Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الفجر (The Break of Day, The Dawn)

    30 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    سابق سورہ آسمان و زمین کی بعض نمایاں نشانیوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اس مضمون پر ختم ہوئی کہ جس خالق نے ان چیزوں کو وجود بخشا اس کی عظیم قدرت و حکمت اور اس کی غیر محدود ربوبیت سے کسی عاقل کے لیے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ مقصود اس سے اس حقیقت کو سامنے لانا ہے کہ جب وہ عظیم قدرت و حکمت رکھنے والا بھی ہے اور اس وسعت کے ساتھ اس نے اپنا خوان کرم بھی بچھا رکھا ہے تو اس کی ان صفات کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے جس میں ان لوگوں سے بازپرس کرے جنھوں نے اس کی نعمتیں پا کر اس کی دنیا میں دھاندلی مچائی اور ان لوگوں کو انعام دے جنھوں نے شکرگزاری اور اطاعت شعاری کی زندگی بسر کی۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو یہ اس کی رحمت و ربوبیت کے بھی منافی ہے اور اس کی قدرت و حکمت کے بھی۔

    اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ تم جس چیز سے لوگوں کو آگاہ کر رہے ہو اس کے دلائل و شواہد آسمان و زمین کے چپہ چپہ پر موجود ہیں۔ اگر ان لوگوں کو نظر نہیں آ رہے ہیں تو تم اپنا فرض انذار ادا کر دو۔ اندھوں کو راہ دکھانا تمہارا کام نہیں ہے۔

    اس سورہ میں آفاق اور تاریخ کے بعض نمایاں آثار و واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ ثابت فرمایا ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز کی باگ اس کے خالق و مالک کے ہاتھ میں ہے۔ وہی جس کو جس حد تک چاہتا ہے ڈھیل دیتا ہے اور جہاں چاہتا ہے روک دیتا ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی شے اس کی مقرر کی ہوئی حد سے آگے بڑھ سکے۔ قوموں کے ساتھ بھی اس کا یہی معاملہ ہے۔ ان کو جو ڈھیل ملتی ہے اس کے اذن سے ملتی ہے اور جب ان پر گرفت ہوتی ہے تو اس کے حکم سے ہوتی ہے۔ اس کے ہاتھ ہر وقت قوموں کی نبض پر رہتے ہیں۔ اس دنیا میں ہر ایک کا امتحان ہو رہا ہے کہ وہ نعمت پا کر شکر کی روش اختیار کرتا ہے یا فخر و استکبار کی۔ اسی طرح مشکل حالات میں صبر و ثابت قدمی کا ثبوت دیتا ہے یا مایوسی و دل شکستگی کا۔ پہلی روش ابدی فتح و فیروز مندی کی ضامن ہے اور دوسری دائمی خسران و نامرادی کی۔ اللہ کا مبارک بندہ وہ ہے جو نفس مطمئنہ کے ساتھ اپنے رب کی طرف لوٹا۔ نہ نعمت پا کر مغرور ہوا اور نہ فقر کی آزمائش سے دل شکستہ۔ انہی کو ’رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً‘ کی بادشاہی حاصل ہو گی۔

  • الفجر (The Break of Day, The Dawn)

    30 آیات | مکی
    الفجر - البلد

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔دونوں میں خطاب قریش کے سرداروں سے ہے، لیکن اسلوب میں ا عراض کا پہلو نمایاں ہے۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں سورتوں کا موضوع قریش کے سرداروں کو طغیان اور سرکشی کے رویے پر تنبیہ ہے جو خدا کی نعمتیں پانے کے بعد خدا اور خلق کے معاملے میں وہ اختیار کیے ہوئے تھے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 089 Verse 001 Chapter 089 Verse 002 Chapter 089 Verse 003 Chapter 089 Verse 004 Chapter 089 Verse 005
    Click translation to show/hide Commentary
    فجر گواہی دیتی ہے۔
    اِس سے مراد وہ وقت ہے جب دن کی روشنی ایک سفید دھاری کی صورت میں شب کی سیاہ دھاری سے الگ ہو کر نمایاں ہوتی ہے۔
    اور (چاند کی ہر) دس راتیں۔
    اصل میں ’لَیَالٍ عَشْرٍ‘ کا لفظ آیا ہے۔ یہ نکرہ ہے، اِس لیے اِس سے مہینے کی تیس راتوں میں سے ہر دس راتیں مراد لی جا سکتی ہیں۔ چاند کے تدریجی عروج و زوال کی طرف اشارے کے لیے یہ نہایت بلیغ اسلوب ہے، اِس لیے کہ پہلی دس راتوں میں وہ ایک باریک ناخن کی شکل سے شروع ہو کر بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ آدھے سے زیادہ روشن ہو جاتا ہے۔دوسری دس راتوں میں وہ اپنے عروج و کمال پر ہوتا ہے اور آخری دس راتوں میں وہ زوال کی طرف بڑھنا شروع ہوتا ہے، یہاں تک کہ قرآن کی تعبیر کے مطابق کھجور کی سوکھی ٹہنی کے مانند ہو کر رہ جاتا ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اِس تعبیر کے متعلق لکھا ہے: ’’اِس آیت میں چاند کی تصویر چشم تخیل کے سامنے اِس طرح آتی ہے گویا وہ ایک فرماں بردار ناقہ ہے جس کی نکیل ایک غیبی ساربان کے ہاتھ میں ہے جو اُس کو منزل بہ منزل ایک معین بلندی تک چڑھاتا اور پھر وہاں سے اُس کو درجہ بدرجہ اِسی طرح اتارتا ہے، یہاں تک کہ قطع منازل کے اِس پر مشقت سفر میں وہ سوکھ کر کانٹا بن کے رہ جاتا ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۳۴۸)  
    اور جفت اور طاق (مہینا)۔
    اِس لیے کہ مہینا کبھی تیس اور کبھی انتیس دن کا ہوتا ہے جس میں چاند اپنے عروج و زوال کا سفر پورا کرلیتا ہے۔
    اور رات بھی جب وہ رخصت ہوتی ہے (کہ صبح قیامت ہونی ہے)۔
    اصل الفاظ ہیں: ’اِذَا یَسْرِ‘۔ یہ قید اِس لیے لگائی ہے کہ ٹھیک اُس وقت کی طرف توجہ دلائی جائے، جب وہ رخصت ہونے کے لیے چل کھڑی ہوتی ہے اور افق میں فجر کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ یعنی رات جس طرح مختلف مراحل سے گزر کر فجر تک پہنچتی ہے اور چاند جس طرح دس دس راتوں میں اپنے منازل طے کرتا ہوا کبھی انتیس اور کبھی تیس دنوں میں اپنا سفر پورا کر لیتا ہے، اِس میں ترتیب و تدریج اور اِس کے ساتھ نتیجہ خیزی کا ایک حیرت انگیز قانون ہے جو صاف کارفرما نظر آتا ہے۔ پھر یہ بات بھی نظر آتی ہے کہ یہ خدا کے ہاتھ میں مسخر ہیں اور وہ بار بار اِنھیں منزل تک پہنچا کر اِسی سفر کے لیے لوٹا رہا ہے۔ اِس لحاظ سے دیکھیے تو قرآن کی اِس بات کو ماننے میں بھی کسی عاقل کو کوئی تردد نہیں ہونا چاہیے کہ ہماری یہ دنیا بھی ایک دن لازماً اپنے انجام کو پہنچے گی اور صبح قیامت ہو کر رہے گی جس میں مرنے والے ایک مرتبہ پھر زندگی کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔ چاند ہر ماہ طلوع ہو کر اور راتیں ہر روز رخصت ہو کر اِسی حقیقت کی یاددہانی کرتی ہیں۔
    اِس میں کسی عاقل کے لیے کیا ہے کوئی بڑی گواہی؟
    آیت میں استفہام کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ اِس میں زجر و ملامت بھی ہے اور اتمام حجت بھی۔ مطلب یہ ہے کہ انسان اگر عقل سے کام لے تو آفاق کی اِن نشانیوں میں شہادت تو بہت بڑی ہے، لیکن قریش کے اِن فراعنہ میں کیا کوئی عاقل ہے بھی؟


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List