Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الانسان (Man, Human)

    31 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ القیٰمۃ ۔۔۔ کی توام ہے۔ سابق سورہ جس مضمون پر ختم ہوئی ہے اسی مضمون سے اس کا آغاز ہوا ہے۔ اُس کی آخری چار اور اس کی ابتدائی تین آیتوں پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ دونوں نے ایک حلقۂ اتصال کی شکل اختیار کر لی ہے اور یہ چیز توام سورتوں میں بالعموم نمایاں ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔

    دونوں کا عمود بالکل ایک ہی ہے، البتہ نہج استدلال اور طریق بحث دونوں میں الگ الگ ہے۔ پہلی میں قیامت کی دلیل انسان کے اندر نفس لوامہ کے وجود سے پیش کی گئی ہے اور اس میں یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر سمع و بصر کی جو صلاحیت ودیعت فرمائی ہے اور اس کو خیر و شر کے درمیان امتیاز کی جو قابلیت بخشی ہے اس کا بدیہی تقاضا ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں ان لوگوں کو داد ملے جنھوں نے ان اعلیٰ صلاحیتوں کا حق پہچانا اور اپنے پروردگار کے شکرگزار رہے اور وہ لوگ اپنے اندھے پن کی سزا بھگتیں جنھوں نے ان کی ناقدری کر کے کفر کی راہ اختیار کی۔ اگر یہ جزا و سزا نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک، العیاذ باللہ، شاکر اور کافر دونوں برابر ہیں۔

    بعض مصاحف میں اس سورہ کو مدنی ظاہر کیا گیا ہے۔ لیکن پوری سورہ کا مدنی ہونا تو الگ رہا اس کی ایک آیت کے بھی مدنی ہونے کا کوئی قرینہ نہیں ہے۔ سورتوں کے مکی یا مدنی ہونے کا فیصلہ کرنے کے لیے اصلی کسوٹی ان کے مطالب و مضامین ہیں۔ آگے مطالب کا تجزیہ بھی آپ کے سامنے آئے گا اور آیات کی تفسیر بھی ان سے واضح ہو جائے گا کہ جن لوگوں نے اس کو مدنی خیال کیا ہے ان کے خیال کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

  • الانسان (Man, Human)

    31 آیات | مدنی
    القیامۃ - الدھر

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ نفس لوامہ کی شہادت سے قیامت کو ثابت کرتی ہے، دوسری میں یہی دعویٰ انسان کے وجود میں خیر و شر کے الہام سے ثابت کیا گیا ہے۔ پہلی میں انذار اور دوسری میں بشارت کا پہلو نمایاں ہے۔ دونوں سورتوں میں خطاب اصلاً قریش کے سرداروں سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں سورتوں کا موضوع قیامت کا اثبات اور اِس کے حوالے سے قریش کو انذار ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 076 Verse 001 Chapter 076 Verse 002 Chapter 076 Verse 003
    Click translation to show/hide Commentary
    کیا انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی گزرا ہے کہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا؟
    استفہام کا یہ اسلوب اُس وقت اختیار کیا جاتا ہے ، جب مخاطب سے کوئی ایسی بات منوانا پیش نظر ہو، جو اگرچہ بالبداہت واضح ہو اور مخاطب اُسے تسلیم بھی کرتا ہو، لیکن عملاً اُس سے انحراف پر مصر ہو۔ اِس میں گلہ، شکایت، غصہ، رنج، ملامت، اپیل اور یاددہانی ، سب مضامین پنہاں ہوتے ہیں جو سادہ خبریہ اسلوب میں ادا نہیں ہو سکتے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...اِس سوال سے مقصود انسان کی قوت فکر کو حرکت میں لانا ہے کہ وہ سوچے کہ آخر قدرت نے اُس پر یہ اہتمام کیوں صرف فرمایا؟ اُس کو اِن اعلیٰ صلاحیتوں سے کیوں نوازا؟ کیا محض اِس لیے کہ وہ کھائے پیے اور ایک دن ختم ہو جائے! کیا اِن صلاحیتوں سے متعلق اُس پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی؟ کیا جس نے اِس اہتمام سے اُس کو وجود بخشا، اُس کا کوئی حق اُس پر قائم نہیں ہوتا؟ یہ سوالات ہر اُس شخص کے اندر پیدا ہونے چاہییں جو اپنے وجود پر غور کرے۔ اپنا وجود انسان سے سب سے زیادہ قریب بھی ہے اور اُس کی ہر چیز انسان کو دعوت فکر بھی دیتی ہے۔ آیت کے استفہامیہ اسلوب نے اِس حس فکر کو بیدار کرنا چاہا ہے کہ انسان کی نظروں سے خدا اوجھل ہے تو اُس کا اپنا وجود تو اوجھل نہیں ہے ، وہ خود اپنے اندر خدا کی قدرت و حکمت اور اُس کے عدل و رحمت کی نشانیاں دیکھ سکتا ہے۔ اِسی طرح اگر وہ غور کرے تو یہ حقیقت بھی اُس پر روشن ہو جائے گی کہ ہر چند اُس نے قیامت ابھی دیکھی نہیں، لیکن خود اُس کے نفس کے اندر قیامت کے شواہد اور اُس کے دلائل اتنے واضح ہیں کہ وہ اُن کا انکار نہیں کر سکتا، بشرطیکہ وہ بالکل ہٹ دھرم اور کج رو نہ ہو۔‘‘ (تدبرقرآن ۹/ ۱۰۶)  
    یہ حقیقت ہے کہ ہم نے انسان کو پانی کی ایک ملی جلی بوند سے پیدا کیا ہے۔ ہم اُس کو الٹتے پلٹتے رہے، یہاں تک کہ ہم نے اُس کو دیکھتا سنتا بنا دیا۔
    اصل میں لفظ ’اَمْشَاج‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ ’مشج‘ اور ’مشیج‘ کی جمع ہے اور اُن الفاظ میں سے ہے جو جمع ہونے کے باوجود مفرد کی صفت کے طور پر آتے ہیں۔ ملی جلی بوند سے اُس کا مختلف قویٰ وعناصر سے مرکب ہونا بھی مراد ہو سکتا ہے اور مرد و عورت کے نطفوں کا امتزاج بھی۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ جہاں مختلف عناصر اور متضاد طبائع اور مزاجوں کا امتزاج ہو، وہاں اُن کے اندر ایسا اعتدال و توازن برقرار رکھنا کہ پیش نظر مقصد کے مطابق صالح نتیجہ برآمد ہو، بغیر اِس کے ممکن نہیں کہ یہ کام ایک حکیم و قدیر کی نگرانی میں ہو۔ کسی اتفاقی حادثے کے طور پر اِس طرح کے حکیمانہ کام کا وقوع ممکن نہیں ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۱۰۷) اصل میں لفظ ’نَبْتَلِیْہِ‘ آیا ہے۔ یہ تالیف کے لحاظ سے حال ہے۔ ’ابتلاء‘ کے معنی لغت میں جانچنے پرکھنے کے ہیں۔ اِس کے لیے چونکہ بالعموم کسی چیز کو مختلف پہلوؤں سے الٹ پلٹ کر دیکھا جاتا ہے، اِس لیے یہیں سے اِس میں مختلف اطوار سے گزارنے کا مفہوم پیدا ہو گیا ہے۔ انسان کی تخلیق کے یہ اطوار سورۂ حج (۲۲) کی آیت ۵ اور سورۂ مومنون (۲۳) کی آیات ۱۲۔۱۴ میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ یہ قطرہ بہت سے مراحل سے گزر کر گوہر ہوا ہے اور ہر مرحلے میں ہم نے اِسے اچھی طرح جانچا ہے کہ جس دور میں جو صلاحیت اِس کے اندر پیدا ہونی چاہیے، اُس کا امتحان ہوجائے اور اُس کے بعد یہ اگلے مرحلے میں داخل ہو۔ یہ انسان کی تمام اعلیٰ صفات کی نہایت جامع تعبیر ہے۔ یہی انسان کا اصلی امتیاز ہے اور اِسی بنا پر وہ ارادہ و اختیار کی نعمت سے نوازا گیا ہے۔  
    ہم نے اُسے خیر و شر کی راہ سجھا دی۔ اب وہ چاہے شکر کرے یا کفر کرے۔
    یہ انسان کو سمیع و بصیر بنانے کا ثمرہ بیان ہوا ہے۔ استاذ امام کے الفاظ میں ، انسان اِس کے نتیجے میں اپنے اوپر خیراور شر کا گواہ بن گیا ہے اور اُس کے پاس بدی کی راہ اختیار کرنے کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہ گیا۔ یہ انسان کے ارادہ و اختیار کا بیان ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List