Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • التین (The Fig, The Fig Tree)

    8 آیات | مکی
    سورہ کا عمود، سابق سورہ سے تعلق اور مطالب کی ترتیب

    اس سورہ کا عمود جزا و سزا کا اثبات ہے۔ اس کی تمہید یوں اٹھائی ہے کہ دنیا میں انبیائے کرام کی بعثت و دعوت کے جو اہم مراکز ہیں پہلے ان کا ذکر بصورت قسم یعنی بطور شہادت کیا اور اس کی روشنی میں یہ واضح فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین ساخت پر، نہایت اعلیٰ فطرت اور نہایت برتر صلاحیتوں کے ساتھ، پیدا کیا ہے لیکن اس برتری کو قائم رکھنے اور ان اعلیٰ صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے اس نے یہ سنت ٹھہرائی ہے کہ جو لوگ ایمان و عمل صالح کی راہ اختیار کریں گے اور اس راہ کی صعوبتوں کا عزم و حوصلہ کے ساتھ مقابلہ کریں گے تو وہ اپنی اس جدوجہد کا پھرپور صلہ پائیں گے۔ رہے وہ لوگ جو نفس پرستی اور تن آسانی کے باعث اس راہ کے عقبات کو پار کرنے اور اس کی صعوبتوں سے نبردآزما ہونے کا حوصلہ نہیں کریں گے اللہ تعالیٰ ان کو ان کی اختیار کی ہوئی راہ پر جانے کے لیے چھوڑ دے گا اور وہ بالآخر اس کھڈ میں گریں گے جو یہ راہ اختیار کرنے والوں کے لیے مقدر ہے۔

    یہاں پچھلی دونوں توام سورتوں میں آیات ’فَأَمَّا مَن أَعْطٰی وَاتَّقٰی ۵ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی ۵ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی‘ (الیل ۹۲: ۵-۷) اور آیت ’فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا‘ (الم نشرح ۹۴: ۵) کی تفسیر پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ ان میں بھی ایک دوسرے پہلو سے یہی حقیقت واضح فرمائی گئی ہے جو اس سورہ میں پیش کی گئی ہے۔ اس سے سابق اور لاحق دونوں سورتوں کا تعلق واضح ہو جائے گا۔ آخر میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ بندوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ بالکل حق و عدل پر مبنی ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کی نظر میں نیک و بد دونوں یکساں ہیں حالانکہ یہ بات بالبداہت باطل ہے۔ جس خدا نے لوگوں کو نیکی اور بدی کا شعور دیا ہے لازم ہے کہ وہ سب سے بڑھ کر نیک اور بد میں امتیاز کرنے والا اور ہر ایک کے ساتھ اس کے استحقاق کے مطابق معاملہ کرنے والا ہو۔

    آگے سورۂ عصر میں بھی یہی حقیقت ذرا مختلف الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ اس کو بھی سامنے رکھ لیجیے تو اس سورہ کے رخ کو معین کرنے میں آسانی ہو گی۔ فرمایا ہے:

    وَالْعَصْرِ ۵ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ ۵ إِلَّا الَّذِیْنَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (العصر ۱۰۳: ۱-۳)

    ’’زمانہ شاہد ہے کہ انسان گھاٹے میں ہے مگر وہ جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے اور جنھوں نے ایک دوسرے کو حق اور صبر کی تلقین کی۔‘‘

  • التین (The Fig, The Fig Tree)

    8 آیات | مکی

    مرحلۂ اتمام حجت

    التین - قریش

    ۹۵ - ۱۰۶

    التین ۹۵ قریش ۱۰۶

    اتمام حجت کے اسلوب میں قیامت کا اثبات، اُس کے بارے میں قریش کے رویے پر اُن کو تنبیہ، اُن کے بڑے سردار کو تہدید جو قرآن جیسی کتاب کے ذریعے سے تعلیم کے بعد بھی اپنی سرکشی پر قائم رہا ۹۵۔۹۶

    نذیر کی حیثیت سے قرآن کی عظمت کا بیان قریش کو اور اُن کی پشت پر کھڑے ہوئے اہل کتاب کو اُن کے اِس مطالبے کی لغویت پر تنبیہ کہ قرآن کے بجاے اُن پر ایک ایسی کتاب اتاری جائے جسے خدا کا کوئی فرستادہ آسمان سے اُن کے لیے پڑھتا ہوا لے کر اترے ۹۷۔۹۸

    اِسی اسلوب میں قیامت کے متعلق قریش کو نصیحت کہ اُس کے بارے میں وہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں۔وہاں چھوٹی بڑی ہر نیکی اور برائی پوری پوری قطعیت کے ساتھ اُن کے سامنے آجائے گی اُنھیں تنبیہ کہ لوٹ مار اور بد امنی کے ماحول میں محض حرم سے اپنے تعلق کی بنا پر جس امن سے وہ رہ رہے ہیں اور خدا کی جو نعمتیں اِس گھر کے طفیل اُنھیں حاصل ہیں، اُن پر خدا کا شکر ادا کریں اور اُس کے دیے ہوئے رزق میں سے اُس کی راہ میں خرچ کریں۔ اِس کے بجاے جو کچھ وہ کر رہے ہیں، اُس کے ساتھ اُنھیں سوچنا چاہیے کہ اُن کا انجام کیا ہو گا ۹۹۔۱۰۰

    قیامت کی تصویر اور اُس سے اُن کی غفلت پر انتہائی موثر اسلوب میں تنبیہ ۱۰۱۔۱۰۲

    خدا کے قانون مجازات کا اثبات اور اُس کے حوالے سے اُن کے سرداروں کو تہدید کہ اُن کا ٹھکانا اب وہ آگ ہو گی جو دلوں تک پہنچے گی ۱۰۳۔۱۰۴

    واقعۂ فیل کے حوالے سے تنبیہ و تہدید اور بیت اللہ کی تولیت کے طفیل جو نعمتیں اُنھیں حاصل تھیں، اُن کے حوالے سے تلقین کہ اُن کا حق اب اُنھیں ادا کرنا چاہیے ۱۰۵۔۱۰۶

    التین - العلق

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ خدا کے جس قانون مجازات کو ثابت کرتی ہے، دوسری میں اُسی کے حوالے سے قریش کے بڑے سردار کو تہدید ہے کہ وہ اگر اپنی شرارتوں سے باز نہ آیا تو لازماً اُس کی زد میں آجائے گا۔ دونوں میں خطاب بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، لیکن روے سخن، اگر غور کیجیے تو قریش کے اُنھی سرداروں کی طرف ہے جن کی سرکشی اب اپنی انتہا کو پہنچ رہی تھی۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ ہجرت سے کچھ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- التین—- کا موضوع روز جزا کا اثبات اور اُس کے حوالے سے قریش کو تنبیہ ہے کہ اُن پر خدا کی حجت ہر لحاظ سے پوری ہو گئی ہے، لہٰذا ضد اور ہٹ دھرمی کے سوا قیامت کو جھٹلانے کے لیے اب اُن کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

    دوسری سورہ—- العلق—- کا موضوع قریش کے بڑے سردار کو تہدید ہے کہ قرآن جیسی کتاب کے ذریعے سے تعلیم و تذکیر کے بعد بھی وہ اگر سرکشی پر قائم ہے تو اِس کا نتیجہ بھگتنے کے لیے تیار رہے۔ خدا کے سرہنگ بہت جلد اُسے گھسیٹ کر جہنم کے گہرے کھڈ میں ڈال دیں گے اور اُس کے اعوان وانصار میں سے کوئی بھی اُس کی کچھ مدد نہ کر سکے گا۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 095 Verse 001 Chapter 095 Verse 002 Chapter 095 Verse 003 Chapter 095 Verse 004 Chapter 095 Verse 005 Chapter 095 Verse 006
    Click translation to show/hide Commentary
    تین اور زیتون (کے پہاڑ) گواہی دیتے ہیں۔
    زیتون وہ پہاڑ ہے جہاں مسیح علیہ السلام کے دنیا سے اٹھائے جانے کے بعد اُن کے منکرین پر قیامت تک کے لیے عذاب کا فیصلہ سنایا گیا اور بنی اسرائیل میں سے اُن کے ماننے والوں کی ایک نئی امت نصاریٰ کی ابتدا ہوئی۔ پھر یہیں اعلان کیا گیا کہ مسیح علیہ السلام کے منکرین پر اُن کے ماننے والوں کو قیامت تک غلبہ حاصل رہے گا۔ تین اِسی پر واقع ایک گاؤں ہے۔ اِس کا ذکر انجیل میں Bethphage کے نام سے ہوا ہے۔ اِس میں phage وہی fig ہے جسے عربی زبان میں تین کہتے ہیں۔ لوقا ۱۹: ۲۹ میں ہے کہ سیدنا مسیح جب یروشلم آئے تو شہر میں داخل ہونے سے پہلے اِسی جگہ ٹھیرے۔
    اور طور سینین۔
    لفظ ’سِیْنِیْنَ‘جمع سالم کی صورت میں ہے، جیسے عربی زبان میں ’اجمعون‘ مستعمل ہے۔ یہ جمع پہاڑ کی وسعت اطراف کو ظاہر کرتی ہے۔ عبرانی میں اِس کی علامت ’یم‘ ہے۔ چنانچہ تورات میں اِس کا نام کہیں ’سینا‘ اور کہیں ’سینیم‘ آیا ہے۔ بنی اسرائیل نے بحیثیت امت اپنی زندگی اِسی پہاڑ سے شروع کی۔ پھر اِسی پہاڑ سے خدا نے اپنی کتاب میں اعلان کیا کہ وہ حق پر قائم رہیں گے تو دنیا کی قوموں پر اُنھیں غلبہ حاصل ہو گا اور اُس سے انحراف کریں گے تو اُنھی کے ذریعے سے ذلت اور محکومی کے عذاب میں مبتلا کر دیے جائیں گے۔
    اور (تمھارا) یہ شہر امین بھی۔
    ’اَمِیْن‘ مامون کے معنی میں ہے، یعنی وہ شہر جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کے طفیل مامون قرار دیا۔ سورۂ آل عمران (۳) آیت ۹۷ میں فرمایا ہے: ’وَمَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا‘ (جو اِس میں داخل ہو جائے، وہ مامون ہے)۔ اِسے مکہ یا ام القریٰ مکہ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو امامت کا منصب اِسی شہر میں عطا ہوا اور خدا کی زمین پر اُس کی عبادت کے اولین مرکز، بیت الحرام کی تولیت ہمیشہ کے لیے اُن کی ذریت کے سپرد کر دی گئی۔ پھر یہیں اعلان کیا گیا کہ امامت کا یہ وعدہ اُن لوگوں کے لیے نہیں ہے جو اُن کی ذریت میں سے اپنی جانوں پر ظلم ڈھا نے والے ہوں گے۔
    کہ انسان کو ہم نے (اِن مقامات پر) پیدا کیا تو اُس وقت وہ بہترین ساخت پر تھا۔
    n/a
    پھر ہم نے اُسے پستی میں ڈال دیا، جبکہ وہ خود پستیوں میں گرنے والا ہوا۔
    اوپر کی تفصیل سے واضح ہے کہ خدا کی جو دینونت پوری انسانیت کے لیے قیامت میں ظاہر ہو گی، ذریت ابراہیم کے لیے وہ اِسی دنیا میں ظاہر ہوئی۔ تین و زیتون، طور سینا اور شہر امین، تینوں اِسی دینونت کے مقامات ظہور ہیں۔ اِن پر جو واقعات پیش آئے، قرآن نے ترتیب صعودی کے ساتھ اُن کا ذکر کرکے اِس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ذریت ابراہیم کی ہر شاخ نے اپنی ابتدا کی تو اُس وقت وہ ٹھیک اُس ساخت پر تھے جس پر فاطر فطرت نے اُنھیں پیدا کیا ہے۔ وہ توحید پر قائم تھے، پورے یقین کے ساتھ آخرت کو مانتے تھے اور اُن کی اکثریت اخلاقی لحاظ سے حسن عمل کا بہترین نمونہ پیش کرتی تھی، لیکن جب اُنھوں نے انحراف اختیار کیا تو ہم نے اُنھیں اُس پستی میں ڈال دیا جس میں اب صدیوں سے اُنھیں گرا ہوا دیکھتے ہو۔ وہ ذلت اور محکومی کے عذاب میں مبتلا ہیں اور اُس سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں پاتے۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ آیت میں ’اَسْفَلَ سٰفِلِیْن‘ کے جو الفاظ آئے ہیں، اُن میں ’اَسْفَلَ‘ ظرف اور ’سٰفِلِیْنَ‘ ہمارے نزدیک ’رَدَدْنٰہُ‘ کی ضمیر مفعول سے حال واقع ہوا ہے۔ ضمیر کا مرجع ’الْاِنْسَان‘ ہے جو معناً جمع ہے۔ مدعا یہ ہے کہ اِن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اُس وقت پستیوں میں ڈالا، جب اِنھوں نے خود پستیوں کو چاہا اور بلندیوں پر چڑھنے کا حوصلہ نہیں کیا۔
    رہے وہ جو ایمان پر قائم رہے اور اُنھوں نے نیک عمل کیے تو اُن کے لیے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہ ہو گا۔
    آیت میں فعل ’اٰمَنُوْا‘ آیا ہے۔ یہ اپنے کامل معنی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ استثنا اِس لیے بیان فرمایا ہے کہ قومی حیثیت سے پستی میں گرانے اور عذاب میں مبتلا کیے جانے کے یہ معنی نہ سمجھ لیے جائیں کہ اُن میں سے جو لوگ انفرادی حیثیت سے ایمان پر قائم رہے اور اُنھوں نے نیک عمل کیے، اُن کا اجر بھی ضائع ہو جائے گا۔ فرمایا کہ نہیں، وہ اپنے ایمان و عمل کا پورا اجر پائیں گے اور خدا کی ابدی بادشاہی میں داخل کیے جائیں گے۔ قوموں کا محشر یہ دنیا ہے، قیامت میں ہر شخص اپنی انفرادی حیثیت سے جواب دہ ہو گا اور اُس کے نیک و بد کا فیصلہ بھی اِسی لحاظ سے کیا جائے گا۔ بلکہ قوم کی پستی کے زمانے میں جو لوگ بلندیوں پر چڑھنے کا حوصلہ کریں گے، وہ زیادہ اجر کے مستحق ہوں گے، اِس لیے کہ وہ اُس وقت جاگتے رہے، جب دوسرے سو رہے تھے اور اُس وقت زندہ رہے، جب شہر قبرستان بن چکے تھے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List