Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الھمزۃ (The Scandalmonger, The Traducer, The Gossipmonger)

    9 آیات | مکی
    سورہ کا عمود، سابق سورہ سے تعلق اور ترتیب بیان

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ العصر ۔۔۔ کی مثنیٰ ہے۔ دونوں کے مضمون میں نہایت واضح مناسبت، جو باوّل وہلہ سامنے آتی ہے، یہ ہے کہ سابق سورہ میں فلاح پانے والے انسانوں کا کردار یہ بیان ہوا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو حق و صبر کی تلقین کرتے ہیں اور اس سورہ میں اس کے بالکل ضد کردار یعنی ان بخیلوں کا کردار بیان ہوا ہے جو روپیہ گن گن کر رکھتے ہیں اور لوگوں کو ادائے حقوق پر ابھارنا تو درکنار، کسی کو اگر دیکھ پائیں کہ وہ ادائے حقوق کے معاملے میں عملاً و قولاً سرگرم ہے تو اپنے طعن و طنز اور ہمز و لمر سے اس کا قافیہ تنگ کر دیتے ہیں اور ان کی پوری کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح اس کا حوصلہ اتنا پست کر دیں کہ وہ بھی انہی کی طرح بے حس و بے غیرت بن کر رہ جائے تاکہ اس کی بخالت پر پردہ پڑا رہے اور اس کی دعوت و تلقین سے ان کے ضمیر کو خِفّت و ندامت کی اذیت سے دوچار نہ ہونا پڑے۔

    قرآن نے بخیل سرمایہ داروں کے اس کردار کی طرف جگہ جگہ اشارہ کیا ہے۔ مثلاً سورۂ توبہ میں فرمایا ہے:

    اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوۡنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقَاتِ وَالَّذِیْنَ لاَ یَجِدُوۡنَ إِلاَّ جُہْدَہُمْ فَیَسْخَرُوۡنَ مِنْہُمْ سَخِرَ اللہُ مِنْہُمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ (التوبہ ۹: ۷۹)

    ’’جو لوگ خوش دلی سے انفاق کرنے والے اہل ایمان پر ان کے صدقات کے باب میں نکتہ چینی کرتے ہیں اور جو غریب اپنی محنت و مزدوری ہی سے انفاق کرتے ہیں تو ان پر پھبتیاں چست کرتے ہیں، اللہ نے ان کا مذاق اڑایا اور ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے۔‘‘

    اس آیت کے تحت ہم نے تدبر قرآن میں جو کچھ لکھا ہے اس کا ضروری حصہ ہم یہاں نقل کیے دیتے ہیں تاکہ بات اچھی طرح واضح ہو جائے:

    ’’’مُتَطَوِّعٌ‘ اور ’مُطَّوِّعٌ‘ دونوں ایک ہی لفظ ہیں۔ ’مُطَّوِّعٌ‘ اس کو کہتے ہیں جو صرف فرائض و واجبات ہی ادا کر لینے پر قناعت نہ کر بیٹھے بلکہ اپنی خوشی اور حوصلہ مندی سے نفلی نیکیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے۔‘‘ ’’’لَمْزٌ‘ کے معنی عیب لگانا، ہجو کرنا، مذمت کرنا۔‘‘ ’’اوپر کی آیات میں یہ بیان ہوا ہے کہ منافقین نہ صرف یہ کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے بلکہ دوسروں کو بھی خدا کی راہ میں خرچ کرتے دیکھ نہیں سکتے۔ جس کو خرچ کرتے دیکھتے ہیں اس کو فوراً ہمز و لمز کا نشانہ بنا لیتے ہیں۔ جو فیاض اور مخلص مسلمان اپنی فیاضی اور خوش دلی سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کو تو کہتے ہیں کہ یہ ریاکار اور شہرت پسند ہے، اپنی دین داری کی دھونس جمانے کے لیے خرچ کر رہا ہے۔ اور جو غریب بے چارے کچھ رکھتے ہی نہیں، بس اپنی محنت مزدوری کی گاڑھی کمائی ہی میں سے کچھ اللہ کی راہ میں دیتے ہیں ان کی حوصلہ شکنی کے لیے یہ ان کا مذاق اڑاتے اور ان پر پھبتیاں چست کرتے ہیں کہ لو، آج یہ بھی اٹھے ہیں کہ حاتم کا نام دنیا سے مٹا کے رکھ دیں گے۔‘‘

    ’’بخیلوں اور کنجوسوں کی نفسیات کا یہ پہلو ہم دوسرے مقام میں واضح کر چکے ہیں کہ اپنی بخالت پر پردہ ڈالے رکھنے کے لیے ان کی کوشش ہمیشہ یہ رہتی ہے کہ دوسرے بھی بخیل بنے رہیں۔ نکٹا دوسروں کو بھی نکٹا ہی دیکھنا چاہتا ہے تاکہ اسے کوئی نکٹا کہنے والا باقی نہ رہے۔ یہی نفسیات ان بخیلوں کی بھی تھی۔ پھر اس سے ان کے اسلام دشمنی کے جذبہ کو بھی تسکین ہوتی تھی۔ وہ نہ خود خدا کی راہ میں کوڑی خرچ کرنا چاہتے تھے، نہ اس بات پر راضی تھے کہ کوئی دوسرا خرچ کرے۔ اپنی اس خواہش کے برخلاف جب دوسروں کو دیکھتے کہ وہ اسلام کے لیے اس دریا دلی سے لٹا رہے ہیں گویا اپنے ہی گھر بھر رہے ہیں، یہاں تک کہ مزدور اپنی مزدوری میں سے، بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کر، اس خوشی سے دیتا ہے گویا اپنی آدھ سیر کھجور یا جَو کے عوض دولت کونَین خرید رہا ہے تو ان بخیلوں کے سینہ پر سانپ لوٹ جاتا۔ وہ غصہ سے کھولتے اور حسد سے جلتے پھر اپنے دل کا بخار طعن و تشنیع، طنز اور پھبتی سے نکالتے۔‘‘ (تدبر قرآن جلد سوم، صفحات: ۲۰۲-۲۰۳)

    بخیلوں کا یہ کردار ان کی بے بسی کی تصویر ہے۔ بخالت کے سبب سے نہ یہ حوصلہ ان کے اندر ہوتا کہ ادائے حقوق کے میدان میں سبقت کر سکیں اور نہ ادائے حقوق کی دعوت دینے والوں کی زبانیں ہی بند کر سکتے۔ اپنی مدافعت کی واحد تدبیر ان کے پاس صرف یہ رہ جاتی ہے کہ ان لوگوں کا مذاق اڑائیں اور ان پر پھبتیاں چست کریں جن کی دعوت سے ان کی پردہ دری ہو رہی ہو۔ ان کی یہ کوشش چونکہ اپنے باطن پر پردہ ڈالنے کی تھی اس وجہ سے قرآن نے اس سورہ میں ان کے ظاہر و باطن کے ہر گوشہ کو اچھی طرح بے نقاب کر دیا ہے۔

    یہ امر واضح رہے کہ ان سورتوں میں اگرچہ اصلاً زیربحث بخیلوں کا کردار ہے لیکن یہی کردار ان لوگوں کا بھی ہوتا ہے جو دوسری اخلاقی کمزوریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ وہ بھی اپنے سے برتر کردار رکھنے والوں کا مقابلہ ہمیشہ اپنے ہمز و لمز سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قوم لوط کے گنڈوں نے جب دیکھا کہ حضرت لوط علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی دعوت اصلاح کے مقابل میں ان کے لیے اپنی آبرو بچانا دشوار ہو رہا ہے تو بجائے اس کے کہ وہ اپنے رویہ کی اصلاح کرتے انھوں نے حضرت لوط علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں پر فقرے چست کرنے شروع کر دیے کہ

    إِنَّہُمْ أُنَاسٌ یَتَطَہَّرُوْنَ (النمل ۲۷: ۵۶) ’’یہ لوگ بڑے پارسا بنتے ہیں‘‘۔

    اور قوم کو ابھارا کہ ان لوگوں کو ملک سے باہر نکالو، ورنہ یہ پوری قوم کو ذلیل کر دیں گے۔

  • الھمزۃ (The Scandalmonger, The Traducer, The Gossipmonger)

    9 آیات | مکی
    العصر - الھمزۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ خدا کے جس قانون مجازات کو ثابت کرتی ہے، دوسری میں اُسی کے حوالے سے قریش کی قیادت کو اُس کے انجام پر متنبہ کیا گیا ہے۔ دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں ہجرت سے کچھ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- العصر—- کا موضوع خدا کے اُس قانون مجازات کو ثابت کرنا ہے جس کے مطابق خدا کی عدالت قریش کے لیے اپنا فیصلہ صادر کرنے والی تھی۔

    دوسری سورہ—- الھمزۃ—- کا موضوع اِسی قانون کے حوالے سے اُن کی قیادت کو اُس کے انجام سے خبردار کرنا ہے جو دولت کے غرور میں مبتلا اور پیغمبر کے مقابلے میں سرکشی، تضحیک اور عیب چینی کے رویے پر مصر تھی۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 104 Verse 001 Chapter 104 Verse 002 Chapter 104 Verse 003
    Click translation to show/hide Commentary
    تباہی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو (تم پر) اشارے کرتا اور (تمھیں) عیب لگاتا ہے، (اے پیغمبر)۔
    پہلی چیز کا تعلق حرکتوں اور اداؤں سے ہے اور دوسری کا زبان سے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...یہ دونوں ایک ہی کردار کے دو پہلو ہیں۔ جب کسی کا مذاق اڑانا، اُس کا تہتک کرنا اور اُس کو دوسروں کی نگاہوں سے گرانا مقصود ہو تو اِس میں اشارہ بازی سے بھی کام لیتے ہیں اور زبان سے بھی۔ اشارہ بازی سے کسی کی تضحیک و تحقیر کے جو پہلو پیدا کیے جا سکتے ہیں، بسااوقات وہ زبان کی فقرہ بازیوں سے زیادہ کارگر ہوتے ہیں۔ شاید اِسی وجہ سے ’ھُمَزَۃ‘ کو مقدم رکھا ہے۔‘‘ (تدبر قرآن ۹/ ۵۴۸) یہ اگر غور کیجیے تو اشاروں کی زبان میں مضحکہ اڑانے اور پھبتیاں چست کرنے کا وہی طریقہ ہے جو اخبارات کے فکاہی کالموں، کارٹونوں اور لیڈروں وغیرہ کے بیانات کی صورت میں اب بھی دیکھ لیا جا سکتا ہے۔  
    یہ جس نے مال جمع کیا اور اُسے گن گن کر رکھا ہے۔
    یہ نہایت جامع تصویر ہے۔انسان بخیلی کا خوگر ہو تو مال کی حرص میں مبتلا ہو جاتا ہے، پھر اِسی طرح سرمایے کے حساب و کتاب میں لگا رہتا ہے۔
    اِس کا خیال ہے کہ اِس کے مال نے اِسے حیات جاوداں بخش دی ہے۔
    یہ اُس کا باطن ہے۔ اِس لیے کہ مال اور زندگی کو فانی سمجھتا تو کبھی یہ رویہ اختیار نہ کرتا۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’آدمی کے باطن کا سراغ دینے والی اصل چیز اُس کی زبان نہیں، بلکہ اُس کی زندگی کا رویہ ہے۔ جو آدمی اِسی دنیا کو اپنی منزل سمجھتا ہے، اُس کی زندگی اُس شخص کی زندگی سے بالکل مختلف ہوتی ہے جو اِس دنیا کو منزل نہیں ، بلکہ راہ سمجھتا ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ جو شخص آخرت کا قائل اور اُس کا طالب ہو، وہ اپنا مال گن گن کر اِس دنیا کے بنکوں اور تجوریوں میں رکھے، بلکہ وہ اپنا مال اپنے خداوند کے پاس رکھتا ہے۔ سیدنا مسیح علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ’’ تو اپنا مال اپنے خداوند کے پاس رکھ، اِس لیے کہ جہاں تیرا مال رہے گا، وہیں تیرا دل بھی رہے گا۔‘‘‘‘(تدبر قرآن ۹/ ۵۴۹)  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List