Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الطلاق (Divorce)

    12 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود اور سابق و لاحق سے تعلق

    سابق سورہ ۔۔۔ التغابن ۔۔۔ کی آیات ۱۴-۱۶ میں یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ آدمی کے بیوی بچے اس کے لیے بڑی آزمائش ہیں۔ اگر وہ چوکنا نہ رہے تو ان کی محبت میں گرفتار ہو کر وہ اللہ کی راہ میں جان و مال کی قربانی سے جی چرانے لگتا ہے یہاں تک کہ یہ چیز اس کو بالآخر نفاق میں مبتلا کر دیتی ہے اور اس طرح ان کے ساتھ اس کی دوستی خود اپنے ساتھ دشمنی بن جاتی ہے۔ ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی فرمائی ہے کہ ان سے چوکنے رہنے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ بالکل ہی قطع تعلق کر لے بلکہ تاحد امکان اس طرح عفو و درگزر کا معاملہ رکھے کہ ان کی اصلاح بھی ہو اور اپنے کو ان کے ضرر سے محفوظ بھی رکھ سکے۔

    سورۂ تغابن کے بعد دو سورتوں ۔۔۔ الطلاق اور التحریم ۔۔۔ میں اسی نازک مسئلہ کی مزید وضاحت فرمائی اور نفرت و محبت دونوں طرح کے حالات کے اندر صحیح رویہ کے حدود معین کر دیے تاکہ کسی بے اعتدالی کی گنجائش نہ باقی رہے۔ سورۂ طلاق میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر بیوی سے کسی سبب سے نفرت پیدا ہو جائے تو اس کے معاملے میں کس طرح حدود الٰہی کی پابندی کا اہتمام کرے اور سورۂ تحریم میں یہ واضح فرمایا ہے کہ محبت میں کس طرح اپنے آپ کو اور ان کو حدود الٰہی کا پابند رکھنے کی کوشش کرے۔ میاں بیوی کے رشتہ ہی پر تمام معاشرت کی بنیاد ہے اور ہر شخص کو اس سے سابقہ بھی پیش آتا ہے لیکن اس رشتہ کے نازک حدود و قیود کا اول تو سب کو علم نہیں ہوتا اور جن کو ہوتا بھی ہے وہ نفرت یا محبت کی ہلچل میں ان کو ٹھیک ٹھیک ملحوظ رکھنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ کوئی سبب اگر اختلاف یا افتراق کا پیدا ہو گیا ہو تو وہ ایسی نفرت و عداوت کی شکل اختیار کر لیتا ہے کہ شریعت کے تمام حدود و احکام پس پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر تعلقات محبت پر قائم ہیں، جیسا کہ ہونا چاہیے، تو خدا کے حدود و آداب کا احترام اس محبت پر قربان کر دیا جاتا ہے۔ یہ دونوں ہی حالتیں حدود الٰہی سے تجاوز اور شریعت سے انحراف کی ہیں جن کا نتیجہ آخرت کی نامرادی ہے اس وجہ سے قرآن نے دو الگ الگ سورتوں میں تفصیل سے بتایا کہ نفرت اور محبت دونوں قسم کے حالات کے اندر آدمی کا معاملہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ مجرد اندھے بہرے جذبات پر نہیں بلکہ خدا کے حدود پر مبنی ہونا چاہیے۔

    اس سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں سورتیں درحقیقت سورۂ تغابن ہی کے اجمال کی شرح کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان دونوں ہی میں خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور یہ خطاب بغیر کسی تمہید کے شروع ہو گیا ہے جو اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ سابق سورہ ہی کا تکملہ و تتمہ ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست خطاب شخصاً نہیں بلکہ امت کے وکیل کی حیثیت سے ہے۔ اس طرح کے خطاب کی مثالیں قرآن مجید میں بہت ہیں۔ اس براہ راست خطاب سے ان احکام کی اہمیت دوچند ہو گئی ہے جو ان سورتوں میں بیان ہوئے ہیں۔ یہاں جن خرابیوں کی اصلاح کی گئی ہے وہ جاہلیت کی سوسائٹی میں عام رہی ہیں بلک شاید یہ کہنا بھی بے جا نہ ہو کہ اس تہذیب و تمدن کے دور میں بھی یہ عام ہیں۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ ان کی اصلاح کے احکام براہ راست نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے دیے جائیں تاکہ لوگوں کے اندر یہ احساس پیدا ہو کہ جب پیغمبرؐ کو بھی ان باتوں کی پابندی کی ہدایت ہے تو تابہ دیگراں چہ رسد!

  • الطلاق (Divorce)

    12 آیات | مدنی
    الطلاق - التحریم

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں بیویوں سے مفارقت اور دوسری میں اُن سے محبت کے موقعوں پر جو حدود وقیود ایک بندۂ مومن کو ملحوظ رکھنے چاہییں، اُن کی وضاحت فرمائی ہے۔ دونوں میں خطاب مسلمانوں سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیہ و تطہیر میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — الطلاق — کا موضوع مسلمانوں کو یہ بتانا ہے کہ اگر بیوی سے مفارقت کی نوبت آجائے تو اُس کے معاملے میں کس طرح اور کس درجے میں حدود الٰہی کی پابندی کا اہتمام ہونا چاہیے۔

    دوسری سورہ — التحریم — کا موضوع اُنھیں یہ بتانا ہے کہ التفات و محبت کے موقعوں پر اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو کس طرح حدودالٰہی کا پابند رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ نیزہر شخص کوکس درجہ متنبہ رہنا چاہیے کہ اللہ کے ہاں کام آنے والی چیز آدمی کا اپنا عمل ہے۔ یہ نہ ہو تو کسی بڑی سے بڑی شخصیت کی نسبت بھی اُسے کچھ نفع پہنچانے والی نہیں بن سکتی۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 065 Verse 001
    Click translation to show/hide Commentary
    اے نبی، تم لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دو تواُن کی عدت کے حساب سے طلاق دو، اور عدت کا زمانہ ٹھیک ٹھیک شمار کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمھارا پروردگار ہے۔ (زمانۂ عدت میں) نہ تم اُنھیں اُن کے گھروں سے نکالو، نہ وہ خود نکلیں، الاّ یہ کہ وہ کسی صریح بے حیائی کی مرتکب ہوں۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں اور جو اللہ کی حدوں سے تجاوز کریں گے، (وہ یاد رکھیں کہ)اُنھوں نے اپنی ہی جان پر ظلم ڈھایا ہے۔ تم نہیں جانتے، شاید اللہ اِس کے بعد کوئی اور صورت پیدا کر دے۔
    یہ خطاب اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، لیکن اگلے ہی لفظ میں ضمیر خطاب سے واضح کر دیا ہے کہ مخاطب تمام مسلمان ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرکے احکام دینے سے مقصود یہ ہے کہ جب خدا کا پیغمبر بھی اِن کا پابند ہے تو دوسروں کو تو اِن کے معاملے میں اور بھی محتاط ہونا چاہیے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ بیوی کو فوراً علیحدہ کر دینے کے لیے طلاق دینا جائز نہیں ہے۔ یہ جب دی جائے گی، ایک متعین مدت کے پورا ہو جانے پر مفارقت کے ارادے سے دی جائے گی۔ عدت کا لفظ اصطلاح میں اُس مدت کے لیے استعمال ہوتا ہے جس میں بیوی شوہر کی طرف سے طلاق یا اُس کی وفات کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح نہیں کر سکتی۔ یہ مدت چونکہ مقرر ہی اِس لیے کی گئی ہے کہ عورت کے پیٹ کی صورت حال پوری طرح واضح ہو جائے، اِس لیے ضروری ہے کہ بیوی کو حیض سے فراغت کے بعد اور اُس سے زن و شو کا تعلق قائم کیے بغیر طلاق دی جائے۔ ہر مسلمان کو اِس معاملے میں اُس غصے کے باوجود جو اِس طرح کے موقعوں پر بیوی کے خلاف پیدا ہو جاتا ہے، اللہ اپنے پروردگار سے ڈرنا چاہیے۔ طلاق کا معاملہ چونکہ نہایت نازک ہے۔ اِس سے عورت اور مرد اور اُن کی اولاد اور اُن کے خاندان کے لیے بہت سے قانونی مسائل پیدا ہوتے ہیں، اِس لیے ضروری ہے کہ جب طلاق دی جائے تو اُس کے وقت اور تاریخ کو یاد رکھا جائے اور یہ بھی یاد رکھا جائے کہ طلاق کے وقت عورت کی حالت کیا تھی۔ عدت کی ابتدا کس وقت ہوئی، یہ کب تک باقی رہے گی اور کب ختم ہو جائے گی۔ معاملہ گھر میں رہے یا خدانخواستہ کسی مقدمے کی صورت میں عدالت تک پہنچے، دونوں صورتوں میں اِسی سے متعین کیا جائے گا کہ شوہر کو رجوع کا حق کب تک ہے، اُسے عورت کو گھر میں کب تک رکھنا ہے، نفقہ کب تک دینا ہے، وراثت کا فیصلہ کس وقت کے لحاظ سے کیا جائے گا، عورت اُس سے کب جدا ہو گی اور کب اُسے دوسرا نکاح کر لینے کا حق حاصل ہو جائے گا۔ یعنی اُس کے حدود کی پابندی کرتے رہو۔ یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ اِس طرح اکٹھا رہنے کے نتیجے میں توقع ہے کہ دلوں میں تبدیلی پیدا ہو جائے، دونوں اپنے رویے کا جائزہ لیں اور اُن کا اجڑتا ہوا گھر ایک مرتبہ پھر آباد ہو جائے۔ یعنی اِس ہدایت سے مستثنیٰ صرف یہ صورت ہے کہ مرد نے عورت کو طلاق ہی کسی ’فَاحِشَۃٌ مُّبَیِّنَۃ‘ کے ارتکاب پر دی ہو۔ عربی زبان میں یہ تعبیر زنا اور اُس کے لوازم و مقدمات کے لیے معروف ہے۔ اِس صورت میں، ظاہر ہے کہ نہ شوہر سے یہ مطالبہ کرنا جائز ہے کہ وہ ایسی عورت کو گھر میں رہنے دے، اور نہ اِس سے وہ فائدہ ہی حاصل ہو سکتا ہے جس کے لیے یہ ہدایت کی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے قائم کردہ اِن حدود سے جو شخص بھی آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا، وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا، بلکہ اپنے ہی مصالح برباد کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ حدود اپنے کسی فائدے کے لیے قائم نہیں کیے، بندوں کی بہبود کے لیے قائم کیے ہیں۔ لہٰذا اِنھیں کوئی شخص اگر توڑتا ہے تو اپنی ہی جان پر ظلم ڈھاتا ہے۔ یعنی کوئی ایسی صورت پیدا کردے کہ میاں بیوی اختلاف کے بعد دوبارہ ملاپ کے لیے تیار ہو جائیں۔ یہ اُس مصلحت کی طرف اشارہ ہے جس کے لیے ’لَا تُخْرِجُوْھُنَّ مِنْ بُیُوْتِھِنَّ وَلَا یَخْرُجْنَ‘ (نہ تم اُنھیں گھروں سے نکالو، نہ وہ خود نکلیں) کی ہدایت فرمائی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...اگر ایسا ہو تو اللہ تعالیٰ کو یہ بات بہت پسند ہے۔ وہ دلوں کو جڑا ہوا اور گھروں کو آباد دیکھنا پسند کرتا ہے۔ یہ پسند نہیں کرتا کہ میاں بیوی میں ایسی ناچاقی پیدا ہو کہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں اور صرف وہی جدا نہ ہوں، بلکہ اُن کے بچے ہوں تو وہ بھی اپنی ماں سے اور ماں بھی اپنے بچوں سے جدا ہو جائے۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۴۳۸)  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List