Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الشمس (The Sun)

    15 آیات | مکی
    سورہ کا عمود، سابق سورہ سے تعلق اور مطالب کا تجزیہ

    سابق سورہ ۔۔۔ البلد ۔۔۔ میں قریش کے لیڈروں کو متنبہ فرمایا گیا ہے کہ جب تم اس وادئ مکہ میں بسائے گئے اس وقت یہاں زندگی نہایت مشقت کی زندگی تھی۔ یہ ایک بے آب و گیاہ علاقہ تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور بیت اللہ کی برکت سے یہاں تم کو رزق و فضل کی فراوانی حاصل ہوئی اور تم پھلے پھولے۔ تو یہ نعتمیں پا کر خدا سے اکڑنے والے اور اس کی زمین میں فساد برپا کرنے والے نہ بنو ورنہ یاد رکھو کہ جو خدا یہ سب کچھ دے سکتا ہے وہ جب چاہے اس کو چھین بھی سکتا ہے اور کوئی اس کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا۔

    اس سورہ میں ان کو طغیان و سرکشی کے انجام سے ڈرایا ہے۔ اس کی تمہید یوں استوار فرمائی ہے کہ دیکھتے ہو کہ کائنات بظاہر اضداد کی ایک رزم گاہ ہے لیکن خدائے قادر و قیوم ان اضداد میں سے کسی کو ان کے حدود سے تجاوز نہیں کرنے دیتا جس کا فیض یہ ہے کہ یہ اضداد نہ صرف یہ کہ آپس میں ٹکراتے نہیں بلکہ پوری سازگاری کے ساتھ اس کائنات کی خدمت کرتے ہیں اور ان کی اس سازگاری ہی پر اس کے بقا کا انحصار ہے ورنہ یہ دنیا چشم زدن میں درہم برہم ہو جاتی۔

    اس کے بعد نفس انسانی کی تشکیل کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جو حال اس عالم اکبر کا ہے وہی حال عالم اصغر یعنی نفس انسانی کا بھی ہے۔ یہ بھی خیر و شر کے متضاد داعیات و محرکات سے مرکب ہے اور خالق نے انسان کی فطرت میں خیر و شر کا امتیاز بھی ودیعت فرمایا ہے اور خیر سے محبت اور شر سے نفرت کا ذوق بھی بخشا ہے۔ اس کا اقتضا یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کے توازن کو قائم رکھے اور برے داعیات کو خیر کے داعیات پر غلبہ نہ پانے دے ورنہ وہ طغیان و فساد میں مبتلا ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ اپنی دنیا میں طغیان و فساد کو پسند نہیں کرتا۔ اس کو وہ اسی حد تک ڈھیل دیتا ہے جس حد تک وہ اس دنیا کی مصلحت کے مطابق پاتا ہے۔ جب یہ اس حد سے متجاوز ہونے لگتا ہے تو خالق کائنات اس کا سر کچل دیتا ہے اور ان لوگوں سے اپنی دنیا کو پاک کر دیتا ہے جن کا وجود بحیثیت مجموعی اس کے لیے زہر ناک بن جاتا ہے۔

    آخر میں اپنی اس سنت کے ظہور کی شہادت کے طور پر عرب کی پچھلی قوموں میں سے ایک ایسی قوم کی تباہی کا ذکر فرمایا ہے جس کی شوکت و صولت سے قریش واقف تھے اور جس کے طغیان و فساد کا ذکر ان کے لٹریچر میں موجود تھا۔ ان کی مثال سے قریش کو عبرت حاصل کرنے کی دعوت دی ہے اور ڈرایا ہے کہ اگر انہی کی طرح تمہارا مزاج بھی فاسد ہو گیا تو تم بھی خدا کے بے امان عذاب کی زد میں آ جاؤ گے اور پھر کوئی تمہاری مدد کے لیے نہیں اٹھے گا۔

  • الشمس (The Sun)

    15 آیات | مکی
    الشمس - اللیل

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ میں آخرت کے خسران اور اُس میں فوز و فلاح کے جس راستے کا ذکر بالاجمال ہوا ہے، دوسری سورہ میں اُس کی تفصیل کر دی گئی ہے۔ دونوں میں خطاب قریش کے سرداروں سے ہے، لیکن اسلوب میں ا عراض کا پہلو نمایاں ہے۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — الشمس — کا موضوع قانون جزا و سزا کے حوالے سے قریش کے سرداروں کو طغیان اور سرکشی کے اُس رویے پر تنبیہ ہے جو دعوت حق کے مقابلے میں وہ اختیار کیے ہوئے تھے۔

    دوسری سورہ — اللیل — کا موضوع قریش کے لیے اُس راستے کی وضاحت ہے جس کا ذکر سورۂ شمس میں ’قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا‘ کے الفاظ میں بالاجمال ہوا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 091 Verse 001 Chapter 091 Verse 002 Chapter 091 Verse 003 Chapter 091 Verse 004 Chapter 091 Verse 005 Chapter 091 Verse 006 Chapter 091 Verse 007 Chapter 091 Verse 008 Chapter 091 Verse 009 Chapter 091 Verse 010
    Click translation to show/hide Commentary
    سورج گواہی دیتا ہے اور اُس کا چڑھنا۔
    n/a
    اور چاند جب اُس کے پیچھے آئے۔
    n/a
    اور دن جب اُس کو روشن کرے۔
    n/a
    اور رات جب اُس کو ڈھانپ لے۔
    n/a
    اور آسمان اور جیسا اُسے بنایا۔
    n/a
    اور زمین اور جیسا اُسے بچھایا۔
    آسمان اور زمین، دونوں کے لیے ’مَا بَنٰھَا‘ اور ’مَا طَحٰھَا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں ’مَا‘ ہمارے نزدیک مصدریہ ہے۔ یہی ’مَا‘ آگے ’وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰھَا‘ میں بھی ہے۔ ’فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰھَا‘ اِسی ’مَا‘ کے تحت ہے۔ گویا پوری بات یوں ہے کہ نفس اور اُس کے سنوارنے، پھر اُس کی نیکی اور بدی اُسے الہام کر دینے کی قسم۔ اِس اسلوب میں کیا ندرت ہے؟ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’ ’مَا‘ مصدریہ... فعل کو صرف مصدر کے معنی میں کر دینے ہی کے لیے نہیں آتا، بلکہ اُس فعل میں جو قدرت، جو شان، جو حکمت، جو فیض بخشی، جو ندرت اور جو حیرت انگیز صنعت گری مضمر یا ظاہر ہوتی ہے ، اُن سب کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ مثلاً ، آسمان کے ساتھ ’وَمَا بَنٰھَا‘ جو فرمایا تو اِس کے معنی ہوں گے: اور شاہد ہے آسمان اور اُس کی حیرت انگیز ساخت، اور اِس کے اندر آسمان کے وہ تمام عجائب اور کرشمے مضمر ہوں گے جن کی طرف قرآن نے گوناگوں اسلوبوں سے توجہ دلائی اور اپنے مختلف بنیادی دعاوی پر اُن سے دلیل قائم کی ہے۔ ظاہر ہے کہ ’مَا‘ موصولہ کے اندر اِن استدلالی پہلوؤں کی طرف توجہ دلانے کی کوئی صلاحیت نہیں ہوتی۔ ...’وَالْاَرْضِ وَمَا طَحٰھَا‘ کو بھی اِسی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ سورۂ غاشیہ میں فرمایا ہے: وَاِلَی الْاَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ*... اِس اجمال کے اندر وہ ساری تفصیل مضمر ہے جو قرآن نے دوسرے مقامات میں زمین کے آثار وعجائب سے متعلق بیان فرمائی اور اُس سے اپنے مختلف دعاوی پر دلیل قائم کی ہے۔ گویا جن حقائق پر غور کرنے کے لیے سورۂ غاشیہ میں ’کَیْفَ‘ سے ابھارا ہے، اُنھی پر غور کرنے کے لیے یہاں ’مَا‘ مصدریہ سے کام لیا ہے۔ لیکن دونوں کے محل استعمال میں ایک دقیق فرق بھی ہے جس پر گفتگو کا یہاں موقع نہیں ہے۔‘‘(تدبر قرآن ۹/ ۳۸۶) _____ * ۸۸: ۲۰۔
    اور نفس اور جیسا اُسے سنوارا۔
    اصل الفاظ ہیں: ’وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰھَا‘۔ اِن میں ’نَفْسٍ‘ کی تنکیر تفخیم شان کے لیے ہے۔ اِس سے بھی اُس کی حیرت انگیز ساخت اور اُس کی حکیمانہ تشکیل کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔ اِس کے بعد ’جیسا کہ اُسے سنوارا‘ کے الفاظ اِسی پر دلالت کرتے ہیں اور اِس لیے آئے ہیں کہ یہاں استدلال میں نفس انسانی کی تخلیق کا تکمیلی مرحلہ بھی پیش نظر ہے، جب وہ قدرت کے ایک شاہ کار کی حیثیت سے اِس کااہل ہوا کہ خیر و شر کے الہام سے بہرہ مند کیا جائے۔
    پھر اُس کی بدی اور نیکی اُسے سجھا دی۔
    یہ تسویہ کا نتیجہ بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسان کو دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سننے کے لیے کان دیے ہیں، بالکل اِسی طرح نیکی اور بدی کو الگ الگ پہچاننے کے لیے ایک حاسۂ اخلاقی بھی عطا فرمایا ہے۔ وہ محض ایک حیوانی اور عقلی وجود ہی نہیں ہے، اِس کے ساتھ ایک اخلاقی وجود بھی ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ خیر و شر کا امتیاز اور خیر کے خیر اور شر کے شر ہونے کا احساس انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اُس کے دل و دماغ میں الہام کر دیا گیا ہے۔ بعض دوسرے مقامات پر یہی حقیقت ’اِنَّا ھَدَیْنٰہُ السَّبِیْلَ‘* (ہم نے اُسے خیر و شر کی راہ سجھا دی) اور ’ھَدَیْنٰہُ النَّجْدَیْنِ‘** (ہم نے کیا اُسے دونوں راستے نہیں سجھائے) کے الفاظ میں واضح کی گئی ہے۔ یہ امتیاز و احساس ایک عالم گیر حقیقت ہے۔ چنانچہ برے سے برا آدمی بھی گناہ کرتا ہے تو پہلے مرحلے میں اُسے چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دینے کے بعد اُس کی لاش چھپانے کی کوشش کی تھی تو ظاہر ہے کہ احساس گناہ کی وجہ سے کی تھی۔ یہی معاملہ نیکی کا ہے۔ انسان اُس سے محبت کرتا ہے، اُس کے لیے اپنے اندر عزت و احترام کے جذبات پاتا ہے اور اپنے لیے جب بھی کوئی معاشرت پیدا کرتا ہے ، اُس میں حق و انصاف کے لیے لازماً کوئی نظام قائم کرتا ہے۔ یہ اِس امتیاز خیر و شر کے فطری ہونے کا صریح ثبوت ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ برائی کے حق میں انسان بعض اوقات بہانے بھی تراش لیتا ہے، لیکن جس وقت تراشتا ہے، اُسی وقت جانتا ہے کہ یہ بہانے وہ اپنی فطرت کے خلاف تراش رہا ہے، اِس لیے کہ وہی برائی اگر کوئی دوسرا اُس کے ساتھ کر بیٹھے تو بغیر کسی تردد کے وہ اُسے برائی ٹھیراتا اور اُس کے خلاف سراپا احتجاج بن جاتا ہے۔ _____ * الدہر۷۶: ۳۔ ** البلد ۹۰: ۱۰۔
    (کہ روز قیامت شدنی ہے، اِس لیے) فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا۔
    اوپر جو گواہی پیش کی گئی ہے، وہ قسم کے اسلوب میں ہے۔ یہ اُن قسموں کا مقسم علیہ ہے جسے قرآن نے اصل میں حذف کر دیا ہے۔ آگے کا جملہ اِس کی طرف اشارہ کر رہا ہے، اِس وجہ سے اِس کے اظہار کی ضرورت نہیں رہی۔اِن قسموں میں پہلے اُس شان و عظمت، تدریج و اہتمام اور قدرت و حکمت کی شہادت ہے جس کا مشاہدہ ہم مہ و آفتاب کے طلوع و غروب، لیل و نہار کی گردش اور زمین و آسمان کی خلقت میں کرتے ہیں۔ اِن میں سے ایک ایک چیز خدا کی آیات خلق و تدبیر اور اُس کے عجائب قدرت کا ایک دفتر ہے۔ انسان اِن کو جس پہلو سے دیکھتا ہے، اگر آنکھیں کھلی ہوئی اور عقل بیدار ہو تو علم و حکمت کا ایک دبستان کھل جاتا ہے۔ اِن کی ایک ایک حرکت گواہی دیتی ہے کہ اِن کے بنانے والے کی قدرت عظیم ہے، اُس کی حکمت بے پایاں ہے، اُس کی ربوبیت بے نہایت اور عالم گیر ہے اور اُس کے لیے کوئی بڑے سے بڑا کام بھی ناممکن نہیں ہے۔ یہ اضداد ہیں، لیکن جس سازگاری اور فرماں برداری سے اپنے خالق کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں، وہ حیرت انگیز ہے۔ آیتوں میں ’ضُحٰھَا‘، ’اِذَا تَلٰھَا‘، ’اِذَا جَلّٰھَا‘ اور ’اِذَا یَغْشٰھَا‘کے الفاظ اِسی پہلو کو نمایاں کرتے ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...نہ سورج چاند کے حدود میں مداخلت کرتا، نہ چاند اپنے وقت سے پہلے ظہور میں آنے کے لیے زور لگاتا، نہ دن کی یہ تاب کہ وہ اپنے وقت سے پہلے برآمد ہو جائے اور نہ رات کی یہ مجال کہ وہ دن کو اُس کی ڈیوٹی پوری کرنے سے پہلے ہی برخاست کر دے۔‘‘ (تدبرقرآن ۹/ ۳۸۵) اِس کے بعد نفس کی شہادت پیش فرمائی ہے کہ انسان اِس پر غور کرے اور دیکھے کہ اپنی تشکیل کے لحاظ سے یہ کیسا غیر معمولی شاہ کار ہے، اِسے کیا صلاحیتیں دی گئی ہیں، یہ علم و عقل کی کن نعمتوں سے نوازا گیا ہے، اِس میں کیا کیا امکانات چھپا کر رکھے گئے ہیں جو اپنے وقت پر اِس طرح ظہور میں آتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ انسان اُس کے عجائب پر غور کرے توگویا ایک پوری کائنات ہے جو اُس کے جسمانی قالب کے اندر رکھ دی گئی ہے۔ پھر یہی نہیں، سب سے زیادہ قابل توجہ چیز یہ ہے کہ اِسے خیر و شر کا شعور دیا گیا ہے۔ یہ اِسی شعور کا نتیجہ ہے کہ اُس کے ضمیر میں ایک نگران ہر وقت اُس کی برائیوں پر اُسے متنبہ کرتا رہتا ہے۔ یہ ایک چھوٹی عدالت ہے جو انسان کے اندر قائم ہے اور ہر موقع پر اپنا بے لاگ فیصلہ سناتی ہے۔ انسان اِس فیصلے کو مانے یا نہ مانے، وہ فکر و خیال اور علم و عمل کی ہر لغزش کے بعد اُسے سنتا ضرور ہے، یہاں تک کہ اُس کی بد نفسی اِس قدر بڑھ جائے کہ اعمال کی سیاہی اُس کے دل کا احاطہ کرکے اُس کو بالکل اندھا بہرا کر دے۔ یہ انسان کے اوپر خود اُس کے باطن کی گواہی ہے جسے سورۂ قیامہ (۷۵) میں نفس لوامہ کی شہادت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ نفس اور مادہ کے اِن تمام مظاہر کی طرف توجہ دلا کر قرآن نے استدلال فرمایا ہے کہ یہ دنیا کوئی اتفاقی حادثہ یا کھیل تماشا نہیں ہے اور نہ انسان کوئی شتر بے مہار ہے کہ یونہی غیر مسؤل چھوڑ دیا جائے اور اُس کا خالق علم و عمل میں اُس کے رویوں کے لحاظ سے اُس کو جزا یا سزا نہ دے۔ وہ لازماً مسؤل ٹھیرایا جائے گا اور دنیا کا کارخانہ بھی ایک با مقصد اور باغایت کارخانہ ہے، یہ غایت ایک دن لازماً ظہور میں آ ئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کا دن اِسی غایت کو ظہور میں لانے کے لیے مقرر کیا ہے۔ لہٰذا قیامت شدنی ہے۔  
    اور نامراد ہوا وہ جس نے اُسے آلودہ کر ڈالا۔
    یہ نتیجہ ہے جس کے لیے قیامت برپا کی جائے گی۔ انبیا علیہم السلام جس چیز کی دعوت دیتے ہیں، وہ یہی تزکیہ ہے جس کے حاملین کو اِن آیتوں میں فلاح کی بشارت دی گئی ہے۔ انبیا کی ہدایت میں غایت اور مقصود کی حیثیت اِسی کو حاصل ہے۔ اِس کے معنی کسی چیز کو آلایشوں سے پاک کرنے کے بھی ہیں اور نشوونما دینے کے بھی۔ چنانچہ جو لوگ اپنے نفس کو فجور سے پاک کر لیں اور اُس کو ابھار کر معرفت الٰہی کے اُس درجے تک پہنچا دیں جسے قرآن نے نفس مطمئنہ سے تعبیر کیا ہے، اُن کے لیے اُن کے پروردگار کی طرف سے فلاح کی ضمانت ہے۔دین اصلاً اِسی مقصود کو پانے اور اِسی غایت تک پہنچنے میں انسان کی رہنمائی کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ وہ لوگوں کے لیے داروغہ بن کر اُن پر خدائی فوج داروں کی حکومت قائم کر دینے کے لیے نازل نہیں کیا گیا۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List