Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • المعارج (The Ways of Ascent, The Ascending Stairways)

    44 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔الحآقۃ ۔۔۔ کی مثنیٰ ہے، دونوں کے عمود میں کوئی اصولی فرق نہیں ہے۔ انذار عذاب و قیامت جس طرح سابق سورہ کا موضوع ہے اسی طرح اس کا بھی موضوع ہے۔ دونوں کے ظاہری اسلوب میں بھی بڑی مشابہت ہے جس طرح سابق سورہ میں اثبات جزا و سزا پر، وسط سورہ میں، قسم کھائی گئی ہے اسی طرح اس سورہ کے وسط میں بھی اسی نوعیت کی قسم ہے۔ خاص پہلو اس کا یہ ہے کہ اس میں ان متمردین کو تنبیہ فرمائی ہے جو عذاب و قیامت کا مذاق اڑاتے اور اس کے لیے جلدی مچائے ہوئے تھے۔ ان کے رویہ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر کی تلقین فرمائی گئی ہے کہ یہ بہت ہی تنک ظرف اور تھڑ دلے لوگ ہیں۔ اس وقت خدا نے ان کو جو ڈھیل دی ہے تو ان کے پاؤں زمین پر نہیں پڑ رہے ہیں۔ ذرا گرفت میں آ جائیں تو ساری شیخی بھول جائیں گے۔ ان سے چندے درگزر کرو۔ ان کے فیصلہ کا وقت آیا ہی چاہتا ہے۔ جب وہ وقت آ جائے گا تب انھیں اندازہ ہو گا کہ جس چیز کے لیے جلدی مچائے ہوئے تھے وہ کیسی ہولناک چیز نکلی۔

  • المعارج (The Ways of Ascent, The Ascending Stairways)

    44 آیات | مکی
    الحاقۃ - المعارج

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ دنیا اور آخرت میں جس عذاب سے قریش کو متنبہ کرتی ہے،دوسری میں اُسی کا مذاق اڑانے اور اُس کے لیے جلدی مچانے والوں کو اُن کے انجام سے خبردار کیا گیا ہے۔ دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- الحاقۃ—- کا موضوع قیامت میں جزا و سزا کا اثبات، اُس کے حقائق کا بیان اور اُس کے بارے میں قرآن کے انذار کو جھٹلانے کے نتائج سے اپنے مخاطبین کو متنبہ کرنا ہے۔

    دوسری سورہ—- المعارج—- کا موضوع اِنھی نتائج کو استہزا کا نشانہ بنانے اور اِن کے لیے جلدی مچانے والوں کو اُن کے انجام سے خبردار کرنا، پیغمبر کو اُن کے مقابلے میں صبر کی تلقین کرنا اور اُنھیں یہ بتانا ہے کہ جنت حسن عمل کی جزا ہے۔ اِس سے محروم کوئی شخص، خواہ عرب و عجم کے صنادید میں سے کیوں نہ ہو، خدا کی اِس ابدی بادشاہی میں ہرگز داخل نہیں ہو سکتا۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 070 Verse 001 Chapter 070 Verse 002 Chapter 070 Verse 003 Chapter 070 Verse 004 Chapter 070 Verse 005 Chapter 070 Verse 006 Chapter 070 Verse 007
    Click translation to show/hide Commentary
    بہت جلدی مچائی ہے ایک جلدی مچانے والے نے، اُس عذاب کے لیے.
    اصل میں لفظ ’سُؤَال‘ استعمال ہوا ہے، لیکن اِس کا صلہ چونکہ آیت میں ’ب‘ آیا ہے، اِس لیے عربیت کی رو سے اِسے استعجال یا استہزا کے مفہوم پر متضمن سمجھنا چاہیے۔ یعنی وہ مذاق اڑانے کے لیے جلدی مچاتے اور کہتے ہیں کہ وہ عذاب کہاں رہ گیا؟ ابھی تک آیا کیوں نہیں؟ ہم کب سے اُس کے ڈراوے سن رہے ہیں، لیکن وہ چلا تو کہیں سستانے کے لیے بیٹھ گیا ہے کہ ابھی تک یہاں نہیں پہنچا؟
    جو اِن منکروں پر آ کر رہے گا، اُسے کوئی ہٹا نہ سکے گا۔
    n/a
    وہ اللہ کی طرف سے آئے گا جو عروج کے زینوں والا ہے۔
    یہ خدا کی بلندی بارگاہ کی تعبیر ہے۔اِس سے مقصود یہ بتانا ہے کہ اُس کے فیصلے اُس کی شان کے مطابق اور اُس کی بارگاہ کے لحاظ سے صادر ہوتے ہیں، اُنھیں تھڑدلے انسانوں کے جذبات و خواہشات اور توقعات پر قیاس نہیں کرنا چاہیے۔
    (یہ ہر چیز کو اپنے پیمانوں سے ناپتے اور پھرجلدی مچادیتے ہیں۔ اِنھیں بتا ؤ کہ) فرشتے اور رُوح الامین (تمھارے حساب سے)پچاس ہزار سال کے برابر ایک دن میں اُس کے حضور چڑھ کر پہنچتے ہیں۔
    اِس سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں۔ وہ تمام ملائکہ کے سرخیل ہیں۔ عام کے بعد خاص کا یہ ذکر اُن کے اِسی مرتبے کے پیش نظر ہے۔ یہ امور متشابہات میں سے ہے جن کی پوری حقیقت ہم یہاں نہیں سمجھ سکتے۔ لیکن مطلب یہی ہے کہ اُنھیں خدا کو اپنے پیمانوں سے نہیں ناپنا چاہیے۔ اُس کی سلطنت میں دن پچاس پچاس ہزار سال کے بھی ہوتے ہیں۔
    اِس لیے، (اے پیغمبر) تم (اِن کی باتوں پر) پورے حسن و وقار کے ساتھ صبر کرو۔
    اصل الفاظ ہیں: ’فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا‘۔ اِن سے کیا مراد ہے؟ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...مطلب یہ ہے کہ اِن کے رویے سے نہ تو دل شکستہ اور مایوس ہو نہ اِن کے جواب میں کوئی عاجلانہ قدم اٹھاؤ اور نہ اپنے موقف میں کوئی کمزوری پیدا ہونے دو۔ مختلف صورتوں میں صبر کی ہدایت کے ساتھ اُن باتوں کی طرف اشارے بھی فرما دیے گئے ہیں جو صبر کو صبر جمیل بنانے کے لیے ضروری ہیں۔‘‘ (تدبرقرآن ۸/ ۵۶۷)  
    یہ اُس کو دور سمجھتے ہیں۔
    n/a
    اور ہم اُسے بہت قریب دیکھ رہے ہیں۔
    n/a


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List