Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الزلزلۃ (The Earthquake)

    8 آیات | مدنی
    سورہ کا مضمون اور ترتیب بیان

    اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ ایک ایسا دن لازماً آنے والا ہے جس دن انسان کی کوئی چیز بھی ڈھکی چھپی نہیں رہ جائے گی بلکہ اس کی ہر نیکی و بدی خواہ اس نے کتنے ہی پردوں کے اندر چھپ کر کی ہو، اس کے سامنے رکھ دی جائے گی اور وہ اس کی جزا یا سزا پائے گا۔ اس دن ہر شخص اپنے اعمال سے متعلق خود جواب دہ ہو گا۔ کوئی دوسرا نہ اس کا حامی و مددگار ہو گا اور نہ کوئی اس کا سفارشی بنے گا۔

    اس مدّعا کو واضح کرنے کے لیے پہلے اس ہلچل کی تصویر کھینچی گئی ہے جو قیامت کے دن اس زمین میں برپا ہو گی اور جس کے نتیجے میں وہ سب کچھ باہر آ جائے گا جو اس کے اندر مدفون ہے۔ پھر وہ اللہ تعالیٰ کے ایماء سے اپنی ساری کہانی کہہ سنائے گی تاکہ انسان پر اچھی طرح واضح ہو جائے کہ اس نے اس کے اندر کہاں کہاں کیا کچھ چھپایا اور کیا کیا کہا اور کیا ہے۔ اس کے بعد ہر ایک اپنی نیکی بھی دیکھے گا، اگر اس نے کوئی نیکی کی ہو گی اگرچہ وہ کتنی ہی حقیر ہو اور وہ برائی بھی دیکھے گا جس کا وہ مرتکب ہوا ہو گا اگرچہ وہ برائی کتنی ہی چھوٹی ہو۔

    پچھلی سورتوں کے مطالب اگر ذہن میں محفوظ ہیں تو اس سورہ کے انذار کی اہمیت کا اندازہ کرنے میں کچھ زحمت نہیں ہو گی۔ قیامت کے باب میں منکرین کے بڑے مغالطے تین تھے۔ ایک یہ کہ یہ زمین و آسمان بھلا درہم برہم کس طرح ہو سکتے ہیں؟ دوسرا یہ کہ انسان کے تمام اقوال و افعال کا بھلا کوئی احاطہ کر سکتا ہے کہ ان کا حساب کرنے بیٹھے؟ تیسرا یہ کہ اگر یہ باتیں ممکن بھی فرض کر لی جائیں جب بھی خود ان کے لیے کوئی اندیشہ نہیں ہے، ان کے شرکاء اپنی سفارش سے ان کو ہر آفت سے بچا لیں گے اور ان کو خدا کے ہاں بڑے بڑے درجے دلوائیں گے۔ اس سورہ میں ان کے ان تینوں مغالطوں پر ضرب لگائی گئی ہے۔

  • الزلزلۃ (The Earthquake)

    8 آیات | مدنی
    الزلزال - العٰدیٰت

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ قیامت کی جس صورت حال سے قریش کو متنبہ کرتی ہے، دوسری میں اُسی کے حوالے سے اُن کے اُس رویے پر اُنھیں خبردار کیا گیا ہے جو اپنے اوپر خدا کی بے پناہ عنایتوں کے باوجود وہ اُس کے معاملے میں اختیار کیے ہوئے تھے۔ دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں ہجرت سے کچھ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- الزلزال—- کا موضوع قریش کو متنبہ کرنا ہے کہ قیامت کے بارے میں وہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں۔ اُس دن کوئی چیز بھی خدا سے چھپی نہ رہے گی۔ چھوٹی بڑی، ہر نیکی اور برائی پوری قطعیت کے ساتھ انسان کے سامنے آجائے گی۔

    دوسری سورہ—- العٰدیٰت—- کا موضوع اُنھیں اِس حقیقت سے خبردار کرنا ہے کہ اُن کے گردوپیش میں ہر طرف لوٹ اور بدامنی پھیلی ہوئی ہے۔ یہ محض حرم سے اُن کا تعلق ہے جس کی بنا پر وہ اِس ماحول میں امن سے رہ رہے ہیں۔ حق تو یہ تھا کہ خدا کی جو نعمتیں اِس گھرکے طفیل اُنھیں حاصل ہیں، اُن پر وہ اُس کا شکر ادا کرتے، لیکن اِس کے بجاے جو رویہ اُنھوں نے اختیار کر رکھا ہے، اُنھیں سوچنا چاہیے کہ اُس کے ساتھ اُن کا انجام کیا ہو گا۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 099 Verse 001 Chapter 099 Verse 002 Chapter 099 Verse 003 Chapter 099 Verse 004 Chapter 099 Verse 005
    Click translation to show/hide Commentary
    جب زمین ہلا دی جائے گی، جس طرح اُسے ہلانا ہے۔
    اصل الفاظ ہیں: ’اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَھَا‘۔ یعنی زمین جیسے کرۂ عظیم کے ساتھ تمھارے تصورات سے مافوق یہ حادثہ جس طرح پیش آنا چاہیے، اُسی طرح پیش آئے گا۔ آیت میں یہ مضمون فعل ’زِلْزَال‘ کے محض مفعول مطلق کے طور پر آنے سے نہیں، بلکہ زمین کی طرف اُس کے مضاف ہونے سے پیدا ہوا ہے۔
    اور زمین اپنے سب بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی۔
    مطلب یہ ہے کہ اپنی قبروں کے مردے، اپنے خزینے اور دفینے اورمجرموں کے جرائم کی یادگاریں، سب اپنے اندر سے نکال کر باہر ڈال دے گی۔
    اور انسان کہے گا: اِس کو کیا ہوا؟
    n/a
    اُس دن (تیرے پروردگار کے ایما سے)۔ وہ اپنی سب کہانی کہہ سنائے گی۔
    یعنی انسان کے اعضا و جوارح کی طرح زمین بھی اُس روز گویا ہو گی اور اپنی سب کہانی کہہ سنائے گی۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’اِس دنیا میں انسان جو کچھ بھی کرتا ہے، اِسی زمین کے اوپر یا نیچے کرتا ہے۔ اِس وجہ سے یہ انسان کے اعمال و اقوال کی سب سے بڑی گواہ ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جس طرح انسان کے اعضا و جوارح اور اُس کے بدن کے روئیں روئیں کو اُس کے خلاف گواہی دینے اور اُس کی زندگی کا ریکارڈ سنانے کے لیے گویا کر دے گا، اِسی طرح زمین کو بھی ناطق بنا دے گا کہ وہ ہر ایک کا ریکارڈ سنا دے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۴۹۳)  
    (اُس دن) تیرے پروردگار کے ایما سے۔ (وہ اپنی سب کہانی کہہ سنائے گی)۔
    اصل میں لفظ ’وَحْی‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ ایما اور اشارہ کے مفہوم میں ہے۔ قرآن کے بعض دوسرے مقامات میں بھی یہ اِس معنی میں آیا ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List