Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • البینۃ (The Clear Proof, Evidence)

    8 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ القدر ۔۔۔ کی مثنیٰ ہے۔ اس میں قرآن کی عظمت بیان ہوئی ہے اور اس میں یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین دونوں گٹھ جوڑ کر کے اس وقت قرآن کی تکذیب کے لیے جو اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ قرآن کے باب میں انھیں کوئی واقعی شبہ ہے بلکہ اس کا سبب محض ان کا استکبار ہے۔ وہ ظاہر تو یہ کر رہے ہیں کہ اگر ان کو کوئی کھلی ہوئی نشانی دکھا دی جائے تو وہ اس کو مان لیں گے لیکن یہ محض ان کا فریب ہے۔ کوئی بڑے سے بڑا معجزہ بھی ان کو قائل کرنے والا نہیں بن سکتا۔ یہ اس کو دیکھ کر بھی اپنے استکبار پر پردہ ڈالنے کے لیے کوئی بات بنا ہی لیں گے۔ اہل کتاب آج مشرکین کی جو پشت پناہی اور قرآن کی تکذیب کے لیے ان کو جو اعتراضات القاء کر رہے ہیں اگر اپنی تاریخ کے آئینہ میں اپنے کردار کو دیکھیں تو ان پر یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ جس طرح کے معجزے کا مطالبہ وہ آج کر رہے ہیں اسی قسم کے معجزوں کا مطالبہ ان کے پیش روؤں نے اپنے زمانے میں اپنے پیغمبروں سے کیا اور وہ ان کو دکھا بھی دیے گئے لیکن سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی انھوں نے اللہ کی کتاب اور اس کے دین کا تیا پانچا کر کے رکھ دیا۔ ایمان لانے کے لیے اصل چیز اللہ کی خشیت ہے۔ جن کے اندر یہ خشیت موجود ہے وہ اس کتاب پر ایمان لائیں گے۔ رہے وہ جن کے دل پتھر ہو چکے ہیں وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں خواہ ان کو کتنی ہی بڑی نشانی دکھا دی جائے۔

  • البینۃ (The Clear Proof, Evidence)

    8 آیات | مدنی
    القدر - البینۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ جس کتاب الٰہی کی عظمت واضح کرتی ہے، دوسری میں اُسی کے منکروں کو اُن کے انجام پر متنبہ کیا گیا ہے۔ دونوں میں روے سخن اصلاً قریش کی طرف ہے، لیکن دوسری سورہ میں اہل کتاب بھی اپنے اُن اعتراضات کی وجہ سے نمایاں ہو گئے ہیں جو دعوت کے اِس آخری مرحلے میں وہ قریش کو القاکر رہے تھے۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں ہجرت سے کچھ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — القدر — کا موضوع قریش پر یہ حقیقت واضح کرنا ہے کہ قرآن مجید کی صورت میں جو کتاب اُنھیں پڑھ کر سنائی جا رہی ہے، وہ نہ کسی شیطان کا الہام ہے، نہ پیغمبر کی ذاتی امنگ کا نتیجہ، بلکہ آں سوے افلاک کا پیغام ہے جو رب دو جہاں نے خاص اہتمام کے ساتھ ایک ایسی رات میں نازل کرنا شروع کیا ہے جو اُس کے نظام میں امور مہمہ کی تنفیذ کے لیے مقرر ہے۔ اِس لیے وہ اُسے کوئی معمولی چیز نہ سمجھیں۔ اُس کے بارے میں اُن کا رویہ اُن کے لیے ابدی خسران کا باعث بن سکتا ہے۔

    دوسری سورہ — البینۃ — کا موضوع قریش اور اہل کتاب ، دونوں کو متنبہ کرنا ہے کہ اُن کا یہ مطالبہ انتہائی لغو ہے کہ قرآن کے بجاے ایک ایسی کتاب آنی چاہیے جسے خدا کا کوئی فرستادہ آسمان سے لے کر اُن کے لیے پڑھتا ہوا اترے۔ وہ اِس روش پر قائم رہے تو خبردار ہو جائیں، وہ بہت جلد جہنم کا ایندھن بن جائیں گے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 098 Verse 001 Chapter 098 Verse 002 Chapter 098 Verse 003
    Click translation to show/hide Commentary
    اہل کتاب اور مشرکین میں سے جن لوگوں نے (قرآن کا) انکار کیا ہے، وہ اپنی ضد سے باز آنے والے نہیں ہیں، یہاں تک کہ (اُن کی خواہش کے مطابق) واضح نشانی اُن کے پاس آ جائے۔
    یہ لفظ جب قرآن میں اِس طریقے سے آتا ہے تو مشرکین قریش کے لیے خاص ہو جاتا ہے۔ اِس سے دنیا کے تمام مشرکین مراد نہیں ہوتے۔ اِسی طرح اہل کتاب بھی اِس میں شامل نہیں ہوتے، اگرچہ وہ شرک کرتے رہے ہوں۔ یہ مزید وضاحت ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین میں سے صرف وہ لوگ مراد ہیں جنھوں نے اندھے بہرے ہو کر قرآن کا انکار کر دیا۔ اُن میں سے جو لوگ اسلام نہیں لائے، مگر حق طلبی کے جذبے سے بات سنتے رہے، وہ مراد نہیں ہیں۔ لفظ قرآن ’الَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘ کا مفعول ہے۔ یہ اصل میں حذف کر دیا گیا ہے، اِس لیے کہ آگے کی آیت اِس پر دلالت کر رہی ہے۔
    یعنی اللہ کی طرف سے ایک (ایسا) پیغمبر جو اچھوتے اوراق تلاوت کرتا ہوا (آسمان سے اترے)۔
    n/a
    جن میں (اُن کے لیے) صاف ہدایتیں (لکھی ہوئی ) ہوں۔
    یعنی ایمان لانے کے لیے مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ پیغمبر اور یہ قرآن نہیں، بلکہ اِن کی جگہ ایک فرستادہ آنا چاہیے جس کے پاس ایسے اوراق ہوں جنھیں اِس سے پہلے کسی جن و بشر نے ہاتھ نہ لگایا ہو۔ وہ اُنھیں تلاوت کرتا ہوا اترے۔ اُس میں الواح تورات کی طرح چند متعین احکام ہمارے لیے لکھے ہوئے ہوں۔ قرآن میں جس طرح کی غیر متعلق باتیں سنائی جا رہی ہیں، وہ ہم نہیں سننا چاہتے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List