Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • التحریم (The Prohibition)

    12 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    سابق سورہ کی تفسیر میں ہم یہ اشارہ کر چکے ہیں کہ یہ دونوں سورتیں ۔۔۔ الطلاق اور التحریم ۔۔۔ علی الترتیب یہ تعلیم دے رہی ہیں کہ نفرت اور محبت دونوں طرح کے حالات کے اندر اللہ تعالیٰ کے حدود کی پابندی واجب ہے۔ چنانچہ سابق سورہ میں بتایا کہ نفرت کے اندر کس طرح حدود الٰہی کا احترام قائم رکھا جائے۔ اب اس سورہ میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ محبت کے اندر کس طرح اللہ کے حدود کی حفاظت کی جائے۔ نفرت کی طرح محبت کا جذبہ بھی انسان پر غالب ہو جائے تو اس کو بالکل یک رخا بنا کے رکھ دیتا ہے اور وہ ان لوگوں کے ساتھ، حدود الٰہی کے معاملے میں، نہایت بے حس اور مداہنت کرنے والا بن جاتا ہے جن سے اس کو محبت ہوتی ہے۔ بیوی بچوں کو وہ علانیہ دیکھتا ہے کہ ان کا رویہ شریعت سے ہٹا ہوا ہے لیکن یا تو اس کو ان کے انحراف کا احساس ہی نہیں ہوتا یا ہوتا ہے تو وہ یہ فرض کر کے نظر انداز کر جاتا ہے کہ آہستہ آہستہ خود بخود ان کی اصلاح ہو جائے گی۔ حد یہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنے متعلقین کی کھلی ہوئی زیادتیوں پر بھی، ان کو ٹوکنے یا روکنے کے بجائے یہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لیے کوئی عذر تلاش کریں۔ یہ کمزوری صرف عام لوگوں ہی کے اندر نہیں بلکہ ان لوگوں کے اندر بھی پائی جاتی ہے جو دوسروں کی اصلاح کے لیے خدائی فوج دار بنے پھرتے ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اس طرح کے لوگوں پر یہ حقیقت واضح نہیں ہوئی کہ کسی کے ساتھ محبت کا صحیح تقاضا یہ نہیں ہے کہ اس کو اپنی مداہنت سے خدا کے غضب کے حوالہ کیا جائے بلکہ اس کا صحیح تقاضا یہ ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو اس کو خدا کی پکڑ سے بچایا جائے اگرچہ اس مقصد کی خاطر کچھ ناگواریاں بھی گوارا کرنی پڑیں۔ وہ شخص جو اپنے بیوی بچوں اور دوستوں کی خلاف شریعت باتوں سے چشم پوشی کرتا ہے وہ درحقیقت ان سے محبت نہیں کرتا ہے بلکہ ان کو نہایت بے دردی کے ساتھ خدا کے غضب کے حوالے کر رہا ہے لیکن اس کو اپنے اس فعل کے نتائج کا شعور نہیں ہے۔

  • التحریم (The Prohibition)

    12 آیات | مدنی
    الطلاق - التحریم

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں بیویوں سے مفارقت اور دوسری میں اُن سے محبت کے موقعوں پر جو حدود وقیود ایک بندۂ مومن کو ملحوظ رکھنے چاہییں، اُن کی وضاحت فرمائی ہے۔ دونوں میں خطاب مسلمانوں سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیہ و تطہیر میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- الطلاق—- کا موضوع مسلمانوں کو یہ بتانا ہے کہ اگر بیوی سے مفارقت کی نوبت آجائے تو اُس کے معاملے میں کس طرح اور کس درجے میں حدود الٰہی کی پابندی کا اہتمام ہونا چاہیے۔

    دوسری سورہ—- التحریم—- کا موضوع اُنھیں یہ بتانا ہے کہ التفات و محبت کے موقعوں پر اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو کس طرح حدودالٰہی کا پابند رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ نیزہر شخص کوکس درجہ متنبہ رہنا چاہیے کہ اللہ کے ہاں کام آنے والی چیز آدمی کا اپنا عمل ہے۔ یہ نہ ہو تو کسی بڑی سے بڑی شخصیت کی نسبت بھی اُسے کچھ نفع پہنچانے والی نہیں بن سکتی۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 066 Verse 001 Chapter 066 Verse 002
    Click translation to show/hide Commentary
    اے نبی، تم اپنی بیویوں کی دل داری میں وہ چیز کیوں حرام ٹھیراتے ہو، جو اللہ نے تمھارے لیے جائز رکھی ہے؟ (خیر جو ہوا سو ہوا)، اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔
    بیویوں کی دل داری انسانی معاشرت کا حسن اور اپنی جگہ ایک نہایت پسندیدہ چیز ہے، لیکن پیغمبر کا معاملہ الگ ہے۔ اُس کے ہر قول و فعل کی دین میں بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی چیز کو استعمال نہ کرنے کی قسم کھا لیتے تو شدید اندیشہ تھا کہ کوئی متقی مسلمان اُس چیز کو ہاتھ نہ لگاتا اور وہی صورت پیدا ہو جاتی جو حضرت یعقوب کے معاملے میں ہوئی کہ اُنھوں نے کسی وجہ سے اونٹ کا گوشت کھانا پسند نہیں کیا تو یہود نے اُسے ہمیشہ کے لیے حرام ٹھیرا لیا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی کے اعلان میں یہ مبادرت اِس لیے ہے کہ معاملہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا۔آپ نے محض جذبۂ رأفت و محبت اور جنس ضعیف کی دل داری کے لیے اپنے اوپر ایک پابندی عائد کر لی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اُس پر گرفت فرمائی، لیکن ساتھ ہی معافی کا اعلان بھی فرما دیا کہ یہ گرفت آپ کے لیے گراں باری خاطر کا باعث نہ بنے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...بیویوں کی دل داری کوئی بری بات نہیں ہے، بلکہ یہ شرافت، مروت، فتوت کا تقاضا اور فطرت و شریعت کا مطالبہ ہے جس کی قرآن نے تاکید فرمائی ہے، بشرطیکہ یہ شریعت کے حدود کے اندر رہے۔ اگر یہ اُس سے متجاوز ہونے لگے تو یہ فتنہ بن جاتی ہے جس سے بچنا اور بچانا ضروری ہے۔ لیکن جب کسی فروگزاشت کا محرک نیک ہو تو اُس پر گرفت اِس طرح ہونی چاہیے کہ عفو ودرگذر اُس کے ہم رکاب رہے۔ ‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۴۵۹)  
    اپنی اِس طرح کی قسموں کو توڑ دینا اللہ نے تم پر فرض کر دیا ہے اور اللہ ہی تمھارا مولیٰ ہے اور وہ علیم و حکیم ہے۔
    اِس میں خطاب کا رخ مسلمانوں کی طرف ہو گیا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ قسم توڑنے کا یہ قانون نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ پھر حضور کو ٹوکنے سے مقصود بھی یہی تھا کہ حلال و حرام کے معاملے میں عام مسلمان کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ چنانچہ سب کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص کسی جائز چیز کو اپنے اوپر حرام کر لینے کی قسم کھا بیٹھے تو اُس پر لازم ہے کہ اُسے توڑ دے۔ یعنی اللہ ہی مولیٰ ہے، اِس لیے اُسی کو حق حاصل ہے کہ حلال و حرام کے فیصلے کرے اور اُسی کا علم و حکمت ہے جس کی بنا پر یہ فیصلے ہو سکتے ہیں۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List