Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الجن (The Spirits, The Jinn, The Demons)

    28 آیات | مکی
    سورہ کا عمود، سابق سورہ سے تعلق اور مطالب کا تجزیہ

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ نوح ۔۔۔ کی توام سورہ ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ قوم نوح کے لیڈروں نے جس ضد و مکابرت کا مظاہرہ کیا، پیغمبر کی دعوت سے جس طرح انھوں نے اپنے کان بند کر لیے اور پھر اس کا جو انجام ان کے سامنے آیا اس کی نہایت ہی مؤثر اور عبرت انگیز تصویر قریش کے لیڈروں کے سامنے سورۂ نوح میں رکھ دی گئی ہے۔ اب اس سورہ میں ان کو یہ دکھایا جا رہا ہے کہ جس قرآن سے وہ اس درجہ بیزار ہیں کہ اس کو سن کر اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے، منہ نوچ لینے کو جھپٹتے اور دامن جھاڑ کے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں اسی کو سن کر جنوں کی ایک جماعت اس قدر اثر پذیر ہوتی ہے کہ وہ فوراً اپنی قوم کے اندر اس کی دعوت پھیلانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ جنوں کے جس واقعہ کا حوالہ یہاں ہے اس کا ذکر سورۂ احقاف کی آیات ۲۹-۳۲ میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم نے ذکر کیا ہے کہ اس کو سنانے سے مقصود ایک تو قریش کو غیرت دلانا ہے کہ جنات، جو قرآن کے براہ راست مخاطب بھی نہیں ان کا حال تو یہ ہے کہ کبھی سر راہے بھی ان کے کانوں میں اس کی بھنک پڑ گئی ہے تو وہ اس کو سن کر تڑپ اٹھے اور ایک تم ہو کہ خاص تمہارے ہی لیے یہ اترا اور تمہی کو اس کی دعوت دینے کے لیے اللہ کا رسول اپنے رات دن ایک کیے ہوئے ہے لیکن تم ایسے بدقسمت ہو کہ اس کی کسی بات کا تمہارے دلوں میں اترنا تو درکنار تم اس کے سنانے والوں کے جانی دشمن بن گئے ہو۔ دوسرا مقصد اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے کہ اگر آپ کی قوم کے اشرار اس قرآن کی ناقدری کر رہے ہیں تو آپ اس سے آزردہ خاطر نہ ہوں۔ جن کے دل مردہ ہو چکے ہیں وہ اس سے فیض یاب نہیں ہوں گے، خواہ آپ کتنے ہی جتن کریں۔ البتہ جن کے اندر کچھ صلاحیت ہو گی ان کے کانوں میں اگر اتفاق سے بھی اس کے کچھ کلمات پڑ جائیں گے تو وہ ان کے اندر گھر کر لیں گے، خواہ وہ اس کے مخاطب ہوں یا نہ ہوں اور خواہ ان کو سنانے کے لیے کوئی اہتمام کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو۔

    جنوں کے جس تاثر کا اس سورہ میں حوالہ دیا گیا ہے اس سے اگرچہ وہ لوگ متاثر نہیں ہوں گے جو صرف محسوسات کے غلام ہیں اور جو ان چیزوں کے سرے سے وجود ہی کے منکر ہیں جو ان کے محسوسات کے دائرہ سے باہر ہیں لیکن اس طرح کے لوگ یہاں مخاطب بھی نہیں ہیں۔ یہاں مخاطب مشرکین قریش ہیں جو اتنے بلید نہیں تھے کہ صرف انہی چیزوں کو مانیں جنھیں چھوتے اور دیکھتے ہوں۔ وہ جنوں کو نہ صرف مانتے تھے بلکہ ان سے رابطہ رکھنے کے لیے انھوں نے کہانت کا پورا نظام قائم کر رکھا تھا اس وجہ سے قرآن نے ایک اہم واقعہ کی حیثیت سے ان کو جنوں کے یہ تاثرات سنائے کہ وہ چاہیں تو اس سے فائدہ اٹھائیں۔ کاہنوں کے واسطے سے وہ جنوں کے اشرار کی القاء کی ہوئی جھوٹی خبریں سنتے تھے۔ قرآن نے ان کے سامنے ان کے اخیار کی ایک سچی رپورٹ رکھی تاکہ جن کے اندر خیر و شر میں امتیاز کی کچھ صلاحیت ہے وہ اس سے ایمان کی طرف رہبری حاصل کریں۔ قرآن نے غیب کے جو حقائق بیان کیے ہیں وہ اسی مقصد سے بیان کیے ہیں کہ حق کے طالب ان سے فائدہ اٹھائیں۔ اگرچہ محسوسات پرست اس کو واہمہ کی خلاقی قرار دیں گے لیکن نااہلوں کی ناقدری کے سبب سے قدرت خلق کو اپنی فیض بخشی سے محروم نہیں کرتی۔

  • الجن (The Spirits, The Jinn, The Demons)

    28 آیات | مکی
    نوح - الجن

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ قوم نوح کی سرگذشت کے آئینے میں قرآن کے انذار اور اُس کے نتائج کی جو تصویر دکھاتی ہے، دوسری اُسی کے اثبات میں جنوں کی شہادت پیش کرتی اور قریش کو اِس کے بارے میں اپنے رویے پر نظرثانی کی دعوت دیتی ہے۔

    اِس لحاظ سے دیکھیے تو سورۂ حاقہ میں جو مضمون اِس سے پہلے ’مَا تُبْصِرُوْنَ‘ اور ’مَا لَا تُبْصِرُوْنَ‘ کے الفاظ میں بالاجمال بیان ہوا ہے، یہ دونوں سورتیں بالترتیب اُسی کی تفصیل ہیں۔

    دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — نوح — کا موضوع قریش کے لیے رسولوں کی دعوت اور اُس کے مختلف مراحل کی وضاحت کرنا اور اُس کے اُن نتائج سے اُنھیں خبردار کرنا ہے جو سنت الٰہی کے مطابق اُسے نہ ماننے والوں کے لیے لازماً نکلتے ہیں۔

    دوسری سورہ — الجن — کا موضوع جنوں کی شہادت سے قرآن مجید اور اُس کی حقانیت قریش پر ثابت کرنا اور اُنھیں یہ سمجھانا ہے کہ جس عذاب کا وہ مطالبہ کر رہے ہیں، اُس کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔ خدا کے پیغمبر عذاب کا وقت بتانے کے لیے نہیں، خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے آتے ہیں۔ وہ خدا سے عذاب نہیں، بلکہ اُس کی رحمت چاہیں۔ اِس کے لیے پیغمبر کے مقابلے میں سرکشی اور تمرد کا رویہ چھوڑ کر اُس کی دعوت پر لبیک کہیں اور خدا کے گھر میں خدا ہی کی عبادت کریں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 072 Verse 001 Chapter 072 Verse 002 Chapter 072 Verse 003 Chapter 072 Verse 004 Chapter 072 Verse 005 Chapter 072 Verse 006 Chapter 072 Verse 007 Chapter 072 Verse 008 Chapter 072 Verse 009 Chapter 072 Verse 010 Chapter 072 Verse 011 Chapter 072 Verse 012 Chapter 072 Verse 013 Chapter 072 Verse 014 Chapter 072 Verse 015
    Click translation to show/hide Commentary
    اِنھیں بتاؤ، (اے پیغمبر) کہ مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (اِس کو) سنا تو (اپنی قوم سے جا کر) کہا: ہم نے ایک بڑا ہی دل پذیر قرآن سنا ہے۔
    اِس سے واضح ہے کہ جنوں کے جو تاثرات اِس سورہ میں بیان ہوئے ہیں، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو براہ راست جنوں کی زبان سے نہیں، بلکہ وحی الٰہی کے ذریعے سے معلوم ہوئے۔ اِس سے پہلے یہی واقعہ سورۂ احقاف (۴۶) میں بیان ہوا ہے۔ وہاں بھی اِس کا اسلوب بتاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ روداد بعد میں سنائی گئی۔اِس سے مقصود یہ تھا کہ قریش پر یہ حقیقت واضح کی جائے کہ جس قرآن کو وہ جنوں کا الہام کہہ کر رد کر رہے ہیں، اُس کے بارے میں خود جنات کیا کہتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جائے کہ نااہلوں کی ناقدری سے آپ آزردہ نہ ہوں اور قریش کو بھی کچھ غیرت دلائی جائے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...جنوں کے اِن تاثرات کی آپ کو اِس لیے اطلاع دی گئی کہ اپنی قوم کو آپ سنا دیں کہ جس کلام بلاغت نظام کے ساتھ تمھارا سلوک یہ ہے کہ اُس کو سن کر تم کانوں میں انگلیاں دے لیتے اور اُس کے سنانے والے کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوتے ہو، دراں حالیکہ یہ کلام تمھارے ہی لیے اترا ہے، اُس کلام کو سن کر ذی صلاحیت جنات اِس طرح اُس کے عاشق ہو جاتے ہیں کہ اپنی قوم کو اُس کی دعوت دینے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، حالاں کہ وہ براہ راست اُس کے مخاطب بھی نہیں۔‘‘ (تدبرقرآن۸/ ۶۱۵) اصل میں لفظ ’عَجَبًا‘ آیا ہے۔ یہ جس طرح انوکھے پن کے اظہار کے لیے آتا ہے، اِسی طرح کسی چیز کی اثر انگیزی اور دل پذیری کو ظاہر کرنے کے لیے بھی آتا ہے۔ یہ بات بھی ضمناً اِس سے معلوم ہوتی ہے کہ جن اپنے علاقے کے انسانوں کی زبان بھی پوری طرح سمجھ لیتے اور اُس کے حسن و قبح کو پرکھ سکتے ہیں۔  
    جو ہدایت کا راستہ دکھاتا ہے، سو ہم اُس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم ہرگز کسی کو اپنے پروردگار کا شریک نہ ٹھیرائیں گے۔
    اِس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح انسانوں کے پیغمبر تھے،اُسی طرح جنوں کے بھی پیغمبر تھے، بلکہ یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حق جہاں اور جس صورت میں بھی سامنے آئے، دنیا کی ہر ذی شعور مخلوق اُسے ماننے کی مکلف ہے۔ چنانچہ جنوں کے کسی پیغمبر کی دعوت اگر ہم بھی سن سکتے تو اُس پر اُسی طرح ایمان کے مکلف ہوتے، جس طرح جنوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر اپنے ایمان کا اظہار کیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے پیغمبروں پر ہمارے ایمان کی نوعیت بھی یہی ہے۔ ہم اُن کی شریعت کے پابند تو یقیناً نہیں ہیں، لیکن اُنھیں ماننا ہمارے لیے بھی اُسی طرح ضروری ہے، جس طرح اُن کی قوموں کے لیے ضروری تھا۔
    اور یہ بھی کہ ہمارے رب کی شان بہت اونچی ہے، اُس نے (اپنے لیے) کوئی بیوی بنائی ہے نہ بیٹا۔
    یہ اور اِس کے بعد جنوں کی سب باتیں تالیف کلام کے لحاظ سے ’اِنَّا سَمِعْنَا‘ کے تحت نہیں، بلکہ ’اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّہُ‘ کے تحت ہیں۔ ہم نے ترجمہ اِسی کے لحاظ سے کیا ہے۔
    اور یہ بھی کہ ہمارا یہ احمق ( سردار) اللہ کے بارے میں بالکل حق سے ہٹی ہوئی باتیں کہتا رہا ہے۔
    n/a
    اور یہ بھی کہ ( ہم اِس کے پیچھے صرف اِس لیے چلتے رہے کہ) ہم نے سمجھاتھا کہ کیا جن اور کیا انسان، اللہ پر کوئی بھی جھوٹ نہیں باندھ سکتا۔
    n/a
    اور یہ بھی کہ (انسان کچھ پہلے ہی سرکش تھے، پھر) انسانوں میں سے کچھ احمق (ہمارے) اِن جنوں میں سے کچھ شریروں کی دہائی دیتے رہے تو اِنھوں نے اُن کی سرکشی بڑھا دی۔
    احمق اور شریر کے الفاظ ہم نے یہاں اُس تحقیر کی رعایت سے استعمال کیے ہیں جو لفظ ’رجال‘ کی تنکیر میں پوشیدہ ہے۔آیت میں جس بات کی طرف جنوں نے اشارہ کیا ہے، استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اُس کی تفصیل فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’عرب کے مشرکین میں جنات سے متعلق یہ وہم تھا کہ وہ غیب کی خبریں معلوم کرنے کا ذریعہ ہیں۔ چنانچہ اِسی چیز نے اُن کے ہاں کہانت کا ایک پورا نظام کھڑا کر دیا جس کی بنیاد تمام تر ...جھوٹ اور فریب پر تھی۔ کاہن اپنے جال میں پھنسے ہوئے بے وقوفوں میں سے جس کو ڈرا دیتے کہ فلاں خطرناک جن تم پر بہت برہم ہے، اگر تم نے اُس کے لیے فلاں چیز کی قربانی یا اتنی نذر نہ گزرانی تو وہ آفت میں مبتلا کر دے گا، تو وہ لازماً اُن کے حکم کی تعمیل کرتا۔ یہاں تک کہ اِنھی کاہنوں کے حکم سے بعض بے وقوف لوگ جنوں کو راضی کرنے کے لیے اپنی اولاد تک کو، جیسا کہ سورۂ انعام میں ذکر ہے، قربانی کر دیتے۔ اِسی نوع کا ایک دوسرا وہم یہ پایا جاتا تھا کہ ہر وادی اور ہر پہاڑی جنوں کے کسی خاص گروہ کا مسکن ہوتی ہے۔ اگر اُس وادی میں رات گزارنے کی نوبت آئے تو ضروری ہے کہ اُس کے سردار جن کی پناہ حاصل کرلی جائے، ورنہ اندیشہ ہے کہ وہ کسی آفت میں مبتلا کر دے۔ چنانچہ دورجاہلیت میں اہل عرب جب کسی وادی میں شب گزارتے تو اُس وادی کے سردار جن کی دہائی دے کر اپنے گمان کے مطابق اُس کی پناہ حاصل کر لیتے۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۶۱۹)  
    اور یہ بھی کہ تمھاری طرح اُنھوں نے بھی یہی سمجھا کہ اللہ (مرنے کے بعد پھر) کسی کو (زندہ) نہ اُٹھائے گا۔
    n/a
    اور یہ بھی کہ (اِس قرآن کو سننے سے پہلے ہم کچھ تلاش میں تھے، اِس لیے کہ) ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو دیکھا کہ وہ سخت پہرے داروں سے پٹا پڑا ہے، اور (اُس میں) شہابوں کی بارش ہو رہی ہے۔
    n/a
    اور یہ بھی کہ ہم پہلے اُس کے ٹھکانوں میں سننے کے لیے جگہ پا لیتے تھے، مگر (ہم نے دیکھا کہ) اب جو کچھ سننے کی کوشش کرتا ہے، اپنے لیے گھات میں ایک انگارا پاتا ہے۔
    یہ قرآن کی حقانیت پر جنوں کی شہادت ہے جو ملا ء اعلیٰ میں اُس کے نزول کا اہتمام دیکھ کر اُنھوں نے دی اور واضح کر دیا کہ قریش جس کتاب کو کاہنوں کا کلام قرار دے کر رد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اُس کا منبع کہاں ہے اور وہ کس ہستی کی طرف سے اور کس شان کے ساتھ نازل ہو رہی ہے۔
    اور یہ بھی کہ (اُس وقت) ہم نہیں جانتے تھے کہ زمین والوں کے حق میں کوئی برائی مقصود ہے یا اُن کے پروردگار نے اُن کے لیے کسی خیر کا ارادہ کیا ہے۔
    برائی کے لیے آیت میں ’اُرِیْدَ‘اور بھلائی کے لیے ’اَرَادَ بِھِمْ رَبُّھُمْ رَشَدًا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ دو مختلف اسلوب کسی چیز کو اللہ تعالیٰ سے منسوب کرنے میں جنوں کے پاس ادب پر بھی دلالت کرتے ہیں اور اِس بات پر بھی کہ اُن کا گمان غالب یہی تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے کسی بہت بڑی بھلائی ہی کا ارادہ کیا ہے۔ یہ بات نہ ہوتی تو پہلے فقرے کی طرح دوسرا فقرہ بھی وہ مجہول کے مبہم اسلوب میں ادا کرتے۔
    اور یہ بھی کہ ہم میں نیک بھی رہے ہیں اور دوسرے بھی اورہمارے راستے (اِس سے پہلے بھی) الگ الگ ہی تھے۔
    n/a
    اور یہ بھی کہ (ہم کبھی سرکش نہ تھے)، ہم سمجھتے تھے کہ اللہ کی گرفت سے نہ ہم زمین میں کہیں جا کر نکل سکتے ہیں اور نہ آسمان میں کہیں بھاگ کر اُس کو ہرا سکتے ہیں۔
    عربیت کے معروف اسلوب کے مطابق مقابل کے الفاظ اِس آیت میں حذف ہیں۔ ہم نے ترجمے میں اُنھیں کھول دیا ہے۔
    اور یہ بھی کہ(ہمارا یہی خیال تھا جس کی بنا پر) ہم نے جب ہدایت کی یہ بات سنی تو اُس پر ایمان لے آئے۔سو (اب تمھیں بھی دعوت دیتے ہیں کہ تم میں سے ) جو اپنے رب کو مانیں گے، اُنھیں کسی نقصان اور کسی زیادتی کا اندیشہ نہ ہو گا۔
    n/a
    اور یہ بھی کہ (اِس کے بعد اب) ہمارے اندر وہ بھی ہوں گے جو (حق کے سامنے) سر جھکا دیں گے اور وہ بھی جو نافرمانی پر اصرار کریں گے۔سو جنھوں نے سر جھکا دیا، اُنھوں نے راستہ پا لیا۔
    n/a
    اور جو نافرمان ہوئے، وہ دوزخ کا ایندھن بننے والے ہیں۔
    n/a


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List