Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • نوح (Noah)

    28 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    سابق سورہ ۔۔۔ المعارج ۔۔۔ میں آپ نے دیکھا کہ عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کو جواب اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر و انتظار کی تلقین ہے۔ اس سورہ میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کے مراحل، ان کے طویل صبر و انتظار اور بالآخر ان کی قوم کے مبتلائے عذاب ہونے کی سرگزشت اختصار لیکن جامعیت کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ اور مقصود اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی قوم کے سامنے ایک ایسا آئینہ رکھ دینا ہے جس میں آپ بھی دیکھ لیں کہ اللہ کے رسول کو اپنی آخری منزل تک پہنچنے کے لیے صبر و انتظار کے کن زہرہ گداز مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، ساتھ ہی آپ کی قوم بھی دیکھ لے کہ اللہ تعالیٰ جلد بازوں اور ان کے طنز و طعن کے باوجود ان کو ڈھیل اگرچہ ایک طویل مدت تک دیتا ہے لیکن بالآخر پکڑتا ہے اور جب پکڑتا ہے تو اس طرح پکڑتا ہے کہ کوئی ان کو چھڑانے والا نہیں بنتا۔

  • نوح (Noah)

    28 آیات | مکی
    نوح - الجن

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ قوم نوح کی سرگذشت کے آئینے میں قرآن کے انذار اور اُس کے نتائج کی جو تصویر دکھاتی ہے، دوسری اُسی کے اثبات میں جنوں کی شہادت پیش کرتی اور قریش کو اِس کے بارے میں اپنے رویے پر نظرثانی کی دعوت دیتی ہے۔

    اِس لحاظ سے دیکھیے تو سورۂ حاقہ میں جو مضمون اِس سے پہلے ’مَا تُبْصِرُوْنَ‘ اور ’مَا لَا تُبْصِرُوْنَ‘ کے الفاظ میں بالاجمال بیان ہوا ہے، یہ دونوں سورتیں بالترتیب اُسی کی تفصیل ہیں۔

    دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — نوح — کا موضوع قریش کے لیے رسولوں کی دعوت اور اُس کے مختلف مراحل کی وضاحت کرنا اور اُس کے اُن نتائج سے اُنھیں خبردار کرنا ہے جو سنت الٰہی کے مطابق اُسے نہ ماننے والوں کے لیے لازماً نکلتے ہیں۔

    دوسری سورہ — الجن — کا موضوع جنوں کی شہادت سے قرآن مجید اور اُس کی حقانیت قریش پر ثابت کرنا اور اُنھیں یہ سمجھانا ہے کہ جس عذاب کا وہ مطالبہ کر رہے ہیں، اُس کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔ خدا کے پیغمبر عذاب کا وقت بتانے کے لیے نہیں، خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے آتے ہیں۔ وہ خدا سے عذاب نہیں، بلکہ اُس کی رحمت چاہیں۔ اِس کے لیے پیغمبر کے مقابلے میں سرکشی اور تمرد کا رویہ چھوڑ کر اُس کی دعوت پر لبیک کہیں اور خدا کے گھر میں خدا ہی کی عبادت کریں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 071 Verse 001 Chapter 071 Verse 002 Chapter 071 Verse 003 Chapter 071 Verse 004
    Click translation to show/hide Commentary
    ہم نے نوح کو اُس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا کہ اپنی قوم کو خبردار کرو، اِس سے پہلے کہ ایک دردناک عذاب اُن پر آ جائے۔
    یعنی عذاب سے پہلے اتمام حجت کے لیے اُسی طرح رسول بنا کر بھیجا،جس طرح اب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو بھیجا ہے۔ یہ اُس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کے تحت اللہ کے رسول مختلف قوموں کی طرف بھیجے جاتے رہے ہیں۔
    اُس نے کہا: میری قوم کے لوگو، میں تمھارے لیے ایک صاف صاف خبردار کر دینے والا ہوں۔
    n/a
    (میں تمھیں دعوت دیتا ہوں) کہ اللہ کی بندگی کرو اور اُس کے حدود کے پابند رہو اور میری بات مانو۔
    اصل میں لفظ ’تَقْوٰی‘ استعمال ہوا ہے۔ قرآن کی اصطلاح میں اِس کے معنی زندگی کے تمام معاملات میں حدودالٰہی کی پابندی کرنے کے ہیں۔
    (اِس کے نتیجے میں) اللہ تمھارے (وہ) گناہ معاف فرمائے گا (جو اِس سے پہلے تم سے ہوئے ہیں)، اور تمھیں ایک مقرر وقت تک مہلت دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آجاتا ہے تو پھر ٹالا نہیں جاتا۔ اے کاش، تم (اِس کو) سمجھتے۔
    اصل میں ’مِنْ ذُنُوْبِکُمْ‘ ہے۔ اِس سے پہلے ’مَا تَقَدَّمَ‘ کے الفاظ وضاحت قرینہ کی بنا پر حذف ہو گئے ہیں۔ ہم نے ترجمے میں اُنھیں کھول دیا ہے۔ یعنی اُس وقت تک مہلت دے گا جوافراد اور قوموں کی موت و حیات کے لیے اُس نے مقرر کر رکھی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’’معین مدت‘کی قید اِس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہے کہ اِس دنیا میں کوئی مہلت بھی غیر محدود نہیں ہے۔ یہ دنیا اور اِس کی ہر چیز وقتی اور فانی ہے۔ آدمی ایمان و عمل صالح کی زندگی گزارے، جب بھی اُس کو یہاں غیر محدود زندگی نہیں مل جاتی، بلکہ لازماً وہ ایک دن اپنی جان جان آفرین کے حوالے کرتا ہے۔البتہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے کسی عذاب سے نہیں ہلاک ہوتا، بلکہ وہ اپنی مہلت حیات سے بہرہ مند ہونے کی فرصت پاتا ہے۔ اِسی طرح کوئی قوم اگر ایمان، تقویٰ اور اطاعت رسول کی زندگی اختیار کرتی ہے تو اُس کو بھی اللہ تعالیٰ اُسی وقت تک بہرہ مند رکھتا ہے، جب تک وہ ایمان و تقویٰ پر استوار رہتی ہے۔ جوں ہی وہ اِس سے منحرف ہوتی ہے، اُس پر زوال کے آثار طاری ہونے شروع ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب اُس کا اخلاقی زوال اُس نقطہ پر پہنچ جاتا ہے جو آخری ہے تو اُس کی ’اَجَلٌ مُّسَمًّی‘ پوری ہو جاتی ہے اور قومی حیثیت سے اُس کا وجود صفحۂ ارض سے مٹ جاتا ہے۔ یہی حال اِس مجموعی دنیا کا بھی ہے۔ اِس کی مدت بھی معین و مقرر ہے۔ ایک دن آئے گا، جب اِس دارالامتحان کی بساط لپیٹ دی جائے گی اور ایک نیا عالم نئے نوامیس و قوانین کے ساتھ ظہور میں آئے گا، جس کو دار آخرت کہتے ہیں۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۵۹۳)  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List