Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • المدثر (The One Wrapped Up, The Cloaked One, The Man Wearing A Cloak)

    56 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ المزّمّل ۔۔۔ کی توام ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ نام بھی دونوں کے بالکل ہم معنی ہیں۔ سابق سورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جس ’قول ثقیل‘ کے تحمل کے لیے تیاری کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے اس میں اس کا واضح الفاظ میں اظہار کر دیا گیا ہے کہ آپ کمربستہ ہو کر لوگوں کو انذار کریں، مخالفتوں کے علی الرغم اپنے موقف حق پر ڈٹے رہیں۔ دشمنوں کے معاملہ کو اللہ پر چھوڑیں اور اس امر کو ہمیشہ ملحوظ رکھیں کہ آپ کا فریضہ اس قرآن کے ذریعہ سے لوگوں کو صرف یاددہانی کر دینا ہے، ہر ایک کے دل میں اس کو اتار دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس کو قبول وہی کریں گے جو سنت الٰہی کے مطابق اس کے قبول کرنے کے اہل ہوں گے۔ جو اس کے اہل نہیں ہیں وہ اس سے بیزار ہی رہیں گے خواہ ان کی ہدایت کے لیے آپ کتنے ہی جتن کریں۔

  • المدثر (The One Wrapped Up, The Cloaked One, The Man Wearing A Cloak)

    56 آیات | مکی
    المزمل - المدثر

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جس بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیاریوں کی ہدایت کرتی ہے، دوسری میں آپ کے لیے اُس ذمہ داری کی وضاحت کی گئی ہے کہ انذار کے بعد اب آپ اپنی قوم کو انذارعام کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔

    دونوں سورتوں میں خطاب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہے اور آپ کے مخاطب قریش کے سرداروں سے بھی۔

    اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا مرحلۂ انذار عام اِنھی دو سورتوں سے شروع ہوا ہے۔

    پہلی سورہ—- المزمل—- کا موضوع قوم کے ردعمل پر غم کی حالت سے نکل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیاریوں کی ہدایت اور قریش کے لیڈروں کوتنبیہ ہے کہ اُن کی مہلت تھوڑی رہ گئی، وہ اگر اپنے رویوں کی اصلاح نہیں کرتے تو اِس کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔

    دوسری سورہ—- المدثر—- کا موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اِس ذمہ داری کی وضاحت، اُس کے تقاضوں اور حدود سے آگاہی اور آپ کے مخاطبین کو تنبیہ و تہدید ہے کہ جس قیامت سے کھلم کھلا خبردار کرنے کا حکم ہم نے پیغمبر کو دیاہے، اُسے کوئی معمولی چیز نہ سمجھو۔ وہ ایک ایسا دن ہے جو منکروں کے لیے آسان نہ ہو گا اور ایک ایسی حقیقت ہے جو نہ جھٹلائی جا سکتی ہے اور نہ اُس سے بچنے کے لیے کوئی سفارش کسی کے کام آ سکتی ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 074 Verse 001 Chapter 074 Verse 002 Chapter 074 Verse 003 Chapter 074 Verse 004 Chapter 074 Verse 005 Chapter 074 Verse 006 Chapter 074 Verse 007
    Click translation to show/hide Commentary
    اے اوڑھ لپیٹ کر بیٹھنے والے۔
    یہ اُسی حالت کی تصویر ہے جس کا ذکر اِس سے پہلے سورۂ مزمل میں ہوا ہے۔ ’مُدَّثِّر‘ اور ’مُزَّمِّل‘ ہم معنی ہیں۔ لفظ ’مُدَّثِّر‘ ’دثار‘ سے بنا ہے۔ یہ اُس چادر کو کہتے ہیں جو سونے کے لیے اوڑھ لی جاتی ہے۔
    اٹھو اور انذار عام کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔
    یہ اُس ذمہ داری کا بیان ہے جس کی طرف پچھلی سورہ میں ’اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلاً‘ کے الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے۔استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...مکہ اور طائف کے سرداروں کے کانوں میں توحید کی اذان دینا اور وہ بھی اِس دعوے کے ساتھ کہ آپ اللہ کے رسول ہو کر آئے ہیں، اگر اُنھوں نے آپ کے انذار کی تکذیب کی تو اُس کے عذاب کی زد میں آجائیں گے، کوئی سہل کام نہیں تھا۔ اِس بھاری ذمہ داری سے آپ کا ہراس محسوس کرنا ایک امر فطری تھا۔ چنانچہ ابتداءً آپ نے اپنے کام کو اپنے خاص خاندان والوں ہی تک محدود رکھا اور اُن پر بھی نہایت احتیاط کے ساتھ صرف اپنے بعض مشاہدات و تجربات کا اظہار فرما کر اُن کا ردعمل معلوم کرنا چاہا جو نہایت مخالفانہ صورت میں سامنے آیا۔ چنانچہ اِس دور میں آپ پر نہایت شدید فکر مندی کی حالت طاری رہی، جس کی تصویر ’مُزَّمِّل‘ اور ’مُدَّثِّر‘ کے الفاظ سے ہمارے سامنے آتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لیے آپ کو مبعوث فرمایا تھا، وہ ہونا تھا۔ چنانچہ پہلے (سورۂ مزمل میں) آپ کو اِس صورت حال کے مقابلے کے لیے تیاری کی ہدایت ہوئی، پھر اِس سورہ میں کمر باندھ کر انذار عام کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کا حکم ہوا۔‘‘ (تدبرقرآن ۹/ ۴۳)  
    اپنے رب ہی کی کبریائی کا اعلان کرو۔
    یعنی اعلان کرو کہ وہی سب سے بڑا، سب سے یگانہ، یکتا اور بے ہَمتا ہے۔ اُس کے سوا جن کی بڑائی کا دعویٰ کیا جاتا ہے، وہ سب باطل ہیں۔
    اپنے دامن دل کو پاک رکھو۔
    اصل میں لفظ ’ثِیَاب‘ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی کپڑے کے ہیں، لیکن کلام عرب میں یہ اُس مفہوم میں بھی آتا ہے جسے ہم اپنی زبان میں ’دامن دل‘ سے ادا کرتے ہیں۔ یعنی توحید کے معاملے میں ہر آلایش سے پاک رکھو۔آگے اِسی کو ’وَالرُّجْزَ فَاھْجُرْ‘ کے الفاظ سے واضح کر دیا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’اِس ہدایت کی ضرورت اِس لیے نہیں تھی کہ العیاذ باللہ آپ کے کسی شرک میں مبتلا ہونے کا اندیشہ تھا۔ آپ جس طرح دور اسلام میں طاہر و مطہر رہے، اُسی طرح جاہلیت میں بھی شرک کے ہر شائبہ سے پاک رہے۔ مقصود صرف کفار و مشرکین کو آگاہ کرنا تھا کہ وہ جان لیں کہ جو منذر اُن کے پاس آیا ہے، اُس کا موقف اُن کے دین شرک کے معاملے میں کیا ہے اور وہ اپنے رب کی طرف سے اِس باب میں کن ہدایات کے ساتھ مبعوث ہوا ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۴۵)  
    شرک کی غلاظت سے دور رہو۔
    n/a
    اور (دیکھو)، اپنی سعی کو زیادہ خیال کر کے منقطع نہ کر بیٹھو۔
    اصل میں لفظ ’تَسْتَکْثِرُ‘ استعمال ہوا ہے۔یہ حال کے مفہوم میں ہے۔ اِس کے معنی جس طرح زیادہ چاہنے کے ہیں، اِسی طرح زیادہ سمجھ لینے یا زیادہ خیال کرنے کے بھی ہیں۔ یہاں یہ اِسی دوسرے معنی میں آیا ہے۔
    اور اپنے پروردگار کے فیصلے کے انتظار میں ثابت قدم رہو۔
    اصل الفاظ ہیں: ’وَلِرَبِّکَ فَاصْبِرْ‘۔ اِن میں ’ل‘ اِس بات پر دلیل ہے کہ ’صبر‘ یہاں انتظار کے مفہوم پر متضمن ہے۔ مدعا یہ ہے کہ جب تک اللہ کا حکم نہ آجائے، تم یہ خیال کرکے کہ فرض دعوت ادا ہو گیا، اپنی قوم کو چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔یہ ہدایت کیوں ہوئی؟ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’یہ ہدایت اِس لیے فرمائی گئی کہ رسول جس فرض انذار پر مامور ہوتا ہے، اُس کے متعلق سنت الٰہی...یہ ہے کہ اگر قوم اُس کے انذار کی پروا نہیں کرتی تو ایک خاص مدت تک مہلت دینے کے بعد اللہ تعالیٰ اُس کو لازماً ہلاک کر دیتا ہے۔ یہ مہلت اتمام حجت کے لیے ملتی ہے اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کسی قوم کو اِس کے لیے کتنی مہلت ملنی چاہیے۔ رسول کا فرض یہ ہے کہ وہ اُس وقت تک اپنے کام میں لگا رہے، جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس کے پاس یہ ہدایت نہ آجائے کہ اُس نے اپنا فرض ادا کر دیا، اب وہ قوم کو اُس کی تقدیر کے حوالے کرکے اِس علاقے سے ہجرت کر جائے۔ اگر رسول بطور خود یہ گمان کرکے قوم کو چھوڑ کر ہجرت کر جائے کہ اُس نے اپنا فرض ادا کر دیا تو اندیشہ ہے کہ حالات کا اندازہ کرنے میں اُس سے اُسی طرح کی غلطی صادر ہو جائے جس طرح کی غلطی حضرت یونس علیہ السلام سے صادر ہوئی۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے اُن کو تنبیہ فرمائی اور ایک سخت امتحان سے گزارنے کے بعد اُن کو پھر قوم کے پاس انذار کے لیے واپس بھیجا اور اِس دوبارہ انذار سے اللہ تعالیٰ نے اُن کی پوری قوم کو ایمان کی توفیق بخشی۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۴۶)  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List