Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • عبس (He Frowned)

    42 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ النّٰزعٰت ۔۔۔ کے جوڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ اسلوب بیان اور مواد استدلال میں بھی دونوں کے اندر نہایت واضح یکسانی ہے۔ مطالب کی ترتیب میں البتہ تبدیلی ہوئی ہے جس سے ایک نیا حسن اس میں پیدا ہو گیا ہے اور دراصل یہی واحد چیز ہے جو اس سورہ کو سابق سورہ سے ممتاز کرنے والی ہے۔ آپ دونوں کو سامنے رکھ کر آسانی سے ان کے مابہ الاشتراک اور مابہ الاختلاف کو معین کر سکتے ہیں۔

    سابق سورہ کے آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے یہ جو فرمایا ہے کہ

    إِنَّمَا أَنۡتَ مُنۡذِرُ مَنۡ یَخْشَاہَا‘ (۴۵)

    (تم تو بس انہی لوگوں کو قیامت سے ڈرا سکتے ہو جو اس سے ڈرنے والے ہوں)

    اسی مضمون سے اس سورہ کی تمہید استوار فرمائی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بانداز عتاب قریش کے ان متمردین کے پیچھے وقت ضائع کرنے سے روک دیا ہے جو ایمان نہ لانے کے روز روز نئے نئے بہانے تلاش کرتے اور نازک مزاجی میں اس حد تک بڑھ گئے تھے کہ آپ سے مطالبہ کرتے تھے کہ جب تک آپ اپنے غریب ساتھیوں کو اپنے پاس سے ہٹا نہیں دیں گے اس وقت تک وہ آپ کی مجلس میں بیٹھنے کے روادار نہیں ہوں گے۔ اس پوری سورہ میں انہی متمردین پر نہایت شدت سے عتاب ہے۔ اگرچہ خطاب بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن عتاب کا رخ تمام تر قریش کے فراعنہ ہی کی طرف ہے۔

  • عبس (He Frowned)

    42 آیات | مکی
    النٰزعٰت - عبس

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں قریش کی قیادت کو اُس کے جس رویے پر تنبیہ ہے، دوسری میں اُسی پر ایک خاص واقعے کے پس منظر میں اِس شدت سے عتاب ہے کہ سورہ کی ہر آیت سے گویا ابلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

    دوسری سورہ میں خطاب اگرچہ بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے، لیکن روے سخن اگر غور کیجیے تو دونوں سورتوں میں فراعنۂ قریش کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ میں استدلال آفاق کے آثار و شواہد اور تاریخ کے حقائق سے ہے۔

    دوسری سورہ میں آفاقی دلائل کے ساتھ انسان کی خلقت میں خدا کی قدرت و حکمت کی نشانیوں کو بھی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

    دونوں سورتوں کا موضوع قیامت کا اثبات،اُس کے حوالے سے قریش کو انذار اور اُس کے بارے میں اُن کے رویے پر اُنھیں تنبیہ ہے۔

    دوسری سورہ میں یہ تنبیہ، البتہ نہایت سخت عتاب کی صورت اختیار کر گئی ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 080 Verse 001 Chapter 080 Verse 002 Chapter 080 Verse 003 Chapter 080 Verse 004
    Click translation to show/hide Commentary
    تیوری چڑھائی اور منہ پھیر لیا۔
    n/a
    اِس پر کہ اُس کی مجلس میں وہ نابینا آ گیا۔
    روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نابینا سے مراد یہاں ام المومنین سیدہ خدیجہ کے پھوپھی زاد بھائی عبداللہ بن ام مکتوم ہیں۔ قریش کے سرداروں کے ساتھ آپ کی ایک مجلس میں یہ اچانک تشریف لے آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اِن کا آنا غالباً اِس لیے ناگوارہوا کہ مبادا قریش کے سردار اُنھیں دیکھ کربدک جائیں اور اِس طرح اپنی دعوت پہنچانے کا جو موقع آپ کو میسر ہوا ہے، وہ ضائع ہو جائے۔ سورہ کے لب و لہجے سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ نابینا سے بے رخی برتنے پر اِس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر عتاب فرمایا گیا ہے، لیکن پوری سورہ پر تدبر کیجیے تو صاف واضح ہوجاتا ہے کہ عتاب کا رخ اصلاً فراعنۂ قریش کی طرف ہے۔شروع میں غائب کا اسلوب بھی اِسی لیے اختیار فرمایا ہے کہ براہ راست خطاب کی صورت میں تنبیہ تنبیہ نہ رہتی، فی الواقع عتاب بن جاتی،دراں حالیکہ معاملہ اِس سے زیادہ نہ تھا کہ خداکی خوشنودی کے لیے اپنی ذمہ داری کی حد سے آپ کچھ آگے بڑھ گئے تھے۔ اِس میں نفس کی کسی خواہش یا اخلاق کی کسی پستی کا، معاذ اللہ، کوئی شائبہ نہ تھا۔ چنانچہ آگے کی آیتوں سے واضح ہے کہ آپ کو یہاں جس بات پر توجہ دلائی گئی ہے، وہ صرف یہ ہے کہ قریش کے سرداروں کے معاملے میں اُس سے زیادہ ذمہ داری آپ نے اپنے اوپر لے لی، جتنی خدا کی طرف سے آپ پر ڈالی گئی ہے۔ آپ نے اُن تک دعوت پہنچا دی،آپ کا فرض پورا ہو گیا۔ اِن ناقدروں کے پیچھے اب اپنے ساتھیوں کی حق تلفی آپ کو نہیں کرنی چاہیے۔ سدھرنے اور نصیحت پانے کے لیے جولوگ آپ کی مجلس میں آتے ہیں، وہی آپ کے التفات کے حق دار ہیں۔ یہ جو بے پروائی برت رہے ہیں، اِن کو اب اِن کے حال پر چھوڑیے۔ اِن کی کوئی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔ امام حمید الدین فراہی نے اپنی تفسیر سورۂ عبس میں عتاب کے اِس رخ کو ایک تمثیل سے سمجھایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’اِس کو ایک مثال سے سمجھو۔ فرض کرو، ایک نہایت مستعد اور فرض شناس چرواہا ہے۔ اُس کے گلے کی کوئی فربہ بھیڑ گلے سے الگ ہو کر کھو جاتی ہے ۔ چرواہا اُس کی تلاش میں نکلتا ہے، ہر قدم پر اُس کی کھر کے نشانات ملتے جا رہے ہیں، جنگل کے کسی گوشے سے اُس کی آواز بھی آ رہی ہے۔ اِس طرح وہ کامیابی کی امیدمیں دور تک نکل جاتا ہے اور اپنے اصل گلے سے کچھ دیر کے لیے غافل ہو جاتا ہے۔ جب وہ لوٹتا ہے تو آقا اُس کو ملامت کرتا ہے کہ تم پورے گلے کو چھوڑ کر ناحق ایک دیوانی بھیڑ کے پیچھے ہلکان ہوئے۔ اُس کو چھوڑ دیتے، بھیڑیا کھا جاتا، وہ اِسی کے لائق تھی۔ بتاؤ، اِس میں عتاب کس پر ہوا؟ چرواہے پر یا کھوئی ہوئی بھیڑ پر۔ بالکل یہی صورت معاملہ یہاں بھی ہے۔ عتاب کا رخ بظاہر تو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ضرور ہے، لیکن غصے کا سارا زور منکرین و مخالفین پر ہے۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو اِس عتاب کے اندر نہایت دل نواز شفقتیں مضمر ہیں۔‘‘(نظام القرآن۲۸۰)  
    تمھیں کیا معلوم، (اے پیغمبر) کہ شاید وہ (پوچھتا اور) سدھرتا۔
    n/a
    یا (تم سناتے)، وہ نصیحت سنتا اور یہ نصیحت اُس کے کام آتی۔
    n/a


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List