Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الطارق (The Night-Visitant, The Morning Star, The Nightcomer)

    17 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ کی توام ہے۔ دونوں کا عمود بالکل ایک ہے۔ صرف اسلوب بیان اور نہج استدلال الگ الگ ہیں۔ تمہید اور خاتمہ کے پہلو سے بھی دیکھیے تو دونوں میں حیرت انگیز مشابہت پائی جاتی ہے۔ آفاق و انفس کے شواہد اور خالق کائنات کی صفات کی روشنی میں یہ حقیقت ان میں مبرہن فرمائی گئی ہے کہ قرآن جس روز جزا و سزا سے ڈرا رہا ہے اس کو ہنسی مسخری نہ سمجھو۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ اس کے ظہور میں جو دیر ہو رہی ہے تو اس کو تکذیب کا بہانہ نہ بناؤ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے ڈھیل ہے کہ اس کی حجت تمام ہو جائے اور تم اپنا پیمانہ اچھی طرح بھر لو۔ خدا کی تدبیر نہایت محکم ہوتی ہے اس وجہ سے وہ سرکشوں کو پکڑنے میں عجلت نہیں کرتا۔ لیکن جب پکڑتا ہے تو کوئی اس کے پنجۂ عذاب سے چھوٹ نہیں سکتا۔

  • الطارق (The Night-Visitant, The Morning Star, The Nightcomer)

    17 آیات | مکی
    البروج - الطارق

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں بناے استدلال آفاق کے آثار و شواہد اور تاریخ کے ناقابل تردید حقائق ہیں۔ دوسری سورہ میں آفاقی دلائل کے ساتھ انسان کی خلقت میں خدا کی قدرت و حکمت کی نشانیوں کو بھی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں سورتوں کا موضوع قیامت سے متعلق قریش کے شبہات کی تردید اور اُنھیں تہدید ہے کہ اہل ایمان پر اُن کا ظلم و ستم اور پیغمبر کے مقابلے میں اُن کی چالیں اب اپنے انجام تک پہنچنے کو ہیں۔ استدراج کا جو دام اُن کے لیے بچھایا گیا ہے، اُس سے وہ نکل نہ سکیں گے۔ اُن کا وقت اب قریب آ لگا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 086 Verse 001 Chapter 086 Verse 002 Chapter 086 Verse 003 Chapter 086 Verse 004
    Click translation to show/hide Commentary
    آسمان گواہی دیتا ہے اور رات میں آنے والے بھی۔
    n/a
    اور تم کیا سمجھے کہ رات میں آنے والے کیا ہیں؟
    n/a
    چمکتے تارے۔
    n/a
    یہ سب گواہی دیتے ہیں کہ بے شک، ہر جان پر ایک نگہبان مقرر ہے۔
    اصل الفاظ ہیں: ’اِنْ کُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْہَا حَافِظٌ‘۔ اِن میں ’ل‘ کے بجاے ’لَمَّا‘ اشباع کے اصول پر محض آہنگ کو برقرار رکھنے کے لیے آگیا ہے۔ آیت میں جن نگہبانوں کا ذکر ہے، وہ اِسی لیے مقرر کیے گئے ہیں کہ ایک یوم الحساب آنے والا ہے جس میں ہر شخص کا علم و عمل محاسبے کے لیے پیش کیا جائے گا۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ اِس کو سمجھنے کے لیے آسمان کو دیکھنا چاہیے جس کا محکم نظام انسان کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ اِسی طرح تاروں کو دیکھنا چاہیے جن کی نگاہیں ہر وقت اُس پر لگی رہتی ہیں۔ کس کی مجال ہے کہ اُن کی نگرانی سے اپنے آپ کو بچالے۔ یہ خدا کے پہرے دار ہیں جو کبھی نہیں سوتے۔ انسان غور کرے تو یہ عظیم الشان انتظام گواہی دے رہا ہے کہ خدا کے لیے ذرا مشکل نہیں ہے کہ وہ ہر جان پر ایک نگہبان مقرر کر دے جو اُس کی ایک ایک چیز کو دیکھتا رہے۔ لہٰذا ہر شخص کو سمجھ لینا چاہیے کہ نہ دنیا کوئی بے راعی کا گلہ ہے اور نہ انسان کو اُس میں شتر بے مہار بنا کر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اُس کے لیے ایک یوم الحساب لازماً آنا ہے جس کے احتساب سے کوئی بھی خود کو بچا نہ سکے گا۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List