Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • القارعۃ (The Striking Hour, The Great Calamity, The Stunning Blow, The Disaster)

    11 آیات | مکی
    سورہ کا مضمون اور ترتیب بیان

    اس سورہ میں یہ حقیقت سمجھائی گئی ہے کہ جس قیامت سے ڈرایا جا رہا ہے اس وقت اگرچہ کسی کو نہیں معلوم لیکن اس کا آنا یقینی ہے۔ جس طرح کوئی اچانک آ کر دروازے پر دستک دیتا ہے اسی طرح وہ اچانک آ دھمکے گی۔ دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ اس کا کھٹکا ہر وقت لگا رہے۔ اس دن کسی کے پاس کوئی قوت و جمعیت نہیں ہو گی۔ لوگ قبروں سے اس طرح پراگندہ نکلیں گے جس طرح برسات میں پتنگے نکلتے ہیں۔ ہر ایک پر نفسی نفسی کی حالت طاری ہو گی۔ کوئی بھی کسی دوسرے کی مدد کر سکنے کی پوزیشن میں نہ ہو گا۔ اس دن قلعے، مورچے، حصار تو درکنار پہاڑوں کا حال یہ ہو گا کہ وہ دھنکی ہوئی اون کی مانن ہو جائیں گے۔ اس دن صرف نیک عمل ہی کام آنے والا بنے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنی میزان عدل قائم کرے گا۔ جس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گا وہ جنت کے عیش جاوداں میں ہو گا اور جس کی بدیوں کا پلڑا بھاری ہو گا وہ دوزخ کے کھڈ میں بھڑکتی آگ کے اندر پھینک دیا جائے گا۔

  • القارعۃ (The Striking Hour, The Great Calamity, The Stunning Blow, The Disaster)

    11 آیات | مکی
    القارعۃ - التکاثر

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ قیامت کی جس صورت حال سے مخاطبین کو خبردار کرتی ہے، دوسری میں اُسی کے حوالے سے اُن کی غفلت پر اُنھیں متنبہ کیا گیا ہے۔ دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں ہجرت سے کچھ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — القارعۃ — کا موضوع لوگوں کو اِس حقیقت سے خبردار کرنا ہے کہ جس طرح بے خبری میں آکر کوئی دروازے پر دستک دیتا ہے، قیامت اِسی طرح ایک دن اُن کے دروازوں پر آدھمکے گی اور اُنھیں قبروں سے اٹھا کر اُن کے اعمال کے لحاظ سے اُن کے لیے جنت اور جہنم کا فیصلہ سنا دے گی۔

    دوسری سورہ — التکاثر — کا موضوع اِسی قیامت کے حوالے سے اُنھیں متنبہ کرنا ہے کہ دنیا کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی خواہش نے اُن کو اِس سب سے بڑی حقیقت سے غافل کر دیا ہے۔ وہ اگر جانتے کہ محاسبے کا یہ دن اُن سے زیادہ دور نہیں ہے تو اِس سے ہرگز اِس طرح غافل نہ ہوتے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 101 Verse 001 Chapter 101 Verse 002 Chapter 101 Verse 003
    Click translation to show/hide Commentary
    کھٹکھٹانے والی!
    اصل میں لفظ ’اَلْقَارِعَۃ‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ یعنی جو رات میں آنے والے کی طرح اچانک آئے گی اور جس طرح دروازے کھٹکھٹا کر وہ سونے والوں کو ہڑبڑا دیتا ہے، اُسی طرح پورے عالم کو ہڑبڑا دے گی۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’یہ اسلوب بیان جو یہاں اختیارفرمایا گیا ہے، ایک الارم کی نوعیت کا ہے تاکہ تمام کان رکھنے والے اِس مبتدا کی خبر سننے کے لیے تیار ہو جائیں۔ گویا قیامت جس نوعیت کی ہڑبڑاہٹ اِس دنیا میں پیدا کرے گی، اُسی نوعیت کی ہڑبڑاہٹ یہاں اُس کا نام پیدا کر رہا ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۵۱۲)
    کیا ہے کھٹکھٹانے والی!
    n/a
    اور تمھیں کیا معلوم کہ کیا ہے کھٹکھٹانے والی!
    یہ حسرت و افسوس کا اسلوب ہے۔ یعنی اے کاش، تم جانتے! لیکن تم پر افسوس، تم کیا جانو گے!


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List