Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • اللیل (The Night)

    21 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ الشمس ۔۔۔ کی مثنیٰ ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی اصولی فرق نہیں ہے۔ ان کے ظاہر اور باطن میں اتنی گہری مشابہت و مماثلت ہے کہ ایک عام آدمی بھی ان کی یکسانی و ہم رنگی کو محسوس کر سکتا ہے۔ سابق سورہ میں نفس انسانی سے متعلق فرمایا ہے:

    قَدْ أَفْلَحَ مَن زَکَّاہَا ۵ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاہَا‘ (الشمس ۹۱: ۹-۱۰)

    (فلاح پائی جس نے اس کو پاکیزہ کیا اور نامراد ہوا جس نے اس کو آلودہ کیا)

    اس سورہ میں اسی بنیادی مسئلہ کو لیا اور بتایا کہ نفس کو کیا چیز آلودہ کرتی اور اس سے اس کو بچانے کی کیا تدبیر ہے اور کیا چیز اس کو پاکیزہ بناتی ہے اور یہ پاکیزگی اس کو کس طرح حاصل ہوتی ہے۔

  • اللیل (The Night)

    21 آیات | مکی
    الشمس - اللیل

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ میں آخرت کے خسران اور اُس میں فوز و فلاح کے جس راستے کا ذکر بالاجمال ہوا ہے، دوسری سورہ میں اُس کی تفصیل کر دی گئی ہے۔ دونوں میں خطاب قریش کے سرداروں سے ہے، لیکن اسلوب میں ا عراض کا پہلو نمایاں ہے۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔ پہلی سورہ — الشمس — کا موضوع قانون جزا و سزا کے حوالے سے قریش کے سرداروں کو طغیان اور سرکشی کے اُس رویے پر تنبیہ ہے جو دعوت حق کے مقابلے میں وہ اختیار کیے ہوئے تھے۔

    دوسری سورہ — اللیل — کا موضوع قریش کے لیے اُس راستے کی وضاحت ہے جس کا ذکر سورۂ شمس میں ’قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا‘ کے الفاظ میں بالاجمال ہوا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 092 Verse 001 Chapter 092 Verse 002 Chapter 092 Verse 003 Chapter 092 Verse 004
    Click translation to show/hide Commentary
    رات گواہی دیتی ہے، جب وہ چھا جائے۔
    رات اور دن کی گواہی کے ساتھ ’اِذَا یَغْشٰی‘ اور ’اِذَا تَجَلّٰی‘ کے الفاظ پچھلی سورہ ۔۔۔ الشمس ۔۔۔ کی طرح یہاں بھی شب و روز کے باہمی توافق اور اُس کی نتیجہ خیزی کو نمایاں کرتے ہیں۔
    اور دن بھی، جب وہ روشن ہو۔
    رات اور دن کی گواہی کے ساتھ ’اِذَا یَغْشٰی‘ اور ’اِذَا تَجَلّٰی‘ کے الفاظ پچھلی سورہ ۔۔۔ الشمس ۔۔۔ کی طرح یہاں بھی شب و روز کے باہمی توافق اور اُس کی نتیجہ خیزی کو نمایاں کرتے ہیں۔
    اور نر و مادہ کی تخلیق بھی۔
    اصل الفاظ ہیں: ’وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰی‘۔ یہ ’مَا‘ مصدریہ ہے۔ اِس کی بلاغت ہم پچھلی سورہ کے حواشی میں آیات ۱۔۶ کے تحت بیان کر چکے ہیں۔
    (کہ دنیا ہے تو قیامت بھی ہے اور) جو کچھ تم کر رہے ہو، اُس کے نتائج (وہاں) لازماً الگ الگ ہوں گے۔
    دنیا میں دو ہی چیزیں ہیں: ایک نفس اور دوسرے مادہ۔ پہلی چیز کے مظاہر میں سے نر و مادہ اور دوسری کے مظاہر میں سے شب و روز کو لے کر قیامت پر استدلال فرمایا ہے۔ یہ استدلال اِس پہلو سے ہے کہ اِن چیزوں میں نسبت زوجین کی ہے اور یہ دونوں عالم کی مجموعی مصلحت کے تناظر میں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں، اِن میں سے ایک کو مان کر دوسرے کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ قیامت بھی بالکل اِسی طرح دنیا کا جوڑا ہے۔ دنیا کے ساتھ قیامت کو مان کر ہی اُس کے تمام مظاہر و احوال کی توجیہ کی جا سکتی ہے۔لہٰذا دنیا ہے تو قیامت بھی ہے۔ اِن میں سے ایک کو مان کر دوسری کا انکار نہیں کر سکتے، الاّ یہ کہ انسان دنیا کو رام کی لیلا اور یزداں کی تماشاگاہ مان کر مطمئن ہو جائے اور اُس کے خالق کے بارے میں بھی یہ تصور کر لے کہ وہ کوئی علیم و حکیم ہستی نہیں ہے، بلکہ ایک کھلنڈرا ہے جو اپنی دنیا کے خیر و شر سے بے نیاز اُس کی سیر دیکھ رہا ہے۔ یہ نتیجہ ہے جس کے لیے قیامت برپا کی جائے گی۔ اِس کے لیے اصل میں ’اِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتّٰی‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ لفظ ’سَعْی‘ اِن میں نتیجۂ سعی کے مفہوم میں ہے۔ اِس مفہوم میں اِس کا استعمال عربی زبان میں معروف ہے۔ لفظ ’شَتّٰی‘ ’شتیت‘ کی جمع ہے۔ اِس کے معنی متفرق اور الگ الگ کے ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...یعنی عقل اور فطرت کا بدیہی تقاضا ہے کہ نیکوں اور بدوں ، دونوں کی سعی کا نتیجہ ایک ہی شکل میں نہ برآمد ہو ، بلکہ اُن کی جدوجہد کے اعتبار سے الگ الگ ہو۔ جنھوں نے نیکی کمائی ہو، وہ اُس کا صلہ فضل و انعام کی شکل میں پائیں اور جنھوں نے بدی کمائی ہو، وہ اُس کے انجام سے دوچار ہوں۔ گویا قیامت کا دعویٰ یہاں اُس کی اصل ضرورت کے پہلو سے سامنے رکھا ہے کہ اُس کا آنا اِس وجہ سے ضروری ہے کہ قیامت اور جزا و سزا کے بغیر یہ دنیا ایک اندھیر نگری اور ایک کھلنڈرے کا کھیل بن کے رہ جاتی ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۴۰۲)  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List