Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • التکویر (The Folding Up, The Overthrowing)

    29 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    پچھلی دونوں توام سورتوں ۔۔۔ النّٰزعٰت اور عبس ۔۔۔ میں جس ہول قیامت سے ’طآمََّۃ‘ اور ’صَآخََّۃ‘ کے ناموں سے ڈرایا گیا ہے اس سورہ میں اسی ہول کی پوری تصویر ہے۔ آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں پھر انسان کے قریب و بعید اور اس کے ظاہر و باطن کے ہر گوشہ میں اس ہلچل کے جو اثرات مترتب ہوں گے وہ اس طرح نگاہوں کے سامنے کر دیے گئے ہیں کہ انسان اگر سوچنے سمجھنے والا ہو تو ان آیات کے آئینے میں وہ سب کچھ دیکھ سکتا ہے جو ابھی پس پردہ ہے لیکن ایک دن وہ سب اس کے سامنے آنے والا ہے۔

    اس کے بعد قریش کے مکذبین کو مخاطب کر کے آگاہ کیا گیا ہے کہ قرآن اس دن سے جو تمہیں ڈرا رہا ہے تو اس کو ایک حقیقت سمجھو اور اس کے لیے تیاری کرو۔ یہ خدا کا نازل کردہ کلام ہے جو اس نے اپنے سب سے مقرب و معتمد فرشتے کے ذریعہ سے اپنے رسول پر اتارا ہے۔ اگر تم نے اس کو کاہنوں کی کہانت اور شاعروں کی شاعری سمجھ کر رد کر دیا تو یاد رکھو کہ نہ خدا کا کچھ بگاڑو گے نہ رسول کا بلکہ اپنی ہی تباہی کا سامان کرو گے۔ رسول کا کام لوگوں تک اس یاددہانی کو پہنچا دینا ہے۔ اس کے بعد ذمہ داری لوگوں کی اپنی ہے اور یہ بھی یاد رکھو کہ اس پر ایمان لانے کی توفیق انہی کو حاصل ہو گی جو حق کے قدردان اور اس کے طالب ہوں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ سنت ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔

  • التکویر (The Folding Up, The Overthrowing)

    29 آیات | مکی
    التکویر - الانفطار

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ میں قرآن کی حقانیت سے اور دوسری سورہ میں انسان کی خلقت میں خدا کی آیات سے استدلال کیا گیا ہے۔ روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں کا موضوع قیامت کی ہلچل کے حوالے سے مخاطبین کو متنبہ کرنا ہے کہ ہنگامۂ محشر برپا ہو گا تو اِسی لیے برپا ہو گا کہ تم میں سے ہر شخص یہ جان لے کہ اُس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 081 Verse 001 Chapter 081 Verse 002 Chapter 081 Verse 003 Chapter 081 Verse 004 Chapter 081 Verse 005 Chapter 081 Verse 006 Chapter 081 Verse 007 Chapter 081 Verse 008 Chapter 081 Verse 009 Chapter 081 Verse 010 Chapter 081 Verse 011 Chapter 081 Verse 012 Chapter 081 Verse 013 Chapter 081 Verse 014
    Click translation to show/hide Commentary
    جب سورج کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔
    n/a
    جب تارے ماند پڑ جائیں گے۔
    n/a
    جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔
    دوسرے مقامات میں قرآن نے اِس کی تفصیل کر دی ہے کہ پہاڑ اِس طرح اڑتے پھریں گے، جس طرح بادل اڑتے پھرتے ہیں۔
    جب دس ماہہ گابھن اونٹنیاں چھٹی پھریں گی۔
    اصل میں لفظ ’عِشَار‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ ’عشراء‘ کی جمع ہے اور اُس اونٹنی کے لیے آتا ہے جو دس ماہ کے حمل سے ہو۔ یہ وقت اُس کے بچہ جننے کا ہوتا ہے۔ اِس طرح کی اونٹنیاں قدرتی طور پر اُن کے مالکوں کو بہت عزیز ہوتی تھیں اور وہ اُن کی نگہداشت کا خاص اہتمام کرتے تھے۔ قرآن نے عظیم چیزوں کی بے ثباتی کے بعد یہ محبوب چیزوں کی بے وقعتی کا ذکر کرنے کے لیے اِنھی اونٹنیوں کو مثال میں پیش کرکے فرمایا ہے کہ اُس دن کی افراتفری اور نفسی نفسی کی حالت میں لوگوں کو اپنی عزیز سے عزیز چیزوں کا بھی کچھ ہوش نہ رہے گا۔
    جب وحشی جانور (اپنی سب دشمنیاں بھول کر) ایک ہی جگہ اکٹھے ہو جائیں گے۔
    یعنی انسان تو انسان ، اُس دن کا ہول وحشی جانوروں پر بھی یہ حالت طاری کردے گا۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...جنگل میں آگ لگ جائے یا سیلاب کا پانی پھیل جائے تو جنگلی جانور سراسیمگی کی حالت میں جس ٹیلے یا ٹیکرے پر اُن کو پناہ ملنے کی توقع ہو، وہاں اکٹھے ہو جاتے ہیں اور مشترک مصیبت کا ہول اُن پر ایسا طاری ہوتا ہے کہ بکری، شیر اور بھیڑیے پاس پاس کھڑے ہوتے ہیں، لیکن کسی کو ہوش نہیں رہتا کہ اُس کا حریف یا شکار اُس کی بغل میں ہے۔ یہی صورت حال خوف ناک ترین شکل میں ظہور قیامت کے وقت پیش آئے گی۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۲۲۰)  
    جب سمندر ابل پڑیں گے۔
    اصل میں لفظ ’سُجِّرَتْ‘ آیا ہے۔ اِس کے معنی تنور میں ایندھن بھر کر بھڑکا دینے کے ہیں۔ اِس سے یہ دریاؤں اور سمندروں کے بے قابو ہو کر اپنے حدود سے باہر نکل پڑنے کے لیے استعمال ہوا۔
    جب روحوں کے جوڑ (اُن کے عمل کے لحاظ سے) بندھیں گے۔
    یہاں سے قیامت کے دوسرے مرحلے کا ذکر شروع ہوتا ہے، یعنی ظہور قیامت کے بعد جو حالات پیش آئیں گے۔ یہ وہی بات ہے جو سورۂ واقعہ (۵۶) کی آیت۷ ’وَکُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَۃً‘ میں بیان ہوئی ہے، یعنی عقیدہ و عمل کے لحاظ سے لوگ الگ الگ گروہوں میں تقسیم کر دیے جائیں گے۔
    جب اُس سے جو زندہ گاڑ دی گئی، پوچھا جائے گا۔
    n/a
    کہ وہ کس گناہ پر ماری گئی؟
    عرب جاہلی میں بعض اجڈاور سنگ دل باپ کبھی فقر کے اندیشے سے اور کبھی اِس غیرت میں کہ کوئی شخص اُن کا داماد بنے گا، اپنی بیٹیوں کو زندہ قبروں میں دفن کر دیتے تھے۔ یہ اِسی جاہلیت کی طرف اشارہ ہے۔ اِس سے مقصود اِس بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے دادرسی کے مستحق وہ معصوم ہوں گے جو اُن لوگوں کے ہاتھوں ظلم کا شکار ہوئے جنھیں خدا نے اُن کا محافظ بنایا تھا۔
    جب دفتر کھولے جائیں گے۔
    اور اِس کے نتیجے میں لوگوں کے اعمال ناموں میں رقم اُن کا سارا کچا چٹھا اُن کے سامنے آ جائے گا۔
    جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔
    اصل میں لفظ ’کُشِطَتْ‘ استعمال ہوا ہے۔ اونٹ کی کھال کھینچ لینے کے لیے یہ عربی زبان کا ایک معروف لفظ ہے۔ کھال اتار لینے کے بعد ذبیحہ کا گوشت سرخ سرخ نظر آتا ہے۔ قرآن نے یہ اِسی سے آسمان کے سرخ ہو جانے کو تعبیر کیا ہے۔ آگے کی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کی یہ سرخی غالباً جہنم کے بھڑکتے شعلوں کے سبب سے ہو گی۔
    جب دوزخ دہکائی جائے گی۔
    یعنی جب مجرموں کو اُس میں ڈالنے کا وقت قریب ہو گا تو اُن کو جلانے کے لیے وہ خاص طور پر بھڑکا دی جائے گی۔
    جب بہشت قریب لے آئی جائے گی۔
    یعنی اہل جنت کی تشریف کے لیے وہ اُن کے سامنے پیش کر دی جائے گی۔
    اُس وقت (لوگو، تم میں سے) ہر شخص یہ جان لے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے۔
    n/a


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List