Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الضحٰی (The Glorious Morning Light, The Forenoon, Morning Hours, Morning Bright)

    11 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق و لاحق سے تعلق

    یہ سورہ اور بعد کی سورہ ۔۔۔ اَلَم نَشْرَحْ ۔۔۔ دونوں توام کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس مشن پر مامور فرمایا ہے اس میں آپ فائز المرام ہوں گے۔ راہ میں جو رکاوٹیں اس وقت نظر آ رہی ہیں وہ سب دور ہو جائیں گی۔ یہ مضمون پچھلی سورتوں میں بھی آیا ہے۔ البتہ دوسرے مطالب کے ضمن میں آیا ہے لیکن ان دونوں کا خاص مضمون ہی یہی ہے۔ ان کے آئینہ میں آپ کی زندگی کے تمام مراحل گویا آپ کے سامنے رکھ دیے گئے ہیں۔ ان میں تسلی کا جو انداز اختیار فرمایا گیا ہے اس پر غور کیجیے تو معلوم ہو تا ہے کہ سورۂ ضحٰی مکی زندگی کے اس دور میں نازل ہوئی ہے جب دعوت کی مخالفت اتنی شدت اختیار کر گئی ہے کہ آپ آگے کی راہ مسدود پا کر دل گرفتہ رہنے لگے اور سورہ اَلَم نَشْرَحْ اس دور میں نازل ہوئی ہے جب مخالفت کی شدت کے علی الرغم افق میں کامیابی کے کچھ آثار بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔

  • الضحٰی (The Glorious Morning Light, The Forenoon, Morning Hours, Morning Bright)

    11 آیات | مکی
    الضحٰی - الم نشرح

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔اِن میں خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ قرآن کی ترتیب میں اِن کا یہ مقام بتاتا ہے کہ ام القریٰ مکہ میں آپ کی دعوت کا مرحلۂ انذار عام اِنھی دو سورتوں پر ختم ہوا ہے۔ یہی بات اِن کے مضمون سے بھی واضح ہوتی ہے۔

    دونوں سورتوں کا موضوع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی اور آیندہ ایک بڑی کامیابی کی بشارت ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 093 Verse 001 Chapter 093 Verse 002 Chapter 093 Verse 003 Chapter 093 Verse 004 Chapter 093 Verse 005
    Click translation to show/hide Commentary
    دن گواہی دیتا ہے، جب وہ روشن ہو۔
    اصل الفاظ ہیں: ’وَالضُّحٰی وَالَّیْلِ اِذَا سَجٰی‘۔ ’ضُحٰی‘ چاشت کے وقت کو کہتے ہیں۔ ’اِذَا سَجٰی‘ اِسی کے مقابل میں ہے۔ لہٰذا لفظ ’ضُحٰی‘ سے دن کا جو حصہ مراد لیا گیا ہے، رات کا بھی وہی حصہ مراد ہے۔ یعنی جس طرح دنیا کی زندگی کے لیے دن کی روشنی اور حرارت، اور رات کی تاریکی اور سکون، دونوں ضروری ہیں، اِسی طرح انسان کی روحانی اور اخلاقی تربیت کے لیے بھی رنج و راحت، دونوں ناگزیر ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ دعوت کی مشکلات، مخالفتوں کا ہجوم اور توقعات کے خلاف قوم کا ردعمل اگر کمر شکن ہو رہا ہے تو اِس میں یہی حکمت ملحوظ ہے۔ وحی کے نزول میں بھی اِس طرح کی تمام حکمتیں ملحوظ رکھی جاتی ہیں۔ یہ تمھاری اور تمھارے ساتھیوں کی تربیت کی ناگزیر ضرورت ہے۔ مطمئن رہو ، اِس معاملے میں سنت الٰہی یہی ہے۔
    اور رات بھی جب وہ پرسکون ہو جائے (کہ انسان کی تربیت کے لیے بھی رنج و راحت، دونوں چاہییں)۔
    اصل الفاظ ہیں: ’وَالضُّحٰی وَالَّیْلِ اِذَا سَجٰی‘۔ ’ضُحٰی‘ چاشت کے وقت کو کہتے ہیں۔ ’اِذَا سَجٰی‘ اِسی کے مقابل میں ہے۔ لہٰذا لفظ ’ضُحٰی‘ سے دن کا جو حصہ مراد لیا گیا ہے، رات کا بھی وہی حصہ مراد ہے۔ یعنی جس طرح دنیا کی زندگی کے لیے دن کی روشنی اور حرارت، اور رات کی تاریکی اور سکون، دونوں ضروری ہیں، اِسی طرح انسان کی روحانی اور اخلاقی تربیت کے لیے بھی رنج و راحت، دونوں ناگزیر ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ دعوت کی مشکلات، مخالفتوں کا ہجوم اور توقعات کے خلاف قوم کا ردعمل اگر کمر شکن ہو رہا ہے تو اِس میں یہی حکمت ملحوظ ہے۔ وحی کے نزول میں بھی اِس طرح کی تمام حکمتیں ملحوظ رکھی جاتی ہیں۔ یہ تمھاری اور تمھارے ساتھیوں کی تربیت کی ناگزیر ضرورت ہے۔ مطمئن رہو ، اِس معاملے میں سنت الٰہی یہی ہے۔
    (اِس لیے) تمھارے پروردگار نے تمھیں چھوڑا ہے، نہ وہ تم سے ناراض ہوا ہے۔
    شب و روز کے تفاعل کی گواہی جس مدعا کو مبرہن کرنے کے لیے پیش کی گئی ہے، یہ اُس کا وہ پہلو نمایاں کر دیا ہے جو اُس وقت آپ کی پریشانی کو دور کرنے اور آپ کی تسلی کے لیے ضروری تھا۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...مطلب یہ ہوا کہ اِس وقت اگر تم مخالفوں کی مخالفت، اعوان و انصار کی قلت اور اسباب و وسائل کی کمی سے دوچار ہو یا آسمانی و روحانی کمک کی جتنی ضرورت محسوس کررہے ہو، اتنی تمھیں نہیں پہنچ رہی ہے تو اِس کے معنی ہرگز یہ نہیں ہیں کہ تمھارے رب نے تمھیں چھوڑ دیا ہے یا تم سے بیزار ہو گیا ہے، بلکہ یہ تمھاری تربیت کے لیے تمھارا امتحان ہے تاکہ تم اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے اچھی طرح تیار ہو جاؤ۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۴۱۳)  
    آنے والے دن تمھارے لیے اِن پہلے دنوں سے کہیں بہتر ہوں گے، (اے پیغمبر)۔
    اصل میں ’الْاُوْلٰی‘ اور ’الْاٰخِرَۃ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ اِس آیت میں دنیا اور آخرت کے اصطلاحی مفہوم میں نہیں،بلکہ اپنے عام معنی میں استعمال ہوئے ہیں، یعنی پہلے اور بعد کا دور۔ آیت میں جو بشارت دی گئی ہے، وہ ایک جامع بشارت ہے۔ اِس میں وہ تمام فتوحات شامل ہیں جو بعد میں آپ کو حاصل ہوئیں اور جن کے نتیجے میں پورے جزیرہ نماے عرب میں آپ کی حکومت قائم ہو گئی، بیت اللہ آپ کے حوالے کر دیا گیا، آپ کے دشمن پامال ہوگئے اور دین میں داخل ہونے والوں کے ہجوم کسی گنتی کرنے والے کی گنتی میں نہیں رہے۔
    اور تمھارا پروردگارعنقریب تمھیں اتنا دے گا کہ نہال ہو جاؤ گے۔
    یعنی تمھاری اور تمھارے ساتھیوں کی وہ سب آرزوئیں پوری ہو جائیں گی جو اسلام کے مستقبل سے متعلق تم اپنے دلوں میں رکھتے ہو۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...چونکہ ابھی یہ ساری باتیں پردۂ غیب میں تھیں، اِس وجہ سے ’یُعْطِیْکَ‘ کے مفعول ثانی کو ظاہر نہیں فرمایا، لیکن اِس کے بعد ’فَتَرْضٰی‘ کے لفظ نے کسی قدر اِس شاندار مستقبل کی جھلک دکھا دی کہ اتنا دے گا کہ بس تم نہال ہو جاؤ گے! ۔۔۔اِس ایک ہی لفظ کے اندر وہ سب کچھ موجود ہے جو ایک دفتر میں بھی نہیں سما سکتا۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۴۱۵)  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List