Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • البروج (The Mansions Of The Stars, Constellations)

    22 آیات | مکی
    سورہ کا زمانۂ نزول اور مضمون

    یہ سورہ دعوت کے اس دور میں نازل ہوئی جب کفار قریش اول اول اسلام لانے والوں کو اس غصہ میں ہر قسم کے مظالم کا تختۂ مشق بنائے ہوئے تھے کہ انھوں نے آبائی دین چھوڑ کر یہ نیا دین کیوں اختیار کر لیا؟ ان کو اس میں آگاہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ اس ظلم و ستم سے باز نہ آئے تو بہت جلد خدا کی ایسی سخت پکڑ میں آ جائیں گے جس سے کبھی نہ چھوٹ سکیں گے۔ ساتھ ہی مظلوم مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ ان مظالم سے وہ ہراساں نہ ہوں بلکہ دین حق پر جمے رہیں۔ حالات بظاہر کتنے ہی نامساعد ہوں لیکن جس رب پر وہ ایمان لائے ہیں وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس کے ارادوں میں کوئی بھی مزاحم نہیں ہو سکتا۔ آخرت میں کفار کو یہ تنبیہ بھی فرما دی گئی ہے کہ اس قرآن کو، جو ان کو اس خطرے سے آگاہ کر رہا ہے، سحر و نجوم اور کہانت و شاعری کے قسم کی کوئی چیز نہ سمجھیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے اور اس کا منبع لوح محفوظ ہے۔ اس کی ہر بات پوری ہو کے رہے گی۔

  • البروج (The Mansions Of The Stars, Constellations)

    22 آیات | مکی
    البروج - الطارق

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں بناے استدلال آفاق کے آثار و شواہد اور تاریخ کے ناقابل تردید حقائق ہیں۔ دوسری سورہ میں آفاقی دلائل کے ساتھ انسان کی خلقت میں خدا کی قدرت و حکمت کی نشانیوں کو بھی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں سورتوں کا موضوع قیامت سے متعلق قریش کے شبہات کی تردید اور اُنھیں تہدید ہے کہ اہل ایمان پر اُن کا ظلم و ستم اور پیغمبر کے مقابلے میں اُن کی چالیں اب اپنے انجام تک پہنچنے کو ہیں۔ استدراج کا جو دام اُن کے لیے بچھایا گیا ہے، اُس سے وہ نکل نہ سکیں گے۔ اُن کا وقت اب قریب آ لگا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 085 Verse 001 Chapter 085 Verse 002 Chapter 085 Verse 003 Chapter 085 Verse 004 Chapter 085 Verse 005 Chapter 085 Verse 006 Chapter 085 Verse 007
    Click translation to show/hide Commentary
    برجوں والا آسمان گواہی دیتا ہے۔
    برج کے معنی قلعے اور گڑھی کے ہیں۔ یہاں اِس سے مراد آسمان کے وہ قلعے اور گڑھیاں ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کے فرشتے برابر کائنات کی نگرانی کے لیے مامور رہتے ہیں۔اِن کی گواہی اِس لیے پیش کی گئی کہ مکہ اور طائف کے فراعنہ کو متنبہ کیا جائے کہ مسلمانوں پر جو ظلم و ستم وہ توڑ رہے ہیں، اُس کا یوم حساب دور نہیں ہے۔ آسمان کے برج گواہی دیتے ہیں کہ ہر چیز خدا کی نگاہ میں ہے اور اُس کے کروبی اُن میں بیٹھے ہوئے ہر گوشے کی نگرانی کر رہے ہیں۔ یہ اہتمام اِسی لیے کیا گیا ہے کہ دنیا کو جزا و سزا کے دن تک پہنچانا مقصود ہے۔
    اور وہ دن بھی جس کا وعدہ (تم سے) کیا جا رہا ہے۔
    یعنی روز قیامت جو آپ ہی اپنی گواہی ہے۔ کوئی ذی ہوش اِس کا انکار نہیں کر سکتا، اِس لیے کہ اِس کی شہادت خود انسان کے نفس کے اندر موجود ہے، اِس کو ثابت کرنے کے لیے کسی خارجی شہادت کی ضرورت نہیں ہے۔
    اور (دنیا میں) ہر دیکھنے والا، (اگر وہ عبرت کی نگاہ سے دیکھے) اور جو کچھ وہ دیکھ رہا ہے۔
    اِس سے مراد خدا کی قدرت، رحمت، حکمت اور ربوبیت کی نشانیاں اور زمین پر اُس کی دینونت کے مظاہر ہیں جنھیں انسان ہمیشہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتے رہے ہیں۔
    یہ سب گواہی دیتے ہیں (کہ قیامت ہو کر رہے گی۔اِس لیے) مارے گئے گھاٹی والے۔
    یہ اوپر کی سب قسموں کا مقسم علیہ ہے جو اصل میں وضاحت قرینہ کی بنا پر حذف کر دیا گیا ہے۔استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...یہ طریقہ اُن مواقع میں اختیار کیا جاتا ہے جہاں جواب قسم اِس قدر واضح ہو کہ ذکر کے بغیر بھی ذہن اُس کی طرف بے تکلف منتقل ہو سکے۔ اِس سے کلام میں ایجاز بھی پیدا ہو جاتا ہے اور وہ ساری بات جواب قسم کی حیثیت سے محذوف بھی مانی جا سکتی ہے جس کے لیے کلام کا سیاق و سباق مقتضی ہو۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۲۸۹) یہ قریش کے اُن فراعنہ کو وعید ہے جو مسلمانوں کو ایمان سے پھیرنے کے لیے ظلم و ستم کا بازار گرم کیے ہوئے تھے۔ اُنھیں بتایا گیا ہے کہ وہ اگر اپنی روش سے باز نہ آئے تو دوزخ کی اُس گھاٹی میں پھینک دیے جائیں گے جو ایندھن سے بھری ہوئی ہے۔ اُس کی آگ نہ دھیمی ہو گی اور نہ بجھے گی۔  
    ایندھن بھری آگ (کی گھاٹی والے)۔
    یہ قریش کے اُن فراعنہ کو وعید ہے جو مسلمانوں کو ایمان سے پھیرنے کے لیے ظلم و ستم کا بازار گرم کیے ہوئے تھے۔ اُنھیں بتایا گیا ہے کہ وہ اگر اپنی روش سے باز نہ آئے تو دوزخ کی اُس گھاٹی میں پھینک دیے جائیں گے جو ایندھن سے بھری ہوئی ہے۔ اُس کی آگ نہ دھیمی ہو گی اور نہ بجھے گی۔
    جب وہ (دوزخ میں) اُس پر بیٹھ گئے۔
    n/a
    اور جو کچھ وہ (دنیا میں)ایمان والوں کے ساتھ کرتے رہے، (اُس کا نتیجہ) دیکھ رہے ہیں۔
    یہ اِن اشقیا کے انجام کی تصویر ہے کہ وہ آگ بھری گھاٹی پر بیٹھ کر اپنا ٹھکانا دیکھیں گے اور پھر اپنے کرتوتوں کا انجام بھگتنے کے لیے اُسی میں پھینک دیے جائیں گے۔ اِس کے لیے ماضی کے صیغے قطعیت کے اظہار کے لیے اختیار کیے گئے ہیں۔ قرآن میں یہ اسلوب دوسرے مقامات میں بھی ہے۔ لفظ ’شُھُوْد‘ نتیجۂ فعل کے معنی میں ہے۔ اِس کی مثالیں بھی قرآن میں کئی مقامات پر دیکھی جا سکتی ہیں۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List