Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • العصر (The Time, The Declining Day, Eventide, The Epoch)

    3 آیات | مکی
    سورہ کا مضمون، سابق سورہ سے تعلق اور ترتیب بیان

    سابق سورہ ۔۔۔ التکاثر ۔۔۔ میں ان لوگوں کو تنبیہ فرمائی گئی ہے جو ساری عمر اسی دنیا کے مال و متاع جمع کرنے کی فکر میں گنوا بیٹھتے ہیں یہاں تک کہ موت کی گھڑی آ جاتی ہے اور انھیں یہ سوچنے کی فرصت کبھی نہیں ملتی کہ یہ عمر عزیز اللہ تعالیٰ نے انھیں کس مقصد بلند کی خاطر عطا فرمائی اور وہ اس کو کس بوالہوسی و بے حاصل میں برباد کر بیٹھے۔ اگر وہ جانتے کہ ایک دن تمام نعمتوں کی طرح زندگی کی عظیم نعمت سے متعلق بھی ان سے سوال ہو گا کہ اس کو انھوں نے کس کام میں صرف کیا تو وہ ہرگز یہ حماقت نہ کرتے کہ جس چیز سے وہ ابدی بادشاہی حاصل کر سکتے تھے اس کو دنیا کے خزف ریزے جمع کرنے اور اپنے لیے ابدی لعنت کا سامان کرنے پر قربان کر دیتے۔ اب اس سورہ میں بتایا ہے کہ زندگی کی اصل قدر و قیمت کیا ہے؟ کیا چیز اس کو ابدی فلاح کی ضامن بناتی ہے اور کیا چیز اس کو دائمی خسران میں تبدیل کر دیتی ہے؟ کس طرح انسان اس کو اپنے لیے رحمت بنا سکتا ہے اور کس طرح یہ آپ سے آپ اس کے لیے نقمت اور عذاب بن جاتی ہے اگر وہ اس کو رحمت بنانے کی کوشش نہ کرے۔

    اس حقیقت کو سمجھانے کے لیے اس میں زمانہ کی قَسم بطور شہادت کھائی گئی ہے کہ انسان غور کرے تو اسے معلوم ہو گا کہ اس دنیا میں اصل سرمایہ جو اسے حاصل ہے بس وہ تھوڑا سا وقت ہے جو مہلت حیات کی حیثیت سے اس کے حصہ میں آیا ہے۔ اس کو صحیح استعمال کر کے وہ زندگی بخشنے والے کا پسندیدہ بندہ بھی بن سکتا اور ’رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً‘ کا مقام بھی حاصل کر سکتا ہے اور اسی کو غلط کاموں میں ضائع کر کے ہمیشہ کے لیے اپنے کو دوزخ کے عذاب کا سزاوار بھی بنا سکتا ہے۔ اس کی فطرت یہ ہے کہ ایک شمشیر دودَم ہے۔ اس کو انسان نے اگر اپنے حق میں استعمال نہ کیا تو یہ آپ سے آپ اس کے ابدی دشمن ۔۔۔ شیطان ۔۔۔ کے حق میں استعمال ہو گا۔ اس کا بہت تھوڑا سا حصہ یعنی صرف حاضر ہے جو اس کے اختیار میں ہے جس میں وہ کوئی تصرف کر سکتا ہے، باقی یا تو ماضی بن چکا جو کسی قیمت پر بھی واپس نہیں مل سکتا یا مستقبل کے پردوں میں چھپا ہوا ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کتنا ہے اور ہے بھی یا نہیں اور ہے تو وہ اپنے ساتھ کیا احوال و مسائل اور کیا تقاضے و مطالبے رکھتا ہے جو وقت آتا ہے وہ اپنے مطالبے اپنے ساتھ لاتا ہے۔ اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ انسان حاضر کے فرض کو مستقبل پر ٹال سکے۔

    اس اہم حقیقت کی طرف توجہ دلانے کے بعد وہ صحیح طریقہ بتایا جس کو اختیار کرنے والے اپنی مہلت حیات سے صحیح فائدہ اٹھاتے اور اس حیات چند روزہ کے بدلے حیات جاوداں پاتے ہیں۔ اگرچہ یہ طریقہ صرف چند لفظوں میں بتایا گیا ہے لیکن ایسے جامع اور حکیمانہ اسلوب میں بتایا گیا ہے کہ انسان تدبر کرے تو اس کو معلوم ہو جائے گا کہ اس کی انفرادی اور اجتماعی دونوں زندگیوں سے متعلق اس پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں جو اسے ادا کرنے ہیں اور جن کے ادا کرنے ہی پر اس کی ابدی فلاح کا انحصار ہے۔

    غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ قرآن کا بھی اصل مقصد اسی صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرنا اور انسان کی شخصی و اجتماعی زندگی کو آخرت کے نصب العین کے تحت منظم کرنا ہے۔ گویا جو بات قرآن کی ایک سو چودہ سورتوں میں سمجھائی گئی ہے وہ اس سورہ کی تین آیتوں میں سمو دی گئی ہے۔ اسی حقیقت کی طرف حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے یوں اشارہ فرمایا ہے کہ

    ’’اگر لوگ تنہا اسی سورہ ۔۔۔ العصر ۔۔۔ پر غور کریں تو ان کے لیے کفایت کرے۔‘‘

  • العصر (The Time, The Declining Day, Eventide, The Epoch)

    3 آیات | مکی
    العصر - الھمزۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ خدا کے جس قانون مجازات کو ثابت کرتی ہے، دوسری میں اُسی کے حوالے سے قریش کی قیادت کو اُس کے انجام پر متنبہ کیا گیا ہے۔ دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں ہجرت سے کچھ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- العصر—- کا موضوع خدا کے اُس قانون مجازات کو ثابت کرنا ہے جس کے مطابق خدا کی عدالت قریش کے لیے اپنا فیصلہ صادر کرنے والی تھی۔

    دوسری سورہ—- الھمزۃ—- کا موضوع اِسی قانون کے حوالے سے اُن کی قیادت کو اُس کے انجام سے خبردار کرنا ہے جو دولت کے غرور میں مبتلا اور پیغمبر کے مقابلے میں سرکشی، تضحیک اور عیب چینی کے رویے پر مصر تھی۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 103 Verse 001 Chapter 103 Verse 002 Chapter 103 Verse 003
    Click translation to show/hide Commentary
    زمانہ گواہی دیتا ہے۔
    یعنی سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور تک وہ پورا زمانۂ رسالت گواہی دیتا ہے جس میں رسولوں کی مخاطب قوموں کے لیے خدا کی عدالت زمین پر قائم رہی اور سرکش قوموں کے لیے اُس کے فیصلے اِس دنیا میں صادر ہوئے۔ یہ بات اِس طرح بھی کہی جا سکتی ہے کہ تاریخ گواہی دیتی ہے۔ اِس لحاظ سے دیکھیے تو یہ ایک لفظ اُن تمام سرگذشتوں کا عنوان ہے جو قرآن میں اثبات قیامت کے لیے مذکور ہوئی ہیں۔ عاد و ثمود، قوم نوح، قوم لوط، قوم شعیب اور اِس طرح کی دوسری قوموں کی سرگذشت سے قرآن نے جگہ جگہ استدلال کیا ہے۔ یہی استدلال یہاں ایک لفظ میں بیان کر دیا ہے۔ یہ درحقیقت قیامت پر اُس قیامت صغریٰ سے استدلال ہے جو بار بار اِس لیے برپا کی گئی کہ آخرت کے تصور کو اُسی معیار پر ثابت کر دیا جائے جس معیار پر سائنسی حقائق معمل (laboratory) کے تجربات سے ثابت کیے جا تے ہیں۔ انفس و آفاق کے دلائل کے ساتھ اثبات قیامت کے لیے یہ تاریخ کی گواہی ہے۔
    یہ انسان خسارے میں پڑ کر رہیں گے۔
    لفظ ’اَلْاِنْسَان‘ یہاں عام نہیں ہے۔ اِس کا الف لام عہد کے لیے ہے اور اشارہ اُنھی لوگوں کی طرف ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت کے بعد آپ کے مقابلے میں سرکشی اور تمرد پر اتر آئے تھے۔ خسارے سے مراد دنیا اور آخرت،دونوں کا خسارہ ہے، یعنی دنیا میں بھی عذاب سے دوچار ہوں گے، جس طرح رسولوں کی مخاطب قومیں اِس سے پہلے ہوتی رہی ہیں اور آخرت میں بھی ایک بڑا عذاب اِن کے لیے منتظر ہے۔اِن کی نگاہ دنیا کے مال و جاہ اور دولت و اقتدار پر ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ پیغمبر کی مخالفت کرکے یہ نفع کا سودا کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ خدا کے قانون مکافات کی زد میں ہیں جس سے یہ عنقریب دوچار ہوجائیں گے، اِس لیے متنبہ ہو جائیں، اِن کی روش یہی رہی تو لازماً خسارے میں پڑیں گے۔
    ہاں، مگر وہ نہیں جو ایمان لائے اور اُنھوں نے نیک عمل کیے، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور (حق پر) ثابت قدمی کی نصیحت کی۔
    اِس سے آگے دو ٹوک طریقے سے بتا دیا ہے کہ خسارے سے بچنے کا طریقہ کیا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...اگرچہ یہ طریقہ صرف چند لفظوں میں بتایا گیا ہے، لیکن ایسے جامع اور حکیمانہ اسلوب میں بتایا گیا ہے کہ انسان تدبر کرے تو اُس کو معلوم ہو جائے گا کہ اُس کی انفرادی اور اجتماعی، دونوں زندگیوں سے متعلق اُس پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں جو اُسے ادا کرنے ہیں اور جن کے ادا کرنے ہی پر اُس کی ابدی فلاح کا انحصار ہے۔ غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ قرآن کا بھی اصل مقصد اِسی صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرنا اور انسان کی شخصی و اجتماعی زندگی کو آخرت کے نصب العین کے تحت منظم کرنا ہے۔ گویا جو بات قرآن کی ایک سوچودہ سورتوں میں سمجھائی گئی ہے، وہ اِس سورہ کی تین آیتوں میں سمو دی گئی ہے۔ اِسی حقیقت کی طرف حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے یوں اشارہ فرمایا ہے کہ’’ اگر لوگ تنہا اِسی سورہ ۔۔۔ العصر ۔۔۔ پر غور کریں تو اُن کے لیے کفایت کرے۔*‘‘‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۵۳۰) ایمان ایک قدیم دینی اصطلاح ہے۔ ’اٰمن‘ کا مادہ عبرانی زبان میں بھی موجود ہے اور صدق و اعتماد کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اِسی سے ’اٰمین‘ کا کلمہ ہے جس سے ہم کسی بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں یہ تعبیر اِسی مفہوم میں آئی ہے۔ چنانچہ جب کسی چیز کو دل کے پورے یقین کے ساتھ تسلیم کر لیا جائے تو اُسے ایمان کہا جاتا ہے۔ اِس کی اصل خداپر ایمان ہے۔ انسان اگر اپنے پروردگار کو اِس طرح مان لے کہ تسلیم و رضا کے بالکل آخری درجے میں اپنے دل و دماغ کو اُس کے حوالے کر دے تو قرآن کی اصطلاح میں وہ مومن ہے۔ ایمان کی یہی حقیقت ہے جس کی بنا پر قرآن تقاضا کرتا ہے کہ دل کی تصدیق کے ساتھ انسان کے قول و عمل کو بھی اُس پر گواہ ہونا چاہیے۔ چنانچہ ہر نیکی کو وہ ایمان کا خاصہ اور ایمان والوں کا لازمی وصف بتاتا ہے۔ ایمان کے بعد عمل صالح کا ذکر گویا ایک طرح کی وضاحت ہے۔ اِس کی نوعیت بالکل وہی ہے جو عام پر خاص کے عطف کی ہوتی ہے۔ امام حمید الدین فراہی لکھتے ہیں: ’’...ایمان کامحل دل اور عقل ہے اور عقل و دل کے معاملات میں انسان نہ صرف دوسروں کو دھوکا دے سکتا ہے، بلکہ بسا اوقات خود بھی دھوکے میں رہتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ مومن ہے، حالاں کہ وہ مومن نہیں ہوتا۔ اِس وجہ سے ایمان کے دو شاہد قرار دیے گئے: ایک قول، دوسرے عمل۔ اور چونکہ قول بھی جھوٹ ہو سکتا ہے، اِس وجہ سے صرف زبان سے اقرار کرنے والا مومن نہیں قرار دیا گیا، بلکہ ضروری ہوا کہ آدمی کا عمل اُس کے ایمان کی تصدیق کرے۔‘‘(نظام القرآن ۳۹۶) اِس میں شبہ نہیں کہ قانون کی نگاہ میں ہر وہ شخص مومن ہے جو زبان سے اسلام کا اقرار کرتا ہے۔ اُس کا یہ ایمان کم یا زیادہ بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن جہاں تک حقیقی ایمان کا تعلق ہے، وہ ہرگز کوئی جامد چیز نہیں ہے۔ اللہ کے ذکر، اُس کی آیتوں کی تلاوت اور انفس و آفاق میں اُن کے ظہور سے اُس میں افزونی ہوتی ہے۔ قرآن مجید نے اُسے ایک ایسے درخت سے تشبیہ دی ہے جس کی جڑیں زمین کے اعماق میں اتری ہوئی اور شاخیں آسمان کی وسعتوں میں پھیلی ہوئی ہوں۔** یہی معاملہ ایمان میں کمی کا ہے۔ انسان اگر اپنے ایمان کو علم نافع اور عمل صالح سے برابر بڑھاتے رہنے کے بجاے اُس کے تقاضوں کے خلاف عمل کرنا شروع کر دے تو یہ کم بھی ہو تا ہے، بلکہ بعض حالات میں بالکل ختم ہو جاتا ہے۔’ھُمْ لِلْکُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْھُمْ لِلْاِیْمَانِ‘*** (اُس دن وہ ایمان سے زیادہ کفر کے قریب تھے) اور اِس طرح کی دوسری آیات سے یہی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ چنانچہ ایمان اور عمل لازم و ملزوم ہیں۔ جس طرح ایمان کے ساتھ عمل ضروری ہے، اِسی طرح عمل کے ساتھ ایمان بھی ضروری ہے۔ نجات کے لیے قرآن نے ہر جگہ اِسے شرط اولین قرار دیا ہے۔ سورۂ نور میں ایمان کی دولت سے محروم لوگوں کے اعمال کی مثال کسی چٹیل صحرا کے سراب سے دی گئی ہے جس کی حقیقت فریب نظر سے زیادہ نہیں ہوتی۔ پیاسا پانی سمجھ کر اُس کی طرف لپکتا ہے، مگر جب اُس کے قریب پہنچتا ہے تو راز کھلتا ہے کہ جس چیز کو وہ لہریں لیتا ہوا دریا سمجھ رہا تھا، وہ درحقیقت چمکتی ہوئی ریت تھی۔**** یہ ایمان درج ذیل پانچ چیزوں سے عبارت ہے: ۱۔ اللہ پر ایمان ۲۔ فرشتوں پر ایمان ۳۔ نبیوں پر ایمان ۴۔کتابوں پر ایمان ۵۔ روز جزا پر ایمان اِس سے مراد قرآن کی اصطلاح میں ہر وہ عمل ہے جو خدا کی اُس حکمت کے موافق ہو جس پر کائنات کی تخلیق ہوئی ، اورجس کے مطابق اُس کی تدبیر امور کی جاتی ہے۔ اِس کی تمام اساسات عقل و فطرت میں ثابت ہیں اور خدا کی شریعت اِسی عمل کی طرف انسان کی رہنمائی کے لیے نازل ہوئی ہے۔ یہ دعوت و تبلیغ کی وہ ذمہ داری ہے جو قرآن نے اپنے ہر ماننے والے پر عائد کی ہے۔ اِس لیے کہ انسان صرف انفرادی زندگی نہیں رکھتا، وہ جہاں بھی پایا جاتا ہے کسی خاندان کے رکن اور معاشرے کے ایک فرد کی حیثیت سے پایا جاتا ہے۔ اُس کی یہ حیثیت بالکل فطری ہے۔ وہ اپنی مادی زندگی کے لیے بھی خاندان اورمعاشرے کا محتاج ہے اور اپنے اخلاقی اور روحانی ارتقا کے لیے بھی اُنھی کا سہارا حاصل کرتا ہے۔ چنانچہ اِسی بنا پر پابند کیا گیا ہے کہ اپنے گردوپیش کی صلاح و فلاح سے غافل نہ رہے۔ اِس کا ذکر یہاں عمل صالح کے ایک جزو اور اُس کی توضیح کے طور پر ہوا ہے، اِس لیے کہ حق کے ساتھ انسان کی محبت کا یہ لازمی تقاضا ہے۔ وہ جس چیز کو محبوب رکھتا ہے، پوری شدت سے چاہتا ہے کہ دوسرے بھی اُس کو اِسی طرح محبوب رکھیں۔ یہ ذکر جس طریقے سے ہوا ہے، اُس سے واضح ہے کہ یہ ایمان کے بنیادی تقاضوں میں سے ایک ہے۔ بندۂ مومن نیک عمل کرے اور ایمان کا یہ تقاضا بھی پورا کر دے تو اِن آیتوں میں ضمانت دی گئی ہے کہ قیامت میں خسارے سے محفوظ رہے گا اور جنت کی ابدی بادشاہی اُسے حاصل ہو جائے گی۔ آیت میں ’حَقّ‘ اور ’صَبْر‘ کے الفاظ بھی قابل توجہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ’اُنھوں نے نیک عمل کی تلقین کی‘، بلکہ یہ فرمایا کہ ’حق اور حق پر ثابت قدمی کی تلقین کی‘۔ اِس کی وجہ کیا ہے؟ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’...اِس اسلوب نے وہ باتیں بھی اپنے اندر سمیٹ لی ہیں جو (اِس سے) پہلے ٹکڑے میں ہیں اور اُن کے اوپر مزید نہایت اہم اضافے بھی کر دیے ہیں۔ لفظ ’حَقّ‘ کے اندر ایمان بدرجۂ اولیٰ داخل ہے، اِس لیے کہ وہ خدا کا حق ہے اور سب سے بڑا حق ہے۔ اِسی طرح اعمال حسنہ کا تعلق بھی یا تو خدا کے حقوق سے ہے یا بندوں کے حقوق سے، اِس وجہ سے وہ بھی اِس میں داخل ہیں۔اِس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ و


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List