Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • القدر (The Night of Power or Honor, The Night of Decree, Power, Fate)

    5 آیات | مکی
    سورہ کا عمود، سابق سورہ سے تعلق اور مطالب کا تجزیہ

    قرآن مجید نازل کر کے اللہ تعالیٰ نے خلق پر جو احسان عظیم فرمایا اور تعلیم بالقلم کا اہتمام کر کے اس کی حفاظت اور خلق کی ہدایت کا جو سامان کیا اس کا ذکر سابق سورہ میں بالاجمال ہوا ہے۔ اب اس سورہ کا موضوع ہی نزول قرآن ہے۔ اس میں خاص اس مبارک رات کی نشان دہی فرمائی گئی ہے جس میں اس کا نزول ہوا اور ساتھ ہی اس رات کی وہ اہمیت و عظمت بیان ہوئی ہے جو دوسری راتوں کے بالمقابل اس کو حاصل ہے۔ اگرچہ یہ باتیں اسرار کائنات سے تعلق رکھنے والی ہیں، جن کی پوری حقیقت دوسرے نہیں سمجھ سکتے، لیکن حقیقت بہرحال حقیقت ہے جس سے اہل علم فائدہ اٹھاتے ہیں۔

    اس کے بیان سے مقصود قرآن کے مخاطبوں کو آگاہ کرنا ہے کہ وہ اس کتاب کے معاملے میں جو رویہ اختیار کریں وہ چند باتوں پر پوری سنجیدگی سے غور کر کے اختیار کریں۔

    o ایک یہ کہ یہ کتاب کسی شخص کی ذاتی امنگ کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنی اسکیم کے تحت اور خود اپنے اہتمام میں اتاری ہے۔

    o دوسری یہ کہ اس کی نوعیت کسی ہنگامی اور وقتی واقعہ کی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس رات میں اتارا ہے جو نظام عالم میں اس کے ہاں امور مہمہ کی تقسیم و تنفیذ کے لیے مخصوص ہے۔ یہ ایک ہی رات ہزار راتوں سے بڑھ کر ہے۔ اس میں ابدی قدر و قیمت رکھنے والے امور طے پاتے ہیں۔ اس کی رحمتوں سے جو اپنے کو محروم کر لیتے ہیں وہ پھر کسی اور راہ سے ان کو حاصل نہیں کر سکتے۔

    o تیسری یہ کہ اس میں کسی شیطانی چھوت کا کوئی ادنیٰ دخل بھی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رات کو کامل سلامتی کی رات بنایا ہے جو شیاطین کی گردش، ان کی مداخلت اور ان کی دراندازیوں سے بالکل مامون ہے۔

  • القدر (The Night of Power or Honor, The Night of Decree, Power, Fate)

    5 آیات | مکی
    القدر - البینۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ جس کتاب الٰہی کی عظمت واضح کرتی ہے، دوسری میں اُسی کے منکروں کو اُن کے انجام پر متنبہ کیا گیا ہے۔ دونوں میں روے سخن اصلاً قریش کی طرف ہے، لیکن دوسری سورہ میں اہل کتاب بھی اپنے اُن اعتراضات کی وجہ سے نمایاں ہو گئے ہیں جو دعوت کے اِس آخری مرحلے میں وہ قریش کو القاکر رہے تھے۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں ہجرت سے کچھ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — القدر — کا موضوع قریش پر یہ حقیقت واضح کرنا ہے کہ قرآن مجید کی صورت میں جو کتاب اُنھیں پڑھ کر سنائی جا رہی ہے، وہ نہ کسی شیطان کا الہام ہے، نہ پیغمبر کی ذاتی امنگ کا نتیجہ، بلکہ آں سوے افلاک کا پیغام ہے جو رب دو جہاں نے خاص اہتمام کے ساتھ ایک ایسی رات میں نازل کرنا شروع کیا ہے جو اُس کے نظام میں امور مہمہ کی تنفیذ کے لیے مقرر ہے۔ اِس لیے وہ اُسے کوئی معمولی چیز نہ سمجھیں۔ اُس کے بارے میں اُن کا رویہ اُن کے لیے ابدی خسران کا باعث بن سکتا ہے۔

    دوسری سورہ — البینۃ — کا موضوع قریش اور اہل کتاب ، دونوں کو متنبہ کرنا ہے کہ اُن کا یہ مطالبہ انتہائی لغو ہے کہ قرآن کے بجاے ایک ایسی کتاب آنی چاہیے جسے خدا کا کوئی فرستادہ آسمان سے لے کر اُن کے لیے پڑھتا ہوا اترے۔ وہ اِس روش پر قائم رہے تو خبردار ہو جائیں، وہ بہت جلد جہنم کا ایندھن بن جائیں گے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 097 Verse 001 Chapter 097 Verse 002 Chapter 097 Verse 003 Chapter 097 Verse 004
    Click translation to show/hide Commentary
    ہم نے اِس (قرآن) کو اُس رات میں نازل کیا ہے جس میں تقدیر کے فیصلے ہوتے ہیں۔
    اصل الفاظ ہیں: ’اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ‘۔ ’اَنْزَلْنٰہُ‘ میں ضمیر مفعول مرجع کے بغیر آ گئی ہے، اِس لیے کہ نازل کرنا خود بخود اِس پر دلالت کرتا ہے کہ مراد قرآن ہے۔ اِس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ پورا قرآن اِسی ایک رات میں نازل ہوا ہو، بلکہ اِس کے نزول کا فیصلہ اگر اِس رات میں کر دیا گیا اور پہلی وحی نازل ہو گئی تو ’اَنْزَلْنٰہُ‘ کے الفاظ اِس صورت حال کی تعبیر کے لیے بھی بالکل موزوں ہوں گے۔ یہ رمضان کی کوئی رات تھی۔ سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱۸۵میں قرآن نے صراحت کر دی ہے کہ وہ رمضان کے مہینے میں نازل ہوا۔ ’قَدْر‘کے معنی فیصلوں کی رات کے بھی ہو سکتے ہیں اور عظمت والی رات کے بھی۔ سورۂ دخان (۴۴) کی آیت ۴ میں یہی مضمون ’فِیْھَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍ‘ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ اِس سے متعین ہو جاتا ہے کہ پہلے معنی ہی مقصود ہیں۔ آیت میں لفظ ’اِنَّا‘ بھی قابل توجہ ہے ۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’’اِنَّا‘میں جو زور اور تاکید ہے، اُس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ کتاب نہ اِس کے پیش کرنے والے کی ذاتی اپج کا نتیجہ ہے، نہ اِس میں کسی شیطانی تحریک یا وسوسے کو کوئی دخل ہے، جیسا کہ اِس کے مخالفین سمجھتے ہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ نے خاص اپنی جانب سے خلق کی تعلیم و ہدایت کے لیے اتاری ہے، کسی دوسری طاقت کو اِس میں کوئی دخل نہیں ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۴۶۶)  
    اور تمھیں کیا معلوم کہ وہ فیصلوں کی رات کیا ہے؟
    کسی چیز کے ہول یا اُس کی عظمت کا تصور دلانے کے لیے یہ اسلوب قرآن میں جگہ جگہ اختیار کیا گیا ہے۔ یہاں اِس سے مقصود شب قدر کی عظمت کی طرف متوجہ کرنا ہے، یعنی یہ ایک ایسی رات ہے کہ کوئی شخص اِس کی عظمتوں اور برکتوں کا کماحقہ اندازہ نہیں کر سکتا۔
    فیصلوں کی رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
    یہ تعبیر بیان کثرت کے لیے ہے۔ اِس سے مقصود یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امور مہمہ کی تنفیذ کے ساتھ خاص ہونے کی وجہ سے جو رحمتیں، برکتیں اور قرب الٰہی کے جو مواقع اِس ایک رات میں حاصل ہوتے ہیں، وہ ہزار راتوں میں بھی حاصل نہیں ہو سکتے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اِس رات میں جو فیصلے ہوتے ہیں، وہ رحمت و نقمت، دونوں طرح کے امور سے متعلق ہوتے ہیں، لیکن چونکہ اُس ذات کی طرف سے ہوتے ہیں جس کا ہر فیصلہ رحمت و حکمت پر مبنی اور سراسر عدالت ہے، اِس وجہ سے باعتبار نتیجہ یہ ہر لحاظ سے مبارک ہی ہوتے ہیں۔ سورۂ دخان (۴۴) کی آیت ۳ میں اِسی بنا پر اِسے ’لَیْلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...اِس کی اِن صفتوں کے بیان سے مقصود ...قرآن کے مخالفوں کو یہ آگاہی دینا ہے کہ ایسی عظیم اور مبارک رات میں نازل ہونے والی کتاب کو اگر کسی نے کہانت، نجوم اور شاعری کے قسم کی کوئی چیز سمجھا تو وہ گہر اور پشیزمیں امتیاز کرنے سے قاصر رہا۔ اِس مبارک رات میں شیطانی القا کی تمام راہیں مسدود ہوتی ہیں۔ اِس میں وحی کا ابر نیساں برستا ہے جس کا ایک ایک قطرہ ایک گوہر گراں مایہ ہوتا ہے۔‘‘(تدبر قرآن ۹/ ۴۶۷) اِس سے یہ بات بھی ضمناً معلوم ہو ئی کہ جس طرح مادی عالم میں خاص چیزوں کے لیے موسم اور مہینے مقرر ہیں، اِسی طرح روحانی عالم میں بھی خاص خاص کاموں کے لیے دن اور مہینے مقرر کیے گئے ہیں۔ اگر کوئی معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اِن کے ساتھ متعلق کر دیا جائے تو اُس کی تمام برکتیں اُسی دن اور مہینے کی پابندی سے حاصل ہوتی ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر لیلۃ القدر کی جستجو میں سرگرم رہے یا لوگوں کو اِس کی ترغیب دی تو اِس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ پروردگار کی طرف سے یہ جان لینے کے بعد کہ یہ بڑی رحمت و برکت کی رات ہے، ایک بندۂ مومن کا ردعمل یہی ہو سکتا تھا ۔ مسلمان آپ ہی کی اتباع میں ہر سال رمضان کے مہینے میں اِس کی جستجو کرتے اور اِس کے لیے عبادت و ریاضت میں سرگرم ہو جاتے ہیں۔  
    اُس میں فرشتے اور روح الامین اپنے پروردگار کے اذن سے ہر معاملے کا حکم لے کر اترتے ہیں۔
    اصل میں لفظ ’الرُّوْح‘ استعمال ہوا ہے۔ اِس سے جبریل امین مراد ہیں۔ اُن کے فضل و شرف کی بنا پراُن کا ذکر دوسروں سے الگ کیا گیا ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List