Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الغاشیۃ (The Overwhelming Event, The Pall)

    26 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ الاعلیٰ ۔۔۔ کی مثنیٰ ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی اصولی فرق نہیں ہے۔ جس طرح سابق سورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے اسی طرح اس میں بھی آپ کو تسلی دی گئی ہے۔ البتہ انداز خطاب، طریق استدلال اور تفصیل و اجمال کے پہلو سے دونوں میں فرق ہے۔ اس میں پہلے وہ فرق و اختلاف واضح فرمایا گیا ہے جو قیامت کے دن نیکوں اور بدوں، ناعاقبت اندیشوں اور عاقبت بینوں کے نتائج اعمال اور ان کی زندگیوں میں رونما ہو گا اور یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اس کا رونما ہونا اس کائنات کے خالق کی صفات قدرت، ربوبیت اور رحمت کا بدیہی تقاضا ہے۔ پھر آخر میں اس مضمون تسلی کی وضاحت فرما دی گئی ہے جو سابق سورہ کی آیت: ’فَذَکِّرْ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّکْرٰی‘ (الاعلیٰ ۸۷: ۹) میں اجمال کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ آپ کی ذمہ داری لوگوں تک صرف حق پہنچا دینے کی ہے۔ یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ لوگ اس کو لازماً قبول بھی کر لیں۔ جو ہٹ دھرم اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں ان کے درپے ہونے کی زیادہ ضرورت نہیں ہے۔ ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کیجیے۔ وہ ان سے نمٹنے کے لیے کافی ہے۔

  • الغاشیۃ (The Overwhelming Event, The Pall)

    26 آیات | مکی
    الاعلٰی - الغاشیۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔اِن میں خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہے اور قریش کے سرداروں سے بھی، اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں سورتوں کا موضوع انذارقیامت ہے، لیکن دونوں میں اِس کے ساتھ داعی کے لیے تسلی اور مخاطبین کے رویے پر حسرت و افسوس کا مضمون بھی نمایاں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں سورتوں میں اطمینان دلایا گیا ہے کہ تذکیر و نصیحت سے آگے آپ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ اِس کے بعد یہ لوگوں کا کام ہے کہ نصیحت پائیں اور ہمارا کام ہے کہ اُن کی سرکشی پر اُن سے نمٹ
    لیں۔ آپ کو اِس معاملے میں کوئی تردد نہیں ہونا چاہیے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 088 Verse 001 Chapter 088 Verse 002 Chapter 088 Verse 003 Chapter 088 Verse 004 Chapter 088 Verse 005 Chapter 088 Verse 006 Chapter 088 Verse 007
    Click translation to show/hide Commentary
    کیا تمھیں اُس آفت کی خبر پہنچی ہے جو (پورے عالم پر) چھا جائے گی؟
    یہ خطاب اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، لیکن آگے کی آیتوں سے واضح ہے کہ روے سخن قریش کے اُنھی سرداروں کی طرف ہے جو آخرت سے بالکل بے خوف ہو چکے تھے۔ خطاب کی ابتدا سوال سے کی ہے ۔ اِس طرح کا سوال جواب حاصل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ کسی چیز کے ہول، ہیبت یا اُس کی عظمت و جلالت کے اظہار کے لیے ہوتا ہے۔
    کتنے چہرے اُس دن اترے ہوئے ہوں گے۔
    اِس سے مراد اگرچہ اشخاص ہیں، لیکن اُن کو چہروں سے اِس لیے تعبیر کیا ہے کہ جو کچھ اُن پر گزرے گی، اُس کا اظہار سب سے نمایاں طریقے پر اُن کے چہروں ہی سے ہو گا۔
    نڈھال، تھکے ہارے۔
    n/a
    وہ دہکتی آگ میں پڑیں گے۔
    n/a
    اُنھیں ایک کھولتے ہوئے چشمے کا پانی پلایا جائے گا۔
    اصل میں لفظ ’اٰنِیَۃ‘ استعمال ہوا ہے، یعنی جس کی گرمی اپنے آخری نقطے پر پہنچی ہوئی ہو۔
    اُن کے لیے جھاڑ کانٹوں کے سوا کوئی کھانا نہ ہو گا۔
    اصل الفاظ ہیں: ’لَیْسَ لَھُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍ‘۔ اِن میں استثنا منقطع ہے، یعنی کھانے کی کوئی چیز اُن کے لیے سرے سے وہاں ہو گی ہی نہیں۔ ہاں، کچھ ہو گا تو جھاڑ کانٹے اور اِس طرح کی دوسری چیزیں ہوں گی جنھیں وہ بے بسی کے عالم میں کھانے پر مجبور ہوں گے۔
    جو نہ توانا کرے گا، نہ بھوک مٹائے گا۔
    n/a


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List