Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الانفطار (The Cleaving Asunder, Bursting Apart)

    19 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ التکویر ۔۔۔ کی توام ہے۔ دونوں کے ظاہر و باطن اور اسلوب و معنی میں نہایت واضح مشابہت ہے۔ جس طرح سابق میں پہلے اس ہلچل کی تصویر کھینچی گئی ہے جو ظہور قیامت کے وقت آسمانوں اور زمین میں برپا ہو گی اسی طرح اس کا آغاز بھی اسی ہول کے ذکر سے ہوا ہے۔ دونوں میں اصل مدعا بھی تقریباً ایک ہی طرح کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ پہلی سورہ میں ہول قیامت کی تصویر کے بعد فرمایا ہے:

    عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا أَحْضَرَتْ‘ (۱۴)

    (اس دن ہر جان اس چیز کو دیکھ لے گی جو اس نے پیش کی)

    اسی طرح اس سورہ میں، ٹھیک اسی محل میں، فرمایا کہ

    عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَأَخَّرَتْ‘ (۵)

    (اس دن ہر جان دیکھ لے گی جو اس نے آگے بڑھایا اور جو پیچھے چھوڑا)۔

    سلف سے بھی یہ بات منقول ہوئی ہے کہ جس کو ہول قیامت کی تصویر دیکھنی ہو وہ ان سورتوں میں دیکھے۔ دونوں میں اصل مخاطب وہ اغنیاء و مستکبرین ہیں جو قرآن کے انذار کو اس وجہ سے خاطر میں نہیں لا رہے تھے کہ ان کو اپنے قلعوں اور حصاروں میں دراڑ پڑنے کا کوئی اندیشہ نہیں تھا۔

    البتہ بنائے استدلال دونوں میں الگ الگ ہے۔ پہلی سورہ میں استدلال کی بنیاد قرآن کی صداقت و حقانیت پر رکھی گئی ہے۔ یعنی یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ اس کا منبع، اس کے نزول کا واسطہ اور اس کا حامل سب طاہر و مطہر اور نورٌ علیٰ نورٍ ہیں۔ جو لوگ اس کا جوڑ کاہنوں اور منجموں کی اٹکل پچو باتوں سے ملانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ شب دیجور اور صبح صادق کے درمیان امتیاز سے قاصر ہیں۔

    اس سورہ میں استدلال خالق کائنات کی صفات خلق، قدرت، حکمت، عدل اور رحمت سے ہے۔ یعنی انسان کی خِلقت کے اندر اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت کی جو نشانیاں ظاہر ہیں ان کا بدیہی تقاضا یہ ہے کہ وہ ایک روز جزا و سزا بھی لائے جس میں اپنے نیکو کار و وفادار بندوں کو انعام اور نافرمانوں اور سرکشوں کو سزا دے۔ ایک ایسے دن کا آنا لازمی ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کام ذرا بھی دشوار نہیں۔ جب اس نے پہلی بار پیدا کیا اور اس میں اس کو کوئی مشکل نہیں پیش آئی تو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیوں مشکل ہو جائے گا؟ اگر اس دنیا میں وہ مجرموں کے جرائم سے چشم پوشی کر رہا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ نیکی اور بدی کے معاملے میں بے حس ہے۔ بلکہ یہ محض اس کی کریمی ہے کہ وہ بندوں کو مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنے رویے کی اصلاح کر لیں، اگر چاہیں اور اصلاح نہ کریں تو ان پر اس کی حجت پوری ہو جائے اور قیامت کے دن وہ کوئی عذر نہ کر سکیں۔ اس تاخیر سے کسی کو یہ مغالطہ نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ سے کسی کا کوئی قول و عمل مخفی ہے۔ اس نے ہر شخص پر اپنے معزز فرشتے مامور کر رکھے ہیں جو اس کی ہر بات نوٹ کر رہے ہیں۔

  • الانفطار (The Cleaving Asunder, Bursting Apart)

    19 آیات | مکی
    التکویر - الانفطار

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں قرآن کی حقانیت سے اور دوسری سورہ میں انسان کی خلقت میں خدا کی آیات سے استدلال کیا گیا ہے۔ روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں کا موضوع قیامت کی ہلچل کے حوالے سے مخاطبین کو متنبہ کرنا ہے کہ ہنگامۂ محشر برپا ہو گا تو اِسی لیے برپا ہو گا کہ تم میں سے ہر شخص یہ جان لے کہ اُس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 082 Verse 001 Chapter 082 Verse 002 Chapter 082 Verse 003 Chapter 082 Verse 004 Chapter 082 Verse 005
    Click translation to show/hide Commentary
    جب آسمان پھٹ جائے گا۔
    یعنی جب قیامت کی ہلچل پڑے گی تو یہ آسمان جو اِس وقت ایک محکم چھت کی صورت میں دکھائی دیتا ہے، اِس میں شگاف ہی شگاف نظر آئیں گے۔ اِس کی صورت کیا ہو گی؟ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...اِس کا صحیح تصور آج نہیں کیا جا سکتا، لیکن اِس کی یاددہانی اِس لیے فرمائی گئی ہے کہ جو اغنیا و مستکبرین اپنے قلعوں اور گڑھیوں کے اعتماد پر بالکل نچنت ہیں، سمجھتے ہیں کہ اُنھوں نے جو کچھ بنا رکھا ہے، وہ اُن کو ہر خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے کافی ہے، اُن کو جھنجھوڑا جائے کہ قیامت کی ہلچل ایسی ہو گی کہ تمھارے بنائے ہوئے گھروندوں کاتو کیا ذکر، اِس پورے عالم کی یہ محکم چھت جس میں تم ڈھونڈے سے بھی کوئی رخنہ نہیں پا سکتے، بالکل رخنہ ہی رخنہ اور شگاف ہی شگاف بن کر رہ جائے گی۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۲۳۹)  
    جب تارے بکھر جائیں گے۔
    n/a
    جب سمندر پھوٹ بہیں گے۔
    اصل میں لفظ ’فُجِّرَتْ‘ آیاہے۔ پچھلی سورہ میں اِس مضمون کے لیے ’سُجِّرَتْ‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ وہ سمندروں کی آزادی و بے قیدی اور ’فُجِّرَتْ‘ اُن کے جوش و ہیجان کو نمایاں کرتا ہے۔
    جب قبریں کھول دی جائیں گی۔
    n/a
    اُس وقت (لوگو، تم میں سے) ہر شخص یہ جان لے گا کہ اُس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا ہے۔
    یعنی وہ کیا کرتوت ہیں جو اُس نے آگے بھیجے اورکرنے کے کیا کام تھے جن کی حسرتیں وہ دنیا میں پیچھے چھوڑ آیا ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List