Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • البلاد (The City, This Countryside)

    20 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ الفجر ۔۔۔ کی توام ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ سابق سورہ میں انسان کی اس غلط فہمی پر متنبہ فرمایا گیا ہے کہ جب اس کو نعمت ملتی ہے تو وہ یہ خیال کر کے اکڑنے اور اترانے لگتا ہے کہ یہ اس کا حق ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی عزت افزائی فرمائی ہے اور اگر کوئی آزمائش پیش آ جا تی ہے تو مایوس و دل شکستہ ہو جاتا ہے کہ یہ اس کی حق تلفی ہوئی ہے اور خدا نے اس کو ذلیل کر دیا ہے۔ حالانکہ ان میں سے کوئی حالت بھی نہ عزت افزائی کے لیے پیش آتی نہ ذلیل کرنے کے لیے بلکہ ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ بندے کے شکر یا صبر کا امتحان کرتا ہے۔ انسان کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ نہ نعمت پا کر اکڑنے والا بنے نہ اس سے محروم ہو کر دل شکستہ و مایوس ہو بلکہ نعمت ملے تو اپنے رب کا شکرگزار بندہ بنے اور اس نعمت میں اللہ کے دوسرے حاجت مند بندوں کو شریک کرے اور اگر کوئی افتاد پیش آئے تو اپنی محرومی کا رونا رونے اور خدا کو کوسنے کے بجائے فیصلۂ تقدیر پر صابر و راضی رہے۔ جو بندہ یہ روش اختیار کرتا ہے اس کا نفس ’نفس مطمئنہ‘ ہے اور آخرت میں اس کو ’رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً‘ کی بادشاہی حاصل ہو گی۔

    اس سورہ میں اسی کلیہ کو قریش پر منطبق کیا ہے اور یہ دکھایا ہے کہ یہ سرزمین ۔۔۔ سرزمین مکہ ۔۔۔ اس زمانے میں جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند، حضرت اسماعیل علیہ السلام کو یہاں بسایا ہے، رزق کے وسائل سے بھی محروم تھی اور امن سے بھی۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ذریت کے لیے رزق اور امن کی جو دعا فرمائی اس کی برکت سے یہاں رزق کی بھی فراوانی ہوئی اور امن کے اعتبار سے بھی اس علاقے کا یہ حال ہوا کہ یہاں کسی انسان تو درکنار کسی جانور کو بھی دکھ پہنچانا گناہ ٹھہرا۔ اسی امن اور رزق کا یہ فیض ہے کہ اولاد اسمٰعیل یہاں خوب پھلی پھولی اور اس پورے ملک پر اس کو سیادت و قیادت حاصل ہوئی۔ لیکن یہ نعمتیں پا کر اپنی پچھلی تاریخ یہ لوگ بھول بیٹھے۔ اب یہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ یہ جو کچھ ان کو حاصل ہے ان کا پیدائشی حق ہے۔ خدا کی راہ میں خرچ کرنا ان کے دلوں پر بہت گراں گزرتا ہے۔ ان کی آنکھیں عبرت نگاہی سے محروم اور زبانیں حق و صبر اور نیکی و احسان کے ذکر سے گنگ ہو چکی ہیں۔ اب ان کا مال ان کی اپنی عیاشیوں اور فضول خرچیوں کے لیے ہے۔ کوئی نہیں ہے جو یتیموں اور مسکینوں کی خدمت کی راہ میں کوئی قربانی پیش کرنے اور آخرت کی ابدی فائز المرامی حاصل کرنے کا حوصلہ کرے بلکہ سب نے جہنم کی راہ اختیار کر لی ہے۔

    یہ سورتیں چونکہ بالکل ابتدائی دور کی ہیں اس وجہ سے ان میں خطاب بھی بالعموم ’یٰٓاَیُّھَا الْاِنْسَانُ‘ سے ہے اور ان میں جو دعوت یا اپیل ہے وہ بھی تمام تر انسانیت اور اس کے فطری مبادی پر مبنی ہے۔

  • البلاد (The City, This Countryside)

    20 آیات | مکی
    الفجر - البلد

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔دونوں میں خطاب قریش کے سرداروں سے ہے، لیکن اسلوب میں اعراض کا پہلو نمایاں ہے۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں سورتوں کا موضوع قریش کے سرداروں کو طغیان اور سرکشی کے رویے پر تنبیہ ہے جو خدا کی نعمتیں پانے کے بعد خدا اور خلق کے معاملے میں وہ اختیار کیے ہوئے تھے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 090 Verse 001 Chapter 090 Verse 002 Chapter 090 Verse 003 Chapter 090 Verse 004
    Click translation to show/hide Commentary
    نہیں، (یہ ہمیشہ اِس طرح نہیں تھے)۔ میں اِس شہر کو گواہی میں پیش کرتا ہوں۔
    سورہ کے شروع میں ’لَا‘ ایک پوری بات کی تردید کے لیے آیا ہے جس پر بعد کا مضمون خود دلالت کر رہا ہے۔ ہم نے اِسے کھول دیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اِسی مال و منال اور حشمت وجاہ کے ساتھ اِس وادی غیر ذی زرع میں نہیں آئے تھے جو آج اِنھیں حاصل ہو گیا ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے فرزند اسمٰعیل علیہ السلام کو یہاں آباد کیا تو یہ ایک بالکل بنجر، بے آب و گیاہ اور امن و سلامتی سے محروم علاقہ تھا۔ جس فراخیِ رزق و رفاہیت کے ساتھ آج یہ رہ رہے ہیں، یہ ہمیشہ سے نہیں تھی۔ یہ اِسی گھر کے طفیل اِنھیں حاصل ہوئی ہے، لیکن ایسے برخود غلط ہیں کہ اب اِسے اپنا استحقاق سمجھ رہے ہیں۔
    (اے پیغمبر) ۔۔۔ اور (یہ تمھارے لیے اجنبی نہیں)، تم اِسی شہر میں رہتے ہو۔
    یعنی یہ کسی دور درازعلاقے کی شہادت نہیں ہے، بلکہ تمھارے اپنے ہی شہرکی حکایت ہے جس سے تم اچھی طرح واقف ہو۔ اِس کی تاریخ تمھاری اپنی تاریخ ہے۔ یہ تمھارے لیے کوئی اجنبی جگہ نہیں ہے۔
    اور باپ اور اُس کی اولاد کو بھی (جن سے یہ شہر آباد ہوا)۔
    یعنی ابراہیم علیہ السلام اور اُن کی ذریت۔ لفظ ’وَالِدٍ‘ کی تنکیر تفخیم شان کے لیے ہے۔
    کہ ہم نے انسان کو (اِس وادی میں) پیدا کیا تو (اُ س وقت) وہ یقیناً بڑی مشقت میں تھا۔
    یہ اُس زمانے کی طرف اشارہ ہے ، جب اسمٰعیل علیہ السلام اور اُن کی اولاد اِس بنجر اور بے آب و گیاہ علاقے میں آباد ہوئی۔ سورۂ ابراہیم (۱۴) کی آیات ۳۵۔۳۷ اور سورۂ قریش (۱۰۶) میں یہی مضمون اِس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List