Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الملک (The Dominion, Sovereignty, Control)

    30 آیات | مکی
    سورتوں کے ساتویں گروپ پر ایک اجمالی نظر

    سورۂ ملک سے سورتوں کا ساتواں یعنی آخری گروپ شروع ہو رہا ہے۔ اس گروپ میں بھی سورتوں کی ترتیب اسی طرح ہے جس طرح پچھلے گروپوں میں آپ نے دیکھی۔ پہلے مکی سورتیں ہیں آخر میں چند سورتیں مدنی ہیں اور یہ مدنی سورتیں مکی سورتوں کے ساتھ اسی طرح مربوط ہیں جس طرح فرع اپنی اصل سے مربوط ہوتی ہے۔

    اس گروپ کی چند سورتوں کے مکی یا مدنی ہونے کے بارے میں اختلاف ہے اس وجہ سے یہاں یہ بتانا مشکل ہے کہ کہاں سے کہاں تک اس کی سورتیں مکی ہیں اور کہاں سے کہاں تک مدنی۔ جب تمام مختلف فیہ سورتوں پر بحث ہو کر بات منقح ہو جائے گی تب ہی یہ قطعی فیصلہ ہو سکے گا کہ کتنی مکی ہیں اور کتنی مدنی تاہم میری اجمالی رائے یہ ہے کہ سورۂ ملک سے سورۂ کافرون تک ۴۳ سورتیں مکی ہیں اور سورۂ نصر سے سورۂ ناس تک پانچ سورتیں مدنی۔

    اس گروپ میں بھی دوسرے گروپوں کی طرح قرآنی دعوت کی تمام اساسات ۔۔۔ توحید، رسالت اور معاد ۔۔۔ زیربحث آئی ہیں اور دعوت کے تمام مراحل کی جھلک بھی اس میں موجود ہے۔ لیکن اس پورے گروپ کا اصل مضمون انذار ہے۔ اس کی بیشتر سورتیں مکی زندگی کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتی ہیں اور ان میں انذار کا انداز وہی ہے جس انداز میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر چڑھ کر انذار فرمایا تھا۔ اس انذار کے تقاضے سے اس میں قیامت اور احوال قیامت کی بھی پوری تصویر ہے اور اس عذاب کو بھی گویا قریش کی نگاہوں کے سامنے کھڑا کر دیا گیا ہے جو رسول کی تکذیب کر دینے والوں پر لازماً آیا کرتا ہے۔ استدلال میں بیشتر آفاق کے مشاہدات، تاریخ کے مسلمات اور انفس کی بینات سے کام لیا گیا ہے اور کلام کے زور کا بالکل وہی حال ہے جس کی تصویر مولانا حالیؒ نے اپنے اس شعر میں کھینچی ہے۔ع

    وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوتِ ہادی

    عرب کی زمیں جس نے ساری ہلا دی

    ان سورتوں نے سارے عرب میں ایسی ہلچل برپا کر دی کہ ایک شخص بھی قرآن کی دعوت کے معاملے میں غیر جانبدار نہیں رہ گیا بلکہ وہ یا تو اس کا جانی دشمن بن کر اٹھ کھڑا ہوا یا سچا فدائی اور ان دونوں کی کشمکش کا نتیجہ بالآخر اس غلبۂ حق کی شکل میں نمودار ہوا جس کا ذکر ہر گروپ کی آخری سورتوں میں ہوا ہے اور اس کے آخر میں بھی آئے گا۔

    ساتویں گروپ کی تفسیر کا آغاز کرتے ہوئے میں سورۂ حجر کی آیت ۸۷: ’اٰتَیْنَاکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْآنَ الْعَظِیْمَ‘۔ کا پھر حوالہ دیتا ہوں جس کا ذکر میں نے مقدمۂ کتاب میں، ساتوں گروپوں کے تعارف کے بعد، اس حقیقت کی طرف توجہ دلانے کے لیے کیا ہے کہ یہ تقسیم ازروئے قرآن منصوص ہے۔ پھر سورۂ حجر کی تفسیر میں آیت کی وضاحت کرتے ہوئے مندرجہ ذیل باتیں میں نے دلائل کے ساتھ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

    ۔۔۔ ایک یہ کہ قرآن نے کسی خاص سورہ کو سبع مثانی نہیں کہا ہے بلکہ ’کِتَابًا مُّتَشَابِھًا مَّثَانِیَ‘ کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ پورا قرآن ’سبع مثانی‘ ہے۔

    ۔۔۔ دوسری یہ کہ مثانی کسی بار بار دہرائی ہوئی چیز کو نہیں بلکہ اس چیز کو کہتے ہیں جو جوڑا جوڑا ہو۔

    ۔۔۔ تیسری یہ کہ قرآن کی سورتوں کی ترتیب سے یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ یہ سات گروپوں میں تقسیم ہیں اور ہر سورہ اپنے ساتھ ایک جوڑا بھی رکھتی ہے جس کی طرف میں برابر اشارہ کرتا آ رہا ہوں۔ یہاں اس بات کی یاددہانی سے مقصود یہ ہے کہ قرآن کے آخری گروپ میں پہنچنے کے بعد آپ بہتر طریقہ سے یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہ رائے کچھ وزن رکھتی ہے یا نہیں اور قرآن کی اس ترتیب کے سامنے آنے سے فکر و نظر کے نئے دروازے کھلتے ہیں یا نہیں؟

    میرے نزدیک قرآن کی اسی حقیقت کی طرف وہ حدیث بھی اشارہ کر رہی ہے جو حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ ’انزل القراٰن علی سبعۃ احرف‘ (قرآن سات حرفوں پر اتارا گیا ہے) سات حرفوں کے معنی اگر یہ لیے جائیں کہ قرآن کے تمام الفاظ سات طریقوں پر پڑھے جا سکتے ہیں تو یہ بات بالبداہت غلط ہے۔ اس صورت میں قرآن ایک معمہ بن کے رہ جائے گا درآنحالیکہ قرآن خود اپنے بیان کے مطابق کتاب مبین ہے اور قریش کی ٹکسالی زبان میں نازل ہوا ہے۔ جو لوگ قراء توں کے اختلاف کو بڑی اہمیت دیتے ہیں وہ بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ قرآن کے کسی لفظ کی قراء ت سات طریقے پر کی گئی ہو۔ ابن جریرؒ قراء توں کے اختلاف نقل کرنے میں بڑے فیاض ہیں لیکن مجھے یاد نہیں کہ کسی لفظ کی انھوں نے دو تین سے زیادہ قراء تیں نقل کی ہوں۔

    غور کرنے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ قراء توں کا اختلاف دراصل قراء توں کا اختلاف نہیں بلکہ بیشتر تاویل کا اختلاف ہے۔ کسی صاحب تاویل نے ایک لفظ کی تاویل کسی دوسرے لفظ سے کی اور اس کو قراء ت کا اختلاف سمجھ لیا گیا حالانکہ و ہ قراء ت کا اختلاف نہیں بلکہ تاویل کا اختلاف ہے۔ ابھی سورۂ تحریم کی تفسیر میں آپ پڑھ آئے ہیں کہ بعض لوگوں نے ’فَقَدْ صَغَتْ‘ کو ’فَقَدْ زَاغَتْ‘ بھی پڑھا ہے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس نے بھی یہ پڑھا ہے اس نے یہ قراء ت نہیں بتائی ہے بلکہ اپنے نزدیک اس نے ’فَقَدْ صَغَتْ‘ کے معنی بتائے ہیں جس کی غلطی، کلام عرب کے دلائل کی روشنی میں، اچھی طرح ہم واضح کر چکے ہیں۔

    پھر یہ بات بھی ملحوظ رکھنے کی ہے کہ اگر قراء توں کا اختلاف ہے بھی تو متواتر قراء ت کا درجہ تو صرف اسی قراء ت کو حاصل ہے جس پر مصحف، جو تمام امت کے ہاتھوں میں ہے، ضبط ہوا ہے۔ اس قراء ت کے سوا دوسری قراء تیں ظاہر ہے کہ غیر متواتر اور شاذ کے درجہ میں ہوں گی جن کو متواتر قراء ت کی موجودگی میں کوئی اہمیت نہیں دی جا سکتی۔ چنانچہ میں نے اس تفسیر میں اختلاف قراء ت سے مطلق تعرض نہیں کیا بلکہ صرف مصحف کی قراء ت کو اختیار کیا ہے اور مجھے تاویل میں کہیں تکلف نہیں کرنا پڑا بلکہ ہر جگہ نہایت صاف، دل نشین، سیاق و سباق اور نظائر قرآن سے قرین تاویل سامنے آ گئی ہے جو اصل مطلوب و مقصود ہے۔ قراء توں کے اختلاف میں پڑنے کے معنی تو یہ ہیں کہ آپ ان الجھنوں میں پڑنے کے خود خواہاں ہیں جن سے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امت کو محفوظ کرنے کی کوشش فرمائی۔ بہرحال اس حدیث میں ’سبعۃ احرف‘ سے سات قراء تیں مراد لینے کا تو کوئی قرینہ نہیں ہے البتہ اگر ’حرف‘ کو عبارت، بیان اور اسلوب کے معنی میں لیں، جس کی زبان اور لغت کے اعتبار سے پوری گنجائش ہے، تو اس کی تاویل یہ ہو گی کہ قرآن سات اسلوبوں یا عبارتوں میں نازل ہوا ہے اور اس سے اشارہ انہی سات گروپوں کی طرف ہو گا جو قرآن میں ہر تلاوت کرنے والے کو نظر آتے ہیں۔

    ان گروپوں کی نوعیت، جیسا کہ ہم وضاحت کر چکے ہیں، یہ ہے کہ ہر گروپ میں ایک جامع عمود کے تحت قرآنی دعوت کے تمام بنیادی مطالب مختلف اسلوبوں سے اس طرح بیان ہوئے ہیں کہ ہر بات باربار سامنے آنے کے باوجود پڑھنے والا ان سے کبھی تکان محسوس نہیں کرتا بلکہ طرز بیان اور نہج استدلال کے تنوع، پیش و عقب کی تبدیلی، اطراف و جوانب کے فرق اور لواحق و تضمنات کی گوناگونی کے سبب سے ہر بار وہ ایک نیا لطف و حظ حاصل کرتا ہے۔ قرآن کی اسی خصوصیت کا ذکر بعض حدیثوں میں یوں آیا ہے کہ اہل علم اس سے کبھی آسودہ نہیں ہوتے اور اس کی تازگی پر کبھی خزاں کا گزر نہیں ہوتا۔ یہی ساتوں گروپ مل کر قرآن عظیم کی شکل اختیار کرتے ہیں، جیسا کہ سورۂ حجر کی مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں ہم نے واضح کیا ہے کہ ’وَالْقُرْآنَ الْعَظِیْمَ‘ میں ’و‘ تفسیر کے لیے ہے۔

    سورہ کا عمود

    اس سورہ کا عمود انذار ہے اور اس انذار میں دونوں ہی عذاب شامل ہیں۔ وہ عذاب بھی جس سے رسولوں کے مکذبین کو لازماً اس دنیا میں سابقہ پیش آیا ہے اور وہ عذاب بھی جس سے آخرت میں دوچار ہونا پڑے گا۔ استدلال اس میں آفاق کی نشانیوں سے ہے۔ یعنی اس میں بتایا گیا ہے کہ کائنات کے مشاہدہ سے اس کے خالق کی جو صفات سامنے آتی ہیں وہ اس بات کو مستلزم ہیں کہ یہ دنیا ایک دن اپنی انتہا کو پہنچے گی۔ جن لوگوں نے اس کے اندر بالکل اندھے بہرے بن کر زندگی گزاری وہ جہنم میں جھونک دیے جائیں گے اور جنھوں نے اپنی عقل و فہم سے کام لیا اور غیب میں ہوتے خدا سے ڈرتے رہے وہ اجر عظیم کے مستحق ٹھہریں گے۔

  • الملک (The Dominion, Sovereignty, Control)

    30 آیات | مکی

    الملک - القلم ۶۷ - ۶۸

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں قیامت اور دوسری میں اُس عذاب سے خبردار کیا گیا ہے جو رسول کی تکذیب کے نتیجے میں اُس کی قوم پر لازماً آتا ہے۔ دونوں میں خطاب اگرچہ جگہ جگہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہے، لیکن روے سخن ہر جگہ قریش کے سرداروں کی طرف ہے۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- الملک—- کا موضوع قریش پر یہ واضح کرنا ہے کہ دنیا جس طرح اور جس غایت کے لیے وجود میں آئی ہے، قیامت اُس کا ایک لازمی نتیجہ ہے۔ لہٰذا اُس سے بے خوف ہو کر اپنے آپ کو اُس انجام تک نہ پہنچاؤ، جہاں اعتراف جرم کے سوا کوئی چارہ اوراِس اعتراف کے نتائج کو بھگتنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہ رہے۔ اُس پروردگار سے ڈرو جو آج بھی، جس وقت اور جس طرح چاہے، تمھیں اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔

    سورہ میں استدلال خدا کی رحمت، قدرت اور ربوبیت کی اُن نشانیوں سے ہے جو انسان ہر لحظہ اپنے گردوپیش دیکھتا ہے۔

    دوسری سورہ—- القلم—- کا موضوع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش کردہ کتاب اور آپ کی سیرت سے قریش کے سرداروں کی سیرت و کردار اور اُن کے مزعومات کا موازنہ کرکے اُنھیں اِس حقیقت پر متنبہ کرنا ہے کہ خداکی کتاب اور اُس کے پیغمبر کے مقابلے میں وہ سرکشی اور تمردکارویہ اختیار نہ کریں۔ اُن کے سب باغ و بہار اور اُن کا تمام سرمایۂ فخر و مباہات عذاب کی زد میں ہے۔ وہ عقل سے کام لیں، اُن کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ وہ صرف اِس لیے باتیں بنا رہے ہیں کہ اُنھیں ڈھیل دی جا رہی ہے۔ خدا کا فیصلہ عنقریب اُن کے بارے میں صادر ہوجائے گا۔

    سورہ کے آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر کے ساتھ اِس فیصلے کا انتظار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 067 Verse 001 Chapter 067 Verse 002
    Click translation to show/hide Commentary
    بہت بزرگ، بہت فیض رساں ہے، وہ (پروردگار) جس کے ہاتھ میں (عالم کی) پادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
    یہ اُس مشاہدے کا بیان ہے جو اِس کائنات کی نشانیوں پر غورکیا جائے تو ہر عاقل اور صاحب فکر انسان کے سامنے آجاتا ہے اور وہ یہ ماننے کے لیے مجبور ہو جاتا ہے کہ کائنات کا خالق نہ کھلنڈرا ہے، نہ غیر ذمہ دار اور نہ محض محرک اول اور ایک خاموش علۃ العلل، جیسا کہ بعض فلاسفہ اور سائنس دانوں نے سمجھا ہے،بلکہ بڑا ہی بزرگ، بہت فیض رساں اور اِس کے ساتھ بے پناہ قدرت والا بھی ہے۔ چنانچہ عالم کے خیر و شر سے وہ نہ غیر متعلق ہو سکتا ہے اور نہ اُس کو کسی انجام تک پہنچانا اُس کے لیے کچھ مشکل ہے۔
    (وہی) جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تم کو آزمائے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ اور وہ زبردست بھی ہے اور درگذر فرمانے والا بھی۔
    یہ اوپر والی بات ہی دوسرے اسلوب میں بیان فرمائی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’عدم کے بعد زندگی اور زندگی کے بعد پھر موت اِس بات کی شہادت ہے کہ اِس دنیا کا کارخانہ بے غایت و بے مقصد نہیں ہے کہ یوں ہی چلتا رہے یا یوں ہی ایک دن ختم ہو جائے۔ اگر ایسا ہو تو یہ ایک کار عبث ہو گا جو ایک حکیم و قدیر اور با فیض ہستی کی شان کے خلاف ہے، بلکہ یہ اِس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اِس دنیا میں جس کو زندگی بخشتا ہے، اِس امتحان کے لیے بخشتا ہے کہ دیکھے کون اُس کی پسند کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے اور کون اپنی من مانی کرتا ہے۔ اِس امتحان کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے جس میں لوگوں کو ازسرنو زندہ کرے، ہر شخص کی نیکی اور بدی کا حساب ہو اور وہ اپنے عمل کے مطابق جزا یا سزا پائے۔‘‘(تدبر قرآن ۸/ ۴۹۱) یعنی وہ زبردست ہے، لہٰذا آزمایش کی یہ مدت گزرنے کے بعد جو سزا کے مستحق ہوں گے، وہ اُس کی پکڑ سے بچ نہ سکیں گے اور درگذر فرمانے والا بھی ہے، لہٰذا جو اُس کی مغفرت کے سزاوار ہوں گے، وہ اُس سے محروم نہ رہیں گے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List