Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • العادیات (The Courser, The Chargers)

    11 آیات | مکی
    سورہ کا مضمون اور ترتیب بیان

    اس سورہ میں انسان کے ناشکرے پن پر اس کو تنبیہ اور ملامت ہے۔ اس کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ اس دنیا میں وہ جو کچھ بھی حاصل کرتا ہے ان وسائل و ذرائع ہی سے حاصل کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو بخشے ہیں لیکن وہ اس حقیقت کو بھول جاتا ہے کہ جب سب کچھ خدا کی عنایت سے حاصل ہوا ہے تو اس پر خدا کے جو حقوق عائد ہوتے ہیں ان کو ادا کرنا بھی واجب ہے۔ وہ نہ صرف یہ کہ خدا کا کوئی حق تسلیم نہیں کرتا بلکہ علانیہ اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی قوتیں اور صلاحیتیں خود اسی کے خلاف استعمال کرتا ہے اور اس بات کی ذرا پروا نہیں کرتا کہ ایک ایسا دن بھی آنے والا ہے جس دن کوئی چیز بھی ڈھکی چھپی نہیں رہ جائے گی بلکہ سینوں کے راز تک بھی اگلوا لیے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے پورے علم کے ساتھ ہر ایک کا محاسبہ کرے گا اور ہر شخص کو جزا یا سزا دے گا۔

    گویا اس سورہ کاا صل مضمون تو وہی ہے جو سابق سورہ ۔۔۔ الزلزال ۔۔۔ کا ہے لیکن دونوں میں یہ فرق ہے کہ اُس میں اس دن کی تصویر ہے جس دن یہ سب کچھ ہو گا اور اِس سورہ میں اس کی دلیل بیان ہوئی ہے جس کی وضاحت ان شاء اللہ آگے آئے گی۔

    ترتیب بیان اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے تصرف میں جو حیوانات دیے ہیں ان میں سے خاص طور پر جنگی گھوڑوں کی ان جاں فشانیوں، جاں بازیوں اور قربانیوں کا بطریق قسم حوالہ دیا ہے جو وہ اپنے آقا یعنی انسان کی اطاعت و خدمت کی راہ میں کرتے ہیں اور پھر انسان کی ناشکری و ناسپاسی پر اس کو ملامت کی ہے کہ آخر وہ اپنے ان غلاموں اور مملوکوں کی اس وفادارانہ روش سے یہ سبق کیوں نہیں سیکھتا کہ وہ بھی کسی مالک کا مملوک، کسی رب کا مربوب اور کسی آقا کا غلام ہے اور اس پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ بھی انہی کی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اس کی بندگی اور اس کے احکام کی اطاعت میں سرگرم رہے۔

    آخر میں انسان کے بخل اور اس کی زرپرستی پر ملامت کی ہے کہ وہ پاتا تو سب کچھ خدا سے ہے لیکن وہ اسی سے اپنے مال کو بچانے اور چھپانے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ کہاں اور کب تک چھپائے گا! ایک دن زمین کے سارے دفینے اور دلوں کے سارے راز آشکارا ہو کر رہیں گے! عاقل وہ ہیں جو اس دن کے لیے تیاری کریں۔

  • العادیات (The Courser, The Chargers)

    11 آیات | مکی
    الزلزال - العٰدیٰت

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ قیامت کی جس صورت حال سے قریش کو متنبہ کرتی ہے، دوسری میں اُسی کے حوالے سے اُن کے اُس رویے پر اُنھیں خبردار کیا گیا ہے جو اپنے اوپر خدا کی بے پناہ عنایتوں کے باوجود وہ اُس کے معاملے میں اختیار کیے ہوئے تھے۔ دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں ہجرت سے کچھ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — الزلزال — کا موضوع قریش کو متنبہ کرنا ہے کہ قیامت کے بارے میں وہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں۔ اُس دن کوئی چیز بھی خدا سے چھپی نہ رہے گی۔ چھوٹی بڑی، ہر نیکی اور برائی پوری قطعیت کے ساتھ انسان کے سامنے آجائے گی۔

    دوسری سورہ — العٰدیٰت — کا موضوع اُنھیں اِس حقیقت سے خبردار کرنا ہے کہ اُن کے گردوپیش میں ہر طرف لوٹ اور بدامنی پھیلی ہوئی ہے۔ یہ محض حرم سے اُن کا تعلق ہے جس کی بنا پر وہ اِس ماحول میں امن سے رہ رہے ہیں۔ حق تو یہ تھا کہ خدا کی جو نعمتیں اِس گھرکے طفیل اُنھیں حاصل ہیں، اُن پر وہ اُس کا شکر ادا کرتے، لیکن اِس کے بجاے جو رویہ اُنھوں نے اختیار کر
    رکھا ہے، اُنھیں سوچنا چاہیے کہ اُس کے ساتھ اُن کا انجام کیا ہو گا۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 100 Verse 001 Chapter 100 Verse 002 Chapter 100 Verse 003 Chapter 100 Verse 004 Chapter 100 Verse 005 Chapter 100 Verse 006 Chapter 100 Verse 007 Chapter 100 Verse 008
    Click translation to show/hide Commentary
    ہانپتے دوڑتے گھوڑے گواہی دیتے ہیں۔
    اصل میں لفظ ’الْعٰدِیٰت‘ استعمال ہوا ہے۔ اِس کے معنی دوڑنے والے کے ہیں۔ آگے کی صفات سے واضح ہے کہ اِس سے مراد دوڑنے والے گھوڑے ہیں۔
    پھر ٹاپوں سے چنگاریاں جھاڑتے۔
    یہ اور اِس سے آگے تمام صفات ’ف‘کے ساتھ عطف ہوئی ہیں۔ عربیت کی رو سے یہ عطف ترتیب پر بھی دلالت کرتا ہے اور اِس بات پر بھی کہ یہ تمام صفات ایک ہی موصوف سے متعلق ہیں۔
    پھر صبح دم دھاوا کرتے۔
    یہ اِس لیے کہا ہے کہ عرب میں دشمنوں پر غارت گری کا سب سے موزوں وقت یہی سمجھا جاتا تھا۔ ’وا صباحا‘ کے نعرے میں صبح کا حوالہ اِسی پہلو سے ہے۔ لفظ ’صبح‘ اِسی بنا پر عربی زبان میں حملے اور غارت گری کے لیے ایک معروف لفظ بن گیا ہے۔
    پھر اُس میں غبار اڑاتے۔
    اصل الفاظ ہیں:’فَاَثَرْنَ بِہٖ نَقْعًا‘۔ اِن میں ’ب‘ ظرف کے لیے ہے اور ضمیر کا مرجع وہ تگاپو ہے، جو پیچھے لفظ ’مُغِیْرٰت‘ سے مفہوم ہوتی ہے، یعنی دھاوا کرنے کی اِس تگاپومیں غبار اڑاتے۔
    اور اُسی کے ساتھ مجمع میں گھس جاتے۔
    یعنی اُسی غبار کے ساتھ۔ اصل میں ’فَوَسَطْنَ بِہٖ جَمْعًا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں ’ب‘ ملابست کے مفہوم میں ہے اور ضمیر کا مرجع’نَقْعًا‘ ہے۔ ابتدا سے یہاں تک یہ اُس غارت گری اور لوٹ مار کی تصویر ہے جس سے قریش کے سوا عرب کا کوئی قبیلہ اُس زمانے میں محفوظ نہ تھا۔
    کہ (حرم کے سایۂ امن میں رہنے والا) یہ انسان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔
    مطلب یہ ہے کہ بڑا ہی نا شکرا اورلئیم ہے وہ انسان جو اِس لوٹ مار اور غارت گری کو شب و روز اپنے گردوپیش میں دیکھتا ہے اور جانتا ہے کہ وہ اگر اِس سے محفوظ ہے تو اِسی وجہ سے محفوظ ہے کہ اُسے حرم کی تولیت حاصل ہے، جانتا ہے کہ یہ گھر اور اِس کی برکتیں نہ ہوتیں تو اُس پر بھی اُسی طرح دھاوے ہوتے، جس طرح دوسروں پر ہو رہے ہیں، لیکن اِس کے باوجود سرکشی پر آمادہ ہے اور اُس خدا کو جھٹلا رہا ہے جس کی عنایتوں سے امن و آشتی کی یہ نعمت اُسے عطا ہوئی ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ وہ (اپنے) اِس (رویے) پر خود گواہ ہے۔
    یعنی یہ بات محتاج دلیل نہیں ہے۔ اِس پر انسان کے اپنے ضمیر کی شہادت کافی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’جو باتیں انسان کی فطرت کے بدیہی مقتضیات میں سے ہیں، وہ دلیل کی محتاج نہیں ہوتیں۔ اُن کے حق میں سب سے بڑی گواہی خود انسان کی فطرت اور اُس کے ضمیر کے اندر موجود ہوتی ہے۔ انسان اگر اُن سے گریز اختیار کرتا ہے تو اِس وجہ سے نہیں کہ اُن کے حق میں اُس کو کوئی دلیل نہیں ملی، بلکہ اُن کو وہ اپنے نفس کی سفلی خواہشوں کے خلاف پاتا ہے، اِس وجہ سے اُن سے گریز کے لیے بہانے تلاش کرتا ہے۔‘‘(تدبر قرآن ۹/ ۵۰۳)  
    اور حقیقت یہ ہے کہ وہ دولت کا متوالا ہے۔
    یعنی حق و انصاف کے بجاے دولت کا متوالا ہے۔ چنانچہ یہی چیز اِس ناشکرے پن کا باعث بن گئی ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List