Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • المنافقون (The Hypocrites)

    11 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ، سابق سورہ ۔۔۔ الجمعۃ ۔۔۔ کے تکملہ اور تتمہّ کی حیثیت رکھتی ہے۔ سورۂ جمعہ کے آخر میں ان لوگوں کی کمزوری سے پردہ اٹھایا ہے جو مدعی تو تھے ایمان کے لیکن اپنے دنیوی منافع اور کاروباری مصالح کے پھندوں میں اس طرح گرفتار تھے کہ کوئی تجارتی قافلہ آ جاتا تو اس کی خبر پاتے ہی پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کو خطبہ دیتے چھوڑ کر اس کی طرف بھاگ کھڑے ہوتے۔ اس سورہ میں منافقین کے کردار سے بحث کی ہے کہ یہ ایمان کا کوئی مطالبہ پورا کرنے کا حوصلہ تو رکھتے نہیں لیکن یہ خواہش رکھتے ہیں کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نظر میں ان کا بھرم قائم رہے۔ اس کے لیے انھوں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ قسمیں کھا کھا کر پیغمبرؐ کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ آپ کو اللہ کا رسول مانتے ہیں لیکن اللہ بھی قسم کھا کر کہتا ہے کہ یہ بالکل جھوٹے ہیں۔ ان کے اعمال گواہ ہیں کہ یہ نہ اللہ پر ایمان رکھتے نہ رسول پر۔ یہ اپنی قسموں کو بطور ڈھال استعمال کر رہے ہیں اور ان کی آڑ میں اپنے نفاق کو چھپاتے ہیں۔ انھوں نے ایمان کی راہ میں جو قدم اٹھایا وہ مال و جان کی محبت میں پھنس کر واپس لے لیا اس وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے اور اب وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں۔

  • المنافقون (The Hypocrites)

    11 آیات | مدنی
    المنافقون - التغابن

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں اہل ایمان کو منافقین سے، جو اب سرکش ہو رہے تھے اور دوسری میں اپنے اہل و عیال سے جو راہ حق میں مزاحم ہو سکتے تھے، بچ کر رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ پھر دونوں میں نصیحت کی گئی ہے کہ لوگ آخرت ہی کو اصل حقیقت سمجھ کر اللہ کی راہ میں انفاق کریں اور اللہ و رسول کی رضا جوئی کے راستے میں ہر قربانی کے لیے تیار رہیں۔

    دونوں میں خطاب اصلاً مسلمانوں سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیہ و تطہیر میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- المنافقون—- کا موضوع مسلمانوں کو یہ بتانا ہے کہ منافقین بالکل جھوٹے ہیں۔ وہ اُن کی باتوں اور بات بات پر قسمیں کھانے سے متاثر نہ ہوں، اِس لیے کہ وہ اُنھیں انفاق سے روکنا اور اِس طرح اللہ و رسول سے برگشتہ کر دینا چاہتے ہیں۔

    دوسری سورہ—- التغابن—- کا موضوع اُنھیں یہ بتانا ہے کہ تمھارے دشمن تمھارے گھر میں بھی ہو سکتے ہیں، اِس لیے متنبہ رہو کہ اصلی چیز یہ بیوی بچے اور اہل و عیال نہیں ہیں۔ دنیا کی مصیبتوں سے ڈرا کر یہ آخرت کے بارے میں تمھیں شبہات میں مبتلا کر رہے ہیں، دراں حالیکہ اصلی چیز آخرت ہے، ہار جیت کا دن درحقیقت وہی ہے، اُس میں کامیابی چاہتے ہو تو اللہ و رسول کی رضا طلبی کے راستے میں ایثار و قربانی کے لیے تیار رہو اور اِس معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اور کسی ناصح کی نصیحت کی پروا نہ کرو۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 063 Verse 001 Chapter 063 Verse 002 Chapter 063 Verse 003
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ منافق جب تمھارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم گواہی دیتے ہیں کہ یقیناًآپ اللہ کے رسول ہیں۔ ہاں، اللہ جانتا ہے کہ ضرور تم اُس کے رسول ہو، مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق بالکل جھوٹے ہیں۔
    یعنی قسمیں کھا کھا کر آپ کو اپنے مومن و مسلم ہونے کا یقین دلاتے ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...اِن کو قسمیں کھانے کی ضرورت اِس وجہ سے پیش آتی کہ اِن کی پیہم غلطیوں نے اِن کو اِس قدر ساقط الاعتبار بنا دیا تھا کہ وہ خود بھی محسوس کرنے لگے تھے کہ جب تک قسم کھا کے وہ بات نہیں کہیں گے، کوئی اُس کو باور نہیں کرے گا۔ جس آدمی کو اپنے عمل پر اعتماد ہوتا ہے، وہ بے ضرورت قسم نہیں کھاتا، لیکن جس کو اپنے عمل پر بھروسا نہ ہو، اُس کا واحد سہارا قسم ہی ہوتی ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۳۹۸)  
    اِنھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نہایت ہی برا ہے جو یہ کر رہے ہیں۔
    یعنی جس اسلام کی طرف بڑھے تھے، اُس کو چھوڑ کر واپس جا چکے ہیں، لیکن قسموں کی آڑ میں مسلمانوں کو دھوکا دیتے اور باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ سچے مسلمان ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اِنھیں احساس نہیں ہے کہ جو کچھ یہ کر رہے ہیں، اُس کے نتائج اِن کے لیے کتنے مہلک ہوں گے۔ یہ اِس کو بڑی دانش مندی سمجھتے ہیں، لیکن نہیں جانتے کہ اِس سے بڑی کوئی حماقت نہیں ہو سکتی جس میں یہ مبتلا ہو گئے ہیں۔
    یہ اِس لیے ہے کہ اِنھوں نے پہلے ایمان کا دعویٰ کیا ، پھر کفر اختیار کر لیا تو اِن کے دلوں پر مہر کر دی گئی۔ سو یہ کچھ نہیں سمجھتے۔
    یہ اُس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کے تحت کسی فرد یا گروہ کو ہدایت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اِس کی وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’...اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جن کو وہ ایک مرتبہ اسلام کی روشنی دکھا دیتا ہے، اگر وہ اُس کی قدر کرتے ہیں تو اُن کی روشنی میں اضافہ کرتا ہے، اور اگر قدر نہیں کرتے ، بلکہ مڑ مڑ کر پیچھے ہی کی طرف دیکھتے ہیں تو اُن کی وہ روشنی بھی سلب ہو جاتی ہے اور اُن کے دل پر مہر بھی کر دی جاتی ہے جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ پھر وہ صحیح سونچنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔‘‘(تدبرقرآن۸/ ۳۹۹)  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List