Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • القیامۃ (The Day of Resurrection, Rising Of The Dead)

    40 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ بھی، گروپ کی سابق سورتوں کی طرح، انذار قیامت کی سورہ ہے۔ سابق سورہ کا خاتمہ اس مضمون پر ہوا ہے کہ اس یاددہانی سے اعراض کرنے والوں کے اعراض کی اصل وجہ یہ ہے کہ انسان کے اندر نیکی اور بدی کا جو شعور اللہ تعالیٰ نے ودیعت فرمایا ہے یہ سرگشتگان دنیا اس کو ضائع کر بیٹھے ہیں۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ جو لوگ اس کو زندہ رکھتے ہیں ان کو مزید ہدایت و روشنی نصیب ہوتی ہے اور جو اس کو ضائع کر بیٹھتے ہیں وہ ایسے اندھے بہرے بن جاتے ہیں کہ ان پر کوئی تذکیر بھی کارگر نہیں ہوتی۔

    اس سورہ میں اسی حقیقت کو اچھی طرح مبرہن کر دینے کے لیے نفس لوامہ کی، جو ہر انسان کی فطرت کے اندر ودیعت ہے، اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے اور اس کو قیامت کے ثبوت میں ایک دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ انسان کے اندر ایک مخفی زاجر کی حیثیت رکھتا ہے جو اس کو، جب وہ کسی بدی کا ارتکاب کرتا ہے، ملامت اور سرزنش کرتا ہے۔ انسان کے اندر اس کا پایا جانا نہایت واضح ثبوت ہے اس بات کا کہ وہ اس دنیا میں مطلق العنان اور غیر مسؤل بنا کر نہیں چھوڑا گیا کہ چاہے وہ نیکی کرے یا بدی اس کے خالق کو اس سے کچھ بحث نہ ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اس کے اندر اس طرح کے کسی زاجر کو بٹھانے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ انسان ایک عالم اصغر ہے اس کے اندر نفس لوامہ کا پایا جانا اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس عالم اکبر کے اندر بھی ایک نفس لوامہ ہے جس کو قیامت کہتے ہیں۔ وہ ایک دن ظہور میں آئے گی اور ان تمام لوگوں کو ان کی بد اعمالیوں پر سرزنش کرے گی جنھوں نے اپنے اندر کے مخفی زاجر کی تنبیہات کی پروا نہ کی۔

    اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کی عدالت کبریٰ کا ایک عکس ہر انسان کے اپنے وجود کے اندر نفس لوامہ کی عدالت صغریٰ کی شکل میں موجود ہے جس کے معنی دوسرے لفظوں میں یہ ہوئے کہ جو شخص کوئی برائی کرتا ہے وہ کہیں پس پردہ نہیں کرتا بلکہ خدا کی عدالت کے دروازے پر اور اس کے مقرر کیے ہوئے کوتوال کے روبرو کرتا ہے۔ چنانچہ نفس لوامہ کی شہادت پیش کرنے کے بعد فرمایا کہ

    بَلْ یُرِیْدُ الْإِنسَانُ لِیَفْجُرَ أَمَامَہٗ‘ (۵)

    (بلکہ انسان اپنے ضمیر کے روبرو شرارت کرنا چاہتا ہے)۔

    اسی حقیقت کی وضاحت آگے کی آیات میں یوں فرمائی ہے کہ

    بَلِ الْإِنسَانُ عَلَی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ ۵ وَلَوْ أَلْقٰی مَعَاذِیْرَہٗ‘ (۱۴-۱۵)

    (بلکہ انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے اگرچہ وہ کتنے ہی عذرات تراشے)۔

    یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ جدید فلسفۂ اخلاق کے ماہروں نے بھی چند بنیادی نیکیوں کا نیکی ہونا اور چند معروف برائیوں کا برائی ہونا بطور اصول موضوعہ تسلیم کر کے اپنی بحث کا آغاز کیا ہے۔ اگرچہ وہ یہ نہیں بتا سکے کہ ان نیکیوں کا نیکی یا ان برائیوں کا برائی ہونا انھوں نے کہاں سے جانا جس کے سبب سے ان کی ساری عمارت بے بنیاد رہ گئی ہے لیکن یہ حقیقت انھیں تسلیم ہے کہ بنیادی نیکیوں اور بنیادی برائیوں کے شعور سے انسان محروم نہیں ہے۔ قرآن نے اس سورہ میں اس حقیقت سے یوں پردہ اٹھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کے اندر نہ صرف نیکی اور بدی کا شعور ودیعت فرمایا ہے بلکہ اس کے اندر ایک مخفی زاجر (ضمیر) بھی رکھا ہے جو برائیوں کے ارتکاب پر اس کو سرزنش کرتا اور نیکیوں پر اس کو شاباش دیتا ہے اور پھر اسی نفسیاتی حقیقت پر اس نے قیامت اور جزا و سزا کی دلیل قائم کی ہے کہ جس فاطر نے ہر انسان کے نفس کے اندر اس کی بدعملی پر سرزنش اور اس کی نیکی پر تحسین کے لیے یہ اہتمام فرمایا ہے یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ اس مجموعی کائنات کے لیے کوئی ایسا دن نہ لائے جس میں اس پوری دنیا کا محاسبہ ہو اور ہر شخص اپنی نیکیوں کا صلہ اور اپنی بدیوں کی سزا پائے۔

  • القیامۃ (The Day of Resurrection, Rising Of The Dead)

    40 آیات | مکی
    القیامۃ - الدھر

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ نفس لوامہ کی شہادت سے قیامت کو ثابت کرتی ہے، دوسری میں یہی دعویٰ انسان کے وجود میں خیر و شر کے الہام سے ثابت کیا گیا ہے۔ پہلی میں انذار اور دوسری میں بشارت کا پہلو نمایاں ہے۔ دونوں سورتوں میں خطاب اصلاً قریش کے سرداروں سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں سورتوں کا موضوع قیامت کا اثبات اور اِس کے حوالے سے قریش کو انذار ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 075 Verse 001 Chapter 075 Verse 002 Chapter 075 Verse 003 Chapter 075 Verse 004 Chapter 075 Verse 005 Chapter 075 Verse 006
    Click translation to show/hide Commentary
    (یہ قیامت کو جھٹلاتے ہیں)؟ نہیں، میں قیامت کے دن کو گواہی میں پیش کرتا ہوں۔
    ہم اپنی زبان میں فوراً کسی بات کی تردید کرنا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں: نہیں، خدا کی قسم اصل بات یوں ہے۔ یہ بالکل اِسی طرح کا اسلوب ہے۔ لہٰذا ’نہیں‘ یہاں گواہی کی نفی کے لیے نہیں، بلکہ مخاطب کے اُس خیال کی نفی کے لیے آیا ہے جس کی تردید اِس گواہی سے پیش نظر ہے۔ اصل میں یہاں قسم کا اسلوب ہے جس کا مقسم علیہ محذوف ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ قسم خود مقسم علیہ پر اِس طرح دلالت کر رہی ہے کہ اُس کے اظہار کی ضرورت نہیں رہی۔ قسم کا یہ اسلوب اُس وقت اختیار کیا جاتا ہے، جب مخاطب کو یہ بتانا مقصود ہو کہ وہ جس چیز کو جھٹلا رہا ہے، وہ خود اپنے وجود پر اِس طرح گواہی دے رہی ہے کہ کسی عاقل کے لیے اُس سے انکار کی گنجایش نہیں ہے۔ گویا جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے، اُس نے بجاے خود دعویٰ اور دلیل اور قسم اور مقسم علیہ، دونوں کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔
    اور نہیں، میں (تمھارے اندر تمھارے) ملامت کرنے والے نفس کو گواہی میں پیش کرتا ہوں۔
    یہ پہلے ’نہیں‘ پر عطف ہے جس کی وضاحت اوپر ہوئی ہے۔ یہ دوسری قسم ہے ۔ اِس کا مقسم علیہ بھی حذف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر اُس کا ضمیر جو اُسے برائیوں پر متنبہ کرتا ہے، اپنے وجود ہی سے گواہی دیتا ہے کہ قیامت ہو کر رہے گی۔ اِس کی تقریر اِس طرح ہے کہ انسان کے اندر ایک ملامت کرنے والا نفس برائی پر سرزنش کے لیے ہر وقت موجود ہے۔ اُس کے باطن کی یہ عدالت ہر موقع پر اپنا بے لاگ فیصلہ سنا رہی ہے۔ اِس کے معنی ہی یہ ہیں کہ انسان شتر بے مہار نہیں ہے۔ پھر جب وہ شتر بے مہار نہیں ہے تو لازم ہے کہ اُس سے باز پرس ہو۔ قیامت کا دن اللہ تعالیٰ نے اِسی بازپرس کے لیے مقرر کر رکھا ہے جس کی خبر اُس کے پیغمبر ہمیشہ دیتے رہے ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...اگر انسان شتر بے مہار ہے تو یہ نفس لوامہ اُس کے اندر کہاں سے آ گھسا؟ اگر اُس کا خالق لوگوں کی نیکی اور بدی، دونوں سے بے تعلق ہے تو اُس نے نیکی کی تحسین اور بدی پر سرزنش کے لیے انسان کے اندر یہ خلش کیوں اور کہاں سے ڈال دی؟ پھر یہیں سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب اُس نے ہر انسان کے اندر یہ چھوٹی سی عدالت قائم کر رکھی ہے تو اُس پورے عالم کے لیے وہ ایک ایسی عدالت کبریٰ کیوں نہ قائم کرے گا جو سارے عالم کے اعمال خیر و شر کا احتساب کرے اور ہر شخص کو اُس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دے؟ اِن سوالوں پر جو شخص خواہشوں سے آزاد ہو کر غور کرے گا، وہ اِن کا یہی جواب دے گا کہ بے شک انسان کا اپنا وجود گواہ ہے کہ وہ خیر و شر کے شعور کے ساتھ پیدا ہوا ہے۔ وہ شتر بے مہار نہیں ہے، بلکہ اُس کے لیے لازماً ایک پرسش کا دن آنے والا ہے جس میں اُس کو اُس کی بدیوں کی سزا ملے گی، اگر اُس نے یہ بدیاں کمائی ہوں گی اور نیکیوں کا صلہ ملے گا، اگر اُس نے نیکیاں کی ہوں گی۔ اُسی دن کی یاددہانی ہی کے لیے خالق نے اُس کا ایک چھوٹا سا نمونہ خود انسان کے نفس کے اندر رکھ دیا ہے تاکہ انسان اُس سے غافل نہ رہے اور اگر کبھی غفلت ہوجائے تو خود اپنے نفس کے اندر جھانک کر اُس کی تصویر دیکھ لے۔ یہی حقیقت حکما اور عارفین نے یوں سمجھائی ہے کہ انسان ایک عالم اصغر ہے جس کے اندر اُس عالم اکبر کا پورا عکس موجود ہے۔ اگر انسان اپنے کو صحیح طور پر پہچان لے تو وہ خدا اور آخرت، سب کو پہچان لیتا ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۸۰)  
    کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ ہم اِس کی ہڈیوں کو جمع نہ کر سکیں گے؟
    روے سخن قریش کے منکرین کی طرف ہے، لیکن اُن سے اظہار بے زاری کے لیے بات ایک عام لفظ ’انسان‘ سے فرما دی ہے۔
    نہیں، ہم تو اِس کی پور پور درست کر سکتے ہیں۔
    اصل الفاظ ہیں: ’بَلٰی قٰدِرِیْنَ‘۔ ’قٰدِرِیْنَ‘ اِن میں ’نَجْمَعَ‘ کی ضمیر جمع سے حال واقع ہوا ہے۔
    (نہیں، یہ بات نہیں ہے)، بلکہ (حق یہ ہے کہ) انسان اپنے ضمیر کے روبرو شرارت کرنا چاہتا ہے۔
    یعنی یہ بات نہیں ہے کہ ہڈیوں کو جمع کرنا اِنھیں بعید از امکان نظر آتا ہے۔ یہ محض سخن سازی ہے جو حقیقت سے فرار کے لیے کی جا رہی ہے۔ یعنی ضمیر کی تذکیر و تنبیہ کے باوجود شرارت کرنا چاہتا ہے۔ اِس سے معلوم ہوا کہ جو شخص قیامت کو جھٹلاتا ہے، وہ درحقیقت اپنے آپ کو جھٹلاتا ہے، اِس لیے کہ قیامت کی سب سے بڑی گواہی خود نفس انسانی کے اندر موجود ہے۔
    پوچھتا ہے: قیامت کب آئے گی؟
    n/a


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List