Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • المطففین (The Dealers in Fraud, Defrauding, The Cheats, Cheating)

    36 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ الانفطار ۔۔۔ کا تکملہ و تتمہ ہے۔ دونوں کا عمود بنیادی طور پر ایک ہی ہے۔ سورۂ انفطار کے آخر میں ابرار اور فجار کی جو تقسیم ہے اس سورہ میں اسی کی تفصیل ہے۔ صرف استدلال کی بنیاد دونوں میں الگ الگ ہے۔ سابق سورہ میں استدلال اللہ تعالیٰ کی ان صفات سے ہے جو خود انسان کی خِلقت کے اندر نمایاں ہیں۔ اس سورہ میں استدلال اس فطرت سے ہے جو فاطر نے انسان کے اندر ودیعت فرمائی ہے۔

    اس استدلال کی تقریر بالاجمال یوں ہے کہ انسان بالطبع عدل اور خیر کو پسند کرنے والا اور ظلم و شر سے نفرت کرنے والا ہے۔ اس کی یہ پسند اور ناپسند اس بات کی شہادت ہے کہ فاطر فطرت عدل اور ظلم یا بالفاظ دیگر عادل اور ظالم میں فرق و امتیاز کرنے والا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ نیک اور بد دونوں اس کے نزدیک یکساں ہو جائیں۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ انسان کی فطرت میں نیک اور بد میں یہ امتیاز کیوں رکھتا؟

    رہا یہ سوال کہ انسان جب طبعاً نیکی پسند ہے تو وہ بدی کیوں کر گزرتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ بدی اس وجہ سے نہیں کرتا کہ یہی اس کو طبعاً مرغوب ہے۔ طبعاً تو اس کو مرغوب نیکی ہی ہے لیکن بسا اوقات نفس کے دوسرے داعیات سے وہ مغلوب ہو کر، اپنی فطرت کے خلاف بدی کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے۔ اگر بدی اور نا انصافی اس کو طبعاً مرغوب ہوتی تو اس کا تقاضا یہ تھا کہ کوئی اس کے ساتھ نا انصافی کرتا تو وہ اس پر بھی راضی رہتا لیکن ہر شخص دیکھتا ہے کہ ایسا نہیں ہوتا بلکہ وہی شخص جو دوسروں کے لیے ناپ اور تول میں بے ایمانی کرتا ہے جب دوسرے اس کے ساتھ یہی معاملہ کرتے ہیں تو وہ چیختا اور فریاد کرتا ہے۔

    قرآن نے اس سورہ میں انسان کی اسی فطرت کو شہادت میں پیش کر کے یہ تذکیر فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ خود عادل ہے اور اس نے اپنے بندوں کے اندر بھی عدل اور خیر کی محبت ودیعت فرمائی ہے اس وجہ سے لازمی ہے کہ وہ ایک ایسا دن لائے جس میں ان لوگوں کو بھرپور انعام دے جو اپنی فطرت کے اس نور کی قدر کریں اور ان لوگوں کو سزا دے جو اس کی بے حرمتی کریں۔

    قیامت کے حق میں یہ طریق استدلال قرآن نے جگہ جگہ اختیار کیا ہے اور ہم برابر اس کی وضاحت کرتے آ رہے ہیں۔ خاص طور پر سورۂ قیامہ میں ’نفس لوامہ‘ کی قسم اور

    ’بَلِ الْإِنسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ ۵ وَلَوْ أَلْقٰی مَعَاذِیْرَہٗ‘ (القیامہ ۷۵: ۱۴-۱۵)

    (بلکہ انسان خود اپنے اوپر حجت ہے اگرچہ وہ کتنے ہی عذرات تراشے)

    کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔

  • المطففین (The Dealers in Fraud, Defrauding, The Cheats, Cheating)

    36 آیات | مکی
    المطففین - الانشقاق

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں انسان کی فطرت میں خیر و شر کے شعور سے اور دوسری میں آفاق کے آثار و شواہد سے استدلال کیا گیا ہے۔ دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں سورتوں کا موضوع قریش کو متنبہ کرنا ہے کہ قیامت کے بارے میں وہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں۔ اُنھیں ہر حال میں اپنے پروردگار کے حضور میں پیشی کے لیے اٹھنا ہے اور اپنے اعمال کے لحاظ سے لازماً الگ الگ انجام کو پہنچنا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 083 Verse 001 Chapter 083 Verse 002 Chapter 083 Verse 003 Chapter 083 Verse 004 Chapter 083 Verse 005 Chapter 083 Verse 006
    Click translation to show/hide Commentary
    تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لیے۔
    یہ جملہ محض خبر یہ نہیں ہے، اِس میں لعنت کا مضمون بھی چھپا ہوا ہے۔
    یہ جو دوسروں سے لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں۔
    n/a
    اور جب اُن کے لیے ناپتے یا تولتے ہیں تو اُس میں ڈنڈی مارتے ہیں۔
    ڈنڈی مارنے والوں کی اِس صفت سے صاف واضح ہے کہ سورہ میں مجرد ناپ تول کی کمی زیر بحث نہیں ہے، بلکہ ایک خاص کردار کی طرف اشارہ مقصود ہے جو دوسروں کے لیے ناپنے اور تولنے میں تو ڈنڈی مارتا ہے، مگر اُن سے لینے میں بڑا حساس ہوتا ہے اور ہرگز نہیں چاہتا کہ اُس کے لیے کوئی چیز تولی جائے تو اُس میں رتی برابر کمی ہو۔ قرآن نے اِسی کردار کو یہاں اپنے اِس دعوے پر شہادت کے لیے پیش کیا ہے کہ انسان اپنے اندر خیر و شر میں امتیازکا شعور رکھتا ہے، اُنھیں ہرگز برابر نہیں سمجھتا۔ ظلم اور انصاف کے درمیان فرق، عدل کے ساتھ محبت اور ظلم سے نفرت اُس کی فطرت میں ودیعت ہے۔ لہٰذا وہ اِس بات پر کبھی راضی نہیں ہو سکتا کہ ظالم اور عادل کے ساتھ ایک ہی طرح کا معاملہ کیا جائے، بلکہ پوری شدت کے ساتھ چاہتا ہے کہ دونوں کے ساتھ الگ الگ معاملہ ہونا چاہیے۔ قرآن اُسے توجہ دلاتااور تعجب کے اسلوب میں پوچھتا ہے کہ اپنی فطرت کی اِس شہادت کے باوجود وہ کیسے یہ گمان رکھتا ہے کہ ظالم اور عادل، دونوں مر کر مٹی ہو جائیں گے اور اُن کا پروردگار اُن کے اعمال کے لحاظ سے اُنھیں کوئی جزا یا سزا نہ دے گا؟
    کیا یہ نہیں سمجھتے کہ ایک دن اٹھائے جائیں گے؟
    n/a
    ایک بڑے دن کی حاضری کے لیے۔
    n/a
    اُس دن جب لوگ جہانوں کے پروردگار کے حضور میں پیشی کے لیے اُٹھیں گے۔
    یعنی کسی عام ہستی کے سامنے نہیں، بلکہ رب العٰلمین کے حضور میں پیشی کے لیے اُٹھیں گے تو اندازہ کر سکتے ہیں کہ اُس کے لیے جو دن مقرر کیا گیاہے، اُس کی عظمت، اہمیت اور ضرورت کیا ہے اور اُس کے فیصلے کس طرح اُن پر ناطق ہو جائیں گے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List