Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • قریش (Quraish)

    4 آیات | مکی
    سورہ کا عمود، سابق سورہ سے تعلق اور ترتیب بیان

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ الفیل ۔۔۔ کی توام ہے۔ اس کی تفسیر میں ہم دونوں سورتوں کے عمود کی طرف ایک جامع اشارہ کر چکے ہیں۔ یہاں مختصر الفاظ میں یوں سمجھیے کہ قریش بیت اللہ کے ساتھ جس نوعیت کی وابستگی رکھتے تھے وہ ان پر واضح کر کے اس کے فطری حق کا ان سے مطالبہ کیا گیا ہے۔

    سابق سورہ میں یہ دکھایا ہے کہ اس سرزمین میں ان کو جو امن حاصل ہے وہ اسی گھر کی بدولت حاصل ہے۔ اس سورہ میں یہ دکھایا ہے کہ اس سرزمین میں ان کو رزق کے جو وسائل حاصل ہیں ان کی راہیں بھی اسی گھر کی بدولت کھلی ہیں۔ اس وجہ سے حق ہے کہ وہ اس گھر کے خداوند کی عبادت کریں، اس کے اس حق میں بلادلیل دوسروں کو شریک نہ کریں۔

    ایک اچھی حکومت سے شہریوں کو جو برکتیں حاصل ہوتی ہیں ان میں سر فہرست یہی دو چیزیں ہیں: امن اور رزق۔ سرزمین مکہ میں یہ دونوں برکتیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بدولت قریش کو بیت اللہ ہی کے طفیل حاصل ہوئیں۔ اس کا فطری حق یہی تھا کہ ان کی وابستگی کلیۃً اللہ وحدہٗ لا شریک کے ساتھ ہوتی لیکن قریش نے شرک میں مبتلا ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بنائے ہوئے گھر میں دوسرے فرضی دیویوں دیوتاؤں کو لا بٹھایا۔ ان کو بتایا جا رہا ہے کہ اس گھر کے ساتھ اپنی وابستگی کی نوعیت کو نہ بھولیں۔ یہ گھر انھیں خدا ہی نے امانت میں دیا تھا۔ اسی کی بدولت انھیں امن بھی حاصل ہوا اور اسی کے فیض سے رزق کی راہیں بھی کشادہ ہوئیں۔ اگر انھوں نے اس گھر کے رب کی ناشکری کی تو یاد رکھیں کہ اس گھر کی پاسبانی کا شرف بھی کھو بیٹھیں گے اور ساتھ ہی وہ تمام روحانی و مادی برکتیں بھی جو اس گھر کی بدولت انھیں حاصل ہیں۔

    سورہ میں پہلے اس وابستگی کی خاص نوعیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو قریش کو سرزمین مکہ اور بیت اللہ کے ساتھ حاصل ہوئی۔ پھر ان کے ان تجارتی سفروں کے ساتھ ان کی وابستگی کا حوالہ دیا ہے جو سردیوں اور گرمیوں میں بالالتزام وہ کرتے اور جن پر ان کی تمام معاشی آسودگی کا انحصار تھا۔ ان کی معاشی زندگی میں خون کی گردش انہی تجارتی سفروں سے تھی اور ان کی کامیابی کی ضمانت ان کو بیت اللہ کے متولی ہونے کی بدولت حاصل تھی۔ اس شرف سے محروم ہو کر وہ یہ درجہ نہیں حاصل کر سکتے تھے کہ جو راستے دوسروں کے لیے غیر محفوظ تھے ان میں ان کے تجارتی قافلوں کی حفاظت کے لیے راہ کے قبائل بدرقہ فراہم کریں۔

  • قریش (Quraish)

    4 آیات | مکی
    الفیل - قریش

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ میں واقعۂ فیل کے حوالے سے قریش کو تہدید ہے کہ وہ خدا کے قہر سے ڈریں اور دوسری میں بیت الحرام کے حوالے سے اُنھیں تلقین کی گئی ہے کہ خدا کی جو نعمتیں اِس گھر کی بدولت اُنھیں حاصل ہیں، اُن کا لحاظ کریں اور خدا کے مقابلے میں سرکشی چھوڑ کر تنہا اُسی کی بندگی اختیار کر لیں۔

    دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں ہجرت سے کچھ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- الفیل—- کا موضوع قریش کو اِس حقیقت پر متنبہ کرنا ہے کہ جس پروردگار نے اپنے دشمنوں کو تمھارے سامنے اِس طرح پامال کیا ہے، تم اُس کی دشمنی کے لیے اٹھے ہو تو وہ تمھیں چھوڑ نہیں دے گا۔ تم بھی اِسی طرح پامال کر دیے جاؤ گے۔

    دوسری سورہ—- قریش—- کا موضوع اُنھیں اِس بات کی تلقین کرنا ہے کہ جس گھر کے مالک نے اُنھیں رزق و امن سے نوازا ہے، اُس کا یہ حق تو کم سے کم پہچانیں کہ تنہا اُسی کی عبادت کریں اور دنیا میں اُس کے بندے بن کر رہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 106 Verse 001 Chapter 106 Verse 002 Chapter 106 Verse 003 Chapter 106 Verse 004
    Click translation to show/hide Commentary
    قریش مانوس کیے گئے۔
    یہ نہیں بتایا کہ کس چیز سے مانوس کیے گئے، اِس کی وضاحت اگلے جملے میں کی ہے جس میں لفظ ’اٖلٰفِھِمْ‘ پہلے ’اِیْلٰفْ‘سے بدل واقع ہوا ہے۔ یہ اسلوب کلام قرآن مجید میں بعض دوسرے مقامات میں بھی اختیار کیا گیا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...اِس کا پہلا فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ مخاطب بات کو سننے کے لیے بیدار ہو جاتا ہے اور دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اِس کی نوعیت اجمال کے بعد گویا تفصیل کی ہوتی ہے، اِس وجہ سے بات اچھی طرح ذہن نشین ہو جاتی ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۵۷۲)  
    وہ سردی اور گرمی کے سفروں سے مانوس کیے گئے۔
    اِس سے مراد وہ تجارتی سفر ہیں جو قریش کی رفاہیت اور خوش حالی کا ذریعہ بنے ہوئے تھے۔ گرمی کے زمانے میں یہ سفر شام و فلسطین کی طرف ہوتے تھے، اِس لیے کہ وہ ٹھنڈے علاقے ہیں اور سردی کے زمانے میں جنوبی عرب کی طرف ہوتے تھے، اِس لیے کہ وہ گرم علاقے ہیں۔ اہل مکہ کی تمام دولت و ثروت اِنھی سفروں کی مرہون منت تھی۔ تہذیب و ثقافت اور دانش و بینش میں جو برتری اُنھیں عرب کے دوسرے قبائل پر حاصل تھی، اُس میں بھی اِن سفروں کا بڑا دخل تھا۔ لیکن یہ سفر اُس زمانے میں آسان نہیں تھے۔ اِن میں قافلے علانیہ لٹ جاتے، راستے کے قبائل اپنے علاقوں سے اجازت کے بغیر گزرنے نہیں دیتے تھے اور اجازت کے لیے بھاری بھاری معاوضے طلب کرتے تھے۔ مگر قریش کے لیے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ تمام قبائل بیت اللہ کے متولی اور خدام ہونے کی حیثیت سے اُن کا احترام کرتے تھے۔ اپنے تمام سامان تجارت کے ساتھ وہ اُن کے علاقوں سے بغیر کسی خوف و خطر کے گزرتے اور کسی کا اُن سے تعرض کرنا تو درکنار، بارہا ایسا ہوتا کہ یہ قبائل اُنھیں بدرقہ فراہم کر دیتے تھے۔ قرآن نے اِن آیتوں میں خدا کی یہی عنایت اُنھیں یاد دلائی ہے کہ لوگوں میں جو مرجعیت تمھیں حاصل ہے اور جس سے اپنے اِن سفروں میں فائدے اٹھا رہے ہو، وہ اِسی گھر کی بدولت ہے جو پوری دنیا میں توحید کے مرکز کی حیثیت سے بنایا گیا تھا اور تمھارے کرتوتوں کے نتیجے میں اِسی توحید کے لیے اجنبی ہو کر رہ گیا ہے۔
    سو (اور کچھ نہیں تو تنہا) اِسی کے باعث اُنھیں چاہیے کہ اِس گھر کے مالک کی عبادت کریں۔
    اِس جملے کی صحیح تالیف وہی ہے جسے زمخشری نے ’اِمَّا لَا فَلْیَعْبُدُوْہُ لِإِیْلاَفِھِمْ‘ کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ ترجمے میں اِسی کی رعایت ملحوظ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قریش کسی اور چیز کا خیال نہیں کر رہے تو کم سے کم اُس عزت و وقار اور اِس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے دنیوی مفادات ہی کو دیکھیں جو اُنھیں حاصل ہیں۔ اِن میں سے کوئی چیز بھی اصلاً اُن کی ذہانت و فطانت، علم و قابلیت اور تدبیر و تدبر کی بنا پر حاصل نہیں ہوئی۔ یہ سب اُس گھر کی برکت سے ہے جس کے حقوق و فرائض اُنھوں نے یکسر فراموش کر رکھے ہیں۔ یہ تمام خداؤں سے اظہار براء ت اور ایک خدا کی بندگی کے لیے تعمیر ہوا تھا۔ اِس سے ایک مشن وابستہ تھا جس کی دعوت اقصاے عالم تک پہنچانا مقصود تھا۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اِسی بنا پر اِس کے خدام کے لیے رزق وامن کی دعا کی تھی اور کچھ نہیں تو وہ اِنھی چیزوں کا لحاظ کریں۔ یعنی شرک کی ہر غلاظت سے پاک کرکے تنہا اُس کی عبادت کریں۔ خدا کا پیغمبر اُنھیں اِس عبادت کی دعوت دے رہا ہے۔ یہ اُن کے لیے کوئی اجنبی دعوت نہیں ہے۔ وہ اِس سے پوری طرح واقف ہیں۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے یہ گھر اِسی مقصد سے بنا کر اُن کے اجداد کو اِس کا متولی اور خادم مقرر کیا تھا۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...یہ امر واضح رہے کہ شرک کی تمام آلودگیوں کے باوجود قریش اِس گھر کے خداوند سے ناآشنا نہیں ہوئے تھے۔ اپنے بتوں میں سے کسی کو بھی وہ اِس گھر کا خداوند نہیں سمجھتے تھے۔ عبدالمطلب نے جو دعا ابرہہ کے حملے کے موقعے پر جبل حرا پر کی ...اُس کو پڑھیے۔ اُس میں اِس گھر کی حفاظت کے لیے جو استغاثہ اُنھوں نے کیا ہے، وہ تمام تر اِس گھر کے خداوند ہی سے کیا ہے۔ اُس میں کوئی ادنیٰ اشارہ بھی بتوں میں سے کسی کی طرف نہیں ہے۔* اِن بتوں کی حیثیت اُن کے نزدیک ...اِس سے زیادہ کچھ نہیں تھی کہ اِن کو وہ خدا کے تقرب کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ اپنا خالق و مالک اور بیت اللہ کا رب وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے۔ اُن کے اِس عقیدے میں کوئی فرق کبھی نہیں آیا۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۵۷۵) _____ * السیرۃ النبویہ، ابن ہشام ۱/ ۱۶۹۔
    جس نے (اِن بنجر پہاڑوں کی) بھوک میں اُنھیں کھلایا اور (اِن کے) خوف میں اُنھیں امن عطا فرمایا۔
    اصل میں ’مِنْ جُوْعٍ‘ اور ’مِنْ خَوْفٍ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں ’مِنْ‘ بیان سبب کے لیے ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List