Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • القلم (The Pen)

    52 آیات | مکی
    سورہ کا عمود، سابق سورہ سے تعلق اور مطالب کا تجزیہ

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ الملک ۔۔۔ کا مثنیٰ ہے اس وجہ سے دونوں کے عمود اور موضوع میں کوئی اصولی فرق نہیں ہے۔ صرف طرز بیان، نہج استدلال اور لب و لہجہ میں فرق ہے۔ جس طرح سابق سورہ میں قریش کو عذاب اور قیامت سے ڈرایا گیا ہے اسی طرح اس سورہ میں بھی ان کو عذاب و قیامت سے ڈرایا گیا ہے لیکن اس سورہ کا لب و لہجہ سابق سورہ کے مقابل میں تیز ہے۔

    سابق سورہ کے آخر میں قریش کو مخاطب کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ کہلوایا گیا ہے کہ ’إِنْ أَہْلَکَنِیَ اللَّہُ وَمَن مَّعِیَ أَوْ رَحِمَنَا فَمَن یُجِیْرُ الْکَافِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ أَلِیْمٍ‘ کہ اس خبط میں نہ رہو کہ میں کوئی شاعر اور دیوانہ ہوں جس کو گردش روزگار بہت جلد فنا کر دے گی۔ تمہاری یہ توقع بالفرض پوری بھی ہو جائے جب بھی تمہارے لیے اس میں اطمینان کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ یہ سوال پھر بھی باقی رہتا ہے کہ تمہیں خدا کے عذاب سے بچانے والا کون بنے گا؟ اس سورہ میں اسی مضمون کی تائید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت، آپ کی پیش کردہ کتاب اور آپ کے اعلیٰ کردار کا موازنہ قریش کی فاسقانہ قیادت کے کردار سے کر کے یہ دکھایا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب موافق و مخالف دونوں پر واضح ہو جائے گا کہ کن کی باگ فتنہ میں پڑے ہوئے لیڈروں کے ہاتھ میں ہے جو ان کو تباہی کی راہ پر لے جا رہے ہیں اور کون لوگ ہدایت کی راہ پر ہیں اور وہ فلاح پانے والے بنیں گے۔

    اس کے بعد باغ والوں کی تمثیل کے ذریعہ سے قریش کو متنبہ فرمایا ہے کہ آج جو امن و اطمینان تمہیں حاصل ہے اس سے اس دھوکے میں نہ رہو کہ اب تمہارے اس عیش میں کوئی رخنہ پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔ جس خدا نے تمہیں یہ سب کچھ بخشا ہے اس کے اختیار میں اس کو چھین لینا بھی ہے۔ اگر تم اس سے نچنت ہو بیٹھے ہو تو یاد رکھو کہ وہ چشم زدن میں تم کو اس سے محروم بھی کر سکتا ہے۔ پھر تم کف افسوس ملتے ہی رہ جاؤ گے۔

    آخر میں مکذبین قیامت کی اس فاسد ذہنیت پر ضرب لگائی ہے کہ یہ سمجھتے ہیں کہ جو عیش و آرام انھیں یہاں حاصل ہے اگر آخرت ہوئی تو وہاں بھی انھیں یہی کچھ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر حاصل ہو گا۔ ان سے سوال کیا ہے کہ آخر انھوں نے خدا کو اتنا نامنصف کس طرح سمجھ رکھا ہے کہ وہ نیکوں اور بدووں میں کوئی امتیاز نہیں کرے گا؟ ساتھ ہی ان کو چیلنج کیا ہے کہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ سے اس طرح کا کوئی عہد کرا لیا ہے یا کوئی ان کے لیے اس کا ضامن بنا ہے تو اس کو پیش کریں۔ اسی ضمن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ آج جو سخن سازیاں یہ لوگ کر رہے ہیں اس کا غم نہ کرو، جب قیامت کی ہلچل برپا ہو گی تب انھیں معلوم ہو جائے گا کہ جو خواب وہ دیکھتے رہے تھے وہ حقیقت سے کتنے دور تھے۔ فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے استدراج کے پھندے میں پھنس چکے ہیں اور اس کی تدبیر نہایت محکم ہوتی ہے۔ اس سے بچ نکلنے کا ان کے لیے کوئی امکان نہیں ہے تو صبر کے ساتھ اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرو اور اس طرح کی عجلت سے بچو جس میں یونس علیہ السلام مبتلا ہوئے اور جس کے سبب سے ان کو ایک سخت امتحان سے دوچار ہونا پڑا۔

  • القلم (The Pen)

    52 آیات | مکی
    الملک - القلم

    ۶۷ - ۶۸

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں قیامت اور دوسری میں اُس عذاب سے خبردار کیا گیا ہے جو رسول کی تکذیب کے نتیجے میں اُس کی قوم پر لازماً آتا ہے۔ دونوں میں خطاب اگرچہ جگہ جگہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہے، لیکن روے سخن ہر جگہ قریش کے سرداروں کی طرف ہے۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار میں نازل ہوئی ہیں۔ پہلی سورہ — الملک — کا موضوع قریش پر یہ واضح کرنا ہے کہ دنیا جس طرح اور جس غایت کے لیے وجود میں آئی ہے، قیامت اُس کا ایک لازمی نتیجہ ہے۔ لہٰذا اُس سے بے خوف ہو کر اپنے آپ کو اُس انجام تک نہ پہنچاؤ، جہاں اعتراف جرم کے سوا کوئی چارہ اوراِس اعتراف کے نتائج کو بھگتنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہ رہے۔ اُس پروردگار سے ڈرو جو آج بھی، جس وقت اور جس طرح چاہے، تمھیں اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔

    سورہ میں استدلال خدا کی رحمت، قدرت اور ربوبیت کی اُن نشانیوں سے ہے جو انسان ہر لحظہ اپنے گردوپیش دیکھتا ہے۔

    دوسری سورہ — القلم — کا موضوع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش کردہ کتاب اور آپ کی سیرت سے قریش کے سرداروں کی سیرت و کردار اور اُن کے مزعومات کا موازنہ کرکے اُنھیں اِس حقیقت پر متنبہ کرنا ہے کہ خداکی کتاب اور اُس کے پیغمبر کے مقابلے میں وہ سرکشی اور تمردکارویہ اختیار نہ کریں۔ اُن کے سب باغ و بہار اور اُن کا تمام سرمایۂ فخر و مباہات عذاب کی زد میں
    ہے۔ وہ عقل سے کام لیں، اُن کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ وہ صرف اِس لیے باتیں بنا رہے ہیں کہ اُنھیں ڈھیل دی جا رہی ہے۔ خدا کا فیصلہ عنقریب اُن کے بارے میں صادر ہوجائے گا۔

    سورہ کے آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر کے ساتھ اِس فیصلے کا انتظار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 068 Verse 001 Chapter 068 Verse 002 Chapter 068 Verse 003 Chapter 068 Verse 004 Chapter 068 Verse 005 Chapter 068 Verse 006 Chapter 068 Verse 007
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ سورۂ نون ہے۔ قلم گواہی دیتا ہے اور جو کچھ (لکھنے والے اُس سے) لکھ رہے ہیں۔
    نون کے معنی مچھلی کے ہیں۔ سورۂ بقرہ کی ابتدا میں ہم نے بیان کیا ہے کہ ابتداءً یہ حروف معانی پر دلیل ہوتے تھے۔ اِن میں سے بعض اب بھی اپنے اُسی قدیم معنی میں مستعمل ہیں۔ یہ حرف نون بھی اُنھی میں سے ہے۔ اِس کے معنی مچھلی کے ہیں۔ اِس سورہ کا نام نون اِس لیے رکھا گیا ہے کہ اِس میں یونس علیہ السلام کا واقعہ مذکور ہے جنھیں مچھلی نے نگل لیا تھا۔ یعنی اِس وقت لکھ رہے ہیں۔ اِس سے، ظاہر ہے کہ قرآن مجید مراد ہے۔ یہ بھی قلم سے لکھا گیا اور اِس سے پہلے کے صحیفے بھی قلم ہی کے ذریعے سے محفوظ کیے گئے۔ اِس لحاظ سے دیکھیے تو یہ درحقیقت تعلیمات الٰہیہ کے اُس پورے مدون سرمایے کی گواہی ہے جو تورات، انجیل، زبور اور قرآن کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا ہے۔ اِن کے مضامین، پیشین گوئیاں اور تعلیمات، سب گواہی دیتی ہیں کہ جس طرح تورات و انجیل اور زبور کے پیش کرنے والے کوئی دیوانے نہیں تھے، اِسی طرح قرآن بھی اپنے مضامین کی عظمت، بزرگی اور برتری، اپنے اسلوب کی غیر معمولی قدرت اور بے مثل بلاغت سے گواہی دے رہا ہے کہ اِس کا پیش کرنے والا بھی کوئی کاہن یا شاعر یا دیوانہ نہیں ہو سکتا۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...قریش کے لیڈروں کی سمجھ میں یہ بات کسی طرح نہیں آتی تھی کہ آپ جس عذاب سے اُن کو اِس شدومد اور اِس جزم و یقین کے ساتھ ڈرا رہے ہیں کہ گویا اُس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں، آخر وہ کدھر سے آجائے گا؟ اُن کو یہ پریشانی لاحق تھی کہ آپ کے لب و لہجہ میں جو غیر معمولی جزم ویقین ، آپ کے انداز دعوت میں جو مافوق العادت بے چینی و بے قراری اور آپ کی تذکیر میں دلوں کو ہلا دینے والی جو دردمندی و شفقت ہے، اُس سے اُن کے عوام متاثر ہو رہے ہیں۔ اِس اثر کو زائل کرنے کے لیے اُنھوں نے لوگوں کو یہ باور کرانا چاہا کہ اِس شخص کی یہ ساری بے چینی و بے قراری اِس وجہ سے نہیں ہے کہ فی الواقع کوئی عذاب آنے والا ہے جس سے آگاہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اِس کو بھیجا ہے، بلکہ بعض اشخاص کو جس طرح کسی چیز کا مالیخولیا ہو جاتا ہے اور وہ اٹھتے بیٹھتے اُسی کی رٹ لگائے رکھتے ہیں، اِسی طرح اِس شخص کو بھی عذاب کا مالیخولیا ہو گیا ہے جو اِس کو ہر طرف سے آتا دکھائی دے رہا ہے۔ اِس بات کو تقویت دینے کے لیے اِس پر وہ یہ اضافہ بھی کر دیتے کہ کسی نے اِس پر جادو کر دیا ہے جس کے سبب سے اِس کی دماغی حالت ٹھیک نہیں رہی ہے اور بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۵۱۴)
    کہ اپنے پروردگار کی عنایت سے تم کوئی دیوانے نہیں ہو۔
    n/a
    اور تمھارے لیے یقیناً وہ صلہ ہے جس پر کبھی زوال نہ آئے گا۔
    n/a
    اور تم بڑے اعلیٰ اخلاق پر ہو۔
    یعنی جس طرح تمھاری پیش کردہ کتاب اُنھی تعلیمات کا بیان ہے جو پہلے پیغمبروں نے پیش کی ہیں ، اِسی طرح تم بھی اُس اعلیٰ کردار کی نہایت شان دار مثال ہو جس کے نمونے انبیا علیہم السلام اِس سے پہلے پیش کر چکے ہیں۔
    اِس لیے عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے۔
    n/a
    کہ تم میں سے کون فتنے میں پڑا ہوا ہے۔
    اصل الفاظ ہیں: ’بِاَیِّکُمُ الْمَفْتُوْنَ‘ ۔اِن سے پہلے فعل ’یُبْصِرُوْنَ‘ آیا ہے۔ ’ب‘ کا صلہ دلیل ہے کہ یہ یہاں ’علم‘ کے مفہوم پر متضمن ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بہت جلد سب دیکھ لیں گے کہ کون شیطان کے فتنے میں پڑا ہوا ہے اور اُس نے اپنی قوم کو تباہی کے کنارے پر پہنچا دیا ہے اور کون شیطان کے فتنوں سے مامون ہے اور اُس نے اپنے ماننے والوں کو دنیا اور آخرت میں کامیابی کی راہ دکھائی ہے۔
    تمھارا پروردگار ہی بہترجانتا ہے کہ کون اُس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور وہی بہتر جانتا ہے کہ کون راہ راست پر ہیں۔
    لہٰذا مطمئن رہو۔ وہ اِن میں سے ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا، جس کا وہ مستحق ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List