مصرف تھا۔ اس کے بعد ان لوگوں کے کردار پر روشنی ڈالی ہے جو بیت اللہ میں آ کر بظاہر نماز کی رسم تو ادا کرتے لیکن ان کی نماز بالکل بے روح، محض ایک قسم کی ایکٹنگ، ہوتی۔ چنانچہ ان کی خسّت کا یہ حال تھا کہ انفاق تو درکنار روز مرہ ضروریات زندگی کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی ان سے کوئی مانگ بیٹھے تو وہ بھی دینے کا حوصلہ نہیں رکھتے تھے۔

    یہ امر یہاں واضح رہے کہ بیت اللہ کے بنیادی مقصد دو تھے۔ ایک یہ کہ وہ اللہ واحد کی عبادت کا مرکز ہو۔ دوسرا یہ کہ وہ فقرا اور یتامیٰ کی ہمدردی و خدمت کا ایک مؤثر ادارہ ہو۔ اس کے متولیوں کا فریضہ یہ تھا کہ وہ ان دونوں مقاصد کے پورے کرنے کا اہتمام کرتے لیکن جن متولیوں کا کردار بیان ہوا ہے ان سے ان دونوں میں سے کسی مقصد کے پورے ہونے کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ اس وجہ سے آگے کی سورہ میں ان کی قسمت کا فیصلہ کر دیا گیا۔

  • الماعون (The Neighbourly Assistance, Small Kindnesses, Almsgiving, Have You Seen)

    7 آیات | مکی

    مرحلۂ ہجرت و براء ت

    الماعون - الاخلاص

    ۱۰۷ - ۱۱۲

    الماعون ۱۰۷ - الاخلاص ۱۱۲

    قریش کے سرداروں کی فرد قرارداد جرم، اُنھیں عذاب کی وعید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بشارت کہ حرم کی تولیت اب اُن کی جگہ آپ کو حاصل ہو گی اور آپ کے دشمنوں کی جڑ سرزمین عرب سے ہمیشہ کے لیے کٹ جائے گی ۱۰۷۔۱۰۸

    ام القریٰ کے ائمۂ کفر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلان براء ت اور سرزمین عرب میں غلبۂ حق کی بشارت ۱۰۹۔۱۱۰

    قریش کی قیادت، بالخصوص ابولہب کا نام لے کر اُس کی ہلاکت کی پیشین گوئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عقیدۂ توحید کا فیصلہ کن اعلان ۱۱۱۔

    الماعون - الکوثر

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ قریش کے سرداروں، بالخصوص ابولہب کی فرد قرارداد جرم بیان کرتی اور دوسری اِن جرائم کی پاداش میں حرم کی تولیت سے اُن کی معزولی کا اعلان کرتی ہے۔ دونوں کے مضمون سے واضح ہے کہ پہلی سورہ ام القریٰ مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت میں قریش کے لیے آخری تہدید کے طور پر اور دوسری آپ کے لیے ایک عظیم بشارت کی حیثیت سے نازل ہوئی ہے۔

    پہلی سورہ — الماعون — میں روے سخن قریش کی طرف ہے اور اِس کا موضوع اُن کی قیادت، بالخصوص ابولہب کو یہ بتانا ہے کہ اُن کے جرائم کی پاداش میں تباہی اُن کا مقدر ہو چکی ہے۔

    دوسری سورہ — الکوثر — میں خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور اِس کا موضوع آپ کو یہ خوش خبری دینا ہے کہ حرم کی تولیت اب آپ کو حاصل ہوگی اور آپ کے دشمنوں کی جڑ ہمیشہ کے لیے دنیا سے کٹ جائے گی۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 107 Verse 001 Chapter 107 Verse 002 Chapter 107 Verse 003
    Click translation to show/hide Commentary
    تم نے دیکھا اُس شخص کو جو روز جزا کو جھٹلاتا ہے؟
    یعنی ابو لہب کو جس کی شخصیت اِس باب کے آخر میں بالکل نمایاں ہو کر سامنے آ جائے گی۔
    یہ وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔
    n/a
    اور مسکین کو کھلانے کے لیے نہیں ابھارتا۔
    روز جزا کو جھٹلانے کے نتیجے میں یہ ابولہب کا کردار بیان ہوا ہے، دراں حالیکہ اُس زمانے میں وہ بیت اللہ کے خاص اُس شعبے کا نگران تھا جو غربا اور یتامیٰ کی خدمت کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...جو شخص آخرت کا منکر ہو گا، اُس کے اندر اُس انفاق کا کوئی محرک سرے سے باقی رہ ہی نہیں جاتا جو خدا کی خوشنودی اور خالصتاً خدمت خلق اور ہمدردی غربا کے لیے ہو۔ ایسا شخص اگر کچھ خرچ کرتا ہے تو اپنی کسی ذاتی غرض یا ریا ونمایش کے لیے کرتا ہے۔ بے غرض فیاضی صرف اُسی شخص کے اندر پیدا ہوتی ہے جو آخرت کی جزا و سزا پر صدق دل سے ایمان رکھتا ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۵۸۲)  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List