Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • التکاثر (The Piling Up, Rivalry In World Increase, Competition)

    8 آیات | مکی
    سورہ کا عمود، سابق سورہ سے تعلق اور ترتیب بیان

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ القارعہ۔۔۔ کی مثنیٰ ہے۔ دونوں کے مضمون میں کوئی اصولی فرق نہیں ہے۔ سابق سورہ میں بتایا ہے کہ آخرت میں کام آنے والی چیز وہ نیکیاں ہیں جو اس دنیا میں کر لی جائیں۔ خدا کی میزان میں انہی کے اندر وزن ہو گا۔ جس نے ان کا ذخیرہ جمع کر لیا وہ فلاح پائے گا اور جو ان سے محروم رہا اس نے، خواہ کتنا ہی خزانہ اکٹھا کر لیا ہو، اس کی میزان بالکل بے وزن رہے گی۔ حسرت و اندوہ کے سوا اس کے حصہ میں کچھ نہیں آئے گا۔

    اب اس سورہ میں ان لوگوں کو متنبہ فرمایا ہے جنھوں نے ساری عمر اس جدوجہد میں کھپا دی کہ مال و دولت کے اعتبار سے وہ دوسروں سے آگے نکل جائیں، ان کا بنک بیلنس سب سے زیادہ ہو جائے، کاروباری میدان میں کوئی ان کا حریف نہ رہے۔ معیار زندگی کی مسابقت میں وہ سب کو پیچھے چھوڑ جائیں۔ بس اسی تگ و دو میں ان کی ساری زندگی ختم ہو گئی اور اس امر پر غور کرنے کی انھیں کبھی توفیق نہیں ہوئی کہ آگے ایک یقینی مرحلہ حساب کتاب اور جزا و سزا کا بھی آنے والا ہے۔ جس سے بے پروا رہ کر زندگی گزارنے والوں کو جہنم سے سابقہ پیش آئے گا اور اس دن ہر ایک سے یہ پرسش بھی ہونی ہے کہ اس نے دنیا میں جو کچھ حاصل کیا کس راہ سے حاصل کیا اور اس کو کس راہ میں صرف کیا اور اللہ تعالیٰ نے جو قوتیں اور صلاحیتیں اور جو نعمتیں اس کو بخشیں ان کا کتنا حصہ اس نے بخشنے والے کی خوشنودی کے لیے استعمال کیا اور کتنا اپنے نفس اور شیطان کی خوشنودی کے لیے۔

  • التکاثر (The Piling Up, Rivalry In World Increase, Competition)

    8 آیات | مکی
    القارعۃ - التکاثر

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ قیامت کی جس صورت حال سے مخاطبین کو خبردار کرتی ہے، دوسری میں اُسی کے حوالے سے اُن کی غفلت پر اُنھیں متنبہ کیا گیا ہے۔ دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں ہجرت سے کچھ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- القارعۃ—- کا موضوع لوگوں کو اِس حقیقت سے خبردار کرنا ہے کہ جس طرح بے خبری میں آکر کوئی دروازے پر دستک دیتا ہے، قیامت اِسی طرح ایک دن اُن کے دروازوں پر آدھمکے گی اور اُنھیں قبروں سے اٹھا کر اُن کے اعمال کے لحاظ سے اُن کے لیے جنت اور جہنم کا فیصلہ سنا دے گی۔

    دوسری سورہ—- التکاثر—- کا موضوع اِسی قیامت کے حوالے سے اُنھیں متنبہ کرنا ہے کہ دنیا کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی خواہش نے اُن کو اِس سب سے بڑی حقیقت سے غافل کر دیا ہے۔ وہ اگر جانتے کہ محاسبے کا یہ دن اُن سے زیادہ دور نہیں ہے تو اِس سے ہرگز اِس طرح غافل نہ ہوتے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 102 Verse 001 Chapter 102 Verse 002 Chapter 102 Verse 003 Chapter 102 Verse 004
    Click translation to show/hide Commentary
    بہت پانے اور اُس میں دوسروں سے بڑھ جانے کی حرص نے تمھیں غفلت میں ڈالے رکھا۔
    اصل میں لفظ ’تَکَاثُر‘ آیا ہے۔ اِس کے معنی مال و اولاد کی کثرت میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی تگ و دو کے ہیں۔ قرآن نے یہ لفظ اِس لیے اختیار کیا ہے کہ اُس زمانے کے تمدنی حالات میں رفاہیت اور اقتدار کی بنیاد یہی دو چیزیں تھیں۔ تاہم مدعا وہی ہے جو ہم نے ترجمے میں ادا کر دیا ہے۔ یعنی خدا اور آخرت کے بارے میں غفلت میں ڈالے رکھا اوراِس سوال پر غور کرنے کی توفیق ہی نہیں ہوئی کہ اگر خدا ہے اور اُس نے پکڑ بلایا تو اُس کے احتساب سے بچنے کی کیا صورت ہو گی؟
    یہاں تک کہ قبروں میں جا پہنچے۔
    n/a
    (نہیں، یہ کچھ نہیں لوگو)، ہرگز نہیں، تم جلد جان لو گے۔
    مطلب یہ ہے کہ دنیا کی یہ زندگی کچھ نہیں، یہ محض متاع غرور ہے جس کے سحر میں شیطان نے تمھیں مبتلا کر رکھا ہے۔
    پھر (سنو، یہ کچھ نہیں)، ہرگز نہیں، تم جلد جان لو گے۔
    یعنی دنیا اور آخرت، دونوں میں جلد جان لو گے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’یہ تاکید در تاکید انذار کو موثر بنانے کے لیے بھی ہے اور اِس حقیقت کے اظہار کے لیے بھی کہ جس قوم کو اللہ کا رسول انذار کرتا ہے، وہ اُس کی تکذیب کے نتیجے میں اِس دنیا میں بھی گرفتار عذاب ہوتی ہے اور آخرت میں بھی اُس کے آگے وہ سب کچھ آئے گا جس سے رسول نے آگاہ کیا۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر تم نے اپنی روش نہ بدلی تو اِس دنیا میں بھی دیکھو گے اور آخرت میں بھی دیکھو گے، اور اِس میں زیادہ دیر نہیں ہے۔ تمھارے لیے عدالت قائم ہو چکی ہے اور فیصلہ ہوا ہی چاہتا ہے۔ لفظ ’تَعْلَمُوْنَ‘ کے ابہام کے اندر جو وعید مضمر ہے، وہ محتاج بیان نہیں ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۵۲۳)  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List