Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • المرسلات (Those Sent Forth, The Emissaries, Winds Sent Forth)

    50 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ اپنے عمود، تمہید اور طرزاستدلال کے اعتبار سے چھٹے گروپ کی سورۂ ذاریات سے اور اپنے اسلوب بیان اور مزاج میں سورۂ رحمان سے مشابہ ہے۔ سورۂ ذاریات میں، بطریق قسم، ہواؤں کے عجائب تصرفات سے عذاب اور قیامت پر استدلال کیا گیا ہے اور عمود اس کا ’إِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ ۵ وَّإِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ‘ ہے۔؂۱ اسی طرح اس سورہ میں بھی ہواؤں کے عجائب تصرفات کی بطور شہادت قسم کھا کر فرمایا ہے کہ ’إِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَوَاقِعٌ‘ (بے شک جس چیز کی تمہیں وعید سنائی جا رہی ہے وہ ایک امرشدنی ہے)۔

    مزاج اور اسلوب کلام میں سورۂ رحمان سے اس کی مشابہت یوں ہے کہ جس طرح وہ ترجیع والی سورتوں میں سے ہے، آیت ’فَبِأَیِّ آلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ‘ اس میں بار بار آئی ہے، اسی طرح اس سورہ میں آیت ’وَیْْلٌ یَوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ‘؂۲ دس بار آئی ہے۔ ترجیع والی سورتوں کے باب میں، یہ اصولی حقیقت سورۂ رحمان کی تفسیر میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ ان میں خطاب بالعموم ان ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں سے ہے جو ایک واضح حقیقت کو محض مکابرت اور انانیت کی بنا پر، جھٹلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے کان اور آنکھیں کھولنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ متکلم صرف اپنے دلائل بیان کر دینے ہی پر اکتفا نہ کرے بلکہ ہر دلیل کے بعد بطور تنبیہ ان کے جرم اور انجام سے ان کو آگاہ بھی کرتا رہے۔ مخاطب کے اس مزاج کی رعایت ملحوظ نہ رکھی جائے تو جس طرح مریض کے مزاج سے ناواقف معالج کی دوا بے اثر رہ جاتی ہے اسی طرح مخاطب کے مزاج سے ناآشنا متکلم کا کلام بھی بے اثر ہو کے رہ جاتا ہے۔ مخاطبوں کے مزاج کا اختلاف ایک امر فطری ہے اس وجہ سے اس کا لحاظ بلاغت کلام کا ایک لازمی تقاضا ہے۔ جو لوگ اس نکتہ سے نا آشنا ہیں وہ قرآن کی اس نوع کی ترجیعات کو تکرار پر محمول کرتے ہیں حالانکہ کلام کے ادا شناس جانتے ہیں کہ قرآن میں ہر ترجیع اپنے محل میں انگشتری پر نگینہ کا حسن رکھتی ہے۔

    سابق سورہ سے اس کے تعلق کی نوعیت یہ ہے کہ اس میں استدلال کی اصل بنیاد نفس انسانی کی شہادت پر ہے۔ فطرت کے اندر خیر و شر کے درمیان امتیاز کی جو صلاحیت ودیعت ہے اس کی اساس پر جزا و سزا کو ثابت کر کے ایک روز جزا سے ان لوگوں کو ڈرایا گیا ہے جو اس بدیہی حقیقت کو جھٹلائیں اور ان لوگوں کو بشارت دی گئی ہے جو اپنے باطن کی گواہی قبول کریں اور اپنی زندگیاں اس کے تقاضوں کے مطابق سنواریں۔ اس سورہ میں اصل استدلال آفاق کے آثار و شواہد سے ہے۔ کسی انفسی دلیل کا حوالہ ہے تو محض اشارۃً۔ گویا نوعیت استدلال دونوں میں الگ الگ ہے، موضوع کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ البتہ مزاج میں یہ فرق بالکل واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ سابق میں بشارت کا پہلو نمایاں ہے اور اس میں انذار کا۔ اس کی سب سے بڑی شہادت اس کی ترجیع سے ملتی ہے۔

    _____
    ؂۱ جس عذاب کی تمہیں وعید سنائی جا رہی ہے وہ سچی ہے اور جزاء و سزا ایک امر شدنی ہے۔
    ؂۲ تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی۔

  • المرسلات (Those Sent Forth, The Emissaries, Winds Sent Forth)

    50 آیات | مکی
    المرسلات - النبا

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ آفاق کے آثار و شواہد، تاریخ کے حقائق اور انسان کی خلقت میں خدا کی قدرت و حکمت کی نشانیوں سے قیامت کو ثابت کرتی ہے، دوسری میں یہی دعویٰ آفاق میں بالخصوص خدا کی ربوبیت کے آثار و شواہد سے ثابت کیا گیا ہے۔ دونوں میں دلائل کے پہلو بہ پہلو زجر و توبیخ اور تہدید و ملامت، ہر آیت سے نمایاں ہے۔

    روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں سورتوں کا موضوع قیامت کا اثبات اور اُس کے حوالے سے قریش کو انذار ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 077 Verse 001 Chapter 077 Verse 002 Chapter 077 Verse 003 Chapter 077 Verse 004 Chapter 077 Verse 005 Chapter 077 Verse 006 Chapter 077 Verse 007
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ ہوائیں جن کی باگ چھوڑ دی جاتی ہے۔
    اصل الفاظ ہیں: ’وَالْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا‘۔ ’مُرْسَلٰت‘ کے معنی چھوڑی ہوئی کے ہیں۔ یہ لفظ یہاں ہواؤں کے لیے آیا ہے۔ ’عُرْف‘ ایال کے اُن بالوں کے لیے آتا ہے جو گھوڑوں کی پیشانی پر لٹکے ہوئے ہوتے ہیں۔ اِن بالوں کو پکڑ کر گھوڑوں کو روکا بھی جا سکتا ہے اور اِن کو چھوڑ کر اُنھیں جولانی کے لیے چھوڑا بھی جا سکتا ہے۔ قرآن نے یہاں ہواؤں کو گھوڑوں سے اور اُنھیں چھوڑ دینے کوگھوڑوں کی ایال چھوڑ دینے سے تعبیر کرکے غایت درجہ بلاغت کے ساتھ اِس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ ہوائیں خود مختار نہیں ہیں۔ اِن کی پیشانی خدا کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جب چاہتا ہے، اِنھیں روک لیتا ہے اور جب چاہتا ہے ، چھوڑ دیتا ہے۔
    پھر وہ اندھا دھند غبار اڑاتی ہیں۔
    n/a
    اور یہ ہوائیں جو بادلوں کو اٹھا کر پھیلاتی ہیں۔
    اصل میں ’وَالنّٰشِرٰتِ نَشْرًا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس سے پچھلی آیت میں ’عٰصِفٰت‘ کا عطف ’ف‘ کے ساتھ ہے۔ قرآن نے ’النّٰشِرٰت‘ کو ’و‘ کے ساتھ عطف کرکے واضح کردیا ہے کہ ہواؤں کی پہلی قسم سے یہ دوسری قسم الگ ہے۔ پہلی قسم طوفانی ہواؤں کی ہے جو تند ہو کر بستیوں کے لیے عذاب بن جاتی ہیں۔ یہ دوسری قسم اُن ہواؤں کی ہے جو رحمت کے بادل اپنے دوش پر اٹھا کر لاتی ہیں، پھر اُنھیں فضا میں پھیلا دیتی ہیں۔
    پھر بانٹ کر الگ الگ معاملہ کرتی ہیں۔
    یعنی کسی جگہ بادل ہانک کر لاتی ہیں، کسی جگہ سے اُنھیں اڑا لے جاتی ہیں۔ ایک جگہ برسا دیتی ہیں، دوسری کو پیاسا چھوڑ جاتی ہیں۔ یہاں یہ امرملحوظ رہے کہ یہ سب معاملات چونکہ ’نشر‘ کے بعد اور اِس کے ذریعے سے ہوتے ہیں، اِس وجہ سے ’فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًا‘ اور ’فَالْمُلْقِیٰتِ ذِکْرًا‘ اصل میں ’ف‘ کے ساتھ عطف ہوئے ہیں۔
    پھر (دلوں میں) یاد دہانی ڈالتی ہیں۔
    یعنی الگ الگ معاملہ کر کے انسانوں پر خدا کے اختیار مطلق کی یاددہانی دلوں میں ڈالتی ہیں۔
    کسی پر اتمام حجت اور کسی کو انذار کے لیے، یہ گواہی دیتی ہیں۔
    اِس مفہوم کے لیے اصل میں ’عُذْرًا اَوْ نُذْرًا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں حرف ’اَوْ‘ تقسیم کے لیے ہے، یعنی اتمام حجت اُن کے لیے جو غفلت کی سرمستی میں پڑے رہنا چاہتے ہیں اور انذار اُن کے لیے جو یاددہانی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یعنی اِس طرح خدا کے اختیار مطلق اور اُس کے عذاب و ثواب کی علامت بن کر گواہی دیتی ہیں۔
    کہ جس عذاب کا وعدہ تم سے کیا جا رہا ہے، وہ آ کر رہے گا۔
    n/a


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List