Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • العلق (The Clinging Clot, The Clot, Recite)

    19 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ التین ۔۔۔ کی مثنیٰ ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ سابق سورہ میں تاریخی شواہد اور فطرت انسانی کی اعلیٰ ساخت سے یہ حقیقت نمایاں فرمائی ہے کہ انسان کے لیے فلاح کی راہ یہ ہے کہ وہ ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کرے۔ جو لوگ یہ راہ اختیار نہیں کرتے وہ بالآخر تباہی کے کھڈ میں گر کے رہتے ہیں اور اپنے اس انجام کے وہ خود ہی ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اسی کلیہ کی روشنی میں اس سورہ میں قریش اور ان کے لیڈروں کو تنبیہ فرمائی ہے کہ یہ سیدھی راہ اختیار کرنے کے بجائے بالکل الٹی چال چل رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو اپنے فضل و کرم سے ان کی رہنمائی کے لیے اپنا صحیفۂ ہدایت اتارا لیکن ان کے طغیان کا حال یہ ہے کہ اللہ کا جو بندہ ان کے لیے ایمان و عمل صالح کی راہ کھول رہا ہے یہ اس کے جانی دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر وہ اپنے رب کی نماز پڑھتا ہے تو یہ شامت زدہ لوگ اس کے بھی روادار نہیں ہیں بلکہ اس سے بالجبر روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔

  • العلق (The Clinging Clot, The Clot, Recite)

    19 آیات | مکی

    التین - العلق

    ​یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ خدا کے جس قانون مجازات کو ثابت کرتی ہے، دوسری میں اُسی کے حوالے سے قریش کے بڑے سردار کو تہدید ہے کہ وہ اگر اپنی شرارتوں سے باز نہ آیا تو لازماً اُس کی زد میں آجائے گا۔ دونوں میں خطاب بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، لیکن روے سخن، اگر غور کیجیے تو قریش کے اُنھی سرداروں کی طرف ہے جن کی سرکشی اب اپنی انتہا کو پہنچ رہی تھی۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ ہجرت سے کچھ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — التین — کا موضوع روز جزا کا اثبات اور اُس کے حوالے سے قریش کو تنبیہ ہے کہ اُن پر خدا کی حجت ہر لحاظ سے پوری ہو گئی ہے، لہٰذا ضد اور ہٹ دھرمی کے سوا قیامت کو جھٹلانے کے لیے اب اُن کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

    دوسری سورہ — العلق — کا موضوع قریش کے بڑے سردار کو تہدید ہے کہ قرآن جیسی کتاب کے ذریعے سے تعلیم و تذکیر کے بعد بھی وہ اگر سرکشی پر قائم ہے تو اِس کا نتیجہ بھگتنے کے لیے تیار رہے۔ خدا کے سرہنگ بہت جلد اُسے گھسیٹ کر جہنم کے گہرے کھڈ میں ڈال دیں گے اور اُس کے اعوان وانصار میں سے کوئی بھی اُس کی کچھ مدد نہ کر سکے گا۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 096 Verse 001 Chapter 096 Verse 002 Chapter 096 Verse 003 Chapter 096 Verse 004 Chapter 096 Verse 005
    Click translation to show/hide Commentary
    اِنھیں پڑھ کر سناؤ، (اے پیغمبر)، اپنے اُس پروردگار کے نام سے جس نے پیدا کیا ہے۔
    اصل میں لفظ ’اِقْرَاْ‘ آیا ہے۔ یہ اِس آیت میں ’اقرأہ علیھم‘ کے معنی میں ہے، یعنی لوگوں کو پڑھ کر سناؤ۔ یہ بطریق دعوت سنانا ہے۔ قرآن میں یہ لفظ جگہ جگہ اِس مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً سورۂ اعراف (۷) کی آیت ۲۰۴ اور سورۂ بنی اسرائیل (۱۷) کی آیت ۴۵ میں۔ قرآن کے بارے میں معلوم ہے کہ دعوت و انذار کے لیے وہ اِسی طرح پورا کا پورا لوگوں کو پڑھ کر سنایا گیا تھا۔ یعنی اُس کے فرمان واجب الاذعان کی حیثیت سے پڑھ کر سناؤ تاکہ لوگ یہ جانیں کہ یہ کسی سائل کی درخواست نہیں ہے، بلکہ پروردگار عالم کا کلام ہے جو اُن کا خالق اور مالک ہے اور اُنھیں جو حکم چاہے، دے سکتا ہے۔ لوگوں کو بے چون و چرا اُس کی تعمیل کرنی چاہیے۔ وہ اگر اُس کا مذاق اڑانے یا اُس کی مخالفت کرنے کی جسارت کریں گے تو اِس کا انجام سوچ لیں، اِس کے نتائج اُن کے لیے نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں۔
    جمے ہوئے خون جیسے ایک لوتھڑے سے انسان کو پیدا کیا ہے۔
    یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے، یعنی تمام کائنات کو پیدا کیا ہے اور اُس میں بالخصوص انسان کو جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے پیدا کر دیا ہے۔ اِس سے مقصود یہ بتانا ہے کہ اولاً، جس خالق نے خون کی ایک حقیر پھٹکی سے سقراط و فلاطوں بنا کر کھڑے کر دیے ہیں، اُس کے لیے کیا مشکل ہے کہ جب چاہے اُنھیں دوبارہ پیدا کرکے اپنے سامنے محاسبے کے لیے لا کھڑا کرے؟ ثانیاً، انسان کی تخلیق میں اُس کی جس قدرت و حکمت کا ظہور ہوا ہے، اُس کو دیکھنے کے بعد کوئی عاقل کس طرح باور کر سکتا ہے کہ وہ عبث اور بے غایت پیدا کیا گیا ہے؟ یہ اہتمام تو بتا رہا ہے کہ انسان کے لیے ایک ایسا دن لازماً آنا چاہیے جس میں اُس کے علم و عمل کا محاسبہ کیا جائے۔
    اِنھیں پڑھ کر سناؤ، اور (حقیقت یہ ہے کہ) تمھارا پروردگار بڑا ہی کریم ہے۔
    یہ پہلی آیت سے بدل ہے اور اُسی کے حکم کی تاکید کے لیے دہرایا گیا ہے۔
    جس نے قلم کے ذریعے سے (یہ قرآن) سکھایا۔
    یعنی وہ کریم ہے، اِس لیے اپنے اِسی کرم کے باعث اُس نے تم پر یہ احسان کیا ہے کہ تمھیں یہ قرآن پڑھ کر سنایا بھی جا رہا ہے اور خاص اہتمام کے ساتھ اُس کی ہدایت کے تحت اور اُس کے پیغمبر کی رہنمائی میں لکھ کر بھی دیا جا رہا ہے تاکہ یہ عظیم آسمانی خزانہ صرف تمھارے لیے نہیں، بلکہ تمام دنیا کے لیے سرمایۂ حیات بن جائے۔ اِس میں قریش کے لیے ایک تنبیہ بھی ہے کہ اُنھوں نے اِس نعمت کی قدر نہ کی تو سوچ لیں کہ اِس کا نتیجہ اُن کے لیے کیا ہو سکتا ہے۔
    انسان کو (اِس میں) وہ علم دیا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔
    لفظ ’اِنْسَان‘ اگرچہ عام ہے، لیکن پہلے مخاطب چونکہ قریش تھے، اِس لیے اصلاً وہی مراد ہیں۔ اشارہ ہے اُس علم و حکمت اور قانون و شریعت کی طرف جس کا ذکر سورۂ بقرہ (۲) کی آیات ۱۲۹، ۱۵۱ ، آل عمران (۳) کی آیت ۱۶۴ اور سورۂ جمعہ (۶۲) کی آیت ۲ میں اِسی اہتمام کے ساتھ ہوا ہے۔ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل ہے کہ اُس نے امیوں کے اندر ایک رسول اُنھی میں سے اٹھایا ہے جو اُن کا تزکیہ کرتا ہے اور اِس کے لیے اُنھیں قانون و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List