Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • النازعات (Those Who Tear Out, Those Who Drag Forth, Soul-snatchers)

    46 آیات | مکی
    سورہ کا عمود

    اس سورہ میں بھی قریش کے متمردین کو انذار ہے جو عذاب اور قیامت کو بالکل بعید از امکان، محض ایک دھمکی خیال کرتے تھے۔ ہواؤں اور بادلوں کے عجائب تصرفات شہادت میں پیش کر کے ان کو آگاہ فرمایا ہے کہ اپنے آپ کو خدا کی پکڑ سے محفوظ نہ سمجھو اور رسول کو جھٹلانے کی جسارت نہ کرو۔ تم اسی وقت تک محفوظ ہو جب تک خدا نے تم کو مہلت دے رکھی ہے۔ جونہی یہ مہلت ختم ہوئی خدا کی پکڑ میں آ جاؤ گے اور اس کے لیے خدا کو کوئی اہتمام نہیں کرنا پڑے گا۔ یہی ہوائیں اور یہی بادل جو ہر جگہ موجود اور تمہاری زندگی کے لیے ناگزیر ہیں، قہر الٰہی کی شکل اختیار کر لیں گے اور تمہیں جڑ پیڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔

    تمہید اور مطالب کے اعتبار سے یہ سورہ، سورۂ ذاریات اور سورۂ مرسلات سے ملتی جلتی ہوئی ہے۔ دنیا میں خدا کی پکڑ اور اس کی قدرت و ربوبیت کی جو شانیں بالکل نمایاں ہیں وہ اس امر کی نہایت واضح دلیل ہیں کہ ایک ایسا دن لازماً آنے والا ہے جس میں اللہ تعالیٰ ان سرکشوں کو سزا دے گا جنھوں نے اس کے حکموں سے سرتابی کی اور ان لوگوں کو اپنی ابدی رحمت سے نوازے گا جو اپنے رب کے حضور پیشی سے ڈرتے اور اپنی خواہشوں کو لگام لگاتے رہے۔

  • النازعات (Those Who Tear Out, Those Who Drag Forth, Soul-snatchers)

    46 آیات | مکی
    النٰزعٰت - عبس

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں قریش کی قیادت کو اُس کے جس رویے پر تنبیہ ہے، دوسری میں اُسی پر ایک خاص واقعے کے پس منظر میں اِس شدت سے عتاب ہے کہ سورہ کی ہر آیت سے گویا ابلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

    دوسری سورہ میں خطاب اگرچہ بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے، لیکن روے سخن اگر غور کیجیے تو دونوں سورتوں میں فراعنۂ قریش کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ میں استدلال آفاق کے آثار و شواہد اور تاریخ کے حقائق سے ہے۔

    دوسری سورہ میں آفاقی دلائل کے ساتھ انسان کی خلقت میں خدا کی قدرت و حکمت کی نشانیوں کو بھی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

    دونوں سورتوں کا موضوع قیامت کا اثبات،اُس کے حوالے سے قریش کو انذار اور اُس کے بارے میں اُن کے رویے پر اُنھیں تنبیہ ہے۔

    دوسری سورہ میں یہ تنبیہ، البتہ نہایت سخت عتاب کی صورت اختیار کر گئی ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 079 Verse 001 Chapter 079 Verse 002 Chapter 079 Verse 003 Chapter 079 Verse 004 Chapter 079 Verse 005
    Click translation to show/hide Commentary
    ہوائیں گواہی دیتی ہیں جڑ سے اکھاڑنے والی۔
    اصل میں لفظ ’نٰزِعٰت‘ آیاہے۔ سورۂ قمر (۵۴) کی آیت۲۰میں فرمایا ہے: ’تَنْزِعُ النَّاسَ کَاَنَّھُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ‘ ۔یہ اِسی فعل ’تَنْزِعُ‘ سے اسم صفت ہے۔ ’غَرْقًا‘ کا نصب مصدر کی وجہ سے ہے، اِس لیے کہ معنی کے لحاظ سے یہ اور ’نزعًا‘ کم و بیش مترادف ہیں۔
    اور وہ بھی جو بہت نرمی سے چلتی ہیں۔
    اصل میں ’نٰشِطٰت‘ ہے۔ یہ ’نشط‘ سے ہے جس کے معنی کسی کام کو نرمی کے ساتھ کرنے کے بھی آتے ہیں۔ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ یہ نرم رو اور آہستہ خرام ہواؤں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ سورۂ ذاریات (۵۱) کی آیت ۳میں اِسی مضمون کے لیے ’فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔استاذ امام لکھتے ہیں: ’’یہ امر واضح رہے کہ تند اور نرم رو ہواؤں کے عمل کی ظاہری نوعیت اگرچہ الگ تھلگ ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے عجائبات تصرف کی شانیں دونوں کے اندر نمایاں ہیں۔ سورۂ ذاریات میں سیاق کلام اور ہے، اِس وجہ سے ہوا کی نرم روی کا ذکر بارش کے مقدمے کے طور پر آیا ہے۔ یہاں اِس کا ذکر مستقلاً ہوا ہے، اِس وجہ سے یہ رحمت اور نقمت، دونوں کومحتمل ہے۔ رحمت کے لیے اِس کامحتمل ہوناتو بالکل واضح ہے کہ ہوا کی مروحہ جنبانی ہی زندگی اور راحت و نشاط کا ذریعہ ہے، لیکن اِس کا رحمت یا نقمت بننا کلیتاً اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔ وہ چاہتا ہے تو بعض اوقات اِس کی نرم روی کو بھی عذاب بنا دیتا ہے۔ چنانچہ آگے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کی سرگذشت بیان ہوئی ہے جس سے اِس حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے تند پوربی ہوا کے تصرف سے نجات دی اور اِسی ہوا کے سکون کو فرعون اور اُس کی فوجوں کی تباہی کا ذریعہ بنادیا۔‘‘(تدبرقرآن۹/ ۱۷۶)  
    اور (فضاؤں میں) تیرتے دوڑتے۔
    اصل میں لفظ ’سٰبِحٰت‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ ’سبح‘ سے ہے جس کے معنی تیرنے کے بھی آتے ہیں۔ ہواؤں کے ساتھ اِس کا ذکراشارہ کر رہا ہے کہ یہ بادلوں کی صفت کے طور پر آیا ہے۔ اِس کی جو دو صفتیں اِس کے بعد مذکور ہوئی ہیں، وہ’ف‘ کے ساتھ آئی ہیں۔ یہ واضح قرینہ ہے کہ یہ دونوں صفتیں اِسی کی ہیں اور اِن میں باہم دگر ترتیب بھی ہے۔
    پھر اِس دوڑ میں ایک دوسرے سے بڑھتے۔
    n/a
    پھر حکم کی تدبیر کرتے ہوئے بادل گواہی دیتے ہیں (کہ جس چیز کا وعدہ تم سے کیا جا رہا ہے، وہ ہو کر رہے گی)۔
    یہ وہی بات ہے جو سورۂ ذاریات (۵۱) کی آیات ۳۔۴ میں ’فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًا، فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا‘ کے الفاظ میں اور سورۂ مرسلات (۷۷) کی آیات ۴۔۵ میں ’فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًا، فَالْمُلْقِیٰتِ ذِکْرًا‘ کے لفظوں میں فرمائی ہے۔ ’فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا‘ کے معنی بالکل وہی ہیں جو ’فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا‘ کے ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’اِس سے پہلے ’فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا‘ کے الفاظ بادلوں کی اُس بھاگ دوڑ کی تصویرپیش کر رہے ہیں جو فضا میں اُس وقت نمایاں ہوتی ہے، جب اُن کے مختلف دستے ایک دوسرے پر سبقت کرتے دیکھے جاتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ سب اپنے غیبی حاکم کے حکم کی تعمیل میں سرگرم تگاپو ہیں اور ہر ایک اِس بات کا آرزومند ہے کہ امتثال امر میں اول نمبر اُسی کا رہے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۱۷۷) یعنی تاریخ میں اپنی اُن سرگذشتوں سے گواہی دیتے ہیں، جب یہ قوموں کے لیے کبھی عذاب اور کبھی رحمت بن کر برستے رہے۔ ہواؤں اور بادلوں کی گواہی یہاں قسم کے اسلوب میں بیان ہوئی ہے۔ یہ اِن قسموں کا مقسم علیہ ہے جو اصل میں بربناے وضاحت قرینہ حذف ہو گیا ہے۔  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List