Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الفیل (The Elephant)

    5 آیات | مکی
    سورہ کا عمود، سابق و لاحق سے تعلق اور ترتیب بیان

    القارعۃ‘ سے لے کر ’الھمزۃ‘ تک خاص بات جو قریش پر واضح فرمائی گئی ہے وہ یہی ہے کہ انھوں نے مال اور اولاد کے عشق میں مبتلا ہو کر اللہ اور بندوں کے حقوق تو تمام برباد کر دیے ہیں لیکن یہ زعم رکھتے ہیں کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے وارث اور ان کے بنائے ہوئے گھر کے متولی ہیں۔ اب اس سورہ اور اس کے بعد کی سورہ ۔۔۔ قریش ۔۔۔ میں، جو اس کی توام ہے، ان کو یہ تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ تمہیں اس سرزمین میں جو امن اور رزق حاصل ہے وہ تمہاری تدبیر و قابلیت اور تمہارے استحقاق کا کرشمہ نہیں بلکہ یہ تمام تر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور ان کے بنائے ہوئے اس گھر کی برکت کا ثمرہ ہے اس وجہ سے تم پر فرض عائد ہوتا ہے کہ اس امن و رزق پر نازاں ہونے کے بجائے اس گھر کے خداوند کی بندگی کرو جس نے تمہیں بھوک میں کھلایا اور خطرہ سے نچنت کیا ہے۔ یہ مضمون آگے والی سورہ میں یوں واضح فرمایا گیا ہے:

    ’فَلْیَعْبُدُوۡا رَبَّ ہٰذَا الْبَیْتِ ۵ الَّذِیْ أَطْعَمَہُم مِّنۡ جُوۡعٍ وَاٰمَنَہُمۡ مِّنْ خَوْفٍ‘ (قریش ۱۰۶: ۳-۴)

    (پس چاہیے کہ وہ اس گھر کے خداوند کی بندگی کریں جس نے ان کو بھوک میں کھلایا اور خطرے سے نچنت کیا)

    ان دونوں سورتوں میں بس یہ فرق ہے کہ سورۂ فیل میں ایک نہایت اہم شہادت اس امر کی پیش کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کی حفاظت کے لیے اپنی کیا شان دکھائی ہے اور سورۂ قریش میں یہ واضح کیا ہے کہ اس سرزمین کے باشندوں کے لیے رزق و فضل کی جو راہیں کھلی ہیں وہ اسی گھر کے واسطہ سے کھلی ہیں۔

    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس وقت حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو مکہ کی سرزمین میں بسایا ہے اس وقت یہ علاقہ امن اور رزق کے وسائل سے بالکل محروم تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان دونوں چیزوں کے لیے دعا کی جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور ان کی ذریت کو یہ دونوں چیزیں حرم ہی کے واسطہ سے حاصل ہوئیں لیکن بعد میں لوگ اس حقیقت کو فراموش کر کے اپنی بدمستیوں میں کھو گئے۔ ان کی اس ناشکری پر قرآن نے ان کو جگہ جگہ تنبیہ فرمائی ہے جس کی وضاحت ہم کرتے آ رہے ہیں۔ اس گروپ کی سورتوں میں سے سورۂ بلد میں بھی اس کے بعض اہم پہلو زیربحث آئے ہیں، تفصیل مطلوب ہو تو اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔

    زیر نظر سورہ میں قریش کو ابرہہ کی اس فوج کشی کی طرف توجہ دلائی ہے جو اس نے بیت اللہ الحرام کو ڈھا دینے کے ناپاک ارادے سے ساٹھ ہزار کے لشکر جرار کے ساتھ، مکہ پر کی۔ ایک ایسے بھاری لشکر سے، بالخصوص جب کہ اس کا ہراول دستہ ہاتھیوں پر مشتمل ہو، عربوں کے لیے میدان میں نکل کر عہدہ برآ ہونا آسان نہیں تھا اس وجہ سے انھوں نے پہاڑوں میں محفوظ ہو کر سنگ باری کی صورت میں اپنی مدافعت کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ یہ مدافعت ایک کمزور مدافعت تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی تائید غیبی سے ان کی اسی کمزور مدافعت کو ابرہہ کے لشکرگراں کے لیے ایک قہر الٰہی بنا دیا اور وہ اس طرح تباہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا گوشت مکہ کی وادی میں چیلوں، کوّوں اور گِدھوں کو کھلایا۔

  • الفیل (The Elephant)

    5 آیات | مکی
    الفیل - قریش

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ میں واقعۂ فیل کے حوالے سے قریش کو تہدید ہے کہ وہ خدا کے قہر سے ڈریں اور دوسری میں بیت الحرام کے حوالے سے اُنھیں تلقین کی گئی ہے کہ خدا کی جو نعمتیں اِس گھر کی بدولت اُنھیں حاصل ہیں، اُن کا لحاظ کریں اور خدا کے مقابلے میں سرکشی چھوڑ کر تنہا اُسی کی بندگی اختیار کر لیں۔

    دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں ہجرت سے کچھ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — الفیل — کا موضوع قریش کو اِس حقیقت پر متنبہ کرنا ہے کہ جس پروردگار نے اپنے دشمنوں کو تمھارے سامنے اِس طرح پامال کیا ہے، تم اُس کی دشمنی کے لیے اٹھے ہو تو وہ تمھیں چھوڑ نہیں دے گا۔ تم بھی اِسی طرح پامال کر دیے جاؤ گے۔

    دوسری سورہ — قریش — کا موضوع اُنھیں اِس بات کی تلقین کرنا ہے کہ جس گھر کے مالک نے اُنھیں رزق و امن سے نوازا ہے، اُس کا یہ حق تو کم سے کم پہچانیں کہ تنہا اُسی کی عبادت کریں اور دنیا میں اُس کے بندے بن کر رہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 105 Verse 001 Chapter 105 Verse 002 Chapter 105 Verse 003
    Click translation to show/hide Commentary
    تو نے دیکھا نہیں کہ تیرے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟
    خطاب بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، مگر اصل مخاطب قریش کے لوگ ہیں۔ واحد کے صیغے سے خطاب کا یہ اسلوب اُس وقت اختیار کیا جاتا ہے، جب مخاطبین کے ایک ایک شخص کو فرداً فرداً متوجہ کرنا پیش نظر ہو۔ اصطلاح میں اِسے ’خطاب لغیر معین‘ کہا جاتا ہے۔ یہ سارا واقعہ مخاطبین کو معلوم تھا۔ مکہ اور اطراف مکہ میں ایسے بہت سے لوگ اُس وقت زندہ موجود تھے جنھوں نے اپنی آنکھوں سے اِسے دیکھا تھا۔ باقی لوگوں کے لیے یہ خبر ایک خبر متواتر تھی اور آنکھوں دیکھے واقعے کی طرح وہ اِس کا یقینی علم رکھتے تھے۔ قرآن نے اِسی بنا پر اِس کی تفصیل نہیں کی۔ اصحاب الفیل کے الفاظ سے حملہ آوروں کا تعارف ہی یہ سمجھ لینے کے لیے کافی تھا کہ یہ یمن کے حبشی حکمران ابرہہ کا ذکر ہو رہا ہے جو کوہ پیکر ہاتھیوں اور ایک لشکر جرار کے ساتھ بیت اللہ پر حملہ آور ہوا تھا۔ اِس واقعے کی جو تفصیلات امام حمید الدین فراہی نے سورہ کی تفسیر میں اپنی تحقیق کے مطابق بیان کی ہیں، اُن کی رو سے ابرہہ نو ہاتھیوں اور ساٹھ ہزار کا لشکر لے کر بیت الحرام کو ڈھانے کی غرض سے مکہ پر حملہ آور ہوا۔ قریش کھلے میدان میں اُس کے مقابلے کی طاقت نہ پا کرپہاڑوں میں چلے گئے۔ اُنھوں نے وہاں سے اِس لشکرجرار پر سنگ باری کی۔ اُن کی یہ مدافعت انتہائی کمزور تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی قوت قاہرہ اُس میں شامل کر دی۔ چنانچہ اذن الٰہی سے ہواکے تند و تیز طوفان (حاصب) نے ابرہہ کی فوجوں کو اِس طرح پامال کیا کہ وادی محصب میں پرندے دنوں اُن کی نعشیں نوچتے رہے۔* اُس زمانے کے ایک شاعر ابو قیس کا بیان ہے: فارسل من ربھم حاصب یلفھم مثل لف القزم ’’پھر اُن کے پروردگار کی طرف سے اُن پر حاصب بھیجی گئی جو خس و خاشاک کی طرح اُنھیں لپیٹتی جاتی تھی۔‘‘ _____ * نظام القرآن، حمید الدین فراہی ۴۴۴۔
    اُن کی چال کیا اُس نے اکارت نہیں کر دی؟
    چال سے مراد یہاں وہ بہانہ ہے جو اِس نہایت ظالمانہ اقدام کا جواز پیدا کرنے کے لیے تراشا گیا۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حملے سے پہلے ابرہہ نے اِس بے ہودہ الزام کا پروپیگنڈا کیا کہ کسی عرب نے اُن کے کلیسا کو ناپاک کر دیا ہے۔ لہٰذا وہ محض اپنے کلیسا کی توہین کا بدلہ لینے کے لیے بیت اللہ پر حملہ آور ہوا ہے۔ عیسائیوں کے جذبات بھڑکانے اور نجاشی کی تائید حاصل کرنے کے لیے اِس جھوٹ کو خوب شہرت دی گئی، یہاں تک کہ ساٹھ ہزار کا لشکر اُس کے ساتھ مکے پر حملے کے لیے جمع ہو گیا۔یہ محض ایک چال تھی، ورنہ اصلی مقصود یہ تھا کہ مکہ کے معبد کو ڈھا کر عربوں کے حج کا رخ بھی اُس گرجے کی طرف موڑ دیا جائے جو اُس نے یمن کے دارالسلطنت صنعاء میں بنوایا تھا۔ اپنے مذہب کے ساتھ تعصب کے جنون میں یہ اسکیم عربوں کو عیسائی بنانے کے لیے بنائی گئی تھی۔** _____ ** البدایۃ والنہایہ، ابن کثیر ۲/ ۱۷۰۔
    اور اُن پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے مسلط نہیں کر دیے؟
    یہ ابرہہ کی فوجوں کی بے بسی سے کنایہ ہے،یعنی اللہ تعالیٰ نے ساف و حاصب کے طوفان سے اُنھیں اِس طرح پامال کیا کہ کوئی اُن کی لاشیں اٹھانے والا نہ رہا۔ وہ میدان میں پڑی تھیں اور گوشت خوار پرندے اُنھیں نوچنے اور کھانے کے لیے اُن پر جھپٹ رہے تھے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List